ہم محنت سے کیوں کتراتے ہیں؟ اعظم احمد

0

زمانہء جدید و قدیم کی تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں،دنیا کے تمام کے تمام بڑے لوگوں اور مشاہیر کی سوانح حیات پڑھ کر دیکھ لیں ان سب کی کامیابی کے پیچھے ایک ہی راز کار فرما ملتا ہے۔۔وہ محنتی تھے ان کے اندر کچھ کر گزرنے کی تڑپ تھی اور انہوں نے مسلسل محنت کی،بے شمار ناکا میاں بھی ان کے راستے میں آئیں،دل شکنیاں بھی ہوئیں لیکن انہوں نے محنت کرنا ترک نہیں کیا اور پھر ایک وقت آیا کہ ہر طرف ان کا ڈنکا بج رہا تھا،خود ہمارے نبیﷺ نے اسلام کی تبلیغ میں سالہا سال محنت کی، ابتدا میں وہ کونسی مشکل تھی جو انہوں نے نہ جھیلی ہو اور اسکا نتیجہ؟ محض چند لوگ اسلام پر ایمان لائے تو کیا وہ تھک ہار کر گھر بیٹھ گئے؟ بلکہ وہ محنت سے اپنا کام کرتے رہے اور پھر ایک وقت آیا کہ اسلام پورے خطہء عرب اور اس سے باہرآدھی دنیا میں پھیل گیا، آپﷺ کس قدر محنت کو پسند کرتے تھے یہ آپﷺ کی تعلیمات سے واضح ہے وہ مشہور واقع تو سب جانتے ہیں جب ایک غریب آدمی آپ کے پاس مدد لینے آیا تع آپﷺ نے اسے لکڑیاں کاٹ کر بیچنے کا مشورہ دیا، آپﷺ خود اور صحابہ اپنے سارے کام خود کرتے تھے، آپ ﷺ کا مشہور قول ہے ًالکاسب حبیب اللہ ً کہ محنت کرنے والا اللہ کا حبیب ہے یہ بہت بڑا مرتبہ ہے محنت کرنے والوں کیلئے کہ اللہ ان سے محبت کرتا ہے یہ تو ہے تاریخ اور ہمارے پیارے نبیﷺ کا سبق لیکن دوسری طرف ہم اپنے معاشرے اور بالخصوص نوجوان نسل کی طرف دیکھتے ہیں تواکثریت محنت کرنے پر آمادہ نہیں بلکہ کسی شارٹ کٹ اور جگاڑ کی تلاش میںسرگرداں ہے اور چاہتا ہے کہ راتوں رات کچھ ایسا ہو جائے کہ بغیر محنت کے اسے سب کچھ حاصل ہو جائے، یہ ناکارہ سوچ انسان کا ستیاناس کر دیتی ہے اور بعض کو جرائم کی طرف مائل کرتی ہے اور نتیجے کے طور پر نامرادیاں اور ذلتیں اسکا مقدر بن جاتی ہیں،اس ساری صورتحال کیلئے نئی نسل کو ہی موردِالزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا کچھ دوسرے عوامل بھی ہیں جنہوں نے لوگوں کو ایسی سوچ اپنانے پر مجبور کیا ہے ان میں سرِفہرست ہمارا سسٹم ہے جو صرف محنت کے بل پر اوپر آنے والوں کو سپورٹ نہیں کرتا بلکہ محنت اور دیانتداری سے کام کرنے والوں کو کھڈے لائن لگایا جاتا ہے، ہمارے سسٹم میں سفارش، رشوت، چاپلوسی اور دوسرے کی ٹانگ کھینچنا ہی آگے بڑھنے کے طریقے ہیں، اس کے مقابلے میں ہم مغرب اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک کے سسٹم دیکھیں تو وہ محنت کی قدر کرتے ہیںاور وہاں سب لوگوں کیلئے یکساں مواقع ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے دیہاتوں کے نیم خواندہ لوگ دیارِ غیر میں جا کروہاں کے سسٹم کا حصہ بن کر محض اپنی محنت کے بل بوتے پر نمایاں حیثیتوں کے حامل ہوئے۔ یورپ امریکہ جاپان آپ جہاں بھی چلے جائیں آپ کو بہت سارے پاکستانی مختلف شعبوں میں ممتاز حیثیت پر فائز ملیں گے، یہ بے شمار پاکستانی اپنے ساتھ پاکستان سے کچھ لے کر نہیں گئے تھے صرف کچھ کر گذرنے کی لگن اور محنت نے انہیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا، انکی محنت تو قابلِ داد ہے ہی لیکن قابلِ صد تعریف وہاں کے سسٹم ہیں جنہوں نے اجنبی لوگوں کو نہ صرف پناہ دی بلکہ انہیں آگے بڑھنے کے برابر مواقع بھی فراہم کیے اور پھر یہی لوگ آگے جاکرچوہدری سرور، محمود بھٹی، لارڈ نذیر، سعیدہ وارثی، شاہد خان، عمران طاہر، خواجہ عثمان بنے۔ ایک لمبی فہرست میں سے یہ چند نام ہیں، میرے اپنے دو کزن جرمنی اور ہانگ کانگ میں اپنی محنت سے آج کروڑوں کے کاروبار کے مالک ہیں، میرے بڑے پیارے دوست ظہیر عباس کچھ سال پہلے حصولِ تعلیم کیلئے جرمنی گئے تھے وہاں انہوں نے فزکس میں امتیازی حیثیت میں پی ایچ ڈی کی اور اب جرمنی کے سائنسی ریسرچ کے سب سے بڑے ادارے میں بطور سائینسدان کام کر رہے ہیں۔
سسٹم کے علاوہ دوسری جہ اس سوچ کے پیچھے یہ نظر آتی ہے کہ سائینس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی بنا پر موجودہ دور بہت تیز رفتار ہو گیا ہے اب سالوں میں ہونے والے کام مہینوں میں اور مہینوں کے کام دنوں میں ہو رہے ہیں اس پل پل رنگ بدلتی دنیا میں نوجوان نسل کسی ایسی کامیابی سے متاثر نہیں ہوتی جس کیلئے سالہا سال محنت کرنی پڑے،محنت نہ کرنے کے رجحان کے پیچھے ایک اور اہم وجہ وہ ہے جس کے بارے میں زمبابوے کے سابق صدر رابرٹ موگابے نے بڑی خوبصورت بات کہی کہ ہم اپنے نوجوانوں کو محنت اور علم کی عظمت کا کیسے قائل کر سکتے ہیں جبکہ ہم اپنے اردگرد محنتی اور علم والے لوگوں کو غریب اور مجرموں کو امیر دیکھتے ہیں۔۔۔تھرڈ ورلڈ کا یہی المیہ ہے،یہاں سسٹم مضبوط نہ ہونے کی بنا پر جرائم پیشہ افراد اپنے پیسے اور طاقت کے بل بوتے پر اوپر آجاتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے نوجوانوں کا محنت اور میرٹ سے ایمان اُٹھ جاتا ہے،کچھ دوسری وجوہات میں سے ایک وجہ والدین اور اساتذہ کی عدم توجہی بھی ہے والدین اپنے بچوں کو ساری سہولیات مہیا کرتے ہیں لیکن انہیں محنت کرنے کی طرف مائل نہیں کرتے وہ انہیں کھانے کیلئے مچھلی تو دیتے ہیں لیکن انہیں مچھلی پکڑنا نہیں سکھاتے،اساتذہ اور والدین بچوں کی کردار سازی پر بلکل توجہ نہیں دیتے،اس کے علاوہ ہمارے ہاں کیرئیر کونسلنگ کا بھی کوئی انتظام نہیں نہ ہی نئی نسل کے پاس کوئی رول ماڈل ہیں۔۔۔یہ وہ سب وجوہات ہیں جنہوں نے ہمارے ہاں لوگوں کا محنت پر یقین کمزور کیا ہے،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ محنت اب کوئی آئوٹ آف فیشن چیز بن گئی ہے پاکستان جیسے ملک جہاں حالات نامساعد اور اور سسٹم انتہا درجے کا کرپٹ ہے لیکن اس کے باوجود ہر دور میں لوگ محض محنت کے بل پر اپنا وجود منواتے رہے ہیں،بے شمار مثالیں دی جاسکتی ہیں،ہوٹلز چین کے مالک صدر الدین ہاشوانی صاحب ہیں،کولگیٹ گروپ کے خلیل احمد نینی تال والے ہیں،ڈینم کے سب سے بڑے ایکسپورٹر منیر بھٹی صاحب ہیں،آئی ٹی کمپنی نیٹ سول کے بانی۔۔۔۔،اورینٹ گروپ کے حاجی بشیر صاحب،ستارہ گروپ کے مالک میاں ادریس صاحب،سٹارلٹ شوز کے مالک،میرے قریبی دوست نعیم پیکجز کے مالک نعیم صاحب۔۔۔یہ سب لوگ ایسے ہیں جنہوں نے غربت کے اندھیروں میں آنکھ کھولی لیکن اپنے آہنی عزم اور انتھک محنت سے نامساعد حالات کو شکست دے کر معاشرے کے افق پر چمکے،آپ ان میں سے کسی کا انٹرویو کر کے دیکھ لیں وہ آپ کو بتائیں گے کہ دیانتداری اور مسلسل محنت کے علاوہ کامیابی کا کوئی فارمولہ نہیں ہے۔محنت اور دیانتداری کے علاوہ اگر ذہن میں کسی واضح مقصد کا تعین بھی کر لیا جائے یعنی ٹارگٹڈ محنت تو کامیابی یقینی ہے،کسی شارٹ کٹ یا جگاڑ سے وقتی کامیابی حاصل کر بھی لی جائے تو ایسی کامیابی نہ تو پائیدار ہوتی ہے اور نہ ہی اس سے انسان کو سچی خوشی ملتی ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ اربابِ اختیار سنجیدگی سے قانون اور میرٹ کی عملداری کو یقینی بنائیں،والدین اور اساتذہ بچوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں سمجھیں اور نبھائیں،محنت کے حوالے سے اپنے تجربے اور مشاہدے سے نئی نسل کو آگاہ کریں،انہیں محنت کی عظمت کا قائل کریں،تعلیم کے ساتھ ساتھ انہیں عملی طور پر بھی کچھ کرنے کی ترغیب دیں،اور انہیں بتایا جائے کہ اگر آپ اپنی خوہشات کی تکمیل چاہتے ہیں تو اس کیلئے محنت کریں اور کام سے لظف اندوز ہونے کا فن سیکھیں پھر ہی زندگی میں بڑی کامیابیاں حاصل کر پائیں گے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: