تھر کا صحرا: حسن اور حزن کی داستان — مدثر ظفر

0

اگر آپ کچھ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہی سہی لیکن بجلی جیسی نعمت موجود ہے، اگر آپ کو تازہ بتازہ سبزیاں اور پھل میسر ہیں، اگر آپ کے پاس اپنی سواری ہے یا عوامی سفری سہولیات تک آپ کی رسائی ہے، اگر آپ نل کھول کر شہنشاہوں کی طرح نہاتے ہیں، سلوٹوں سے عاری استری شدہ لباس پہنتے ہیں، اگر آپ کے پاس سمارٹ فون ہے اور آپ دنیا سے رابطہ میں رہتے ہیں، معیاری تعلیمی ادروں تک رسائی رکھتے ہیں ایک کال پر ایمبولینس ٹیسکی رکشہ آپ کے دروازے پر پہنچ جاتے ہیں الغرض بنیادی ضروریات زندگی آپ کی دہلیز پر ہیں تو یقین جانئیے آپ ایک خوش قسمت انسان ہیں۔۔۔

مصنف: مدثر ظفر

ذرا رکیئے ایک لمحہ توقف کیجئے اور تصور کیجیئے اگر آپ کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر ایک ایسے علاقہ میں پٹی کھولی جائے جہاں پانی پینے کو بھی بوندھ بوندھ ملتا ہو، بجلی دیوانے کا خواب ہو، ہسپتال آپ سے میلوں دور ہو اور اس تک رسائی کے لیئے سڑک ناپید، جہاں زمین ریتلی نا ہموار پر خار ہو اور آپ کو اس پیدل سفر کرنا پڑے، جہاں سبزی کبھی کبھی نصیب ہو، جہاں جنگلی درختوں کی پھلیاں بطور سبزی پکائی جاتی ہوں، جہاں روزانہ سوکھی پیاز کا سالن خوراک کا حصہ ہو اور گلا چھیلتی ہوئی باجرے کی سخت روٹی کے ساتھ معدہ میں اتارنا ہو، آپ دنیا سے الگ ہوں، اپنوں سے رابطہ کا ذریعہ نہ ہو لا محالہ آپ کو لگے گا کہ آپ پتھر کے دور میں آگئے ہیں، یقیناً یہ ایک ایسا ڈراؤنا خواب ہو گا جسے آپ کبھی بھی حقیقت میں بدلنا نہ چاھیں گے۔

تھرپاکر ایسا ہی ایک خطہ ہے جہاں زندگی خود زندگی کی تلاش میں رہتی ہے۔اپنے شب روز ممبئی ایسے بارونق اورضروریات زندگی سے آراستہ شہر میں گزارنے والے سعادت حسن منٹو نے اگر تھر پارکر کی ریت پھانکی ہو تی تو یہ کبھی نہ کہتا کہ ممبئی وہ جگہ ہے جہاں میں نے اپنے مشقت کے دن گزارے۔ہاں اتنا ضرور ہے کہ ماحول کے حساب سے مشقت کے معنی ضرور بدل جاتے ہیں۔
پہلی بار تھرپارکر جاتے ہوئے میرے احساسات ایسے ہی تھے جیسے میں زندگی کی رونقوں سے دور جا رہا ہوں۔ایک ایسا خطہ جہاں کا کلچر میرے کلچر سے الگ ہے وہاں کی زبان رہن سہن کھانا پینا سب الگ ہوگا، جو جو کہانیاں سن رکھیں تھیں دل دھلا دینے کو کافی تھیں۔ ڈگری شہر تا نو کوٹ کے سرسبز علاقوں کے بعد ریت کا نہ ختم ہو نے والا سمندر میلوں پر محیط سڑک کے دونوں جانب بہ رہا تھا۔ بس ایک کے بعد ایک ٹیلوں پر چڑھتی اترتی تھی۔ان ٹیلوں کے درمیان کہیں کہیں چند جھونپڑیوں پر مشتمل گائوں نظر آجاتے۔ ضروریات زندگی لمحہ بہ لمحہ مجھ سے بچھڑ رہی تھیں۔ موبائل کے سگنل دم توڑ رہے تھے اور دل اس ویرانے میں دل لگی کی ہمت جٹا رہا تھا۔

تین سال کا عرصہ تھر پاکر کی ریت پھانکنے کے دوران احساس ہوا کہ میں معاشی طور پرغریب لیکن دل کے امیر لوگوں میں رہاہوں۔تھر کے لوگ تنگی حالات کے باوجود دل کشادہ رکھتے ہیں بالخصوص مہمان کے لیے دل و جان سے جو ہے جیسا ہے حاضر کرنے والے ہیں۔ مہمان کو بھگوان کا روپ سمجھ کر کھانے سے پہلے خود ہاتھ دھلا نے والے سچے لوگ۔ جہاں عورت حیاء کی مورت گھونگٹ نکالے پانی کے گھڑے سروں پر دھرے کنوؤں میں ڈول ڈال کر جب رسی کھینچتیں تو صحراء کے ویرانے میں جلترنگ بج اٹھتا، میرے لیے یہ بات ایک عرصہ تک معمہ بنی رہی کہ بعض عورتیں کلائی سے لے کندھے تک رنگ برنگی پلاسٹک کی چوڑیاں پہنے ہوئے ہیں جبکہ بعض صرف کہنی تک، ایک عرصہ بعد عقدہ کھلا لڑکی کے بالغ ہوتے ہی شلوار قمیض کی بجائے چولی گھاگرا پہنا دیا جاتا ہے۔ لڑکی جب تک کنواری ہے کہنی تک چوڑیاں پنے گی جب بیاہی جائے تب کندھے تک چوڑیوں سے لد جاتی ہے، یہ چوڑیاں اترنے کی دو ہی صورتیں ہیں ایک خاوند مر جائے دوجا موت ہی ان چوڑیوں کو تھری عورت سے جدا کرتی ہے۔ تھری عورت تھر میں صنف مخالف تو ہے صنف نازک نہیں۔ علی الصبح چکی پیسنے سے لیکر کھیتوں میں ہل چلانے جانوروں کا چارا بنانے پچے پیدا کرنے اور پالنے تک تھری عورت مجسم محنت ومشقت ہے۔ سب کو پکا کر کھلائے گی بچ گیا تو سب کے کھانے کے بعد کھائے گی۔ مر جائے گی دن کو چار پائی پر نہ بیٹھے گی گیا رہ سال کی بیاہی جائے گی پھر ہر سال بچہ جنے گی۔

میں ایسے دیس میں آ بسا تھا جہاں چوری لوٹ مار کا تصور نہ تھا لوگ اپنےجانور اور اوزار کھیتوں میں چھوڑ آتے۔ گھر کے گرد کانٹوں کی باڑ کے معمولی سے دروازے کو رسی سے باندھا ہو ا دیکھ کر آنے والا لوٹ جاتا، دروازہ رسی سے بندھا ہونا اس بات کا اشارہ ہوتاکہ گھر میں کوئی نہیں ہے۔جہاں کی سبزی مصنوعی کھاد گٹر کے پانی زہریلی ادویات کے اسپرے سے پاک ہوتیں تھیں، تھر کی ان سبزیوں کا ذائقہ آج بھی میری زبان میں ہے، وہ دیس جہاں آج بھی دودھ بیچنا براسمجھا جاتا ہے۔ پرندوں کا شکار بڑا پاپ مانا جاتا ہے۔
بچوں کی شادیاں اپنے خاندان میں نہیں کرتے جس کی وجہ سے ان کی رشتہ داریاں بہت وسیع ہو تی ہیں۔یہ لوگ بہت ذھین ہو تے ہیں تخلیقی صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ تھرپارکر کی دست کاری جن میں اوڑھنے بچھونے کی اشیاء مور کے پروں سے بنائی گی مختلف اشیاء، مٹی کے برتن شامل ہیں جو ملک کے طول و عرض میں پسند کیے جاتے ہیں ہنر میں اور مشقت میں یہ لوگ یکتا ہیں لیکن غربت و نامساعد حالات نیز فرسودہ معاشرتی روایات میں بندھے ان میں سے بہت کم ایسے جو زندگی میں کچھ بن جاتے ہیں ورنہ صدیوں سے تھرپاکر کی دھرتی ان گم نام لوگوں کا مدفن بنتی ہے۔

عمر رسیدہ لوگوں کے چہروں پر پڑی جھریاں بزبان حال تھر کی بے رحم زندگی کی داستان سنا رہی ہو تیں تھیں۔ تھر پارکر کی تلخ اور پر مشقت زندگی نے ان لوگوں کو بہت کچھ سکھایا ہے یہ لو گ اپنے پرائے جانوروں کے پیروں کے نشانات تک میں فرق کر سکتے ہیں، بغیر کسی گیجٹ کے ہوائوں کا رخ دیکھ کر موسم کا حال بتا دیتے ہیں، ایسے ہی ایک بزرگ سے میں نے دریافت کیا “کاکا اس سال بارش ہو گی” چند ساعتیں کو رے آسمان کو تکنے کے بعد اس نے گردن جھکالی جو مایوسی کا استعارہ تھی، گردن اٹھائی بولا اس سال ڈکال (قحط) پڑے گا ایسا ڈکال جو کئی سال پہلے پڑا تھا اس سال تھر کی دھرتی بارش کے پانی کو ترسے گی لوگ مریں گے جانور مریں گے، درخت سوکھ جائیں گے اور لوگ ہجرت کریں گے، فطرت کے میوزیم تھر کے دو گلدستے شیر خوار بچے اور مور اس قحط کی نذر ہو رہے ہیں مور تھر کا حسن ہے اور بچے تھر کا مستقبل۔ایک دن میں سات آٹھ شیر خوار تھری بچوں کے مرنے کی خبر کسی نیوز چینل کی بریکنگ نیوز بنے تو اے سے کے مصنوعی ٹھنڈے ماحول میں منرل واٹر کے گھونٹ بھرتے ارباب اختیار تھر کے قحط پر ہنگامی میٹنگ میں کیے گئے فیصلے فائلوں میں محفوظ کر کے ایسے ہی کسی اگلے سانحہ تک میٹنگ برخاست کر دیتے ہیں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: