شہر لہور اندر کنے بوہے تے کنیاں باریاں نے؟ فارینہ الماس

0
  • 1
    Share

کبھی کبھی بہت دل چاہتا ہے کہ آج سے کئی برس پرانے لاہور کو چشم تصور سے اس طور دیکھا جائے جیسے یونس ادیب کی تصنیف ” میرا شہر لاہور “میں لکھا ہے۔ کیسا ہوگا وہ شہر جس کی رنگا رنگ زندگی اور اس کی بے تحاشہ رونقیں محض اس کے بارہ دروازوں کی بانہوں میں سمٹی ہوں گی۔ اس دہلی دروازے کی شان کیا ہو گی جہاں استاد دامن جلسوں میں نظمیں پڑھا کرتے تھے۔ جس کے گلی کوچوں میں اک دیوانہ شاعر ساغر صدیقی گھوما کرتا تھا۔ جس کے کسی ٹوٹے پھوٹے چبارے میں بیٹھا منٹو کہانیاں لکھا کرتا تھا۔ جہاں ہر دم میلوں ٹھیلوں کے سنگ یہ شہر روشنیوں میں بقعہءنور بنا رہتا تھا۔ وہی میلے ٹھیلے جن کی نسبت لاہوریوں سے کچھ یوں منسوب کی جاتی کہ ست دن تے اٹھ میلے کم کراں میں کیہڑے ویلے۔ پہلوانی لاہور کے مزاج کا ایک خاص رنگ ہوا کرتی تھی۔

شہر میں جا بجا اکھاڑے موجود تھے۔ یہ ایک شوق بھی تھا اور ذریعہءمعاش بھی۔ اور سب سے بڑھ کر طاقتور مردوں کے لئے ایک مثبت زریعہءاظہار بھی۔ یہاں انہی گلی کوچوں میں وارث شاہ کا قصہءہیر ترنم سے پڑھنے کے مقابلے ہوا کرتے۔ اور اسی قصے کو ڈراموں کی صورت بھی پیش کیا جاتا۔ یہاں پتلی تماشے ہوتے۔ مشاعرے سجا کرتے۔ فن اور ہنر کے ڈھیروں مقابلے ہوتے۔ شاہی قلعہ کے حضوری باغ کی دیوار کے سائے میں تکیہ موجود تھا جہاں سے بڑے بڑے استاد وں نے فن موسیقی اور طبلہ نوازی سیکھی۔ نوجوان پیسہ لائبریری سے کتابیں لے کر پڑھتے پڑھتے خود بھی کہانی نویس، ناول نگار اور شاعر بن جایا کرتے۔ سارنگی اور ڈھولک کے سازوں پر ننھے بچوں کو لوریاں سنائی جاتیں۔ بسنت تہوار پر آسمان پر اٹھتی نگاہ رنگوں کی سج دھج میں کھو جاتی۔ اندرون شہر میں پیدا ہونے والے ہر بچے کی پہلی درسگاہ تھڑا کلچر کو کہا جاتا۔ جہاں ہر شخص اپنے اپنے شخصی اور نفسیاتی اظہار کا موقع پاتا۔ رات کے آخری پہروں میں اس محفل کو سجایا جاتا۔ جس کے من میں جو ہوتا وہ اس کا من و عن اظہار کر دیتا۔ گویا یہ ایک انسانی کتھارسس کا ذریعہءبھی تھا اور اپنے فن و مہارت کی داد پانے کی جا بھی۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ اپنے تمام تر نفسیاتی و شخصی مسائل کے باوجود پرانے وقت کے یہ لوگ زندہ رہنے کے لئے ہمیشہ زندہ لمحوں کی تلاش میں رہا کرتے۔ یہ اپنی فکروں کے تزکرے کر کے اپنا جینا سہل بنا لیتے۔ یہ اپنے فن کے اظہار کے لئے ترسا نہیں کرتے تھے اور نا ہی کسی بہت بڑے موقع کی تلاش میں ہی وقت کو بیتا دیتے بلکہ یہیں انہی تھڑوں پر اپنے جیسوں کے ہی بیچا بیچ اپنے لئے داد و تحسین کا انتظام کر لیا کرتے۔ یہ دکھوں کے بھاری دھاگوں سے بھی ہمیشہ دائمی سکھوں کے تانے بانے بنتے رہتے۔ زندگی کو آرزوؤں، امنگوں اور ڈھیروں خوابوں کے رنگوں سے کشید کرتے رہتے۔ وہ لوگ کتنے خوش قسمت تھے جو پرانے لاہور کی رونقوں سے جڑے ہوئے تھے۔ آج منظر بہت بدل چکا ہے اب بھی بارہ دروازے تو موجود ہیں لیکن زندگی ان دروازوں سے بہت باہر نکل چکی ہے۔ انہی گلیوں کے ہنر کدوں سے سیکھ کر جو لوگ موسیقار، طبلہ نواز، فلم ساز، شاعر، ڈرامہ نگار یا کہانی کار بنے، وہ تو اپنے فن کے عروج پر ہی ان گلیوں کو خیر باد کہہ چکے تھے اب تو اکثروں کی روحیں بھی ملک عدم سدھار چکیں۔ آج بھی کچھ رہ جانے والی بچی کھچی ثقافت ان گلیوں کے مکانوں کی گلی سڑی شہتیروں اور چوکھٹوں سے دیمک کی طرح چپکی ہوئی ہے لیکن وہ ثقافت جو متحرک تھی جس میں زندگی کی روانی اور تابانی دوڑتی پھرتی تھی وہ اب دم توڑ چکی ہے۔ یا یوں کہنا چاہئے کہ لاہور میں آج دروازے تو شاید لاکھوں ہیں لیکن ہوا اور روشنی کی گزر کے لئے کہیں بھی کوئی معمولی درز بھی نہیں۔

Author

مادیت پرستی اور نفسا نفسی نے انسانوں کو انسانوں کی بھیڑ میں تنہا کر دیا اور انسان کے اندر کے ہنر اور اس کے اظہار کو بے موت مار ڈالا۔ ریت اور سیمنٹ کے پختہ اور بلندو بالا مکانوں میں جیسے انسانی روحیں بے اماں و بے یارو مددگار، قید د بند بھگت رہی ہیں۔ شہر کو دیکھیں تو شاید آج کا شہر اس پرانے شہر سے کئی گنا ذیادہ دلکش اور دلفریب بن چکا ہے۔ روشنیوں کی چکا چوند میں کنکریٹ کی کشادہ سڑکوں پر دوڑتی ہر ماڈل ہر رنگ کی گاڑیاں کسی انجانی سمت دوڑے چلی جارہی ہیں ایسی جلد بازی میں کہ جیسے منزلوں سے بھی کہیں آگے بہت دور نکل جانا چاہتی ہیں۔ اور بڑے بڑے دوہرے ہوتے، پیچ و خم کھاتے، اوپر تلے رستہ بناتے انگنت پل بے ہنگم اور بے لگام انسانو ں کو اک دوسرے سے آگے نکلنے کا رستہ دے رہے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ لیکن کتنا آگے اور بڑھنا ہے کس کس کو پیچھے چھوڑنا ہے یہ تو شاید کسی کو بھی معلوم نہیں۔ کیسی بے قرار روحیں ہیں جو رستوں اور منزلوں کے بے نام و ناکام تصور کی عادی ہو چکی ہیں۔
ایسا کیوں ہے کہ اب رونقیں بڑھ چکی ہیں لیکن ان رونقوں کی روح دم توڑ چکی ہے۔ شاید زندگی اپنی دلچسپی کھوتی چلی جا رہی ہے اور جب ایسا ہونے لگے تو اک اداس اور تلخ انجام کا تصور روح پر چھانے لگتا ہے۔ زندگی پر زندگی میں ہی موت کا سکوت طاری ہو جاتا ہے۔ انسان پیدائشی تخلیق کار ہے۔ وہ اپنے اسی ہنر سے زندگی کی سبھی کٹھنائیوں اوررکاوٹوں میں بھی اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔ تخلیق اپنا اظہار چاہتی ہے۔ اورجب اسے اظہار نہ ملے تو تخریب اپنا راستہ بنانے لگتی ہے۔ اسی طرح جب انسان سے زندگی کی سرشاری اور خوشی کے مواقع چھین لئے جائیں تو اداسی و بے دلی اپنے ڈیرے ڈالنے لگتی ہے۔ انسان بے دلی اور بے ہمتی سے گزر بسر کرنے لگتا ہے، اس کی طبیعت پر قنوطیت اور رویوں پر مژمردگی چھا جاتی ہے۔ وہ بیزار ہونے لگتا ہے خود سے اور اپنے جیسے انسانوں سے۔ اس بے زاری کا اظہار وہ غصے سے اشتعال سے، ہر ایک سے لڑ بھڑ کر کرتا ہے اور بلکل ایسے ہی رویوں کا مظاہرہ آج بھرپور طور پر دکھائی پڑتا ہے۔ خوشی، سرشاری اور سکون پانے کے لئے بے انت منزلوں کو عبور کرنا ہی مقدم نہیں ہوتا یہ تو انسان کے اپنے من کے اندر موجود اس روشن نکتے میں مرکوز ہے جس سے اگر انسانی سوچ اور فکر ٹکرا جائے تو عرفان ذات کی روشنی کا منبع پھوٹ سکتا ہے۔ لیکن آج کی اس بے ہنگم اور بے قابو معاشی دوڑ نے زندگی کے گرد ٹمٹمانے والے اس روشنی کے ننھے منے ستارے سے اس کی ساری تابانی چھین لی ہے۔

لاہور کی مشہور نہر

ہم اپنے بچوں کو کامیاب انسان تو بنانا چاہتے ہیں لیکن اظہار ذات سے محروم رکھ کر۔ ہمیں ان کے ہاتھ میں سارنگی، ڈھول، گٹار یا وائلن ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ ہماری نظر میں سبھی موسیقار یا گلوکار بھانڈ یا میراثی ہیں، مصنف اور ادیب معاشرے کا بیکار حصہ ہیں۔ اسی لئے ہمیں حبیب جالب یا میر امن جیسے بے کار لوگ اب نہیں چاہئیں۔ ہمیں گاما پہلوان یا بھولو پہلوان کا نام سن کر بھی ہنسی آتی ہے۔ ہمیں ہیر وارث شاہ پڑھنے والوں یا ایکٹ کرنے والوں سے بھی کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ سب پتلی تماشے، میلے ٹھیلے بے کار ہیں۔ ہمیں فرصت میں بھی خود اپنے آپ سے ملاقات کرنا اور اپنے من کے پیپل کی ٹھنڈی چھاؤں تلے بیٹھنا نہیں بھاتا۔ ہمارا بس چلے تو خوش رہنے کا ہر موقع دھرتی کے منہ سے نوچ لیں اور فن کے ہر اظہار کو پیروں تلے رونددیں۔ یہی اچھا ہے کہ یہاں فنکار گھٹ گھٹ کر مرتے رہیں۔ اور ہم ان کے مرنے کے بعد ان کی موت کا جشن مناتے رہیں۔ یہ سب ناکام لوگ ہیں جو اپنی ناکامیاں سمیٹ کر رخصت ہو جاتے ہیں۔

ہم کبھی بھی ماضی کے تھڑا کلچر کی طرح شہر میں جدید طرز کے ہنر کدے یا فن کدے نہیں بنائیں گے۔ ہم کبھی اپنے بچوں کو اپنا آپ دریافت کرنا نہیں سکھائیں گے۔ ہمارے لئے علم، ادب اور آرٹ کا بحران کوئی معنی نہیں رکھتا۔ کیا معاشرے اپنی روح کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ ۔ ۔ ؟ رات کے اندھیرے میں جب ٹریفک کا شورو غوغا کچھ تھم سا جاتا ہے تو ایک کٹا پھٹا، پرانا اور میلا لباس پہنے، اپنے کھردرے، غیر محسوس اور لاتعلق سے احساس کو اپنے سنگ گھسیٹتے ہوئے ایک پرانی، بوسیدہ بوڑھیا دکھائی پڑتی ہے۔ ۔ ۔ بہت لاغر، کم ہمت اور بے بس سی بڑھیا۔ ۔ ۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ کوئی عورت نہیں اسی شہر کی صدیوں پہلے اجڑی اور بچھڑی ہوئی روح بھٹکتی پھرتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: