روزہ, علت اور مشقت: صفتین خان

0

روزے میں مشقت اور اضطرار کی بحث اب منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ دونوں اطراف سے اپنے اپنے دلائل پیش کیے جا رہے ہیں۔ دونوں جانب کبار اہل علم مختلف پہلووں کو بیان کر رہے ہیں. معاملات کو سمجھنے اور اختلاف رائے کو برداشت کرنے کی تربیت ہو رہی ہے. اگرچہ اکثریت اہل روایت کی حسب معمول طنز و تعریض اور ذاتیات کو اپنائے ہوئے ہے۔ ایسا اس لیے کہ ان کی اختلافی امور میں تربیت ہی نہیں ہوئی۔ اس سلسلے میں یہ طالب علم بھی اپنی گزارشات سامنے لانے کی جسارت کرتا ہے۔
اصل وجہ تنازع فقہی اصطلاحات کا استعمال ہے۔ اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ روزوں میں چھوٹ بیماری اور سفر کے علاوہ بھی دی جا سکتی ہے مگر اصرار یہ ہے کہ اس کا مدار انہیں دو کیڑیگریز کے تحت یا عمومی عدم استطاعت کے اصول پر کیا جائے۔ نیز علت اور حکمت کے فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان الفاظ کو صرف روایتی اصطلاحاتی مفاہیم کے تناظر میں استعمال کیا جائے۔ یہ رویہ ایک خاص مائنڈ سیٹ کو ظاہر کرتا ہے جو صدیوں کی علمی روایت کے بعد جمود اور تکبر کو جنم دیتا ہے۔ نصوص سے براہ راست فہم کے دروازوں کو حرمت کا درجہ عطا کیا جاتا ہے۔
یہ بات درست کہ کسی علم کی قانونی اصطلاحات کو اسی مفہوم میں استعمال کیا جائے لیکن کیا اس کے مفہوم کو وسعت دینا حرام ہے۔ پھر علت کے تعین کے جو اصول فقہا نے مرتب کر دیے ہیں وہ کیا الہامی ہیں۔ علت و حکمت کی تقسیم اور اطلاق پر کسی مخصوص گروہ کی اجارہ داری ہے۔ اس روایتی فقہی اصول کے بھی جو مختلف شیڈز ہیں کیا وہ خود وسعت فکری کا مطالبہ نہیں کرتے۔ فقہا نے لفظی علت اور اجتہادی علت سمیت اس کی کافی اقسام ذکر کی ہیں۔ بعض دفعہ علت اشارتہ بھی مذکور ہوتی ہے۔ کیا قرآن کے بیان سے بڑھ کر علت جانچنے کا کوئی اور ذریعہ ہے۔ کیا شارع کے مفہوم سے فقہی اصطلاحات میں کھو کر محروم ہوا جا سکتا ہے۔ عدم استطاعت مشقت پر اپنی بنا کیوں نہیں رکھ سکتی۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن کسی معاملے کو کیسے واضح کرتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ نہیں کہ دو جمع دو چار کی طرح ایک ایک چیز تفصیلات میں بیان کرے۔ وہ اصول دیتا ہے پھر اس کا اطلاق کرتا ہے ایک دو جگہ مثال دے کر۔ باقی انسانوں پر چھوڑ دیتا ہے کہ صاحب عقل مخلوق ہے استنباط کر لے گی۔ اللہ نے اصول دیا کہ عام حالت میں روزہ فرض ہے لیکن اگر کوئی بیماری یا سفر کے حال میں ہو تو چھوڑا جا سکتا ہے۔ اسی اصول کو آگے واضح بھی کر دیا کہ آسانی چاہتا ہے مشکل نہیں۔ اب آپ اس استثنا پر غور کریں تو اصل چیز معمول سے ہٹ کر ایسی حالت ہے جہاں روزہ کی مشقت معمول سے زیادہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے دونوں میں کوئی حد متعین کرنے کے بجائے صرف بیان پر اکتفا کیا۔ اب یہ نہ ممکن تھا نہ مطلوب کہ ایسی تمام حالتوں کی لسٹ فراہم کی جاتی۔
اسی اصول پر رسول ص نے حاملہ اور دودھ پلانے والی کو روزوں سے مبرا کیا ہے۔ یار لوگ کہتے ہیں یہ نص سے واضح ہے استثنا سے قیاس کر کے نہیں اور اس کی اجازت بھی نہیں کہ استثنا پر قیاس کیا جائے۔ لیکن کیا یہ حدیث بذات خود اس استثنا پر قیاس یا اس کا اطلاق نہیں۔ حضور ص نے اور کچھ نہیں کیا قرآنی علت پر قیاس کرنے کے بعد اس کا اطلاق کر کے دکھا دیا۔ یاد رہے روایات قرآن و سنت میں موجود اصولوں کی تشریح و اطلاق ہی کرتی ہیں۔ بے شمار احکام میںِ آپ نے اپنی اجتہادی بصیرت ظاہر کی جس کو اللہ کی تائید نے نص کا درجہ عطا کیا۔ فقہا نے بھی بڑھاپے کو اسی اصول پر شامل کیا ہے اس میں۔
عدم استطاعت کے اصول کو دیکھیں تو وہ بھی اپنی اصل میں مشقت سے منسلک نظر آتا ہے اگر تعصب روا نہ رکھا جائے۔ ایسی مشقت جو عدم استطاعت یا بیماری پیدا کرے علت قرار پائے گی استثنا کی۔ یہاں آکر دونوں باتوں میں تطبیق ممکن ہے۔اب یہ فیصلہ ہر صاحب علم خود کرتا ہے کہ مشقت علت ہے یا حکمت۔ نیز بیماری اور سفر علت ہیں یا علت کے مظاہر و امثال۔ اور کیا حکمت کو علت پر فوقیت دی جا سکتی ہے حکم میں۔ نیز خدا کی بات سمجھنا زیادہ اہم ہے یا اصول فقہ اصطلاحات کی لازمی اندھی پیروی۔ یہ سب اجتہادی امور ہیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ جو لوگ ان اصولوں کے اطلاق پر غامدی صاحب کو طنز و تحقیر کا نشانہ بنا رہے ہیں وہ ذرا جرات کر کے فقہا کو بھی اس میں شامل کریں جنہوں نے تین میل سے لیلر سینتالیس میل کے فاصلے کو سفر میں شمار کیا ہے۔ اب اگر کوئی اس کو لیکر ان کا ٹھٹھا اڑانا شروع ہو جائے اور روزانہ کے کام کی معمول کی مسافت جو یقینا تین میل سے زیادہ ہوتی ہے کو لیکر روزوں سے رائے فرار اختیار کرے تو کیا یہ علمی رویہ ہوگا۔ اس سلسلے میں مشقت کو اگر علت نہ مانا جائے تو جس خدشے کا اظہار روایتی طبقہ کر رہا ہے کہ متجدد حضرات دین پر عمل سے لوگوں کو رائے فرار کا موقع دے رہے ہیں تو یہ منطق روایتی فقہا کے موقف پر زیادہ صادق آتی ہے۔
ایک حد تک مشقت ہر عمل میں موجود ہے اور اس کی بنیاد پر گریز خدا کا منشا ہرگز نہیں۔ بلکہ تقوی کا لازمی جز ہے۔ لیکن یہ ہر شخص خود فیصلہ کر سکتا ہے کون سی مشقت اس کے لیے ناقابل برداشت ہو سکتی ہے کہ اس کو بیماری تک لیجائے۔ اس کا فیصلہ وہ خود کرے گا۔ امتحان میں بعض طلبا ٹینشن اور دیگر عوامل کی وجہ سے لو بلڈ پریشر یا ڈی ہائڈریشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔اس کو مگر کسی عمومی اصول کے طور پر بیان کرنا مبنی بر حکمت نہیں۔ شاپنگ کے لیے اس کی گنجائش نکالنا بھی حکم کی روح کے مطابق نہیں۔ ایسے معاملات میں انفرادی سطح پر فیصلہ سنانا چاھیے اصول بیان کرتے ہوئے۔
ئی استدلال کہ مشقت اس لیے علت نہیں بن سکتی کیوں کہ اس کو منضبط صورت (standard format ) میں بیان نہیں کیا جا سکتا بھی ایک کمزور دلیل ہے۔ اللہ نے جو دو رخصتیں بیان کی ہیں سفر اور بیماری ان میں بھی کوئی ایک معیار قائم کرنا مشکل ہے ہر شخص کے لیے۔ اسی لیے ہر شخص یہ خود فیصلہ کرنے کا مجاز ہے کہ کتنے سفر اور بیماری پر مشقت عمومی مشقت سے بڑھ کر اندیشہ ضرر میں شامل ہو سکتی ہے۔
یہ بھی سوال کیا جاتا ہے کہ اگر محض مشقت علت ہے تو جس سفر اور بیماری میں ایسا نہ ہو اس میں روزہ رکھنا فرض ہوگا یا افضل۔ اس میں اصل چیز کیفیت ہے۔ دونوں میں مشقت کا ایک اضافی پہلو لازمی موجود ہوتا ہے چاہے کتنی ہی آسانی ہو۔ لہذا مشقت پر مشقت کو استثنا دیا گیا۔ اس صورت میں اللہ کی دی ہوئی رعایت سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کرنے کا آخری اختیار بھی فرد کو خود حاصل ہے۔ افضلیت تو موجود ہو گی لیکن فرضیت کا درجہ عطا نہیں کیا جا سکتا۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: