روزہ اور امتحانات: سمجھو تو بہت کچھ ۔۔۔۔ لبنیٰ سعدیہ عتیق

0

معلمہ کو اپنے تمام شاگردوں سے بہت محبت ہے۔ شاگرد بھی معلمہ سے محبت کرتے ہیں۔
اور جب محبت ہوتی ہے تو ایک دوسرے کی پسند نا پسند، خوشی و ناراضی کا بھی خیال رکھا جاتا ہے
موسمِ سرما کی ایک ہفتے کی تعطیلات آئیں تو ہم نے چھٹیوں کے لئے معمولی خانگی مشق یعنی ہوم ورک دیا
شاگردوں نے ٹیڑھے میڑھے منہ بھی بنائے کہ مس! ایک ہفتے کی تعطیل پہ بھی کام!
ہم نے ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا
وضاحت کردیں کہ ہمارا شمار انتہائی اصول پسند اور سخت گیر اساتذہ میں ہوتا تھا
یعنی کام نا کرنا شاگردوں کے لئے کافی ’بھیانک‘ بھی ثابت ہوسکتا تھا
ـــــــــــــــــــــ
تعطیل ختم ہونے کے آخری روز رات دس بجے ایک بہت لاڈلی ذہین اور منبرِ فتح کی حامل شاگردہ کا موبائل پیغام موصول ہوا، ’مس! ہوم ورک نا کرنے کی کیا سزا ہوگی؟‘
پیغام پڑھ کر بچی کی معصومیت پہ بے ساختہ مسکراہٹ بھی ہونٹوں پہ آئی تو کچھ غصہ بھی آیا کہ گھامڑ نے کام نہیں کیا، پوزیشن ہولڈر نے نہیں کیا تو باقی شاگردوں کو کیا کہیں گے۔۔۔
خیر ہم نے جواب لکھا، ’سمجھو تو ’بہت کچھ‘ نا سمجھو تو ’کچھ نہیں‘‘
طالبہ کا فوراً جوابی پیغام آیا، ’اوہ! یعنی آپ کی ناراضی، چلو بھائی اب تو کرنا ہی پڑے گا ہوم ورک‘
ــــــــــــــــــــــ
آپ سمجھے؟
ہم نے اپنے پیغام میں طالبہ کو زبان دے دی تھی کہ ہم کسی قسم کی تادیبی کاروائی نہیں کریں گے بس ناراض ہوجائیں گے مگر یہی ’سزا‘ طالبہ کے لئے کسی مار ڈانٹ سے بڑھ کر تھی کہ راتوں رات اس نے کام مکمل کیا اور درسگاہ کھلنے پہ ہمیں پیش کردیا
ــــــــــــــــــــ
آج ایک محترم لکھاری کی تحریر پہ نظر پڑی جس کے درمیانی حصے میں وہ کہتے ہیں اور کیا خوب کہتے ہیں کہ، ۔۔۔۔۔’. اگر تو آپ نے طے کر رکھا ھے کہ..اللہ کی عبدیت کا حق ادا کرنا ھے.. تو پھر اس نے کہا ھے کہ روزہ رکھو..تو رکھنا ھے.. پھر کسی مفتی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ھے‘۔۔۔۔۔۔۔
ایک صاحب نے تبصرے میں نکتہ اٹھایا، ’اللہ نے یہ بھی کہا کہ اگر روزہ چھوڑنا پڑجائےتو چھوڑ بھی سکتے ہو‘
ـــــــــــــــــــ
واللہ ہمیں تبصرہ پڑھ کرہنسی آگئی۔۔
ایک عام انسان کی اوقات کیا ہے؟
ہماری آپس کی محبت کی طاقت کیا ہے؟
مفاد نا ہو تو بھلا کون کسی کی پرواہ کرتا ہے؟
نقصان کا اندیشہ نا ہو تو لوگ محنت سے جان چُھڑا ہی لیتے ہیں
ڈر اور خوف نا ہو تو لوگ احسان کرنے والے پہ بھی آنکھیں نکال لیتے ہیں
ــــــــــــــــ
ہم نے۔۔ ایک حقیر فقیر ناچیز مخلوق نے اللہ کی عنایت سے درجہء معلمیت پہ فائز ہونے کی بناء پہ ملنے والے معمولی ترین اختیار کا استعمال کرتے ہوئے اپنی طالبہ کو سزا کے ڈر سے بری کردیا تھا مگر ٹیچر سے محبت میں اس نے اس استشنیٰ کا فائدہ اٹھانے کی کوشش ہی نہیں کی کہ سوال معلمہ کی ناراضی کا تھا کہ انہوں نے کہا تھا کام کر کے آنا۔۔۔۔
معلوم بھی تھا کہ مس ایک دن سے ذیادہ بھلا کہاں ناراض رہیں گی مگر ایک دن بھی کیوں!
ـــــــــــــــ
یہاں تو خالقِ کائنات پکار رہا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اسکا بدلہ دوںگا اور آپ اگر مگر کیونکہ چونکہ میں الجھے بیٹھے ہیں؟
جناب اہمیت حصہ اول کی ہے، ’روزہ رکھو‘
آپ حصہ دوم کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں، ’بیماری یا سفر کی ’مشقت‘ میں روزہ چھوڑ سکتے ہیں‘
اور اس حصہ دوم کا پوسٹ مارٹم کرنے میں لگے ہیں کہ ’اس مشقت‘ میں کیا کیا مزید ’نیا‘  ڈالا جا سکتا ہے، اس طرح سے تو امتحان، شاپنگ، گھر کی صفائی، باس کی ڈانٹ، پڑوسن سے جھگڑا، کھلاڑیوں کا کھیل، پکوڑوں کی تیاری، مہمانوں کی آمد، بچوں کی پٹائی، کپڑوں کی دھلائی۔۔۔۔ ایک لمبی فہرست اس مشقت کا بڑے آرام سے حصہ بنادی جائے گی اور ایک وقت آئے گا کہ روزہ صرف آپ کے گھر کے فرنیچر کا ہوگا کہ وہی کسی مشقت کے بغیر چوبیس گھنٹے ایک جگہ پڑا رہتا ہے۔۔۔

—————

معلمہ ریاضی، لبنیٰ سعدیہ عتیق

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: