سوشل میڈیا اور خواتین: زارا مظہر

1
  • 5
    Shares

ہماری خواتین کو یہ شکایت رہتی ہے کہ انکو سوشل میڈیا پہ تنگ کیا جاتا ہے۔ اور کچھ تو عجیب وغریب اسٹیٹس دے کر باقاعدہ اعلان کرتی ہیں کہ انہیں تنگ کیا جا رہا ہے۔ یہ بذات خود ایک اسٹیٹس سمبل بن چکا ہے کہ دیکھئے ہم کتنے حسین یا فطین ہیں جو ایک زمانہ ہمارے تعاقب میں ہے اور ہمیں اسکی پرواہ نہیں۔ خواتین سے التماس ہے کہ اتنا شور ڈالنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ سوشل میڈیا کا استعمال ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے تو کیا ضرورت ہے کہ بلاوجہ شور ڈال کر خِفّت اٹھائی جائے۔ ہمارے اپنے اختیار میں ہے سب۔ ہم جب چاہیں کسی کو بلاک کر کے اپنی زندگی سے نکال دیں۔ آ خر ہم ایسا کیوں نہیں کرتیں۔ ذرا سوچئے۔ ۔

مصنفہ

ایک سروے کے مطابق %34 خواتین مردوں کے ہاتھوں آ ن لائین ہراساں ہو رہی ہیں۔ ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن پاکستان کے گذشتہ ایک سال کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر سے بڑے شہروں کی 1400 کے قریب خواتین کو ہَرج و ہراس کے ذریعے مایوس کیا گیا۔ اسی سلسلے کے ایک اور مزید سروے کے مطابق %70 خواتین کو قوانین کا ہی علم نہیں لہذا خاموشی سے اپنا استحصال کرواتی رہتی ہیں۔ ڈیجیٹل رائٹس کی ڈائریکٹر نگہت داد کے مطابق خواتین کو ہراساں کئے جانے کی زیادہ شکایت فیس بک کے حوالے سے ہی ہے۔ وٹس ایپ، اسکائپ اور دیگر کچھ ذرائع اس کے علاوہ ہیں۔
انہی اعداد و شمار کی روشنی میں عرض ہے کہ کسی بھی چیز کے اچھے اور برے دونوں پہلو ہوتے ہیں۔ یہ ہماری استعداد پر ہے کہ ہم کونسا پہلو استعمال کر رہے ہیں۔ اگر کسی چیز کا استعمال صحیح طور پر کریں گے تو اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ مثلا زیر تحریر موضوع کو ہی دیکھ لیجئے۔ سوشل سرکل بنانا، اس میں اپنی الگ پہچان بنانا اور اس میں موو کرنا گھریلو خواتین کا خواب ہوتا ہے جو کہ اب گھر بیٹھے ممکن ہے۔ جو چیز اور جو خواب کل تک صرف ایک خیال تھا آ ج ہم اس تام جھام کا ایک حصہ ہیں۔ ہماری ایک الگ پہچان ہے۔ ایک حلقۂ احباب ہے وہ اسی بد نامِ زمانہ میڈیا کی بدولت ہے۔ اکثر گھریلو خواتین شاکی ہوتی ہیں کہ ہمارے اندر فلاں فلاں جراثیم تھے یا اتنی قابلیت تھی جو بے وقت شادی کی وجہ سے نمو نہیں پا سکی اور جراثیم بچوں کے پیمپرز بدلتے اور فیڈرز ابالتے ہوئے مر گئے۔ گھر سے نکلنے کا ٹائم نہیں ہوتا، مصروفیات نے ہاتھ اور سوچ کو باندھے رکھا۔ تو جناب اب ایسی کوئی اڑچن نہیں۔ آ پ گھر میں یہ سارے فرائض انجام دینے کے دوران بھی اپنی صلاحیتوں کو منوا سکتی ہیں۔ اور گھر تو کیا کسی دوردراز کونے میں رہتے ہوئے بھی تمام مواقع میسر ہیں کہ آ پ اپنی شناخت بنا سکتی ہیں، اپنی بات اور سوچ دوسروں تک پہنچا کر داد پا سکتی ہیں۔ اپنا کتھارسس کر سکتی ہیں اور اگر باشعور ہیں تو بے تحاشہ پذیرائی آ پ کا مقدر بن سکتی ہے۔

دنیا بھر کی معلومات آ پ کی مٹھی میں ہیں۔ کچھ چیزیں ہیں جو سوشل میڈیا پر آ پکا امیج بنانے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔ مثلا آ پکی ذہنی اپروچ کیا ہے۔ آ پکا رویہ میڈیا پر کیسا ہے۔ کس طرح کی پوسٹس آ پکی دلچسپی کا باعث ہیں۔ کون سے گروپس جائن کر رکھے ہیں اور معاف کیجئے گا آ پ کتنے ناز و انداز دکھا رہی ہیں۔ رنگ برنگی اداؤں والی ڈی پیز تو روز روز نہیں لگا رہیں۔ کتنے سنجیدہ، سوبر لوگ آ پکی لسٹ میں ہیں، تو کوئی مسئلہ نہیں اٹھتا بلکہ آ پ کے علم میں گراں قدر اضافہ ہوتا ہے کہ مردانہ ویژن ہمیشہ سے وسیع رہا ہے۔ لیکن اگر آ پکا رویہ ہی بڑھاوے دے رہا ہے تو مردوں سے شکایت چہ معنی دارد کچھ حفاظتی اقدامات ہیں جو آ پ کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ آ پکی وال ایک سرسری جائزے میں بتا دیتی ہے کہ آ پ کس قسم کی خاتون ہیں، آ پ کی تعلیم کیا ہے۔ اور تربیت کیسی ہے۔ پھر آ پکو اسی لیول کی ریکوئسٹس اور انبکس آ نے شروع ہو جاتے ہیں۔ صنفِ مخالف کوئی کاٹھ کا الو نہیں ہے جو آ پکو خواہ مخواہ میں چھیڑے گا۔ 

اس سلسلے میں مخلصانہ مشورہ ہے کہ ہمیشہ ان لوگوں کو ایڈ کیجئے جو آ پکے دوستوں کے دوست ہوں اور جن کی وال پہ سب کچھ واضح ہو، فیملی یا بچوں کی تصاویر ہوں، صاف ستھری شیئرنگ ہو، اگرچہ یہ کوئی کلیہ اور پیمانہ نہیں ہے شرافت کا مگر پھر بھی کسی حد تک بہتر ہے۔ مجہول آ ئی ڈیز کے ساتھ عجیب و غریب اور غیر واضح تصاویر کسی بھی مرد و زن کو مشکوک بنا دیتی ہیں۔ براہِ کرم احتراز برتیے۔ مانتے ہیں کہ بہت سے حضرات خواتین کو ریکویسٹ سینڈ کرتے ہیں۔ مگر یہ بھی تجربہ ہے کہ جونہی دوستی کی لسٹ میں آ تے ہیں بھول جاتے ہیں کہ ہم انکے ساتھ ایڈ ہیں۔ بہت ہوا تو آ پکی وال پہ ایک عدد Thanx یا شکریہ لکھ دیتے ہیں۔ یہ سب شریف اور سنجیدہ لوگ ہوتے ہیں اور اپنی نظر میں بھی انسان کی کچھ عزت ہوتی ہے۔ کچھ ہی ہوتے ہیں جو مختلف طریقوں سے غیر ضروری طور پہ بے تکلف ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ انکو روکنے کے سارے اختیارات ہماری انگلی کی ایک حرکت میں ہیں۔ یقین مانیں کسی کے پاس اتنا ٹائم نہیں اور ناہی ہم کوئی اپسرائیں ہیں کہ کوئی ہمیں ہماری مرضی کے خلاف تنگ کرے یا ہماری منتیں کرتا پھرے۔ رجحان نا دیکھ کر خود ہی پیچھے ہٹ جاتے ہیں کہ تو نہیں تو اور سہی، اور نہیں تو اور سہی۔
تو محترم خواتین! آ پشن آ پکی مٹھی میں ہے آ پ انہیں بلاک کریں یا ہلاک۔ ۔ ۔ انکی بلا سے۔

 

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. ❤ ..جی بالکل بہت خوبصورت ، میرا خیال بھی ایسا ہی بلکہ اکثر ایسی ہی نصیحت اور رائے ہوتی ہے کہ آپ کے پاس بلاک کا آپشن ہمہ وقت موجود ہے یا پھر اپنے مضبوط روایہ سے ایک عمدہ اور معیاری مگر سخت جواب دیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس میں بھی کوئی دوسری رائے نہیں کہ ہمارے ہاں اکثریت سوشل میڈیا کے مثبت استعمال سے نا بلد ہے ان کا کام شائد فقط “مخالف جنس” کو انسپائرکرنا یا صنف نازک کے نام پر بھاگ پڑنا (چاہے پیچھے کوئی حاجی صاحب ہی ہوں) ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس معاملے میں اپنی اپنی جگہ❤ ..جی بالکل بہت خوبصورت ، میرا خیال بھی ایسا ہی بلکہ اکثر ایسی ہی نصیحت اور رائے ہوتی ہے عمدہ لکھا کام کر کے بتدریج کمی لانے کی سعی کریں۔ عمدہ لکھا

Leave A Reply

%d bloggers like this: