پدرم سلطان بود 2 : احمد اقبال

0
  • 1
    Share

سینئر لکھاری اور دانشور جناب احمد اقبال کی زیر طبع خودنوشت سے اقتباس۔


محمدخان خالص یوسف زئی پٹھان تھے جو افغانستان سے آئے تھے اوربستی انہی کے نام پر محمد پور ہوئی، ان کی تعمیر کردہ سرمئی پتھرون کی قلعہ نما حویلی کو جب میں نے دیکھا تھا تو وہ کھنڈر ہو رہی تھی احمد خان کی مادری زبان فارسی گھر میں بھی بولی جاتی تھی۔ ان کا بیٹا احمد خان بڑا ہوا تو کچہری میں منشی بن گیا کیونکہ درباری سرکاری زبان فارسی تھی۔ کڑوا کریلا نیم چڑھ گیا۔ سنا ہے کوئی غیر ارادی طور پر بھی کھنکار کے سامنے سے گزرا تو اس کی شامت۔ معذرت کر لے کہ خاں صاحب ہماری کیا مجال کہ آپ کو آنکھیں دکھائیں۔ تو غنیمت ورنہ جو بحث میں الجھا تو سمجھومقدمہ نقص امن کے سمن جاری۔ مقدمے بازی کے علاوہ شرع کی آخری حد تک جا کے چار شادیاں کرنے میں سب جائیداد ہندو بینوں کے پاس رہن رکھی گئی، وہ میرے دادا تھے، ان کا بیٹا چشتی احمد خاں میٹرک پاس کرنے میں کامیاب رہا، وہ 6 میل دور بیاور کے قصبے تک سردی گرمی پیدل آتا جاتا۔ دو جوڑوں میں سے ایک خود کنویں پر دھوتا دوسرا پہنتا۔ بیاور ضلع اجمیر میں تھا جہاںمحمد علی میموریل ہائی اسکول کےہیڈ ماسٹر جبار غازی تھے۔ ( ان کا بیٹا عرفان غازی ریڈیو پاکستان میں کنٹرولر نیوز ہوا )۔ وہ چشتی احمد خان کی ذہانت اور شاعرانہ افتاد طبع کی قدر کرتے تھے۔ میٹرک کے بعد اس کا تقرر بطور ٹیچر کردیا، پھر ہوسٹل کا نگراں بنا یا۔ چشتی احمد خان نے منشی فاضل کا امتحان پاس کیا اور پھر انگلش کا امتحان دے کر بی اے کی سند حاصل کرلی۔ تب تک اس نے شاعری میں اپنا نام بنا لیا تھا اور شمیم نعمانی مشہور ہوگیا تھا۔ یہ میرے والد تھے جو اسی اسکول میں ہیڈ ماسٹر ہوگئے تھے۔ میرے پاس ایک منفرد نوعیت کی تاریخی دستاویز محفوظ ہے۔ بہت بعد میں میرے خسر بننے والے وحید خان نے اسی اسکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا تو اسکول سے جو پروویژنل سرٹیفیکٹ جاری ہوا اس پر میرے والد کے دستخط بطور ہیڈ ماسٹر ہیں۔
زمانے کے دستور بدلتے ہیں۔ اب سرکار کی ملازمت کرنے والوں کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ جو اور کچھ نہیں کر سکتے رشوت یا سفارش پر سرکار ی نوکری کرتے ہیں۔ انگریز سرکار کے دور میں سوچ اس کے بر عکس تھی کہ پکی باعزت نوکری۔ سال کے سال ترقی۔ بڑھاپے میں ریٹائرڈمنٹ پر بیٹھ کے کھانے کے لیے پکہ ماہانہ آمدنی جو ملازم سرکار کو بیوہ ہونے کی صورت میں بھی ملتی ہے۔ شاید اسی پکی نوکری کا خیال 1940 میںابا کو بھی تدریس کے پیشے سے دور لے گیا۔ وہ ملٹری اکاونٹس میں ’’بابو بن گئے‘‘۔ یہ کتناباعزت لقب تھا۔ اس کا اندازہ یوں کرلیں کہ بہت سےسرکاری ملازمین کے گھر میں آپ کو بابو جی کہا جانے لگا۔ ابا یا پاپا وغیرہ کا لفظ متروک ہوگیا۔ میں اور چھوٹا بھائی بھی انہیں بابوجی ہی کہتے تھے۔ یہ پاکستان آنے کے بھی بہت بعد شاید اس وقت کی بات ہے جب میں بی اے کر رہا تھا کہ مجھے اس لفظ کی لغویت کا احساس ہوا اور میں نے ان کو ڈیڈی کہنا شروع کیا، مجھے حیرت نہیں ہوتی جب امیتابھ بچن جیسا شخص اپنے شاعر والد کے لیے آج بھی بابوجی کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ دیس چھڑائے بھیس چھڑائے کیا کیا کرے نہ پریت۔ بانوجی بھی آبائی گھر سے نکلے تو متعدد قصبوں شہروںسے گزرتے پہنچے مراد نگر جو عین دہلی اور میرح کے درمیان غیر معروف سا قصبہ تھا لیکن آرڈیننس فیکٹری نے اس کو کچھ اہم کر دیا تھا۔ وہاں فیکٹری کے ساتھ ملازمین کی رہائشی کالونی تھی اور میری یا داشتوں کا سلسلہ بھی و ہیں سے شروع ہوتا ہے۔ بابو جی طبعاً استاد تھے۔ دیکھا جائے تو بالکل وہی جس کا نقشہ اشفاق احمد نے اپنے افسانے’’گڈریا‘‘ میں کھینچا ہے۔ وہ اٹھتے بیٹھتے پڑھاتے سکھاتے تربیت کرتے رہتے تھے اور مزاج کے اتنے سخت تھے کہ تعلیم میں کوتاہی کی سزا اس کالے رنگ کےڈنڈے سے ملتی تھی جو انہیں آفس سے ملا تھا اور رولر کہلاتا تھا۔ استاد کا ڈنڈا اس دور میں مو لب خش مشہور تھا۔ یہ محاورہ بھی عام تھا کہ شاگرد کو استاد کے سپرد کرتے ہوئے ماں باپ کہتے تھے’’ ہڈی ہماری چمڑی آپ کی‘‘ مطلب یہ کہ مار مار کے چمڑی ادھیڑ دو۔ کوئی اعتراض نہیں۔ بس ہڈی نہ ٹوٹے۔ خاندان کے لوگ اپنے بچوں کو مفت میں پڑھوانے کے ساتھ انسان کا بچہ بنانے کے لئے بھائی شمیم کے سپرد کرکے بھول جاتے تھے۔ اب بھائی شمیم کلرکی میں ان کو اپنے بچوں جیسا کھلا بھی رہے ہیں اور کتابیں کاپیاں بھی فراہم کر رہے ہیں میں نے نویں جماعت سے پہلے اسکول کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ کالونی میں تفریق تھی تو کوارٹر زکے چھوٹے بڑےسائز کی جو بلحاظ عہدہ الاٹ ہوتے تھے ورنہ ہر صوبے کے اور ہر مذہب کے لوگ تھے۔ سکھ میں نے نہیں دیکھا لیکن مسلمان ہندو اور اینگلو انڈین عیسائی بنگالی پنجابی مدراسی سب ملے جلے تھے۔ بنگالی گھوش دادا سفید دھوتی کرتے میں اکیلے رہتے تھے اور چھٹی لے کر بیوی بچوں کے پاس بنگال جاتے تھے تو واپسی میں رس گلوں سے بھری ہانڈی ہمارے لیے ضرور لاتے تھے۔ ایک اینگلو انڈین فیملی کا رہن سہن ہمیں حیران کرتا تھا جہاں خواتین اسکرٹ پہنتی تھیں سب انگریزی میں بات کرتے تھے، میز پر کھانا کھاتے تھے اور مرد عورت بچے سب اپنے استعمال کیے ہوئے برتن خود دھوکر رکھتے تھے اتوار کی صبح خاتون خانہ پیانو بجاتی تھی اور باقی سب مناجات گاتے تھے، الفاظ مجھے کچھ’’ ماما ماما۔ اکیرو۔ بھلے چوکے ڈھیر’’ سمجھ میں آتے تھے، خاتون مجھے پیانو کے سامنے کھڑا کر لیتی تھی اور بعد میں ٹافیاں دیتی تھی۔ بابوجی دو بکریاں خرید لائےکہ دودھ اپنا ہوگا۔ ایک دن میں نے غصے میں ایک بکری کو لات ماری۔ وہ بلبلا کے بیٹھ گئی۔ رات بھر درد سے چلاتی رہی اور صبح مر گئی۔ میں اپنا جرم کیسے بتاتا۔ ڈنڈے پڑتے۔ لیکن اس اینگلو انڈین خاتون نے بابو جی کونگریزی میں سب بتا دیا اور شاید کہا کہ بچہ ہے بکری کو مارنا تو نہیں چاہتا تھا، بس چوٹ لگ گئی کہیں۔ بابوجی نے ایک تھپڑ بھی نہیں لگایا تو میں حیران ہوا۔ ایک ہندو بھی اکیلا رہتا تھا سکسینہ۔ اس کے پاس میں نے پہلا ریڈیو دیکھا اور سنا۔ یہ 90 وولٹ کی بیٹری سے چلتا تھا۔ کوئی دو فٹ اونچا ایک فٹ چوڑا لکڑی کا خوبصورت ڈبہ جس کے وسط میں گول روشن ڈائیل تھا۔ ہم دونوں بھائی دم بخود دور کھڑے اس میں سے نکلتی آوازوں کو دیکھتے تھے، جس پہلے گانے نے مجھے پاگل کیا وہ ثریا کا گایا ہوا تھا۔ پاپی پپیہا رے پی پی نہ بول بیری۔ ایک بار سکسینہ کافی دن کے لیے غائب ہو گیا اس کا کوارٹر بند پڑا رہا۔ پھر ایک دن وہ روتا دھوتا نمودار ہوا، سب لوگ اس کے گھر میں جمع ہوئے پتا چلا اس کا جوان بھائی کسی سادھو کے پیچھے نکلا تھا۔ اب اس کی لاش کسی کنویں میں سے نکلی ہے۔ اس کی بڑی دہشت رہی۔ ہم اس کے گھر جاتے ڈرتے تھے۔ بالکل پیچھے والے گھر میں مدن بابو رہتے تھے۔ ان کا ایک بیٹا عمر میں مجھ سے بڑا اور بیٹی سوشیلا میری ہمسن ہوگی صحن کے دروازے آمنے سامنے تھے تو کھیل میں دوڑتے ہوئے ایک سے دوسرے گھر میں گھس جاتے تھے۔ ہندو گھروں میں کھانے کے بعد رسوئی کی چوکی کو مٹی سے لیپ پوت کر صاف کر دیا جاتا تھا اور پیتل یا کانسی کے برتن چمکا کے سجا دئیے جاتی تھے، ہم جوتون سمیت چوکی پر سے گزر جاتے تھے تو مدن بابو کی ماں چلاتی تھے ارے تیرا ستیاناس مسلے حرامی۔ سب بھرشٹ کردیا؟ اور سب دوبارہ لیپ کر پاک کرتی تھی۔ سورج گرہن ہوتا تھا تو مدن بابو ہارمونیم پہ بھجن گانے بیٹھ جاتے تھے جو ہماری خاک سمجھ میں نہیں آتے تھے لیکن ہم حلقہ بنائے بیٹھے رہتے تھے ان کی بہن کی شادی ہوئی تو ایک کمرے میں سب کے ساتھ قطار میں بیٹھ کے ہم نے بھی کیلے کے پتوں پر رکھا جانے والا تین چار طرح کا پوری بھاجی والا مزیدار کھانا کھایا۔ عید پر مدن بابو گلے مل کے مبارکباد دیتے تھے۔ ان کی اماں سے ہمیں آٹھ آٹھ آنے عیدی ملتی تھی، ہولی پر مدن بابو اور کچھ دوسرے ہندو دوست ہمسائے رنگ ڈالنے آتے تھے تو بابوجی پلنگ کے نیچے گھس جاتے تھے اور ہم شور کرتے تھے کہ ابا تو گھر پر نہیں ہیں مگر وہ ہمیں ایک طرف کر دیتے تھے ’’ابے چل ہٹ مسلے‘‘ بابوجی کو پلنگ کے نیچے سے کھینچ کر نکالتے تھے اور رنگین بھوت بنا دیتے تھے۔ پھر اماں کی باری آتی تھی۔ آج کو ئی پردہ نہیں بھابی۔ وہ کچن میں گھس کر ان پر بھی ہر رنگ ڈال کے اگلے گھر کا رخ کرتے تھے۔ بابو جی غصہ میں گالیاں بھی دیتے تھے اور ہنستے بھی تھے۔ اس زمانے یعنی1943 میں جب میں 6 سال کا تھا مجھے ساتھ کھیلنے والی ایک ہندو لڑکی پربھاتی سے شدید عشق ہوا اور ایک مجھے ہی کیا۔ مجھ سے چھوٹے اور میرے دوخالہ زادوں کو بھی یوں ہوا جیسے ایک ہی مچھر کے کاٹنے سے ملیریا ہوجائے۔ یقینا’’وہ بہت خوبصورت ہوگی‘‘ اب یاد کروں تویہ بڑا عجیب تجربہ تھا۔ وہ مجھے بہت اچھی تو خیر لگتی تھی لیکن اس کا ہاتھ پکڑنااچھا لگتا تھا۔ ایک بار ہم گٹر لائن کے لیے کھودی گئی تین چار فٹ گہری نالی میں دوڑ رہے تھے کہ وہ گری اور پھرمیں گرا تو میں اس کے اوپر پڑا رہا یہاں تک کہ اس نے کہا کہ اب اٹھو بھی۔ مجھے واقعی بہت مزا آیا تھا۔ پھر ایک دن ہم دو بھائی اور دو کزن مل کر بیٹھے تو سب نے گویا دل کی بات کہہ دی اور ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ کے عہد کیا کہ چاروں شادی کریں گے تو صرف پربھاتی سے۔ کتنا سمجھتے تھے ہم شادی کو۔
گھر سے کچھ فاصلے پر دیسی لوگوں کے لیے کلب تھا جہاں ہفتے میں ایک بار کسی اردو فلم کا شو ہوتا تھا۔ خواتین کو اوپر گیلری میں بٹھایا جاتا تھی لیکن درمیان میں پردہ ڈال کے گیلری کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ فلم میں کیا دل لگتا۔ میں گیلری کی تین فٹ اونچی دیوار پر سے نیچے کے تماشائیوں کو تالیاں سیٹیاں بجاتے یا اسکرین پر سکےپھینکتا دیکھتا تھا، ایک بار اتنا آگے جھکا کہ نیچے گر گیا لیکن کسی بد بخت تماشائی پر بم کی طرح گرا جو فلم میں محو ہوگا۔ بڑا شور مچا لیکن کمال یہ کہ میں اور وہ تماشائی دونوں محفوظ رہے۔ بابوجی مقامی کلب میں ٹینس بھی کھیلتے تھے اور اکثر پرانی گیندیں گھر لے آتے تھے۔ انہوں نے لکڑی کے تختے کو تراش خراش کے ایک کرکٹ بیٹ بنایا۔ پھر اینٹیں رکھ کے وکٹ بنائی اور ہمیں بتایا کہ باولنگ کیسے ہوتی ہے اور کیسے رن بنائے جاتے ہیں، اندازہ کیجئے یہ 1943 کی بات ہے آج تو کیا گائوں کیا شہر۔ بچہ بچہ کرکٹر۔ کمینٹری کا ماہر اور سلیکشن کمیٹی کے قومی چیف سے زیادہ سمجھ دار ہے لیکن 1943 میں کرکٹ کا نام بھی عام فہم نہ تھا، وہ ہمیں کرکٹر بنا چکے تھے۔ 1948 میں پاکستان کے خلاف سب سے پہلا غیر سرکاری ٹیسٹ کھیلنے جو ویسٹ انڈیز کی ٹیم آئی وہ میچ باغ جناح لاہور میں ہوا تھا اور بابوجی ہمیں دکھانے لے گئے تھے اس کے کپتان اوول کے ہیرو فضل محمود کے سسر میاں سعید تھے۔ کرکٹ کا یہ شوق مجھے کہاں تک لے گیا، اس کا ذکر آگے آئے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: