احتساب کا عمل اورسمجھوتے کی سیاست : سلمان عابد

0

پاکستان میں احتساب کا عمل فوجی اور سیاسی قوتوں کے درمیان ہمیشہ سے سیاسی سمجھوتے کا شکار رہا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سیاست دانوں اور فوجی حکمرانوں کے تمام تر دعووں کے باوجود اس ملک میں احتساب کا عمل شفاف انداز میں آگے نہیں بڑھ سکا ۔ فوج جب بھی اقتدار میں آئی اس نے سیاسی حکومتوں کے خلاف کرپشن اور بدعنوا نی کے مسئلہ کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ لیکن اول فوجی حکمرانوں کا احتساب شفاف نہیں تھا اور دوئم اس احتساب کو بنیاد بنا کر فوجی حکمرانوں نے سیاسی قوتوں سے سمجھوتہ کرکے اپنے اقتدار کو مضبوط کیا ۔ یہ ہی صورتحال ہمیں سیاسی حکومتوں کے درمیان بھی دیکھنے کو ملی ۔ ان سیاسی ادوارا میں احتساب کو سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کاروائی کے طور پر بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ندونوں نے احتساب کے عمل کو اقتدار کی سیڑھی کے طور پر استعمال کیا۔
مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان میثاق جمہوریت کے معاہدہ میں بھی ایک نقطہ اقتدار میں آنے کے بعد شفاف احتساب کے عمل کو آگے بڑھانا تھا۔ لیکن سب نے دیکھا کہ ان دونوں بڑی جماعتوں کے ماضی میں جہاں احتساب کے نام پر انتقامی کاروائیاں کی، لیکن اس بار سمجھوتے کے ساتھ دونوں فریقین نے ایک دوسرے کی کرپشن او ربدعنوانی کی سیاست کو تحفظ فراہم کیا۔ اس لیے مسئلہ محض فوجی حکمرانوں کا ہی نہیں بلکہ سیاسی قیادتوں کا مقدمہ بھی احتساب کی سیاست میں غیر شفاف ہے۔ اس سمجھوتے کی سیاست نے پاکستان کی سیاست میں کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کو حقیقی معنوں میں نہ صرف تحفظ دیا بلکہ اس میں کئی سو گنا اضافہ ہوا۔ آج پاکستان کی سیاست میں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ کرپشن اور بدعنوانی کا مسئلہ بھی ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔
پانامہ جسے کے بارے میں خیال تھا کہ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں بن سکے گا ۔ لیکن گذشتہ ایک برس کی سیاست میں پانامہ کا مقدمہ اور حکمرانوں کا خاندان واقعی ایک بڑے قومی مسئلہ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس وقت وزیر اعظم او ران کا خاندان ملک کی سب سے بڑی عدالت اور اس کے تحت بننے والی جے آئی ٹی میں تفتیش کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ اس احتساب کے عمل میں ایک بار پھر وہی پرانی کہانی دہرائی جا رہی ہے کہ یہ احتساب شفاف نہیں بلکہ حکمرانوں کے بقول یہ انتقامی کاروائی ہے۔ حکمرانوں کے بقول ایک خاص سازش اور پس پردہ قوتوں کی مدد سے ان کو ٹارگٹ کرکے سیاست سے بے دخل کرنے کا ایجنڈا ہے۔ یہ مسئلہ محض شریف خاندان تک محدود نہیں بلکہ پوری حکومتی مشینری اس وقت یہ ثابت کررہی ہے کہ عدالت اور جے آئی ٹی متنازعہ ہے اور ان کو سیاسی بنیادوں پر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔
احتساب کی ناکامی میں ایک بڑا المیہ اس ملک میں اداروںکی خود مختاری اور شفافیت کا ہے۔ ہم نے عملی طور پر اداروں میں سیاسی مداخلت کر کے ان کی خود مختاری کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس وقت ریاستی ادارے عملا قانون کی حکمرانی کے مقابلے میں فرد یا حکمران طبقات کے ذاتی مفادات میں استعمال ہورہے ہیں۔ اب بھی عجیب معاملہ یہ ہے کہ احتساب وزیر اعظم او ران کے خاندان کے خلاف ہو رہا ہے، لیکن یہ ہی افراد حکومت میں بھی ہیں او ریقینی طور پر کسی نہ کسی طرح شفاف احتساب کے عمل میں اثرانداز بھی ہو رہے ہیں۔ ہم احتساب کے عمل میں سیاسی کارڈ کھیل کر پورے احتساب کے عمل کو متازعہ بناتے ہیں ۔ نہال ہاشمی کی ججوں اور سرکاری افسران کو دی جانے دھمکی سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں حکومت میںرہتے ہوئے کسی کا کیسے احتساب ممکن ہوسکے گا ۔عمومی طور پر حزب اختلاف کی سیاست ایک متبادل نظام کے طور پر حکومت پر دباو ڈالتی ہے، لیکن جب حکومت اور حزب اختلاف دونوں کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست پر سمجھوتہ کرلیں تو پھر احتساب کا عمل محض مذاق بن کر رہ جاتا ہے ۔
مسئلہ محض سیاست دانوں یا حکومتوں کا نہیں، بلکہ اس کھیل میں فوجیوں سے لے کر ججوںتک، کاروباری طبقات سے لے کر بیوروکریسی تک اور مافیا کے بڑے مضبوط گروہ سے لے کر دیگر طبقات نےعملا مختلف فریقین کے ساتھ مل کر ایک ایسا گٹھ جوڑ بنایا ہے جو کرپشن او ربدعنوانی کی سیاست کو اپنے لیے جائز سمجھتا ہے۔ ریاست، حکومت کی طاقت اور ریاستی وسائل کو جس بے دردی سے یہاں ایک مخصوص طبقہ نے لوٹا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ ہی کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست ان بڑے طبقات کی وجہ سے نچلے طبقات میں بھی مضبوط نظر آتی ہے ۔ایک طبقہ ایسا ہے جو پاکستان میں کرپشن او ربدعنوانی کی سیاست کو کوئی بڑا مسئلہ نہیں سمجھتا۔ ان کے بقول کرپشن دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے ،ہمیں آگے کی طرف بڑھنا چاہیے۔ کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کو ختم کیے بغیر کیسے اس ملک میں جمہوریت او رقانون کی حکمرانی کے نظام کو مضبوط بنایاجاسکے گا، محض خوش فہمی ہے۔
کرپشن او ربدعنوانی کے خاتمہ میں تین عمل ضروری ہیں۔ اول سخت قانون سازی اور اس پر بغیر کسی سمجھوتے کے عمل درآمد کا نظام، دوئم ادارہ جاتی عمل کو مضبوط اور خود مختار بنانا جو شفافیت کے عمل کو مضبوط بنائے، سوئم سیاسی اور سماجی کمٹمنٹ قیادت او رمعاشرے کی جانب سے۔ یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ وگرنہ اگر ہم احتساب کو محض بیان بازی اور مخالفت کی بنیاد پر چلائیں گے تو اس سے احتساب کا عمل مذاق بن جائے گا۔ یہ کہنا کہ اس ملک میں کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست عروج پر نہیں، غلط ہے۔ اس وقت یہ ایک اہم مسئلہ ہے اور اس پر تمام قوتوں سمیت معاشرے میںسے ایک بڑی مزاحمت کی ضرورت ہے، وگرنہ یہ نظام پوری قوت کے ساتھ کرپشن اور بدعنوانی کا روپ دھار پر جمہوریت، سیاست اور قانون کا مذاق بن کر رہ جائے گا۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: