اسلامی زندگی بمعہ چھہ رنگین ناچوں کے: سلیم احمد

0
  • 13
    Shares

معروف شاعر اور نقاد سلیم احمد مرحوم کی تقریبا چالیس سال پرانی تحریر اپنے موضوع، اسلوب، ندرت کلام اور خلاقانہ تجزیہ کی بدولت آج بھی معنویت کی حامل ہے۔ برصغیر کے مسلمان کی مذہبیت، اسلامی ادب اور اس حوالے سے فلسفیانہ مباحث کو اپنے مخصوص طنزیہ انداز میں جس خوبی سے کھولا ہے وہ کچھ سلیم احمد سے ہی مخصوص ہے۔


سلیم احمد

میں ایسے موضوعات پر گفتگو نہیں کرنا چاہتا جو مولانا مودودی کو زیب دیتے ہیں یا جن پر عہدِ جدید کے متکلم جناب غلام احمد پرویز صاحب علم و فکر کے دریا بہا رہے ہیں۔ اقبال آخری مفکر تھا جسے میں نے اسلام کے ترجمان کی حیثیت سے پڑھا اور ہمیشہ ایسے کرب میں مبتلا پایا جس کی نوعیت بیشتر سیاسی تھی۔ جذبے کی بے پناہ قوت کے ساتھ اس نے اپنی ساری صلاحیت اس امر پر صرف کر دی کہ مسلمان اپنے ملّی وجود کو پہچانیں۔ اس کا پیغام خودی، اس کی شاہینیت، اس کی وقت پرستی، سب کا مقصود و منشا صرف ایک تھا کہ مسلمان عددی اکثریت سے مرعوب نہ ہوں۔ اس نے اسلام کی ابدی اور سرمدی حقیقتوں سے زیادہ اسلام کی عملی تفسیر کو پیشِ نظر رکھا۔ اقبالیت، اقبال اکیڈمی کے باوجود 1947 ہی میں عہدِ گزشتہ کی چیز بن گئی۔ ذوقِ عمل کے پرستاروں کو ایسی حقیقتوں کے اثبات سے ڈرنا نہیں چاہیے۔

اس مضمون میں اقبال میرا موضوع نہیں ہے۔ اس کا ذکر میں نے صرف ایک رجحان کے مطالعے کی غرض سے چھیڑا ہے۔ یہ کیا بات ہے کہ پاکستان ایک مذہبی تصور پر تخلیق ہوا لیکن فوراً ہی اس کی معاشرت تیزی سے ایک ایسی منزل کی طرف گامزن ہو گئی جس کا رخ بہر حال کعبے کی طرف نہیں تھا۔ یقینی طو رپر میں دینیاتی مقرر کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ مسلمان نماز نہیں پڑھتے تو برا کرتے ہیں، لیکن اس بات کی تعریف ضرور ہونی چاہیے کہ’’مسلمانو نماز پڑھو‘‘ کا پیغام بسوں میں ضرور لکھواتے ہیں۔ مسجدوں کی تعداد بھی روز افزوں ہے۔ روزہ نہیں رکھتے تو کیا ہوا، ہوٹلوں پر پردہ ٹانگ کر رمضان کا احترام ضرور کرتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر کچھ لوگ دینیات سے مسلمانوں کی لاپروائی کی شکایت کرتے ہیں تو وہ جانیں۔ میری گفتگو کسی اور فضا میں ہے۔ میں اس ہمہ گیر تحریک کا ذکر کر رہا ہوں جو زندگی اور اس کے عوامل کی تشریح اسلام کی روشنی میں کر رہی تھی۔ ’’ضرب کلیم‘‘ میں اقبال نے عصرِ حاضر کے خلاف اعلانِ جنگ کیا تھا۔ جہاں تک میرے حقیر علم و فہم کا تعلق ہے یہ اعلانِ جنگ مغربی تہذیب کے بنیادی تصورات کے خلاف تھا اور پاکستان کو اس جنگ کا آخری مورچہ بننا تھا۔ پاکستان کو اس لیے کہ اس کی تصوری بنیادی ہی اس مسئلے پر تھی۔ دوسرے اسلامی ملک اس میں شریک ہو سکتے تھے مگر صرف پاکستان کی قیادت میں۔ کیوں کہ اسلام کی جس تشریح کو ہم نے اپنے سینے سے لگایا تھا، وہ ایک ایسے تاریخی شعور کا نتیجہ تھا جس نے ایک طویل راہِ سفر طے کی تھی اور مجدد الف ثانی سے لے کر شاہ ولی اللہ، سید احمد بریلوی، شاہ اسماعیل شہید، اس کے بعد سرسید، محمد قاسم نانوی اور شبلی سے آگے بڑھ کر اقبال تک پہنچا تھا۔ ظاہر ہے کہ پاکستان ہی کو اس تاریخی شعور کا امین بننا تھا، نہ کہ ان ممالک کو جن میں سے ایک کے ثقافتی وفد نے اقبال کی قبر پر جا کر چادر چڑھاتے ہوئے’’ما ایرانیم‘‘ کہہ کر اس کے شعورِ ملی کی نفی کی اور قومیت کے ایک ایسے تصور کا ثبات کیا جس کے خلاف اقبال نے زندگی بھر جہاد کیا تھا۔ لیکن ہوا کیا؟ حقیقت تلخ ہے مگر تسلیم کیے بغیر چارہ بھی نہیں کہ پاکستان نے اس امانت کا حق ادا نہیں کیا۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ پاکستان نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ انکار بجائے خود اثباتی رویے کی طرف ایک قدم ہوتا ہے۔ انکار کے معنی یہ ہوتے کہ پاکستان کسی نئے شعور کی تلاش میں ہے۔ پاکستان نے انکار نہیں کیا۔ صرف یہ کیا کہ اس امانت کی طرف سے لاپروائی کا رویہ اختیار کر لیا۔ پتا نہیں ارتداد اور منافقت صرف رسولِ کریمﷺ کے زمانے کی چیزیں تھیں یا موجود دور میں بھی اس کے کوئی معنی ہیں۔ اگر ہیں تو میں اپنے محترم بزرگ جناب قدرت اللہ شہاب صاحب سےان کے معنی ضرور پوچھنا چاہتا ہوں۔


۔۔۔یہ آزادیِ فکر و نظر کی بات اتنی خوب صورت ہے کہ میں ہمیشہ اس پر لہلوٹ ہو جاتا ہوں اور جوشِ عقیدت میں اس کی ضمانت دینے والے پر فوراً ایمان لے آتا ہوں۔


یہ تو بالکل ٹھیک ہے کہ پاکستان کا مقصد اسلام کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظام کا ایک ایسا تجربہ تھا جو عہدِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو اور اس مقصد کے تحت ہمار اوّلین فرض یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو اسلامی بنا لیں، مگر اسلامی زندگی کے معنی کیا ہیں، اور کیا وہ اس تجربے کے بنیادی خدو خال اجاگر کیے بغیر تشکیل پا سکتی ہے؟ حدیث شریف میں آیا ہے کہ مومن سے ہمیشہ ظن نیک رکھنا چاہیے۔ اس لیے میں اس پیغام کا مقصد یقیناً یہ نہیں سمجھتا کہ ہم میں سے ہر شخص کو چھوٹا موٹا مولانا احتشام الحق بن جانا چاہیے۔ لیکن اگر اس کے کچھ اور معنی ہیں تو وہ اتنے مبہم ہیں کہ کوشش و اہتمام کے باوجود، واضح نہ سہی، کوئی دھندلی سی تصویر بھی سامنے نہیں آتی۔
جوباً کہا جا سکتا ہے کہ یہ معاملہ آزادیِ فکر و نظر کا ہے۔ ہر شخص کو آزادی ہے، وہ اسلامی زندگی کا وہ بھی تصور رکھتا ہو، اس کے مطابق بن جائے۔ اور یہ آزادیِ فکر و نظر کی بات اتنی خوب صورت ہے کہ میں ہمیشہ اس پر لہلوٹ ہو جاتا ہوں اور جوشِ عقیدت میں اس کی ضمانت دینے والے پر فوراً ایمان لے آتا ہوں۔ لیکن اگر معاملہ صرف اتنا ہی ہو تو اس میں کسی پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے، ہر شخص کا انفرادی معاملہ ہے کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق جو کچھ بننا چاہتا ہے بن جائے۔ خدا چاہے تو عاقبت بہ خیر ہو گی۔ البتہ اگر عاقبت کے ساتھ دنیا کے بغیر ہونے کی بات بھی مدِ نظر ہے۔ تو اس پیغام کے سلسلے میں بہت سی باتوں پر غور کرنا پڑے گا جو خواہ اتنی بڑی نہ ہوں جتنی آزادی ہند فکر و نظر کی ترکیب ہے لیکن بہ ہر حال اتنی اہم ضرور ہیں کہ ہم جیسے چھوٹے موٹے آدمی انھیں حل کیے بغیر رات کی روٹی نہیں کھا سکتے، مسلمان بننا تو بہت بڑی چیز ہے۔

مثلاً ایک سوال ماحول کا ہے۔ سنتے ہیں کہ مولانا مودودی نے ایک یوٹوپیا کا تصور پیش کیا تھا جس کے شہری صرف جماعت اسلامی کے اراکین ہو سکتے تھے۔ ان بھلے آدمیوں کی سب سے بڑی سعادت یہ تھی کہ یہ نا محرموں پر نظر نہیں ڈالتے اور جماعت کے کام کے سوا اپنی تمام ذمے داریاں بہ جبرا کراہ انجام دیتے ہیں۔ مثلاً ایک آدمی جو بہ یک وقت جماعت اسلامی کا ممبر بھی ہے اور کسی ’’جاہلی حکومت‘‘ کا کلرک بھی، تو جماعتِ اسلامی کے ایمان کا تقاضا یہ تھا کہ وہ کلرک کی ذمہ داری کو دل لگا کر پورا کرے اور صرف اس مجبوری کو پیش نظر رکھے کہ اسے تنخواہ لینی ہے۔ مولانا مودودی نے یہ اصول ایک حدیث سے اخذ کیا تھا جس میں ایمان کا آخری درجہ’’دل میں برا سمجھنا‘‘ بتایا گیا ہے۔ یقیناً جماعتِ اسلامی مقبول ترین جماعت ہوتی اگر کلرک صرف تنخواہ سے غرض رکھتے۔ لیکن یہاں معاملہ صرف تنخواہ کا نہ تھا۔ نئی حکومت نے پرانی حکومتوں کا جو کچھا چٹھا کھولا ہے اس میں جرمِ رشوت کا نام سرِ فہرست ہے۔ اور رشوت لینے کے لیے کچھ نہیں تو کاغذ کو ’’دبا‘‘ کر رکھنے کا کام بڑی ذمہ داری سے اور دل لگا کر کرنا پڑتا ہے، اس لیے جماعتِ اسلامی اپنی یوٹوپیا کے ساتھ غائب ہو گئی۔ صرف اس کا ذکرِ خیر باقی رہ گیا تا کہ ماحول کو سمجھے بغیر پیغام والوں کو عبرت کے کام آئے۔
ماحول ایک زندہ فعال قوت ہے جس کی تحریصات و ترغیبات کا اندازہ کلّیات اور مجردات سے نہیں ہو سکتا۔ اسے(بحیثیت ایک قوت کے) سمجھنے کے لیے معاشرت کی ان جزئیات اور تفصیلات کی طرف لوٹنا پڑتا ہے جن کا ذکر’’لیل و نہار‘‘ کے اداریوں میں نہیں ہوتا۔ کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہمارے ملک کی اشرافیہ کا ماحول کیا ہے اور اس نے پھر متوسط طبقے اور عوام کے ماحول پر کیا اثر ڈالا ہے؟ حقائق بہت خوش گوار نہیں ہیں اور ان کی تفصیلات ایک عامیانہ بدمذاقی کے مرتکب ہوئے بغیر نہیں بیان کی جا سکتیں۔ اب تو ماہنامہ’’نقاد‘‘ کے پڑھنے والے بھی’’شیطان کی سرگزشت‘‘ سے خوب واقف ہیں۔


۔۔۔۔اس لیے جماعتِ اسلامی اپنی یوٹوپیا کے ساتھ غائب ہو گئی۔ صرف اس کا ذکرِ خیر باقی رہ گیا تا کہ ماحول کو سمجھے بغیر پیغام والوں کو عبرت کے کام آئے۔


کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ماحول کو بدلنے کی کوشش نہیں چاہیے؟ مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ماحول سے جہاد کرے۔ ہمیں ایسی فکر پیدا کرنی چاہیے جس میں اسلامی اقدار پنپ سکیں۔ ایسے ادیب کی ترویج کرنی چاہیے جو اسلامی توانائی کا مظہر ہو۔ ایسے آرٹ کی تخلیق کرنی چاہیے جو اسلامی طرزِ حیات کا آئینہ دار ہو۔ میں آپ سے مبہم الفاظ استعمال کرنے کی معافی چاہتا ہوں۔ اسلامی قدریں، اسلامی توانائی، اسلامی طرزِ حیات، آخر ان سب کا مطلب کیا ہے؟ اور ادب یا آرٹ میں ان کے لیے جہاد کرنے کے کیا معنی ہیں؟
میرے ایک محترم دوست نے جو کسی زمانے میں جماعتِ اسلامی کے وقیع ترین شاعر سمجھے جاتے تھے، اپنی ایک انقلابی نظم میں لکھا تھا:’’ کالج کی ہیں یہ لڑکیاں، یہ رنڈیاں ہیں رنڈیاں‘‘۔ لاہور میں ایسے سر پھرے لوگ پیدا ہوئے، جو بے پردہ عورتوں کی چوٹیاں کاٹنے کی تلقین کے لیے افسانے لکھتے تھے۔ کیا یہ اسلامی ادب ہے؟ ابھی میں نے کسی اخبار میں ایک فلم کا اشہار دیکھا ہے:’’کفر کی طاغوتی قوتوں کو اسلام کا دندان شکن جواب، مع چھہ رنگین ناچوں کے‘‘۔ کیا یہ اسلامی آرٹ ہے؟ اقبال کے ایک شارح نے لکھا ہے کہ اسلامی ادب اور آرٹ وہ ہے جس میں حیات کا حرکی اصول پیش کیا جائے۔
حیات کا حرکی اصول۔ کیا شاندار الفاظ ہیں۔ ذہن سنتے ہی مرعوب ہو جاتا ہے اور مفہوم سمجھے بغیر ایمان لے آتا ہے۔ حیات کی حرکت کے سیاسی معنی کیا ہیں اور معاشرت پر حرکی اصول کی تطبیق کس طرح ہو گی؟
حکومت نے پنج سالہ منصوبہ مرتب کیا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پوری قوم کی ذہنی تائید اسے حاصل ہو۔ مزدور اور کارکن ان تھک محنت کریں اور اربابِ ثروت، وقت پڑنے پر مالی امداد کریں۔ ظاہر ہے کہ منصوبے کا مقصد پاکستان کی معاشی اور معاشرتی ترقی ہے۔ معاشی اور معاشرت کی ترقی کے ساتھ ثقافت اپنے آپ ترقی کرے گی۔ یہ ہے حیات کا حرکی اصول قومی زندگی میں۔تو کیا اسلامی ادب کے معنی ہی ہوں گے کہ پنج سالہ منصوبے کی حمایت میں نظمیں اور افسانے لکھے جائیں؟
رائٹرز گلڈ کے ایک لاکھ تو خاصے مہنگے پڑے!
اسلامی ادب کی یہ تعریف کہ وہ اسلامی اقدار کے لیے ماحول سے جہاد کرے، خطرے سے خالی نہیں ہے۔ یہ خطرے نعرے بازی کے رجحان سے ہے۔ بہت سے لوگ اسی طرح سوچتے ہیں۔ وہ سردار جعفری اور اسی قبیل کے دوسرے شعرا کے حشر سے ڈر گئے ہیں۔ ان کے دل میں یہ خوف بیٹھ گیا ہے کہ اس طرح وہ تین سال سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکیں گے۔ وہ ایک ایسا ادب پیدا کرنا چاہتے ہیں جس کی آب و تاب ابدی ہو۔ چلیے انہیں ابدیت کی تلاش میں چھوڑیے۔ میں تو ابدیت سے کم رتبے پر بھی راضی ہوں۔ مجھے نعرہ بتائیے۔ اسلامی طرزِ حیات؟ اس سے تو بہترہے کہ میں دودھ ملا پانی بیچنے لگوں تا کہ منافعے سے مسجد کے لے چندہ دے سکوں۔ نعرہ بھی ماحول سے پیدا ہوتا ہے۔ ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کا نعرہ مردہ کیوں ہو گیا؟ بین الاقوامی اسلامی اتحاد کے نعرے کہاں گئے؟ اقبال نے طرابلس کے شہیدوں پر نظم لکھ کر لوگوں کو رلا دیا تھا اب الجزائر کا غم امروز کے سیاہ حاشیے وال خبروں سے آگے کیوں نہیں بڑھتا؟ اور آگے بڑھیے۔ کیا آپ اپنے دل کا چور پکڑ سکتے ہیں۔ کشمیر کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اسلامی طرزِ حیات کے نعرے میں اگر جان تھی تو صرف ہندو کی وجہ سے۔ پاکستان میں اس نعرے کے کوئی معنی نہیں۔ ہم اب امریکی طرزِ حیات کے بارے میں زیادہ سوچتے ہیں۔
بات ہر پھر کر وہیں پہنچ جاتی ہے جہاں قدرت اللہ شہاب صاحب چاہتے ہوں گے کہ نہ پہنچے۔ آپ کا ادب ویسا ہی ہوگا جیسے آپ ہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کا رخ تو واشنگٹن یا ماسکو کی طرف ہو اور آپ کے ادب کا رخ کعبے کی طرف ہو۔ سیاست کے برعکس ادب اور منافقت میں ازل و ابدی بیر ہے۔ پھر اسلامی ادب کے کیا معنی ہیں؟
ظہورِ اسلام کو اب پندرہ بیس سال میں چودہ برس پورے ہونے کو ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اس مدت میں مسلمانوں نے کیسا ادب پیدا کیا؟ کیا ہم اسے اسلامی کہہ سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں تو کس معنی میں؟ کیا سعدی کی تحریریں اسلامی ہیں؟ ’’گلستان‘‘ کے باب پنجم کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا فردوسی اسلامی شاعر ہے؟ اور فارسی کے خدائے سخن کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جس کے متعلق اقبال نے تنبیہ کی تھی: ہوشیار از حافظِ صہبا گسار۔ کیا الب لیلہ اسلامی ادب ہے؟ اردو کے خدائے سخن میر تقی میر عطار کے لونڈے کو پوچتے رہے۔ مومن کی صنم پرستیاں کسے نہیں معلوم اور حسرت موہانی کو آپ کیا کہیں گے کہ درجن بھر حج کر ڈالے مگر فاسقانہ شاعری سے نہ شرمائے۔ اگر یہ سب اسلامی ادب ہے تو یقین کیجیے کہ ہمارا موجودہ ادب بھی شہاب صاحب کی تلقین کے بغیر اسلامی ہے۔ اور اگر یہ اسلامی نہیں ہے تو اسلامی ادب کا نمونہ پیش کرنا آپ کا کام ہے کہ ادب تجربے یا نمونے کے بغیر نہیں پیدا ہو سکتا۔ تجربہ تو ہمیں امریکی طرزِ حیات کی طرف لے جا رہا ہے۔ ادھر سے تو صبر آ گیا ہے۔ اب کم از کم اسلامی ادب کا نمونہ ہی دکھا دیجیے۔


۔ یہ تو بالکل ٹھیک ہے کہ مردِ مومن گفتار اور کردار میں اللہ کی برہان ہوتا ہے لیکن ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ مردِ مومن کو کلرکی کرنی پڑے تو وہ کیا کرے گا آپ چاہیں تو میں اس عامیانہ سوال پر شرمندگی کا اظہار کر سکتا ہوں مگر سوال کے جوب پر اصرار ضرور کرتا رہوں گا۔


آپ کہیں گے میں نے رومی کو بالقصد نظر انداز کر دیا ہے اور اقبال کو بھی۔ بے شک یہ دونوں نام بہت بڑے ہیں۔ پیرِ رومی اور مریدِ ہندی مل جل کر ہم پاکستانیوں کو اسلامی ادب کے بارے میں بہت کچھ سکھا سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی ساری کوششیں ان ہی کی پیروی پر مرکو کرنی چاہئیں۔ لیکن اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ہمارا ادب اور شاعری صرف فکری شاعری کے دائرے میں محدود ہو جائے۔ یہ تو بالکل ٹھیک ہے کہ مردِ مومن گفتار اور کردار میں اللہ کی برہان ہوتا ہے لیکن ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ مردِ مومن کو کلرکی کرنی پڑے تو وہ کیا کرے گا آپ چاہیں تو میں اس عامیانہ سوال پر شرمندگی کا اظہار کر سکتا ہوں مگر سوال کے جوب پر اصرار ضرور کرتا رہوں گا پھر ایک غزل گو شاعر کی حیثیت سے مجھے اس سوال سے بھی گہری دلچسپی ہے کہ مردِ مومن کا عشق کس قسم کا ہو گا؟ اقبال نے ہمیں یہ تو بتا دیا کہ حوریں مردِ مومن کی کم آمیزی سے شاکی رہتی ہیں۔ خیر وہ نیک بخت تو حکمِ خدا وندی سے مجبور ہیں، ان پر تو پیدا ہوتے ہی کسی مومن کے نام کا ٹھپا لگ جاتا ہے۔ لیکن عورتوں کا معاملہ حوروں سے مختلف ہے۔ انھیں مردوں سے کم آمیزی کی مستقل شکایت ہو جائے تو جلد یا بدیر الف لیلہ کی کہانیاں جنم لینے لگتی ہیں۔ اس زمانے میں تو حرم سرا کی حفاظت کے لیے تیغ تو تیغ چلمن کی تیلیاں بھی باقی نہیں رہی ہیں۔ اقبال کے مجذوبِ فرنگی نے کہا تھا: ’’عورت کے پاس جا رہے ہو؟ جائو، مگر کوڑا مت بھول جانا‘‘۔ کیا اسلامی ادب میں بھی عشق یوں ہی ہو گا؟ یہ بڑی خطرناک بات ہے کہ اقبال کے کلام میں ’’…..کی گود میں بلی دیکھ کر‘‘ جیسی چچپاتی ہوئی نظم کے سوا حسنِ نسوانی سے اور کسی قسم کا تعلق نظر نہیں آتا۔ چلیے فکری شاعری میں تو یہ دونوں پیر و مرید کام دے جائیں گے مگر حسیاتی شاعری، جذباتی شاعری، نفسیاتی شاعری وغیرہ کے مسائل کس طرح حل ہوں گے؟ اور شاعری کو بھی چھوڑیے، ذرا یہ تو بتائیے کہ افسانے اور ناول کا کیا بنے گا؟ شاعری میں قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت، کا گھپلا بھی کسی نہ کسی طرح چل جاتا ہے۔ لیکن افسانہ اور ناول تو ٹھیٹ انسانی تجربہ چاہتا ہے۔ یہ تو ایسی اصناف ہیں کہ ان کے تقاضے سے مجبور ہو کر ہمارے مولانا شرر نے مجاہدوں اور فاتحوں کو بھی عشق کروا دیے، اور یہ کہتے ذرا نہ شرمائے کہ انھیں فرنگی حسینوں کے وصل کی تمنا کھینچ کھینچ کر جہاد پر لے جاتی تھی۔ طلسمِ ہوش ربا کو ایک نظر دیکھ لیجیے تو معلوم ہو جائے گا کہ عورت کیا چیز ہوتی ہے اور دیووں کو پچھاڑنے والے کس طرح کی ایک ایک سسکی پر غش کھاتے ہیں۔


معاش اور جنس کے دائرے میں آئے بغیر انسانِ کامل کا ہر تصور صرف زیٹ زپٹ بن کر رہ جاتا ہے۔


رسولِ کریم طغریٰ کی ایک حدیث ہے کہ’’جہادِ اصغر سے جہادِ اکبر کی طرف لوٹو‘‘۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ جہادِ اکبر گھر میں ہوتا ہے جو عورت کی ملکیت ہے۔ یاد رکھیے معاش اور جنس کے دائرے میں آئے بغیر انسانِ کامل کا ہر تصور صرف زیٹ زپٹ بن کر رہ جاتا ہے۔
بات پھیلتی ہی جا رہی ہے۔ آپ اس بحث کو اور آگے بڑھائیں گے تو آپ کو بعض ایسے سوالات کا جواب دینا پڑے گا جن کے ریڈی میڈ جواب کسی دکان پر نہیں ملتے۔ اور جو اخباری نمائندوں کے سوال جواب سے بہت مختلف چیز ہیں۔ کیا آپ بتائیں گے کہ عالم گیر تاریخی عوامل زندگی اور مستقبل کی صورت گری کس طور پر کر رہے ہیں؟ کیا آپ اس پر غور کریں گے کہ پاکستان کی مخصوص سیاسی، معاشی اور معاشرتی حدود میں ان کا عمل کیا ہے اور وہ عمل کس حد تک اسلام کے تابع کیا جا سکتا ہے؟ اس سے بھی آگے بڑھ کر آپ کو اس سوال پر سوچنا پڑے گا کہ اسلام کے تابع ہو کر وہ عمل جو صورت اختیار کرے گا، پاکستان اس کا متحمل بھی ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اسلامی زندگی اور اسلامی ادب کی بحث میں کسی ہندو کا حوالہ دینا، ہے تو خطرناک بات، مگر ہندو فراق جیسا ہو تو اس کی بات بھی سننی ہی پڑتی ہے۔ فراق نے کہا تھا، معاشیات کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ مشین ہندو یا مسلمان نہیں ہوتی۔ انسانی زندگی جن حدود میں پرواز کر رہی ہے اور ارتقا کے جن مراحل سے گزر رہی ہے، ان میں اسلامی اور غیر اسلامی کی تفریق جہلِ مرکب ہے۔ کیا ہم ریل پر نہ بیٹھیں؟ کیا کھیتی باڑی کا کام ٹریکٹر سے نہیں ہونا چاہیے؟ کیا پنچ سالہ منصوبہ جس کا مقصد ملک کو ترقی یافتہ ملکوں کے دوش بدوش کھڑا کرنا ہے، اسلامی یا غیر اسلامی چیز ہے ان سب سوالوں کے جواب میں اسلامی زندگی، اسلامی ادب اور اسلامی آرٹ کے مدعی کیا پیش کرتے ہیں:’’کفر کی طاغوتی قوتوں کو اسلام کا دندان شکن جواب مع چھہ رنگین ناچوں کے‘‘۔ یہ مذاق نہیں ہے۔ سنجیدہ سے سنجیدہ مباحث میں اس کے جو کچھ جواب دیے جاتے ہیں وہ اپنی روح کے اعتبار سے اسی قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک ہاتھ پر قرآن، دوسرے پر سائنس، یہ حضرت سرسید ہیں۔ آلات اور مشینیں اسلامی نظامِ اخلاق کے ساتھ، یہ جناب اقبال ہیں۔ پنج سالہ منصوبہ اور خلافتِ راشدہ، یہ مسٹر قدرت اللہ شہاب ہیں۔ ابھی ایک اردو روزنامے میں مقابلئہ حسن کی چھری ہوئی ہے اور فریقین اسلامی نقطئہ نظر سے ایک دوسرے کو قائل معقول کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ یہ عوام ہیں جو فلموں میں رنگین ناچ دیکھنے جاتے ہیں اور ہر اس مکالمے پر تالی بجاتے ہیں، جس میںاسلام، قرآن یا مسلمان کی برتری کا ذکر ہو۔ اگر اسلامی زندگی، اسلامی ادب اور اسلامی آرٹ کے نعرے کا مقصد بھی تالی وصول کرنا ہے تب تو بات ہی اور ہے۔ ہم فلموں میں تالی بجاتے ہیں، تقریروں میں بھی تالی بجا دیں گے۔ اور اگر مقصد کچھ اور ہے تو ہمیں بات وہیں سے شروع کرنی پڑے گی جہاں اقبال نے ختم کی تھی اور مغربی تہذیب کے سارے مرکزی تصورات اور ان تصورات سے قائم ہونے والے اداروں کی نفی کرتے ہوئے ان کے خلاف اعلانِ جنگ کیا تھا:
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکمِ اذاں لا الٰہ الا اللہ!

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: