عامر ذکی: گٹار کا ماسٹر چلا گیا —- خرم سہیل

0
  • 1
    Share

1947میں قیام پاکستان کے بعد60کی دہائی میں ، پہلی مرتبہ پوپ میوزک کاسراغ ملتاہے۔ موسیقی کے معروف نقاد، موسیقاراورمائل اسٹون بینڈ کے خالق’’علی ٹم‘‘ نے، اس کے لیے ’’فلمی پوپ‘‘ کی اصطلاح متعارف کروائی، جب 1966 میں ریلیز ہونے والی فلم ’’ارمان ‘‘ میں، سہیل رعنا کی ترتیب دی ہوئی موسیقی میں، گلوکاراحمد رشدی نے ایک گیت ’’کوکورینا‘‘ گایا تھا۔ پاکستان میں یہ پوپ میوزک کی ابتدا تھی۔ اس میں مزید انداز، جن میں روک اینڈ رول، ہپ ہوپ، جیز، فنک، بلیوز، ہیوی میٹل، ڈسکو، فیوژن شامل ہوتے چلے گئے۔
پاکستان میں اس کے بعد تین دہائیوں میں بینجمن سسٹرز، نازیہ زوہیب، حسن، عالمگیر، محمد علی شہکی، حسن جہانگیر، سجادعلی، علی حیدر، فخرعالم اوردیگر گلوکارسامنے آئے، بینڈز میں وائٹل سائنز، جنون، آواز، مائل اسٹون، اسٹرنگز وغیرہ کوبہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس تمام عرصے میں بہت سارے فنکار، پاکستانی جدید موسیقی کے منظرنامے پرطلوع وغروب ہوئے، جن لوگوں نے اپنے فن سے تاریخ رقم کی، ان میں سے ایک عامرذکی بھی تھے۔

مصنف اور عامر ذکی

عامرذکی نے جب ہوش سنبھالا توخود کو موسیقی سے قریب پایا۔ 13برس کی عمر میں والد کی طرف سے تحفے میں گٹارملا، توشاید انہیں اپنے جنون کاراستہ مل گیا۔ وہ گٹار کے ساتھ، اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگے۔ زمانہ طالب علمی اوریاروں دوستوں کی محفل میں، ان کا گٹارشہرت پانے لگا۔ رفتہ رفتہ یہ شہرت ان کے ذاتی حلقے سے باہر کے لوگوں کومتوجہ کرنے لگی۔ پاکستان میں یہ پوپ میوزک کے عروج کادورتھا، عالمگیر جیسے گلوکارکی شہرت عروج پرتھی، ان کی نظر عامرذکی پر پڑی، توحوصلہ افزائی کی۔ عامرذکی نے عالمگیرکی ایک ا لبم کے دوگیت ’’کہہ دینا‘‘ اور’’البیلاراہی‘‘ میں گٹاربجایا اوران کے ساتھ انڈیا، انگلینڈ، دبئی اورامریکا میں کانسرٹس میں اپنے فن کا مسلسل مظاہرہ کیا اورعوامی مقبولیت حاصل کی۔
جستجو کے اس سفر میں ان کی جدوجہد جاری تھی، انہوں نے مختلف نوعیت کے تین روک بینڈز تشکیل دیے، جن کے نام دی باربیرئینز، ایکس اٹیک اوراسکریچ تھے، مگران میں سے سب سے فعال بینڈ ’’ایکس اٹیک‘‘ تھا، جس نے ایک البم ’’دی بم‘‘ ریلیز کیا تھا۔ عامرذکی مستقل محنت سے اپنی شہرت میں بتدریج اضافہ کررہے تھے۔ یہ وہ دورتھا، جب وائٹل سائنزبینڈبھی اپنی شہرت کی بلندیوں پرتھا، پاکستان کے اس مقبول ترین بینڈ ’’وائٹل سائنز‘‘ کواپنے لیے گٹارسٹ کی ضرورت پڑی، تونگاہِ انتخاب عامرذکی ہی تھا۔ وائٹل سائنزکی البم’’اعتبار‘‘ میں بجایا ہوا ان کا گٹارآج بھی شائقین کویادہے۔ عامرذکی اپنی بے چین طبیعت کی وجہ سے، یہاں بھی زیادہ دیر رک نہ سکے اوریہ تعلق بھی جلد ختم ہوگیا۔ اصل میں وہ اپنے دل کی آواز پرچلتے تھے، ان کو لگتا تھا، منزل کہیں اورہے، اس کی تلاش میں وہ ہروقت اپنے دل کی آوازپر کان دھرے ، اسی سمت میں چلتے رہتے، جس طرف جانے کو دل کہتا۔ یہ ان کے اندر فن کی سچی لگن تھی، جس نے آخرکار اپنا منفرد راستہ تلاش کرلیا۔
1994 میں عامرذکی نے اپنے ذاتی پیسوں سے، پہلی سولوالبم ’’سگنیچر‘‘  تخلیق کیا، اگلے برس جوپاکستان اورانگلینڈ سے بیک وقت ریلیز کیا گیا۔ پاکستان میں اس البم کوبہت پسندیدگی ملی۔ برطانیہ میں اس کو گولڈ ڈسک ایوارڈسے بھی نوازاگیا۔ یہ پاکستان کا پہلا باقاعدہ انگریزی اورانسٹرومنٹل البم تھا، جس میں کل دس گیت تھے، اس میں سے ایک گیت ’’میراپیار‘‘ کو بے پناہ مقبولیت ملی۔ یہ گیت عامر ذکی کی زندگی کاعکاس تھا۔ 22برس کی عمر میں ہونے والی شادی ، اگلے دوبرس میں ختم ہوگئی، کم عمری میں ملنے والے اس غم سے عامرذکوکبھی نجات حاصل نہ ہوسکی، اس صدمے کے منفی اثرات، ان کی ذاتی اورپیشہ ورانہ زندگی پرپڑے۔
عامرذکی کاتخلیقی سفرجاری رہا۔ انہوں نے کئی مزید عمدہ گیت کمپوز کیے، جن میں سرفہرست ’’بھلادینا‘‘ تھا، یہ گیت بھی بہت مقبول ہوا۔ 2007میں عامرذکی کی دوسری البم ’’روگ کٹ‘‘ ریلیزہوئی، جس میں انہوں نے اپنی بنائی دُھنوں کوحدیقہ کیانی سے گوایا۔ یہ بھی انگریزی البم تھا، جس میں گیارہ گیت شامل تھے۔ عامرذکی نے دونوں البم کی دھنیں بنانے کے ساتھ ساتھ ان کے گیت بھی خود ہی لکھے۔ عامرذکی نے 2000کے بعد ، جن فنکاروں کے ساتھ اپنے فن کا مظاہرہ کیا، ان میں نصرت فتح علی خان، حامد علی خان، راحت فتح علی خان، شفقت امانت علی، علی عظمت، سلیم جاوید، نجم شیراز، زوہیب حسن اوردیگر شامل ہیں۔ مختلف اداروں کے ساتھ بھی کام کیا، جن میں کراچی میں قائم’’ نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس، NAPA ‘‘سمیت کئی ادارے شامل ہیں، جہاں انہوں نے نئی نسل کو گٹارکی تعلیم بھی دی۔ کوک اسٹوڈیو سمیت کئی کمرشل پروجیکٹس کاحصہ بھی بنے، مگرچونکہ وہ سیٹھ کی نوکری کرنے کے عادی نہ تھے، اس لیے کارپوریٹ دنیا میں کبھی بھی ان کوخوش آمدید نہیں کہاگیا۔ وہ اپنی مرضی کاکام کرتے تھے، یہی ان کاجرم تھا، انہوں نے جو باربارکیا۔

صحت کی خرابی کے باوجود وہ اپنے کام سے پوری طرح جڑے ہوئے تھے، انہوں نے مختلف گلوکاروں کے ساتھ اپنے گٹارسے جادو جگارکھا تھا، آن لائن شوکے لیے گلوکارفاخر کے ہمراہ جج کے فرائض بھی انجام دینے والے تھے، اس کے ساتھ ان کے کانسرٹس کاسلسلہ بھی جاری تھا، ان کی ویب سائٹ پر آئندہ اگست کے مہینے میں ہونے والے کنسرٹ کی تفصیل اب تک لکھی ہوئی ہے، وہ جگہ جہاں اب عامرذکی کا گٹارکبھی نہیں گونجے گا۔
وہ شام میں کیسے بھول سکتا ہوں، جب میری دوسری کتاب ’’سُرمایا‘‘ کی تقریب اجراتھی، یہ  2012 سال تھا اورقونصل خانہ جاپان، کراچی مقام تھا۔ جہاں استادرئیس خان، علی ٹم ، شمیم باذل ، رضاعلی عابدی اورعامرذکی سمیت کئی موسیقی کے شناورموجود تھے۔ معروف اداکارہ ثانیہ سعید کی نظامت نے سماں باندھ دیا اورعامر ذکی نے پہلی مرتبہ شاید کسی کتاب کی تقریب میں مقرر کی حیثیت سے گفتگو کی اورحاضرین کا دل موہ لیا۔ انہوں نے مجھے اپنا پنسل سے بنا ہوا اسکیچ بھی تحفے میں دیا، جو کسی خاتون مداح نے ان کی محبت میں بنایا تھا۔
مجھے انٹرویودیتے ہوئے بھی انہوں نے ذاتی اورپیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں بہت کھل کر بات چیت کی۔ ان کے خیال میں’’فنکاراپنے کام سے ہی زندگی بسرکرنا بھی سیکھتا ہے۔ اس کے مزاج کے رنگ ہی اس کے فن کے رنگوں میں بدل جاتے ہیں۔ فنکار کی گہرائی ہی اس کے فن کو مہمیز کرتی ہے۔ سچا فنکار کسی تکنیک کا محتاج نہیں ہوتا۔ موسیقی کولوگ اب ویڈیوزکی شکل میں دیکھتے ہیں، جبکہ یہ سننے کی چیز ہے، جس کی طرف شائقین واپس آئیں گے۔ جہاں حروف ختم ہوتے ہیں، وہاں سے انسٹرومنٹل میوزک شروع ہوتاہے۔ یہ سچ ہے، آج کا میوزک مارکٹنگ کا محتاج ہے۔ میں نے اپنی طرح کا میوزک کرنا تھا، جوخوش قسمتی سے میں کرپایا۔ لوک موسیقی کوسمجھے بغیر پاکستانی میوزک مکمل نہیں ہوتا۔ موسیقی آپ کے اندرہے، اس کو تلاش کرلیں، سُر توکسی بھی ساز سے ملایا جا سکتا ہے۔ میری موسیقی میں درداوراداسی میرے حالات کی ہے۔ میں نے اپنے معاشرے میں ایک اجنبی کی طرح زندگی گزاری ہے۔ ‘‘

عامرذکی کے لیے دنیا ایک ناپسندیدہ جگہ تھی، وہ ہمیشہ کے لیے یہاں سے چلے گئے، مگران کے گیتوں میں بولنے والی شاعری اورگٹار، ہمیں کبھی ان کو بھولنے نہیں دے گا، کیونکہ وہ ہمارے بے حس معاشرے میں ایک سچے فنکار تھے، جس نے اپنی فنی زندگی پر کبھی سمجھوتہ نہ کیا۔ کارپوریٹ کی دنیا اورمنافق معاشرے کے سامنے سرنہ جھکایا۔ چوبیس برس کی عمر میں بیوی سے بچھڑ کراس کو کبھی بھلا نہ سکے۔ خاندان، دوستوں اورپیشہ ورانہ زندگی میں ملنے والے لوگوں کے دھوکے اوربے حسی کے رویوں نے ، ان کی موت کے بعد بھی ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔ اس کے باوجودمداحوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کو شاندار انداز میں یاد کیا، یہی خراج عقیدت عامرذکی کی کمائی ہے۔ پاکستان کی جدید موسیقی کے منظرنامے پرایک گٹارسٹ اورگلوکار کی حیثیت سے ان کا نام سنہرے حروف میں لکھاجائے گا۔ عامرذکی اپنی تلاش میں ناکام نہیں ہوئے، وہ جوچاہتے تھے، فن کی اس معراج کو حاصل کرکے امر ہوئے۔ ان کے تخلیق کی ہوئی دھنوں میں ، گٹارکی آواز دلوں کو بے چین کرتی رہاکرے گی اکثر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: