کنزیومر رائٹس یعنی صارف کے حقوق ۔۔۔ ریاض خٹک

0
  • 6
    Shares

گذشتہ دنوں میں ہمارے ملک میں ایک نیا ٹرینڈ شروع ہوا، سوشل میڈیا سے صارفین نے پھلوں کی قیمتوں پر خریداری کا بائیکاٹ کرنے کا کہا، دیکھتے ہی دیکھتے اس سوچ نے مومینٹم پکڑا اور یہ سوشل میڈیا کی ورچوئل دنیا سے گلی محلے اور بازاروں میں ظاہر ہوا۔ مین سٹریم میڈیا نے بھی اس مومینٹم کو کوریج دی اور عالمی میڈیا کو بھی یہ متاثر کرگیا۔ اس مومینٹم کا بننا بذات خود ایک ایسی کامیابی ہے کہ یہ ثمر کے ثمرات سمیٹے نہ سمیٹے یہ ثمر آور ہی رہے گی۔

ہمارے معاشرے میں صارف اپنے حقوق پر آگاہ ہی نہیں ہے. وہ اپنی طاقت نہیں جانتا. نہ اس جنگ کو لڑنے کا انداز جانتا ہے. ہم بجلی کے صارفین ہیں، جب گرمی زیادہ ہو، لوڈ شیڈنگ ہو، تو زیادہ سے زیادہ صارفین یا سڑک بلاک کرتے ہیں یا تنگ آمد بجنگ آمد گرڈ اسٹیشن میں تھوڑ پھوڑ. ہمارے اب تک بطور صارفین یہی ایکٹیوٹی تھی۔

چلیں کچھ اور مثالیں دیکھتے ہیں:
مثال پر آپ واپڈا یا کے ای ایس سی کو لیں. وہ ایک اصطلاح استعمال کرتے ہیں لائن لاسز. یعنی کسی ہزار گھروں کی آبادی کے علاقے میں پندرہ ہزار یونٹ استعمال ہوئے لیکن بلوں کی ریکوری بارہ ہزار یونٹ کی ہوئی. تو تین ہزار یونٹ اس علاقے کا لائن لاس بنا کر اسے بلیک لسٹ کردیتے ہیں. وہاں لوڈشیڈنگ زیادہ کرتے ہیں۔

اب ہزار گھروں میں بیس گھر بجلی چوری کررہے ہوں. تو نو سو اسی گھر کس قانون میں چور شمار ہوئے..؟ اگر یہ باقی گھر بجلی سپلائی کی کمپنی کو عدالت میں گھسیٹ لیں، کہ جناب ہم چوری نہیں کررہے.. ہمیں کیوں چور بنا کر نشانہ بنایا جارہا ہے. تو ہوگا کیا کہ محکمہ مجبور ہوگا کہ چوری کرنے والوں پر کریک ڈاون کرے. ہمارے چپ چاپ تسلیم کرنے سے ہو کیا رہا ہے۔

** چوری کرنے والے دلیر ہو رہے ہیں. اور بڑھتے جارہے ہیں۔
** محکمے اپنے فرائض ادا نہیں کرتے، بلکہ سارا بوجھ ایماندار لوگوں پر ڈال کر ان کو مجبور کیا جاتا ہے کہ تم بھی چور بنو.
** ان چوریوں کی قیمت بھی ہم ادا کرتے ہیں. اور اس نہج پر نظام ٹھیک ہونے کا امکان بھی نہیں۔

آپ بڑے ڈپارٹمنٹل. اسٹورز کی مثال لیں۔ ان سٹورز پر کم لوگ ہی جانتے ہیں. کہ انکا منافع خریداری میں زیادہ ہوتا ہے، بنسبت فروخت کے. فروخت میں تو یہ خریدار کو رعایت دیتے ہیں۔ کہ گاہک بنانے ہوتے ہیں. ہمارے ہاں کم لوگ ہی شیلف لائف دیکھنے کی زحمت کرتے ہیں. اگر دیکھا جائے تو زیادہ سیلز اور اچھی قیمت دینے والے سٹورز میں اشیاء کی شیلف لائف ایکسپائری کے قریب ہی ہوتی ہیں. کیونکہ یہ ایسی اشیاء پیچھے مینوفیکچرز سے اسپیشل پرایسز پر خریدتے ہیں۔ چلیں آپ نے کوئی شیمپو لیتے تاریخ چیک کرلی۔ جو اسی مہینے ختم ہورہی ہے۔ تو آپ کے پاس کیا آپشن ہے سوائے چھوڑ دینے کے؟

کنزیومر ایکٹیویزم کیا ہے؟
صارف اپنے حقوق پر کیسے بیدار ہو. تو سادہ طریقہ کار ہے. آج دنیا بھر میں زیادہ منافع یقینی بنانے کیلئے بڑی کمپنیاں مرج ہورہی ہیں۔ مارکیٹ کو کنٹرول کرنے کیلئے نت نئے تجربے ہورہے ہیں۔ اسی طرح جدید کمیونیکیشن نے صارف کو بھی جوڑ دیا ہے۔ صارفین کا یہ جوڑ بڑا مزے کا ہے۔ کہ اس میں کسی لیڈر کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ کسی چیز کی مانگ، معیار قیمت یا گاہک سے برتاو یہ تحریک کا ایندھن بنتی ہیں. سوچ کی یکسانیت جدید کمیونیکیشن پر اسے جوڑ دیتی ہے۔ اور کسی دن وقت کا تعئین اسے عملی ضرب لگانے کی قوت دیتی ہے۔ دنیا کا کوئی قانون صارف کو استعمال پر مجبور نہیں کرسکتا۔ جتنا صارفین میں یکجہتی ہوگی اتنا ہی وہ مارکیٹ کو جھکا سکتی ہے۔ جتنا مارکیٹ نیچے جاسکتی ہے اتنا اسکو جانا پڑتا ہے۔ کہ ایک محسوس پوائنٹ کے بعد مارکیٹ بنا منافع کے تجارت ہی نہیں کرتی۔

کنزیومر یا صارف نہ خرید کر بیچنے والے کو ہرا سکتا ہے۔
نہ استعمال کر کے بنانے والے سے مطالبات منوا سکتا ہے۔
ویسے ہی کنزیومر پاور اسکے مترادف بھی چل سکتی ہے۔ نومبر 2016 سے امریکہ میں صارفین نے ایسی کمپنیوں کو ایسے برانڈز کو جو گلوبل وارمنگ پر اپنی ٹیکنالوجیز بدل دیں۔ گلوبل وارمنگ کم کرنے میں کردار ادا کریں ۔ اسکی اضافی اشیاء خرید کر اسکی خوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ نومبر سے اب تک ایسی کمپنیوں کو عوامی ریوارڈ دے کر انکی سیلز 31% فیصد بڑھا دیں ۔ اور ظاہر ہے ایسی کمپنیاں جو گلوبل وارمنگ میں ملوث ہیں انکے لئے یہ سزا ہوگی کہ یہی انکا نقصان ہوا۔
ہمارا کام بطور صارف محدود نہیں ۔ ہم خرچ کرنے والے ہیں۔ ہم استعمال کرنے والے ہیں ۔ ہم آپس میں جب منظم ہوتے ہیں تو اسکا فائدہ ہمیں بھی ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں چیک اینڈ بیلنس ترقی کرتا ہے۔ ہم منظم ہوں تو تجارت اپنے لالچ میں ہماری صحت، ہماری تعلیم، ہمارے انسانی حقوق اور ہماری دنیا کہ ساتھ جو کھلواڑ کر جاتی ہے۔ ہم اسے روک سکتے ہیں۔ ہم اپنے اتفاق سے انکے گھٹنے ٹیک سکتے ہیں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: