جمہوریت کی جنگ : نوازشریف اکیلا کیوں؟

0

خالد احمد راوی تھے کہ حضر ت ابوالاثر حفیظ جالندھری ریڈیو، ٹیلیویژن کے مشاعروں میں شرکت کے لئے بڑے نخرے کیا کرتے تھے مثلاً یہ کہ گاڑی انہیں گھر سے لے اور گھر ڈراپ دے۔ سٹوڈیو پہنچنے پر انہیں اعلیٰ افسران خود گاڑی سے لیںوغیرہ وغیرہ۔ ایک دن انہوں نے خالد احمد کو سراپا سوال پایا تو خود کہا کہ خالد تم کیا سمجھتے ہو کہ یہ ناز نخرے میں اپنے لئے اٹھواتا ہوں۔ ہرگز نہیں، تم نہیں جانتے کہ یہ سرکاری افسران شاعروں کو گھاس نہیں ڈالتے مگر میں انہیں احساس دلاتا ہوں کہ شاعر کوئی گری پڑی چیز نہیں ہوتا۔ یہ بہت گوہر نایاب ہوتے ہیں اس لئے ان کی قدر کی جانی چاہئے۔ سو میں جو کچھ کرتا ہوں یہ تم لوگوں کے لئے کرتا ہوں کہ ریڈیو، ٹی وی پر تم لوگوں کو عزت دی جائے، شاعروں ادیبوں کی قدر کی جائے۔
حفیظ جالندھری کو شعراء و قلم کاروں کی عزت بنانے کے لئے لڑتا دیکھنے والے خالد احمد نے اپنی زندگی میں ہی ایسے شاعروں کی کھیپ بھی دیکھی جو ٹی وی، ریڈیو کے پروڈیوسرز سے پروگرام لینے کے لئے ان کے چپڑاسی تک بن کر کام کیا کرتے تھے۔ ایک پروفیسر صاحب نے تو کالج پرنسپل کی خوشامد کر کے اپنا کلاسز کا شیڈول ہی یوں بنوا لیا تھا کہ وہ کلاسیں پڑھا کر ٹی وی پروڈیوسرز کی دفتر آمد سے قبل ٹی وی سٹیشن پہنچ جائیں اور ان کے دفتر میں صفائی تک کا ذمہ انہوں نے اپنے سر لیا ہوا تھا۔ موصوف پروڈیوسر کی آمد پر کینٹین سے چائے تک خود لینے جانے میں احتراز نہیں کرتے تھے اور ایک وقت تھا کہ ان کا ٹی وی پر بڑا شہرہ تھا۔ یہیں سے وہ ملک بھر میں مشاعرے پڑھنے میں کامیاب رہے ان کی یہ حرکتیں دیکھنے کا مجھے بھی موقع ملا تو مرحوم حسن رضوی یاد آئے انہیں اک بار ٹی وی پروڈیوسر کے ہاتھوں ہزیمت اٹھاتے دیکھ کر برادر خورد مرحوم رضا سہیل نے کہا کہ شاہ جی آپ ایک بڑے کالج میں پروفیسر ہیں، جنگ جیسے اخبار کے ادبی ایڈیشن کے انچارج ہیں پھر آپ ایک ٹی وی پروڈیوسر کے ہاتھوں اتنی ذلت کیوں برداشت کرتے ہیں تو حسن رضوی نے ہنس کر کہا کہ یار بے عزتی تو صرف اسی کمرے میں ہوتی ہے جب ٹی وی سکرین پر آتے ہیں تو عزت پورے ملک میں ہوتی ہے۔ پھر دنیا بھر میں حسن رضوی کا چرچا ہوا مگر اس کے پیروکاروں نے تو ٹی وی کے اک کمرے میں ہی نہیں بلکہ پورے ٹی وی سٹیشن کے ہر کمرے میں بیٹھے پروڈیوسروں سے ایسی بے عزتی کروائی کہ اس کا ڈھنڈورا ان مشاعروں تک بھی پہنچا جو وہ ان ٹی وی مشاعروں کی وجہ سے حاصل کیا کرتے تھے۔
آج یہ سب مجھے اس لئے یاد آ رہا ہے کہ پورے میڈیا میں پاناما کے شور میں وزیراعظم نوازشریف پر جو گند اچھالا جا رہا ہے اسے دیکھ کر میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ نوازشریف آج وہی کردار ادا کر رہے ہیں جو کسی زمانے میں شاعروں کی عزت بنانے کے لئے حفیظ جالندھری نے ادا کیا تھا مگر حفیظ صاحب کی یہ ساری کمائی حسن رضوی اور ان کے قبیل کے شعراء نے خاک میں ملا دی تھی جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نوازشریف نے ہر بار اداروں سے پنگے کئے اور اب بھی وہ اداروں کے ساتھ تصادم کی راہ پر ہیں اور لگتا یوں ہے کہ وہ اس بار بھی اداروں کے ہاتھوں گھر چلے جائیں گے تو وہ نہیں جانتے کہ نوازشریف بطور ایک جمہوری قیادت کے صحیح کرنے کی کوشش میں اپنوں کی ہی ریشہ دوانیوں کا شکار ہو جاتے رہے ہیں اور اب بھی ایسا ہی خدشہ ہے۔
یاد کیجئے کہ بھٹو سے لے کر آج کے نوازشریف تک جونیجو، بینظیر بھٹو، شوکت عزیز، جمالی، راجہ پرویز اشرف، یوسف رضا گیلانی  میں سے کون  سا عوامی وزیراعظم دستور کے مطابق دیئے گئے اختیارات استعمال کرنے کی آزادی رکھتا تھا۔ کیا آج بھی پیپلز پارٹی یہ نہیں کہتی کہ وہ اپنے ادوار میں اپنے منشور کے مطابق اس لئے عوام کی خدمت نہیں کر سکی کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ پیپلز پارٹی کے یہ ہاتھ باندھنے والا کون تھا؟ نوازشریف آج اسی کے سامنے اپنے ہاتھ بندھوانے کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ نوازشریف کے ذاتی مخالفین تو حد سے گئے گزرے ہیں اس لئے انہیں یہ خیال نہیں کہ نوازشریف اپنے لئے نہیں اس وزارت عظمیٰ کے منصب کا وقار اور اختیار بحال رکھنے اور اس کی بالادستی منوانے کی اصولی جنگ لڑ رہے ہیں جس پر کل کلاں ان کے بعد آنے والوں نے ہی بیٹھ کر اس کا فائدہ اٹھانا ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے کوتاہ اندیش سیاست دانوں کو نوازشریف دشمنی میں تصویر کا یہ رخ نظر نہیں آتا۔
پاکستان کی بدقسمتی رہی ہے کہ اس کے وجود میں آتے ہی اس پر انگریز کی پروردہ بیورو کریسی نے ایسا غلبہ حاصل کیا کہ اس نے قائداعظم اور قائد ملت سمیت کسی بھی قومی رہنما کو جم کر کام نہیں کرنے دیا اور ایک وقت نہرو کے منہ سے یہ طعنہ تک سن لیا کہ میں تو اتنے پاجامے نہیں بدلتا جتنی پاکستان میں وزارتیں بدلتی ہیں۔ مگر اسے پھر بھی شرم نہ آئی اور اس نے اقتدار پر اپنے غلبے کی اتنی بدترین مثال قائم کی کہ اپنے ہی ادارے سے تعلق رکھنے والے ایک اپاہج و بیمار بندے کی حکومت چلا کر ثابت کر دیا کہ اقتدار کی اصل طاقت کس جگہ اور کس کے پاس ہے طاقت کے اسی مرکزے نے اپنی بالادستی کے زعم میں ملک کے دو ٹکڑے کروا کے بھی دم نہیں لیا اور آج اسے اس چیز کی بھی پروا نہیں کہ اس کی ریشہ دوانیوں سے یہ ملک مزید ٹکڑوں میں بٹ سکتا ہے، اسے اگر عزیز ہے تو اقتدار پر اپنا غلبہ، جسے برقرار رکھنے کے لئے وہ آج تک اس ملک میں جمہوریت کے ساتھ سنگین مذاق کرتی چلی آ رہی ہے۔ شومئی قسمت کہ ”بے اختیار حکومت” کا مزا لینے کی خواہش میں دبلے ہوئے سیاست دان محض دنیا کو دکھانے کے لئے کہ وہ بھی وزیر شذیر بن گئے ہیں اقتدار کے اصل مالکوں کی جوتیاں سیدھی کرنے میں یہاں تک چلے جاتے ہیں کہ جمالی جیسے وزیراعظم ہوتے ہوئے مشرف کو برسرعام ”باس” مان لینے کو بھی گوارا کر لیتے ہیں۔
مجھے شریف برادران کا طرز سیاست قطعی پسند نہیں، مجھے مسلم لیگیوں سے ویسے بھی چڑ ہے کہ یہ آج تک اقتدار کے پجاریوں کی جماعت رہی ہے۔ نوازشریف بھی اسی کے کلچر سے پروان چڑھے ہیں مگر جس طرح فرعون کے گھر میں موسیٰ پل جاتا ہے اسی طرح پس پردہ قوتوں کے نمائندے بن کر سامنے آنے والے بھٹو اور نوازشریف بھی انقلاب آفرین کام کر گزرنے کی دھن میں ابھر کر سامنے آتے ہیں تو اقتدار کے اصل مراکز میں کھلبلی مچ جاتی ہے۔ بھٹو کو تو اپنے انجام تک پہنچا کر اس کی اولاد کو ٹھکانے لگا کے اس پارٹی پر زرداری بٹھا کے ایک جماعت کا ٹنٹنا تو ختم کر دیا گیا اب رہ گیا ”لوہے کا چنا” نوازشریف، جسے نشان عبرت بنانے کی تیاریاں مکمل ہیں ابھی تک تو وہ مزاحمت کرتا نظر آ رہا ہے مگر آخر کب تک؟
ایک شخص نے اتنا مقام بنا لیا کہ اس کی ہر دعا قبول ہونے لگی حتیٰ کہ  موت سے قبل روح قبض کرنے والا فرشتہ دکھائی دے جائے بھی…  کہا گیاکہ جو غیبی چیز تمہیں اپنے سر کی طرف کھڑی دکھائی دے وہ موت کا فرشتہ ہو گا۔ وہ شخص جب بیمار پڑا تو اسے اپنے سر کی طرف موت کا فرشتہ کھڑا نظر آیا، اس نے جلدی سے پوزیشن بدلی تو موت کا فرشتہ دوسری طرف سے سر پر آ گیا۔ دونوں میں تماشہ شروع ہو گیا وہ شخص بار بار چارپائی پر کبھی ادھر ٹانگیں کرے کبھی ادھر تو گھر والوں نے سوچا کہ بیماری نے اس کا ذہنی توازن بگاڑ دیا ہے اس لئے سب نے مل کر اسے قابو کر لیا جب موت کافرشتہ اس کی جان نکالنے کے لئے لپکا تو اس نے بے بسی سے کہا کہ میں تو تمہارے ہاتھ کبھی نہ آتا گھر والوں نے پکڑ کر مروا دیا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: