دشمن —— سمیع اللہ خان

0
  • 12
    Shares

’’دریا کے اُس پار دشمن اپنی تمام تر بدی ، حرص اور منافقت کے ساتھ موجود ہے، دریا کے اِس پار تُم اپنی تمام تر نیکی،خلوص اور ایمانداری کے ساتھ ثابت قدم ہو، تمھارے اور دشمن کے درمیان، دریا اپنی تمام تر پاکیزگی کے ساتھ رواں دواں ہے، آگے بڑھو کہ دریا تمھا رارستہ ہے رکاوٹ نہیں‘‘

آج سے کئی سال پہلے موسمِ سرما کا آغاز تھا کہ سپہ سالار اپنی شعلہ بیانی سے سپاہیوں کو ’’حاضر و موجود‘‘ سے بے نیاز کر رہے تھے۔ ’’سپہ سالار میرے دل میں دھڑکتے ہیں‘‘ ایک پیادے نے اپنا دل و دماغ ،زبان کے رستے لفظوں کی صورت اُگل دیا۔

دریا پر دشمن کی اجارہ داری، ہمارے حافظے سے قبل کی ہے ۔گذشتہ کئی سالوں کی قربانیاں یہ رنگ لائیں کہ ’’دشمن‘‘ نے ہمیں اپنے ’’معلوم دشمن‘‘ کی حیثیت سے قبول کرلیا تھا۔ سپہ لار کو بھی ہماری اس ’’ نئی حیثیت‘‘ کا ادراک ہو گیا تھا، جبھی وہ کہہ رہے تھے:

’’الحمدللہ! آج ہم نے اپنے حریف کی تنہائیوں تک رسائی حاصل کرلی ہے، ہمارا حریف ہمیں سوچنے لگا ہے، ہماری لڑائی دشمن سے نہیں بلکہ دشمن کی دشمنی سے ہے، دشمن ہمارے صاف دریا کے پانی میں گندے پانی کی آمیزش کر کے خلقِ خدا سے دشمنی کر رہاہے، صاف پانی کے مالک لوگ، گندہ پانی پینے پر مجبور ہیں، ہم اس ظلم سے آخر دم تک لڑیں گے، ہماری لڑائی دریا کی پاکیزگی کے لیے ہے، دریا کے آخری قطرے کی پاکیزگی کی قسم، ہم اپنے خون کے آخری قطرے تک ثابت قدم رہیں گے‘‘

سپہ سالار کو آ ج بھی جوانوں نے دل سے سنا، دل سے سوچا، دل سے دیکھا۔

موسمِ سرما کی جنگ و جدل کے بعد،گرمیوں کے آغاز میں، جوانوں کی ایک بڑی تعداد کو محاذِ جنگ سے واپس بلا لیا گیا۔ جوانوں کی واپسی کو ایک “بڑی” لڑائی کا آغاز سمجھا گیا۔

’’اب، ہم دشمن کو دریا کی سی روانی سے شکست دیں گے، دریا کا پورا کنارا ہمارا مورچہ ہوگا، ہم تمام دریا کے لیے لڑ رہے ہیں، سو اب ہم تمام دریا کو ہی محاذ بنائیں گے، جوانوں کو ایک عظیم لڑائی کی تیاری کی غرض سے ،پیچھے بلا لیا گیا ہے تاکہ وہ فیصلہ کن لڑائی کی تیاری کر سکیں، اللہ اکبر‘‘۔

اس بار موسمِ سرما کی لڑائی میں، رصد کی کمی رہی، جوانوں کو سپہ سالار کی زبانی معلوم ہوا کہ، ’’مسائل ، وسائل کے آڑے آرہے ہیں‘‘ جوان بیک آواز نعرہ زن تھے، ’’ہم اپنا پیٹ کاٹ کر وسائل میں اضافہ اور مسائل میں کمی کریں گے‘‘۔ مگر مسائل، مسائل ہی رہے۔

موسمِ گرما کے آغاز میں مزید جوان، اگلے مورچوں سے پیچھے بلا لیے گئے، اس بار جوانوں کی واپسی کو ’’پسپائی‘‘ سمجھا گیا۔ مگر سالار نے توجیح پیش کی کہ،

’’تغیرہی کو ثبات ہے، تبدیلی زندگی ہے، ہر شے رواں دواں ہے، رکنا موت ہے، سو ہم نے چلتے رہنا ہے، کہ ہر خزاں، بہار کا پیش خیمہ ہے۔ ہمیں اب ایک نئے دشمن کا سامنا ہے، جو کہ دریا کے اِ س پار ہے یعنی ’’وسائل کی کمی‘‘ مگر ہم اپنے نئے دشمن کو دوست نہیں بنائیں گے۔ ہم نئے وسائل پیدا کریں گے، کیونکہ دریا کے اُس پاردشمن، ہمارے پاکیزہ دریا کی پاکیزگی کا دشمن ہے‘‘۔

نئے وسائل، کیا ہونگے؟ جوانوں نے کہا کہ وسائل ہم ہیں، ہم وسائل پیدا کریں گے، ہم نے دریا کے اُس پار سرخرو ہونا ہے، نا کہ در یا کہ اِ س پار شکست خوردہ؟ جوانوں کے دماغوں میں آج بھی ان کا دل دھڑک رہا تھا۔ مگر سپہ سالار کے دل و دماغ اپنی، اپنی جگہ پر موجود تھے، جس کا ثبوت ان کے الفاظ تھے۔

’’حکمتِ عملی، لڑائی کا بہترین ہتھیارہے، فتح بہترین حکمتِ عملی کی مرہونِ منت ہے۔ ہم دریا کے لیے لڑ رہے ہیں، دریا سے نہیں، سو اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ دریا کے لیے اس لڑائی میں ہم دریا کو بھی ساتھ ملائیں گے‘‘

سالار کے الفاظ دریا سے بھی زیادہ گہرے تھے، جوان اپنے محبوب قائد کی بات دل سے سن رہے تھے۔ سالار نے الفاظ کی گرہیں کھولتے ہوئے کہا،

’’ہم دریا کے پانی کو اپنی طاقت بنائیں گے، پانی کی طاقت، ہمیں قوت بخشے گی، پانی ہماری سپاہ ہوگا۔ ہم دریا کی اس قوت کو بوتل میں بند کریں گے۔ دریا کا صاف پانی ہمارے لوگوں کی ضرورت ہے، ہم اپنے لوگوں کو جانوں پر کھیل کر صاف پانی فراہم کریں گے، کم قیمت پر‘‘۔

کچھ جوانوں نے اپنے سروں میں دماغوں کو محسوس کیا،اس باردل کی دھڑکنیں بے ترتیب نہیں ہوئیں ۔

’’ہم نے خون دے کر دریا کے کناروں کوآزادکرایاہے ،کیا اب ہم اپنے ہی لوگوں کو صاف پانی بیچیں گے؟‘‘، سوچ کی یہ لہریں سالار کے خیمے تک پہنچ گئیں ،سالار نے محاذِ جنگ پر جوانوں کی پوزیشن تبدیل کردی تا کہ اقلیت کی یہ سوچ اکثریت کی سوچ نہ بن جائے۔ مگر تبدیلی زندگی ہے، ذہن تبدیل ہورہے تھے، سالار کے لہجے میں روانی نہ رہی سو ان کا لہجہ مردہ کہلایا۔

سالار نے ایک نئی لڑائی کے لیے صف بندی کرلی، بوتل کے پانی سے حاصل شدہ قوت اب دشمن کے خلاف استعمال ہونا تھی، مگراس بار بھی دشمن دریا کے ’’اِس پار‘‘ تھا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: