تہذیبی ارتقااور مذہب : خورشید ندیم

0

رسالت مآب سیدنا محمد ﷺ کے بعد، کیا تاریخ کی شاہراہ پر کسی ایسی شخصیت کے نقوش ِ پا موجود ہیں جس نے تنہا انسانی تہذیب کا رخ بدل ڈالا ہو؟
چند پڑھے لکھے احباب کی مجلس میں اس سوال پر گفتگوکا آغاز ہوا اور پھر یہ بحث ایک فطری نتیجے کے طور پر، مذہب اور سائنس کے سماجی کردار کی طرف چل نکلی۔ سائنس کی محیر العقول دریافتوں اور ایجادوں کا ذکر ہواتو ایک دوست نے دلچسپ سوال اٹھایا: ’’ اگر آج کی زندگی سے سائنس کو نکال دیا جائے تو کیا زندگی کا عمل جاری رہ سکے گا؟ اگر آج کی زندگی سے مذہب کو نکال دیا جائے تو کیا زندگی کا عمل جاری رہے گا‘‘؟ ان کا نتیجہ ٔ فکر یہ تھا کہ مذہب کے بغیر تو زندگی ممکن ہے لیکن سائنس کے بغیر نہیں۔ آج اگر بجلی نہ ہو تو سماج کی رفتار تھم جائے۔ کمپیوٹر نہ ہوتوتہذیبی ارتقا رک جائے۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ مذہب ایک مابعد الطبیعاتی تصور ہے۔ اگر زندگی بعد موت امر واقعہ ہے تو پھر مذہب کی ضرورت ہو گی۔ بصورت دیگر مہد سے لحد تک مذہب کی کچھ ایسی حاجت نہیں۔
سالوں پہلے جنہوں نے اعلان کیا کہ (معاذاﷲ) ’God is dead‘ وہ بھی دراصل یہی کہنا چاہتے تھے۔ ان کے خیال میں اگر اسے درست مان لیا جائے کہ اس کائنات کا کوئی خالق ہے تو بھی شواہد یہی ہیں کہ وہ تخلیق کے اس عمل کے بعد اس کائنات سے لاتعلق ہو گیا ہے۔ یہ کچھ قوانین فطرت ہیں جو اس نظام کو چلا رہے ہیں۔ عملاً خدا سے انسان اور کائنات کا کوئی تعلق باقی ہے نہ انہیں اس کی ضرورت ہے۔


انسانی سماج کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کا تمام تر تہذیبی ارتقاء اس کے تصور جمال کی عطا ہے۔ تصور ِجمال کا ماخذ انسان کے مادی وجود میں نہیں، کہیں اور ہے۔


یہ بحث اب نئی نسل میں ہونے لگی ہے۔ اس نسل کو زندگی کے آغاز و انجام سے زیادہ دلچسپی نہیں۔ اسے پیدائش سے موت تک کی درمیانی مدت کے بارے میں تشویش ہے کہ وہ کیسے گزرے گی۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ یہ زندگی وہ کسی تصورِ خدا کے بغیر بھی گزار سکتا ہے، بلکہ درست تر الفاظ میں،گزار رہا ہے۔ تاہم کمپیوٹر یا موبائل فون کے بغیر،اس کا خیال ہے کہ زندگی کا تصور محال ہے۔

مجھے یہ بحث موضوعی (subjective) دکھائی دیتی ہے۔ میں زندگی سے کیا مراد لیتا ہوں؟ کیایہ مادی وجود کی بقا اور اس کے لیے آسائشیں جمع کرنے کا نام ہے؟ کیا زندگی کی ساری رنگینیاں اسی میں سمٹ آئی ہیں؟ انسانی سماج کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کا تمام تر تہذیبی ارتقاء اس کے تصور جمال کی عطا ہے۔ تصور ِجمال کا ماخذ انسان کے مادی وجود میں نہیں، کہیں اور ہے۔ آج فنون لطیفہ سے لے کر تعمیرات تک، مجھے جو کچھ دیکھنے کو ملتا ہے، وہ انسان کے جمالیاتی ذوق ہی کا اظہار ہے۔ جمالیات کے ان مظاہر کے بغیر زندگی بے رنگ بے بو اور بے ذائقہ ہے۔
اگر یہ مقدمہ درست ہے تو مجھے یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ زندگی مادی وجود سے سوا بھی ایک مفہوم رکھتی ہے۔ یا یوں کہیے کہ انسان کی ایک شخصیت جمالیاتی بھی ہے جو مادی وجود کے علاوہ ہے۔ یہ طبیعیاتی نہیں تو لازماً مابعد الطبیعاتی ہے۔ اگر میں زندگی کے تصور میں مابعد الطبیعات کو شامل کررہا ہوں تو پھر لازم ہے کہ اس پہلو سے بھی زندگی کی بقا کا سامان ہو۔ انسان کے پاس کچھ ایسا ضرور ہونا چاہیے جو اس غیر مادی وجود کی سلامتی کو یقینی بنا سکے۔ مذہب اسی کی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔
اگر کوئی مذہب کو نہیں مانتا تو اسے جمالیاتی وجود کی بقا کے لیے اس کا متبادل تلاش کرنا ہو گا۔ یہ اس کے مابعد الطبیعاتی وجود کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ میں اس بات کو مزید کھول دیتا ہوں۔ اسے اپنے جذبات اور جمالیات کی تہذیب کے لیے ایک نظامِ فکر کی ضرورت ہے جس طرح مادی زندگی کی تہذیب کے لیے اسے سائنس کی ضرورت ہے۔ انسان نے اس سے کبھی انکار نہیں کیا۔ اس نے مذہب کے متبادل کے طور پر انسان پرستی (Humanism) کا فلسفہ تراشا ہے۔ ہیومن ازم، سائنس سے اضافی ایک شے ہے۔ گویا زبانِ حال سے یہ مان لیا گیا کہ محض سائنس کے سہارے زندگی نہیںگزاری جا سکتی۔


مذہب نے کبھی خود کو سائنس کے متبادل کے طور پر پیش نہیں کیا۔ یہ لوگوں کا ایک خود ساختہ میدانِ جنگ ہے جس میں انہوں نے مذہب اور سائنس کو دومتحارب قوتوں کے طور پر آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔


مذہب نے کبھی خود کو سائنس کے متبادل کے طور پر پیش نہیں کیا۔ یہ لوگوں کا ایک خود ساختہ میدانِ جنگ ہے جس میں انہوں نے مذہب اور سائنس کو دومتحارب قوتوں کے طور پر آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ پھر وہ اپنے تئیں کبھی ایک کی اور کبھی دوسرے کی فتح و شکست کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ مذہب کا اگر کوئی حریف ہے تو وہ سائنس نہیں، ہیومن ازم ہے۔ مذہب غیر مادی زندگی کی تہذیب کرتا ہے اور ہیومن ازم بھی اسی کا دعوے دار ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ انسانی زندگی مذہب سے کبھی بے نیاز ہوئی ہے نہ ہو سکتی ہے۔ مذہب سے بے نیازی کی باتیں محض افسانے ہیں۔ جنہوں نے اس کی کوشش کی، انہیں زندگی کو اس کا متبادل دینا پڑا۔ ہیومن ازم کیا مذہبی اقدار سے یک سر بے نیاز تصور ہے؟ میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ یہ تصورِ خدا کے بغیر مذہب کے نظام ِ اخلاق کی عطا، بہت سے باتوں کو قبول کرتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے مذہب مقدم ہے، اس لیے واقعاتی لحاظ سے یہی درست ہو گا۔


 انسانی زندگی مذہب سے کبھی بے نیاز ہوئی ہے نہ ہو سکتی ہے۔ مذہب سے بے نیازی کی باتیں محض افسانے ہیں۔ جنہوں نے اس کی کوشش کی، انہیں زندگی کو اس کا متبادل دینا پڑا۔


تصور ِ خدا کو ماننے کے نتیجے میں تصورِ آخرت کو ماننا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ہیومن ازم اس سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ کیا وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو سکے گا؟ میرا خیال ہے ابھی اس کا فیصلہ ہونا ہے۔ ایک مذہبی آدمی کے طور پر میرا احساس یہ ہے کہ ما بعد الطبیعیات اصلاً مذہب کا دائرہ ہے۔ مذہب نے آج تک اپنے دائرے میں شکست نہیں کھائی۔
مذہب کا سب سے مستند اور آخری ایڈیشن اسلام ہے۔ وہ اسلام جس کا تنہا ماخذ رسالت مآب ﷺ کی ذاتِ والا صفات ہے۔ مذہب کی ناگزیریت کا یہ نتیجہ ہے کہ اب زندگی تا قیامت اسی ذات کی گرفت میں رہے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی مذہب کی گرفت سے نکل نہیں سکتی اورآج مذہب کی سب سے مستند تعبیر وہی ہے جو رسالت مآب سید نا محمدﷺ سے صادر ہوئی ہے۔ یہ وہی بات ہے جو اس سے پہلے ابراہیم، موسیٰ اور مسیح علیہم السلام بیان کر چکے اورتاریخ جسے انسانی آمیزش سے محفوظ نہ رکھ سکی۔
میرا خیال ہے کہ یہ بحث یہاں پہنچ کر اُس سوال کا جواب فراہم کر دیتی ہے جو میں نے ابتدا میں اٹھایا ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: