زنجیر: سمیع اللہ خان

0

’’نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر ،بونوں کی فوجِ ظفر موج ہے، جن کے سائے بھی ان کے قدو قامت جیسے ہیں‘‘۔ابھی اخبار پر ایک نظر ہی ڈالی تھی، کہ میرے منہ سے دل کا غبارخارج ہونا شروع ہوگیا۔
’’چھو ٹا منہ، بڑی بات‘‘ سکندر بٹ کی جانب سے ، میرے زرّیں خیالات کے لیے مختصرمگر جامع دادمو صول ہوئی ،سکندربٹ، پیشے کے اعتبارسے سرکاری ملازم تھا، مگر ملازمت سے طویل رخصت لے کرایک اشاعتی ادارہ چلا رہا تھا،اس ادارے میں،میں اس کا حصّے دار تھا۔ بٹ اور انٹرنیٹ دولازم و ملزوم چیزیں تھیں۔’’دنیا اگر گلوبل ویلیج ہے تو انٹرنیٹ اس گاؤں کامخبر ہے‘‘ ۔یہ بٹ کا تکیہ کلام تھا۔۔۔عمر میں مجھ سے چھوٹا مگرلگتا بڑا تھا۔ ’’ پختہ عمر نظر آنا مردانہ وجاہت کی نشانی ہے‘‘ ڈھلتی عمر کو مردانہ وا ر قبول کرنا بٹ کے نزدیک مردانگی کے زمرے میں نہیں آتا تھا۔ ’’ داڑھی مرد رکھتے ہیں‘‘ وہ ہمیشہ اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرکر میرے سامنے اپنی مردانگی کا اظہارکرتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی مطبوعہ اور غیر مطبوعہ معلومات کسی بھی خبر رساں ایجنسی سے زیا دہ تھی۔ اس خوبی کی رعایت سے میں انٹرنیٹ کو نہیں،بٹ کومخبر کہتا تھا۔
’’ دو سو آٹھ روپے بِل آیا ہے اخبار کا‘‘۔ یہ واحدماہانہ اطلاع یا خبر ہوتی ہے جو کہ بٹ کے توسط سے اخبار مجھے دیتا ہے۔اس کے علاوہ اخبار مجھے کتنا با خبر رکھتا ہے اس کا اندازہ آپ میرے منہ سے نکلنے والے دھوئیں کے مرغولے دیکھ کر لگا سکتے ہیں،
’’نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر بونوں کی فوجِ ظفر موج ہے، جن کے سائے بھی ان کے قدو قامت جیسے ہیں‘‘۔
’’چھو ٹا منہ، بڑی بات‘‘ کہہ کر بٹ نے اس بات کا تو ثبوت دے ہی دیا ہے کہ وہ داد دینے میں کتنا بخیل واقع ہوا ہے۔مگر میں داد دینے میں بخل سے کام نہیں لیتا۔میں جب بھی غیروں کی کامیابی کی کوئی خبر پڑھتا ہوں تو میرے منہ سے دھواں نکلتا ہے، اور اس دھوئیں کے سائے میں اعلیٰ و ارفع خیالات کااظہار ہوتا ہے، جو کہ دراصل داد ہوتی ہے اغیار کے کار ناموں کے لیے۔ 
بٹ نے جو جغرافیائی تقسیم کی ہے اس کی رو سے ’’نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر‘‘ فقط ایک مصرعہ نہیں بلکہ ایک جغرافیائی وحدت ہے، اور مصرعہ، میرا مطلب ہے کہ اس خطّے سے باہر جوبھی ہے وہ غیر ہے۔ اور اس مصرعے کی رو سے میں اوربٹ اس عظیم بھائی چارے کی زنجیر کی کڑیا ں ہیں جس نے نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر تک ہمیں ایک دوسرے سے مضبوطی سے جوڑا ہوا ہے۔

۱

’’ میں تو کہتا ہوں کہ انگریزی زبان میں لکھی گئی بیسٹ سیلر کتابوں کا اردو ترجمہ اپنے نام سے شائع کرتے ہیں اوراگر تعداد زیادہ ہو تو پرنٹنگ چین سے کر والیں گے۔۔ کافی بچت ہوگی‘‘۔ بٹ نے ’’نیل و کاشغر‘‘ کے صدر دروازے پر کھڑے ہو کر غیروں کی جگر سوزی پر ارد و کا لیبل لگاکراپنی تن آسانی کا ایک بہترین حل سوچاتھا۔ پرنٹنگ چین سے کروانا،عظیم ترزنجیری سلسلے کی آخری کڑی تھی۔
’’ویسے کیا خیال ہے،غیروں کواس طرح دیس بلاوا دے کر ،نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغروالی عظیم نظریاتی زنجیر زنگ آلود نہیں ہوگی‘‘؟ میں نے سوال کرنے میں بخل سے کام نہیں لیا۔
’’ پہنچے گی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا، یہ خمیر یہیں سے اُٹھایا گیا تھا، مغرب ہمارا آبِ زم زم چرا کراس میں شراب کی آمیزش کرکے نئی بوتل میں ڈال کر بیچ رہا ہے‘‘ بٹ آمیزش شدہ آبِ زم زم کوجو بقول اس کے اسپین سے چرایاگیا تھا، اردو کی چھلنی سے گزار کرپاکیزہ بنانا چاہتا تھا۔
’’اس آمیزے میں سے آبِ زم زم اور شراب کو علیحدہ کون کرے گا؟‘‘ میری بات سن کربٹ کی پیشانی سے لے کر رخساروں تک پھیلی ہوئی،نیل و کاشغر کی جسمانی وحدت نے ایسی یکجہتی دکھائی کہ اس کا چہرہ ایسادمکتاسورج دکھائی دینے لگا، جسے تازہ تازہ مشرق نے اگلا ہو۔
’’ہمارا چوری شدہ سرمایہ عین مبنی بر فطرت تھا۔۔۔ جوچیز فطرت سے متصادم ہوگی وہ آمیزش ہوگی، جو فطرت پر مبنی ہوگی وہی ہمارے آبا ء کی گم گشتہ دانش ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ویسے بھی دانش مومن کی گم شدہ میراث ہے، جہاں سے ملے، لے لینی چاہیے‘‘۔ 
اور ظاہر ہے بٹ یہی کر رہا تھا، گلوبل ویلیج کا ایک دیہاتی ہونے کے ناطے، بٹ اس گاؤں کو کھوجتا رہتا۔ آباء کی گم گشتہ دانش کھوجتے کھوجتے، بٹ کی ہارڈ ڈسک (دماغ) میں جو سب سے بڑا فولڈر بنا تھا وہ،غیر ضروری معلومات پر مشتمل تھا جس کو میں معلوماتی فضلہ کہتا تھا۔ مغرب ،بٹ کے چہرے سے طلوع ہونے والے نور کوآہستہ آہستہ نگلنے لگا جو کچھ دیر پہلے تک مشرق کے اُگلے ہوئے سورج کی طرح چمک رہا تھا۔۔۔ مغرب ہر اس شے کو نگل لیتا ہے جس کو مشرق نے اُگلا ہوتاہے۔
’’تو تم اس گمشدہ عظیم ورثے کو چین سے پرنٹ کرواکر، فطرت کی عدالت میں پیش کرنا چاہ رہے ہو؟‘‘ فطرت فیصلے کرنے میں بڑی سفّاک واقع ہوئی ہے،پتہ نہیں بٹ یہ بات جانتا تھا کہ نہیں!! 
’’ہاں اس لیے کہ فطرت مسلمان ہے، اور فطرت کا کیا ہوا فیصلہ بر حق ہوتا ہے۔‘‘ بٹ نے گویا میرے دل کی بات کہہ دی۔میرے دل میں آیا کہ بٹ کو کہہ دوں کہ ہسپانیہ کا فیصلہ بھی فطرت نے ہی کیا تھا، اور وہ عظیم چوری بھی فطرت کے اعلیٰ عدالتی فیصلے کی روشنی میں ہوئی تھی، مگر عظیم ترزنجیری سلسلے کی ایک ادنیٰ کڑی ہونے کے ناطے میں کڑیوں کی باہمی رگڑ کا سبب بننے سے ہمیشہ اجتناب کرتا آیا ہوں۔کیونکہ بہرحال اس رگڑسے زنجیرکے کمزور پڑنے کا خدشہ تھا۔ زنجیر کو مضبوط رہنا چاہیے ۔کبھی تو کام آئے گی۔
’’کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ غیروں نے آبِ زم زم کا نام شراب رکھ دیا ہو،، بغیر کسی ملاوٹ کے؟‘‘ میری بات سے نیل و کاشغر کے بشری خطّے میں بادِ بہاری چلی، اور سرسبز فصلوں میں لہریں پیدا کرنے لگی۔

’’تمھار ے منہ میں گھی شکر!!! یہی تو اصل بات ہے۔۔ فرعون خود پرورش کرتا ہے موسیٰ کی‘‘ بٹ کی نظر میں غیر اپنے جال میں آپ آنے والے ہیں۔ اور یہ جال بٹ نے چین میں بچھایا تھا۔
’’لیکن یہ ایک مفروضہ ہی رہے گا، جب تک ہم اس آمیزے کو طہارت کی چھلنی سے گزار نہ دیں‘‘ میں نے پھر بٹ کو گوروں کی محنت پر اردو کا لیبل چسپاں کرنے کے خیال سے روکنے کی اپنی سی کوشش کی۔
’’فطرت! میرے بھائی۔۔ فطرت!! فطرت وہ پاکیزہ چھلنی ہے جو اس آمیزے کو پاک کر دے گا‘‘ بٹ نے مغرب کی محنت کو انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کرکے فطرت کے اینٹی وائرس سے سکین کرنے کی ٹھان لی تھی۔
’’میرے خیال میں فطرت کی عدالت میں مغرب کواپنا دفاع کرنے کی انگریزی میں اجازت ہونی چاہیے‘‘۔ میں اس مقدمے میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے حق میں تھا،میں نے سوچاشاید کہ اس طرح بٹ، انگریزی کتابوں کوغیر قانونی طور پر اردو میں شائع کرنے کے خیال سے باز آجائے۔
’’مغرب نے بھی ہمارے اجداد کی محنت کو اپنی زبان میں ڈھال کر بیچا تھا‘‘ گویا بٹ مغرب کی اسپین میں کی گئی زیادتی کا بدلہ ، چین میں چکانا چاہتا تھا۔
’’بٹ، کاپی رائٹ کا کیا ہوگا؟‘‘ میرے پیشِ نظر اس معاملے کی قانونی پیچیدگیاں تھیں۔
’’گوروں کے جملہ حقوق محفوظ رہیں گے۔بیسٹ سیلر کتابوں کواردو میں منتقل کرنا کا ایک یہ بھی فائدہ ہے‘‘ میں کچھ دیر کے لیے بھول گیا تھا کہ میں اور بٹ نیل و کاشغرکی اس عظیم بستی کے باشندے ہیں جہاں’’ کاپی رائٹ‘‘ کا ترجمہ’’ کاپی کرنے کا عام حق‘‘ کیا جاتا ہے!

’’ گورے نے ہمار ا کام آسان کردیا ہے، بس کرنا یہ ہے کہ تیزی سے اس کام کو اردو میں منتقل کیا جائے‘‘ بٹ نے ایک عظیم لڑائی لڑنے کا ارادہ کر لیا تھا۔۔ نیل وکاشغرکی جانب سے بٹ، اکیلا اس میدان کارزار میں کودا تھا۔
بٹ کے پاس ہتھیار وہی تھے جو کہ مغرب کے پاس تھے، کیونکہ بقول اس کے گورے نے اپنے ہتھیار انٹرنیٹ پر رکھ کر اس کا کام آسان کردیا تھا۔اس لڑائی کے لیے حکمتِ عملی بھی بٹ نے مغرب سے مستعار لی تھی،کیونکہ مغرب لڑائی ہمیشہ اپنی سرزمین سے باہر لڑتا ہے، بٹ نے یہ لڑائی لڑنے کے لیے چین کو بطورِ میدانِ جنگ منتخب کیا تھا۔ بٹ کی نگاہِ انتخاب کی داد دینی پڑے گی!
شام کے سائے ڈھلنے لگے۔۔ مجھے لگا کہ فطرت پھر اپنا فیصلہ سنا چکی ہے۔۔نیل و کاشغرتک کے جغرافیائی خطّے کو شام نے اپنی آغوش میں لینے کے لیے اپنے بازو پھیلا دیے ،صورت کچھ یوں تھی کہ ایک جانب مشرق نے جس سورج کو اُگلا تھا مغرب اس کو نگلنے کی تیاری کر رہا تھا تو دوسری جانب بٹ انٹرنیٹ سے مغرب کو ڈاؤن لوڈ کر رہا تھا۔۔۔۔ مغرب ہر اس شے کو نگل لیتا ہے جس کو مشرق نے اُگلا ہوتاہے۔ اور بٹ ہر اس شے کو ڈاؤن لوڈ کرلیتا ہے جس کو مغرب نے نگل کر اگلا ہوتا ہے!!!

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: