غریب کا احتجاج : صبا فہیم

0

یوں تو روز ایسے بہت سے اندوہناک خبریں ہماری نظروں سے گزرتی ہیں لیکن اس خبر نے ہر شخص کومغموم کر دیا۔ پانچ بیٹیوں اور تین بیٹوں کا باپ محمداقبال جو وزارت داخلہ میں نائب قاصد تھا ہر وقت بیمار رہتا تھا اور اس کوایک ہی فکر تھی کہ اگر وہ مر گیا تو اسکی اولاد کا کیا بنے گا اس مشکل دور میں اس کی اولاد کہاں جائے گی۔ یہی فکر لے کر وہ اپنے افسران کے پاس گیا اوراپنی جگہ پر اپنے بیٹے کی ملازمت کی درخواست کی مگر اس کے افسران نے اس کو بتایا کہ بچہ باپ کی جگہ ملازمت صرف اس شرط پر حاصل کر سکتا ہے اگر اس کا باپ دوران ملازمت فوت ہوجائے۔محمد اقبال ہر صورت اپنی اولاد کے چھت کو محفوظ بنانا چاہتا تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر اس کے مرنے سے بیٹے کو نوکری مل سکتی ہے تو اس میں دیر کیوں اس نے بلاک کی چھت سے چھلانگ لگا دی اور اپنی جان سے گزر گیا۔

ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی کہ اسنے منت مانی تھی کہ اگر اسکا کام ہو گیا تو وہ کعبہ کی زیارت کرے گا، اب کام تو ہو گیا لیکن اسکے پاس زاد راہ نہیں ہے، تو رسول اللہ نے فرمایا کہ اگر تمہارا باپ زندہ ہے تو اسکی پیشانی کو بوسہ دے لو تمہاری منت پوری ہو جاے گی۔ ہائے افسوس محمد اقبال نائب قاصد کے بچے اپنے باپ کی پیشانی کیسے چوم سکیں گے؟

کیا حکومت کو اپنی عوام کے حالت کا علم نہیں؟اگر نہیں ہے تو کیوں نہیں ہے پالیسیاں بنانا اور روزگار فراہم کرنا توہر ملک میں حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے جتنا روپیہ پیسہ اور طاقت ہماری حکومت اپنے کارناموں کے قصیدوں کی مارکیٹینگ کیلئے صرف کرتی ہے اگر اسکا آدھا بھی عوام کی فلاح انکے روزگار اور دیگر مسائل پر لگائیں تو کسی باپ کو اس نہج پر سوچنے کی بھی ضرورت نہ ہو. بجائے اس کےکہ جان سے گزرنا پڑے۔
رواں سال کے بجٹ پر اگر ایک نظر ڈالی جائے تو غریب کی بڑھائی ہوئی تنخواہ عوام کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے گزشتہ سال 12 ہزار کا علان ہوا تھا لیکن 90 فیصد لوگوں کو 8 تا 10 ہزار سے اوپر تنخواہ نہیں ملی جب 12 نہیں ملی تو 15 کہاں سے ملے گی؟

سوچیے کہ اس شخص نے تیسری منزل سے چھلانگ لگانے سے پہلے کیا کیا کچھ نہیں کیا ہو گا ؟ کس کس در پہ دستک نہیں دی ہو گی اور کیا کیا جتن نہیں کئے ہونگے ؟ جب اسے ہر طرف سے اندھیرا نظر آیا ہو گا اور امید کی کوئی آخری کرن بھی اسے نظر نہ آسکی تو اس نے اس تمام معاشرے کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا۔ ہمارے ملک میں روز ایسے واقعات ہونا کچھ اچنبھا نہیں۔ کچھ لوگ جن کا اپنا ذہنی توازن درست نہیں ہے وہ کہہ رہے ہیں کہ اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا۔ روزگار مکان کی چھت اور بچوں کے بہتر مستقبل کی خواہش کس کو نہیں اور اگر یہ خواہش رکھنا پاگل پن ہے تو پھر یقینا یہ دنیا پاگلوں کا مسکن ہے۔ کیا اولاد کی فکر ذہنی بگاڑ ہوتی ہے؟۔ وہ تو اپنی ذہنی استعداد کے مطابق اپنی جان دے کر اپنی کوشش کر گزرا۔ سوال یہ ہے کہ معاشرے نے اسکے فعل سے کیا اخذکیا ؟ کیا جس مسئلےکی وجہ سے وہ اپنی جان سے گیا۔۔۔ اس مسئلے کے حل کے لئے کوئی کوشش کی گئی؟

ایک چپڑاسی جسے نیا نام نائب قاصد دیا گیا تھا وہ بھی میاں شریف کی طرح باپ تھا عمران خان جیسا باپ اور زرداری جیسا باپ۔ لیکن ایک بات جو میں جانتی ہوں کہ اس کی موت کے ہم سب ذمہ دار ہیں ۔اور سب سے بڑے ذمہ دار اس ملک کے حکمران جنہوں نے پاکستان کے وسائل کو شیر مادر سمجھ کر پی لیا ہے اور وہ اشرافیہ جو پاکستان کو لوٹ چکی ہے اور وہ سیاست دان جنہوں نے غریب کا نہیں سوچا۔جس ملک میں کروڑوں لوگ غربت کی زندگی گزار رہے ہوں اور حکومت عربوں کو تلور کے شکار کے لئے اجازت دینا ناگزیر سمجھتی ہو وہاں کیونکر بہتری کی راہ نکل سکتی ہے؟ 

موت کا مزہ تو سب نے چکھنا ہے میں نے بھی آپ نے بھی مگر اپنے ہاتھوں کو ذرا غور سے دیکھئے کہ اس ملک کے کتنے باپ اپنے بچوں کی چند ہزار کی نوکری کی تلاش میں مر کھپ گئے ہیں۔ کتنے لوگ بے نام راہوں پر مارے گئے ۔ہمارے معاشرے میں آج کے دور میں صرف موت ہی تو سستی ہے۔۔ شائد اب اس کے بیٹے کو نوکری مل جائے گی مجھے تو اب بھی ڈر ہے کہ نہیں ملے گی۔

آپ کیا کہتے ہیں؟؟؟

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: