انڈیا بہ مقابلہ” افغانستان“ : 450 لفظوں کاتجزیہ: اقبال خورشید

0

میرے مترو، میرے بھائیو، میرے بچو،
پہلے تویہ سمجھ لو کہ یہ جوپاک بھارت میچ تھاناں، یہ کسی طور برابری کا مقابلہ نہیں تھا۔ یہ توبس یوں تھا کہ ایک شام آسٹریلیا کو بادل نخواستہ افغانستان سے کھیلنا پڑ جاوے۔اب ایسے میں کوئی احمق ہی افغانستان سے جیت کی امید لگائے گا، ماسوائے افغانیوں کے۔ یہی تھا پاک بھارت میچ کامعاملہ۔ البتہ جب جب یہ کم بخت میچ ہوتا ہے، ہمارے ہاں جذبات کے جھکڑ چلنے لگتے ہیں، جو الگنی میں سوکھتے ہمارے عقل، منطق اور حقیقت پسندی کے زیر جاموں کو اڑا لے جاتے ہےں۔ سبب وہ ٹی وی چینلز ، جو اپنی ریٹنگ کے لیے بھارتی مبصرین کو مدعو کرکے شور مچاتے ہیں، ہیجان بڑھاتے ہیں،اور شکست کے بعد ذرا نہیں شرماتے، خوشی خوشی دشمنوں کا منہ میٹھا کرواتے ہیں۔
تو صاحبو، انڈیا فیورٹ تھا،اور ضرورت سے زیادہ فیورٹ تھا، ٹھیک ویسے ہی جیسے کچھ بیویاں ضرور ت سے زیادہ شکی ہوتی ہیں۔ جیتنا تواُسے ہی تھا۔ ہاں، دوسرا مسئلہ گمبھیر ہے، جسے کچھ لوگ” گھمبیر “بھی لکھتے ہیں۔ (اردو کا جنازہ ہے ماموں، دھوم دھام سے نکالنے کا!) تو دوسرا مسئلہ ہے کہ اس وقت پاکستان کے پاس کوئی ورلڈ کلاس کھلاڑی نہیں۔ ٹیسٹ میں یونس اور مصباح عالمی معیار کے بلے باز تھے۔اظہر علی اور اسد شفق اچھے کھلاڑی ہیں، مگر ورلڈ کلاس بننے کے لیے ابھی کئی مراحل طے کرنے ہوں۔ ہماری موجودہ ٹیم ایک اوسط درجے کی ٹی 20 ٹیم تو ہوسکتی ہے، مگر یہ ون ڈے ٹیم نہیں۔قطعی نہیں۔ ون ڈے اسکوڈ میں ماسوائے عامر کے، اے کلاس کھلاڑیوں کا قحط ہے۔ ہاں، کچھ اپنی بابت غلط فہمی کا شکار ضرور ہیں جیسے وہاب بھائی۔مکی آرتھر کی اب تک کی کارکردگی خبر دیتی ہے کہ گورے کو خود کوچنگ درکار ہے۔ ٹھیک ویسے ہی، جیسے اپنے شہریار خان کو ریٹائرمینٹ کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم سے ہمیں پاناما اور ڈان لیکس پر تو کوئی شکوہ نہیں، مگر سیٹھی صاحب کو پی سی بی میں لگائے رکھنے پر ہم کچھ ناراض ضرور ہیں۔ اسی لیے اُن کے حق میں نہیں لکھتے۔
میچ پر سب سے اچھا تبصرہ ہماری بیگم نے کیا۔ بولیں: ”یہ بے چارے شاداب اور حسن علی کیا بولنگ کریں گے، یہ تو اِسی بات پر خوش ہورہے ہوں گے کہ دھونی اور کوہلی کو اتنے قریب سے دیکھ لیا۔“
ہم اپنی ٹیم سے قطعی ناراض نہیں۔ ہندوستانی سازشوں کی خبر ہے۔ وہ اپنے ساتھ بڑے لڑکے لائے تھے۔ ہاں،پہلے پہل عماد وسیم سے کچھ ناراض تھے ۔ سن گلاسز لگا کرتوڈیٹ مارنے والا شخص بھی غیرسنجیدہ لگتا ہے، پھریہ تو کرکٹ ہے ، مگر جب کسی نے بتایا کہ غریب کی آنکھیں آئی ہوئی ہیں، تو اُسے بھی معاف کر دیا۔ اورآیندہ بھی معاف کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
ہم بڑے دل والے ٹائپ کے ہیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: