معاشی ترقی اور پاکستانی بجٹ کے چند مثبت پہلو

0

حقیقت تلخ ہے۔ پاکستان کا معاشی حجم زیادہ ہے۔ لیکن بجٹ کم ہے۔ مثال کے طور پر ہم ترکی سے معاشی حجم (جی ڈی پی) میں آدھے ہیں لیکن بجٹ میں ایک چوتھائی ہیں۔ ترکی کا بجٹ 184 ارب ڈالر ہے جبکہ ہمارا صرف پچاس ارب ڈالر ہے۔ اسرائیل جو ہم سے معاشی حجم میں آدھا ہے وہ ہم سے دگنا بجٹ خرچ کرتا ہے۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ وہاں کی عوام زیادہ ٹیکس دیتی ہے۔ ہمیں بھی یہ عادت اپنانا ہوگی تاکہ اجتماعی معاشی ترقی حاصل ہوسکے۔ ایسا ہؤا تو ہمارے ادارے مضبوط اور وطنِ عزیز مستحکم تر ہوجائیگا۔ اللہ تعالیٰ وہ دن ہمیں دیکھنا نصیب کرے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہت سے سیاسی گروہ پاکستانی حکمرانوں کے اخراجات پر تنقید کرتے ہیں۔ ایسا کرنا درست ہوسکتا ہے۔ مگر کون انہیں سمجھائے کہ دوسری جانب عوام سے زیادہ ٹیکس کی وصولی بھی ضروری ہے۔ ہمیں ٹیکس کی وصولی کی شرح کو دگنا کرنا ہوگا۔ اس سے کم پر بات نہیں بن سکتی۔ اس کے بغیر ملک اسرائیل سے بھی پیچھے رہ جائیگا۔ یہ حقیقت کون سمجھائے۔ جب ہر پاکستانی ٹیکس بچانے کی کوشش کریگا تو ملکی ادارے کہاں سے چلیں گے؟ ہمیں اپنے آپ کو بھی دیکھنا چاہئیے کہ ٹیکس میں ہمارا اپنا حصہ کتنا تھا۔

خریداری کے عالمی پیمانے (پرچیزنگ پاور پیریٹی) کے لحاظ سے بطور معیشت پاکستان کا معاشی حجم (جی ڈی پی) ایک کھرب ڈالر کو جاپہنچا ہے۔ یہ دنیا کی 25 ویں بڑی معیشت ہے۔ اس لحاظ سے ہم ایران اور کویت کے قریب ہیں۔ آسٹریلیا کے برابر ہیں۔ جنوبی کوریا اور ترکی ہم سے بس دگنے فاصلے پر رہ گئے ہیں اور فرانس فقط تین گنا پر۔ جبکہ ان تمام ممالک کو کوئی جنگ نہیں لڑنا پڑی۔ ہمیں تو ہر دہائی میں ایک عالمی جنگ برداشت کرنا پڑی ہے۔ علاقے میں انڈیا سے دوسرے نمبر پر ہیں جو کہ 9 کھرب ڈالر پر ہے۔ مزے کی حقیقت یہ ہے کہ ہم اسرائیل سے بھی آگے ہیں۔ لیکن اندھوں کو کون سمجھائے۔ چونکہ ہماری آبادی زیادہ ہے اس لئے ہمارا حال بھی چین کی طرح ہوگا کہ ہماری فی کس آمدن کم ہوگی لیکن معاشی حجم ہمیں کافی بہتر کردیگا۔ چین فی کس آمدن میں یورپی یونین اور امریکہ سے بہت پیچھے لیکن معاشی حجم میں آگے جاچکا ہے۔ ایسے ہی ہم کچھ ہی عرصے میں کینیڈا اور سپین سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔

پاکستان معاشی طور پر دوبارہ ترقی کررہا ہے۔ یہ ترقی بھی اہم ہے۔ اسے انگلش میں اکنامک گروتھ کہیں تو اکنامکس میں یہ ایک اہم اعشاریہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک آگے بڑھ گیا ہے یا پیچھے چلا گیا ہے۔ کچھ لوگ اس پر اعتراضات کرتے ہیں کہ ایسے نہیں ویسے ہونا چاہئیے تھا۔ کچھ مثالیت پرست کہتے ہیں کہ یہ ترقی ترقی نہیں دوستو۔۔۔ جس میں تہذیب و اخلاق کا خون ہو۔ یہ بات درست ہو تب بھی ملک کو ترقی کرنی چاہئیے۔ کیونکہ رکا ہؤا پانی اچھا نہیں ہوتا۔ اس میں سڑاند پیدا ہونے لگ جاتی ہے۔ گو بہت سی تجاویز ہیں اور شکایات و اعتراضات ہیں لیکن کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ترقی نہیں تنزلی ہونی چاہئیے۔ اکنامکس میں بھی معاشی ترقی کا ایسا بے تحاشا لٹریچر موجود ہے جس میں انسانی ترقی کی اہمیت، صحت و تعلیم کے اخراجات کا ذکر ہے۔ پاکستان کے نامور ماہر معیشت ڈاکٹر محبوب الحق مرحوم جیسے بہت سے تحقیق دان یہ کہتے ہیں کہ معاشی ترقی کے ثمرات عوام کی صحت اور انکی تعلیم میں نظر آنے چاہئیں۔ لیکن معاشی ترقی کے خلاف کوئی بھی نہیں ہے۔ کیونکہ معاشی ترقی ایک انجن ہے۔ یہ انجن رک جائے تو تمام کاروبار ہی ٹھپ ہوجاتا ہے۔ یہ ایسے ہے کہ جیسے باپ گھر میں کچھ کما کر لائے تو گھر چلتا ہے وگرنہ تمام گھر ہی بیٹھ جاتا ہے۔ گھر کا نظام صرف اور صرف کمائی کے سہارے ہے۔ اس کے بغیر اسکا نظام نہیں چل سکتا۔ باپ قرض اٹھائے یا قرض چکائے، کم لائے یا تھوڑا، اسے گھر کیلئے کچھ نہ کچھ کرنا ہے۔ وہ نہیں کریگا تو گھر نہیں چلے گا۔ ایسے ہی ملک میں معاشی ترقی نہیں ہوگی تو ملک خسارے میں جائیگا۔ خسارے سے تمام شعبوں کو نقصان ہوگا۔ باقی رہے اعتراضات، تو وہ ہوتے رہتے ہیں اور اعتراضات کا حل بھی سامنے آتا رہتا ہے۔ ایک حکومت جائیگی اور دوسری حکومت آئیگی تو یہ حل نافذ بھی ہونا شروع ہوجائیں گے۔ اس لئے حل کی جانب قدم ضرور بڑھیں گے۔۔۔۔ آہستہ اور بتدریج یا تیز اور انقلابی انداز میں۔ لیکن حل کیلئے بھی ترقی کا ہونا شرط ہے۔ اگر ترقی رک جائے تو حل کا نفاذ بھی مشکل تر ہوجائیگا۔

اس حکومت کی اہم ترین خصوصیت یہ کہ ٹیکس کی شرح 9 فیصد سے بڑھکر 6۔12 بارہ اعشاریہ چھے فیصد ہوگئی ہے۔ یہ عظیم ترین کامیابی ہے اور حقیقی ذمہ داری کا اظہار ہے جس سے پاکستان کے وصولی کے نظام کی محنت اور کوشش کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس پر یقینی طور پر اس ادارے کو اعلیٰ ترین کارکردگی سے نوازا جانا چاہئیے۔ یہی پاکستان کی حقیقی اجتماعی آمدن ہے۔ پاکستان کو اپنے تمام قرضے ادا کرنا ہیں۔ علاوہ ازیں تمام اخراجات بھی مکمل کرنا ہیں۔ اگر ٹیکس کی شرح بڑھتی رہے گی تو پاکستانیوں کا اپنے اداروں پر اعتبار بڑھتا رہے گا۔ اس سے تمام دنیا میں ایک مثبت پیغام جائیگا کہ پاکستان دیوالیہ نہیں ہوگا بلکہ نہ صرف قرضے ادا کریگا اس کے علاوہ اجتماعی طور پر پہلے سے زیادہ کمائے گا۔ اداروں کی ادائیگی کی صلاحیت بڑھ جائیگی اور مستقبل میں زیادہ ٹیکس وصول ہوگا۔ امریکہ اور ترکی میں یہ شرح 26 فیصد جبکہ چین میں یہ شرح 28 فیصد ہے۔ اس سے مراد یہ کہ حکومتیں امیر ہیں۔ ہم بھی اگلے دس سالوں میں اس شرح کو دگنا کرسکتے ہیں۔ اس کیلئے عوام کو ذہنی طور پر تیار کرنا ہوگا۔

 

پاکستان نے امسال 5 فیصد کے قریب ترقی کی۔ یہ ترقی تمام شعبوں میں مساوی نہیں ہے۔ انڈسٹری نے نسبتاً زیادہ ترقی کی ہے۔ لیکن بھارت 7۔5 فیصد پر پہنچ کر ہم سے زیادہ ترقی کرگیا ہے۔ ایسے ہی بنگلہ دیش بھی سات فیصد کے لگ بھگ رہا۔ ویسے تمام دنیا میں جنوبی ایشیاء نے زیادہ ترقی کی ہے۔ باقی تمام علاقے کہیں پیچھے ہیں۔ لیکن ہمیں مزید محنت کرنا ہوگی کیونکہ بھارت کی ترقی سے ہمیں مستقبل میں نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔ سالانہ فی کس آمدن ڈالروں میں بزنس ریکارڈر کے مطابق بڑھکر 1629 ( تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار روپے) کے قریب ہوگئی جو کہ 2012 میں 1334 ڈالر (ایک لاکھ پینتالیس ہزار روپے) تھی۔ یہ ترقی کم ہے۔ سال بہ سال کے حساب سے یہ تقریبا ساڑھے تین فیصد ہے۔ لیکن امسال ساڑھے چھ فیصد رہی۔ اسے کہیں زیادہ ہونا چاہئیے تھا۔ لیکن اگر اسے خریداری کے عالمی پیمانے (پرچیزنگ پاور پیریٹی) کے مطابق ناپا جائے تو یہ لگ بھگ 5000 ڈالر یا ساڑھے پانچ لاکھ سالانہ کے قریب ہے۔ یعنی اگر مجھے دنیا میں کہیں بھی ایک کمرہ حاصل ہے تو اس کا کرایہ پاکستان میں نیویارک کے برابر سمجھا جائے تو میں پاکستان میں بیٹھ کر بھی تین پزار روپے ماہانہ کرائے کی بجائے 30 ہزار روپے ماہانہ کرایہ کے کمرے کے مزے لوٹ رہاہوں۔ اس لحاظ سے ہم بہت سے ممالک سے بہتر ہیں۔ لیکن ہنوز ہمیں ترقی کرنا ہے۔ بھارت ہم سے کچھ آگے جبکہ سری لنکا 12000 ڈالر سے بھی آگے ہے۔ مگر بنگلہ دیش کم ہے۔ اسلامی ممالک میں سے ایران اور ترکی 18000 سے کہیں آگے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان بھی مزید ترقی کرسکتا ہے۔

ملکی سطح پر ترقی کے حوالے سے میکرو اکنامک انڈیکیٹر میں بات کرنا چاہیں تو واضح رہے کہ پاکستان نے قریب سبھی شعبوں میں ترقی کی ہے۔ انڈسٹری نے قریب 5 فیصد سے زیادہ ترقی کی۔ ایسے ہی سروس سیکٹر نے بھی ترقی کی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ترقی کی مقدار کم نہیں رہی۔ زراعت کی ترقی کچھ کم ہوئی کیونکہ کپاس کی فصل خراب ہونے روئی کی پیداوار بہت کم رہی ہے۔ وگرنہ ہم کل چھ فیصد سے زیادہ ترقی کرتے۔ پچھلے تمام عرصے میں ترقی کا اصل سال 2005 تھا جب پاکستان نے 9 فیصد کے حساب سے ترقی کی۔ اس لئے 2005 کو بہترین سال مانا جاتا ہے۔ لیکن اب وطنِ عزیز طویل بحرانوں سے نکل کر واپس بہتری کی جانب آیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کی مہربانی سے ڈبونے والے ناکام ہوگئے اور ہم نے دوبارہ ترقی کی ہے۔  

پاکستان کی معیشت کی دوسری اہم حقیقت یہ کہ مہنگائی میں کمی آئی ہے۔ اس سے قبل پاکستان 10 فیصد سالانہ سے زیادہ مہنگائی کا سامنا کرتا تھا۔ لیکن اب یہ کہیں کم ہوکر ڈھائی فیصد کے قریب ہے۔ اس حقیقت کو عالمی اداروں نے بھی تسلیم کیا ہے۔ اسکی وجہ سے تمام اعشارئیے اپنی حقیقت سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ چونکہ تمام اعشاریوں کو حقیقت میں مہنگائی سے تقسیم کرنے کے بعد دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان نے اس لحاظ سے بھی کئی گنا حقیقی ترقی کی ہے۔ یہ کامیابی شمار کی جاسکتی ہے۔ بھارت میں مہنگائی چھے فیصد سے زیادہ رہی ہے۔ یہ بھی مثبت ہے۔ کم ازکم منفی نہیں ہے۔ مثالیت پسندی کی نظر سے دیکھا جاے تو ہمیں خطے میں سب سے آگے ہونا چاہئیے تھا۔ بہت سے معاملات میں ترقی اپنے اعشاریوں سے کم رہی ہے۔ یہ کم کیوں رہی، تو اس کے وجوہات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مثالیت پرستی اپنی جگہ، ہر ایک نعرے بلند کرسکتا ہے۔ لیکن عملی طور پر جب کسی کے کام کا وقت آتا ہے تو اسے کام کرکے دکھانا ہے۔ یہاں قصہ ہی دوسرا ہے۔ ایک کام کریگا تو دوسرا اس کے سامنے روڑے اٹکائے گا۔ جس سے کام میں دگنی خرابی رونما ہوگی۔

وزارتِ خزانہ نے ایک نیا گر سیکھا ہے۔ اکنامک سروے میں ہی افغانسات میں جنگ اور پاکستان میں دہشت گردی کے نقصانات کا تخمینہ بھی ساتھ ہی میں دیا ہؤا ہے تاکہ گپ شپ کی بجائے حقائق کی رقوماتی حیثیت بھی سامنے آسکے۔ پاکستان کی ترقی کے خواب دیکھنے اور دکھانے والے یہ حقائق سمجھ کر انہیں حقیقی بنیادوں پر حل کریں تو بہتر ورنہ وطنِ عزیز کے گردا گرد اپنے کھیل جمانے والے ہم سے آسمانی توقعات کے خواب دیکھنا بند کریں اور ہمارے نقصانات کا ازالہ بھی کریں۔ دنیا بھر کے عظیم اور عزیز ترین ممالک اور انکے کارندے پاکستان کے حالات پر رحم نہیں کرسکتے تو کم از کم اپنے زبانیں بند رکھیں۔ لیکن ایسا ہونا ناممکن ہے۔ پاکستانیوں کو قربانی کا بکرا سمجھنے والے کبھی اپنی غلطی تسلیم نہیں کریں گے۔ پاکستان کو 2001 سے آج تک ان جنگوں کی وجہ سے 123 ارب ڈالر نقصان ہؤا۔ یہ نقصان تقریبا سی پیک کی کل مالیت کے برابر ہے۔

ایسے ہی چین پاک معاشی راہداری کا ذکر بھی کمال ہے۔ اس سے قبل اس منصوبے کو اسرار کی دبیز تہوں میں دکھایا جارہا تھا۔ اس کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلائے جارہے تھے۔

عالمی مالیاتی فنڈ کے اندازوں کے مطابق پاکستان کا بجٹ خسارہ 3۔3 فیصد رہا۔ جبکہ بھارت کا 6 فیصد سے زائد۔ ایسے ہی بنگلہ دیش کا ساڑھے چار فیصد۔ اس لحاظ سے پاکستان نے بجٹ بہترین انداز سے بنا کر اسے خرچ کیا۔ واضح رہے کہ یہ پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار نہیں ہیں بلکہ عالمی اداروں کے اندازے ہیں۔ ایسے ہی کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ بھی پاکستان میں کل معیاشی حجم کے ڈیڑھ فیصد کے برابر رہا۔ بھارت کا دو فیصد سے زائد کا خسارہ تھا۔ سری لنکا کا تین فیصد سے زائد رہا۔ اگرچہ یہ کوئی معجزہ نہیں ہے لیکن اس لحاظ سے پاکستان بہتر کام کرکے دکھا گیا ہے۔

 پرائیویٹ سیکٹر کو ملنے والے قرضے 312 ارب روپے رہے جو کہ اس سے قبل 2013 میں منفی تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آزادنہ کاروبار میں بڑھوتری ہے۔ اگرچہ حکومت کو چاہئیے کہ مزید اضافے کیلئے سود مکمل طور پر ختم کرکے اسلامی معاشی نظام لائے تاکہ جاری کردہ قرضہ جات حقیقی طور پر اسلامی اور بابرکت ہوجائیں۔

بہرون ملک پاکستانیوں کی بھیجی گئی رقوام بھی 11 ارب ڈالر سے بڑھکر 16 ارب ڈالر پر پہنچ گئی ہیں۔ یہ بھی بڑی برکت کی بات ہے کیونکہ اس سے ہمارا عالمی بوجھ اور ادئیگیوں کا توازن بہتر ہوجائیگا۔ ایک جانب تجارت سے ہونے والا خسارہ ہم اس مد سے پورا کرتے ہیں تو دوسری جانب پاکستانی روپیہ کچھ مستحکم ہوتا ہے وگرنہ روپے کی قدر مزید گرجاتی اور ہماری جان خلاصی عالمی مالیاتی ادارے سے قرض لیکر بھی نہ ہوتی۔۔ پچھلے مالی سال میں روپیہ 104 فی ڈالر پر رکا رہا۔ اگرچہ ہمارے ادارے اسے مزید گرانا چاہتے ہیں لیکن یہ اللہ کی خاص مہربانی ہے۔

ہماری سٹاک مارکیٹ 51 ارب ڈالر سے بڑھکر ایک سال میں 70 ارب ڈالر تک جاپہنچی۔ 19000 انڈیکس سے 36000 پر تھی جبکہ اب 50000 سے بھی بڑھ چکی ہے۔ اس سے مراد یہ کہ پاکستان میں کاروبار کرنے والی کمپنیوں کی مالیت میں سال بہ سال دگنا اضافہ ہورہا ہے۔ اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئیے اور مزید کی توفیق طلب کرنی چاہئیے۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: