اپنا آپ ———- سہیل عمر

2
  • 1
    Share

یہ مضمون تصورانسان سے متعلق ہیں۔ دور جدید میں انسان کے تصور کا بگاڑ تصورکائنات میں فساد اور تصور خدا میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ وقوع پذیر ہواہے۔’’اپنا آپ‘‘ سلیس زبان میں حقیقت انسانیہ کی طرف ایک بلیغ اشارہ ہے۔


اس مضمون میں قاری کو بذاتہ مخاطب کیا جا رہا ہے، اس لیے کہ زیر بحث موضوع کا تعلق صرف فرد سے ہے، فرد اور اس کی ذات کے باہمی رشتے سے، یعنی اس بات سے کہ فرد کا اپنے آپ سے کیا رشتہ ہے، یہ الفاظ بظاہر ذرا مبہم لگتے ہیں لیکن در حقیقت بڑے گہرے معانی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ پھر یہ سوال صرف مجرد، نظری اور دور ازکار نہیں بلکہ شخصی اور بلاواسطہ اہمیت کا حامل ہے۔
اس تبصرے کی ضرورت یوں محسوس ہوئی کہ آج کل ہر ہما شما کو بڑی فیاضی سے یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ چونکہ منافقت اور تصنع قابلِ نفرت ہیں، اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ انسان وہی رہے جو وہ ہے! یہ مشورہ لگتا تو بڑا سیدھا ہے جب تک انسان اس سوچ میں نہ پڑے کہ خود اُس پر اس کا اطلاق کیسے ہوگا۔۔ اور جب ذاتی عمل کا مسئلہ آ جائے تو بات اپنی ذات پر آ کر رکتی ہے۔ کسی دوسرے کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ فی الواقع 222آپ کیا ہیں؟ بالعرض (Accidentally) نہیں بلکہ فی الاصل (Essentially) !۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ’’اپنے آپ‘‘ میں نہ کہ شاعر، ڈاکٹر یا دکاندار کی حیثیت سے! ظاہر ہے کہ جب تک آپ کو یقین نہ ہو کہ آپ اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں۔ آپ کی اپنے آپ میں رہنے یا اپنا آپ بننے کی کوشش مفید نہیں ہو سکتی۔


کیا درحقیقت آپ وہ مخلوق ہیں جو صورت الٰہی پر تخلیق ہوئی، جسے باری تعالیٰ نے کرہ ارض پر اپنا نمائندہ مقرر کرکے اسے یہاں کی سرداری سونپی اور اس منصب کی ادائیگی کے لیے اسے اضافی آزادی انتخابِ  فکر و عمل سے آراستہ کیا۔ ایسی آزادی جو ایک طرف سراسر قادرِ مطلق کی ذات سے وابستہ قدرتِ کاملہ کا پرتو ہے تو دوسری طرف انسان کو خطا کا پتلا بھی بنادیتی ہے؟ کیا آپ اپنی اصل میں یہ ہیں اور صرف بالعرض Accidentallyکچھ اوریا پھر آپ فی الاصل مسلسل اور تقدمی (Progressive) ارتقا کا ترقی یافتہ ترین نمونہ ہیں، جو دنیا کے دورِ اوّلین میں لحمیاتی خلیوں کے کسی گرم کیچڑ میں کم و بیش حادثاتی طور پر مل جانے کی وجہ سے وجود میں آیا۔ یہ کیچڑ خود بھی کہکشائوں کے ارتقا کی ایک نایاب اور کم و بیش اتفاقی پیداوار ہے۔ یہ ارتقا کیسے ہوا؟ اس کے بارے میں طبیعیات کے ماہرین فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کر پائے۔
اگر آپ پہلا، سرّی یا مذہبی متبادل چنتے ہیں تو ضروری نہیں کہ آپ نتیجتاً کائنات میں اپنی مادی صورت حال کا معقول بیان خارج کر دیں۔ یہ بیان وہ بھی ہو سکتا ہے جو دوسرے متبادل میں پیش کیا گیا ہے اور کوئی تیسرا بھی۔ ہاں البتہ اس طرح آپ مکمل طور پہ کسی بھی ایسے بیان کی اولیت اور ممکنہ قطعیت کو مطلقاً خارج از امکان قرار دے دیتے ہیں۔ آپ کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ایسا کوئی بھی بیان زیادہ سے زیادہ منظر کشی کر سکتا ہے۔ وضاحت پیش نہیں کر سکتا، چاہے اس بیان کو انسان اپنی بساط برابر صحیح اور مکمل کیوں نہ بنالے چنانچہ اگر آپ سری (Mystical) متبادل کو قبول کرتے ہیں تو آپ کو اسے مکمل طور پر قبول کرنا پڑے گا اور ہر ایسے نرے پُرے بیان کو قبول کرنے سے انکار کرنا ہوگا جو تشریحی بننے کی کوشش کر رہا ہو۔ خاص طور پہ اپنی ’’اصل‘‘ کے بارے میں تو کسی بیان کی توجیح ماننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اگر آپ دوسرے یعنی طبیعیاتی متبادل کا انتخاب کرتے ہیں (طبیعیاتی کا لفظ یہاں کم وبیش فطری کے مترادف ہے اس لیے اس میں ذہن اور جسم دونوں کو شامل سمجھیے) کو پہلا متبادل خود بخود خارج ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس صورت میں آپ خود کو صرف اپنے جسم، خیالات اور احساسات پر مشتمل سمجھتے ہیں۔ چنانچہ جو کچھ بھی مذہبی یا سری کہلاتا ہے وہ لازما ان میں سے ایک یا سب کی پیداوار قرار پائے گا۔ اس صورت میں ’’اپنا آپ بننے‘‘ کا تو صرف یہ مطلب ہوا کہ آپ اپنی جسمانی خواہشات، خیالات اور احساسات کو کھلی چھٹی دے دیں۔ عملاً یہی کچھ ان مشوروں کا نتیجہ ہے جو ہم آپ اور خصوصاً ہمارے بچوں کو دئیے جا رہے ہیں اور پھر اس طرح جو بے راہ روی پھیلتی ہے اس پہ ہم متحیر اور ناراض ہوتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ اگر آپ ان تین چیزوں کو کھلی چھٹی دے دیتے ہیں تو ہر وہ شخص آپ کو اپنی انگلیوں پہ نچا سکتا ہے جو ان چیزوں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال بلکہ استحصال کرنا جانتا ہو۔ جدید نفسیات کی مدد سے تو یہ استحصال بھی اب ایک سائنس بن چکا ہے۔

اس کے باوجود سوچا جائے تو یہ مشورہ کتنا صحیح ہے۔ اگر ہم واقعی صورت الٰہی پہ بنائے گئے ہیں تو ہمیں صرف اتنا کرنا ہے کہ اپنا آپ بن جائیں۔ تاہم جب آپ یہ مقصد ذہن میںرکھ کر اپنا جائزہ لیتے ہیں یہ جاننے کی کوشش میں کہ آپ کیا ہیں تو آپ خود کو وہی نظر آتے ہیں جو آپ بالعرض ہیں، وہ نہیں جو اصل میں ہیں۔
جب آپ خود کو دیکھتے ہیں یا اپنے خیال میں آپ خود کو دیکھ رہے ہوتے ہیں تو ایک وہ ہے جو دیکھتا ہے اور دوسری وہ چیز ہے جسے وہ دیکھ رہا ہے۔ یہ دونوں ایک نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ یہ ایک ہوتے تودو کیسے رہ سکتے تھے! اور اس طرح ان دونوں کے درمیان دیکھنے یا کسی بھی اور طرح کا رشتہ قائم ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا!
یہی وجہ ہے کہ جب آپ خود پہ نظر ڈالتے ہیں تو اصل ’’آپ‘‘ عرضی ’’آپ‘‘ پر نظر ڈال رہا ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں آپ اس چیز کو دیکھ رہے ہیں جسے آج کل آپ کی شخصیت کہا جاتا ہے اور اگر آپ اپنی شخصیت کی نشوونما کرنے پہ غور کررہے ہیں، اس امید میں کہ نشوونما میں کامیاب ہو کر آپ پہلے سے زیادہ صحیح معنوں میں اپنا آپ بن جائیں گے تو آپ محض ایک فیشن زدہ حرکت کر رہے ہیں، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔۔۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آپ ایک ہیں دو نہیں اور آپ ہمیشہ یہی ایک شخص رہیں گے چاہے آپ کے ساتھ کچھ پیش آ جائے یعنی ہر قسم کی تبدیلیوں کے نتیجے میں جو آپ کے جسم یا ذہن کو متاثر کرتی ہیں، آپ وہی کے وہی رہتے ہیں، کم از کم اس وقت تک جب تک آپ صحیح الدماغ ہیں۔ آپ کا ذہن اورجسم مل کر وہ مجموعہ بناتے ہیں جسے کبھی کبھی نفسی۔ جسدی مرکب (Psycho-physical complex) کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ یہ نفسی جسدی مرکب کبھی دومنٹ کے لیے بھی یکساں نہیں رہتا۔ نہ مادی طور پہ نہ نفسی طور پر لیکن آپ کا تشخص ہمیشہ یکساں رہتا ہے چاہے آپ جو ان ہوں یا بوڑھے، موٹے ہوں یا دُبلے، خوش ہوں یا افسردہ، سوتے ہوںیا جاگتے! اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ کی ہستی میں کوئی تسلسل نہ ہوتا، کوئی انفرادیت نہ ہوتی اور تبدیلی کا کوئی ادراک نہ ہوتا!

ایک ’’آپ‘‘ ہیں جو حوالے کا مستقل نقطہ یا مرکز ہیں، دوسرا وہ بدلتی ہوئی اشیا ہیں جن کا اس مرکز کو شعور ہے اور اوّل الذکر کو مؤخر الذکر کے متماثل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان متغیر اشیا میں ہر وہ چیز شامل ہے جس کا آپ ممیز طور پر ادراک کر سکتے ہیں یا جان سکتے ہیں اور یہ اشیا اس مرکز شعور کے مقابلے میں جو اصل ’’آپ‘‘ ہے، خارجی ماحولی اور ضمنی ہیں۔ آپ کا سارا نفسی۔ جسدی مرکب جس حد تک آپ اس کا ممیز طور پر ادراک اور علم رکھ سکتے ہیں، صراحتاً انھیں خارجی اور بدلتی ہوئی اشیا میں سے ہے۔ یہ آپ کی ملکیت تو ہیں مگر یہ چیزیں خود وہ ’’آپ‘‘ نہیں ہیں جو ان کا مالک ہے۔ یہ وہ شخصیت ہیں جس کی نشوونما شاید آپ کرنا چاہیں لیکن یہ وہ ’’آپ‘‘ نہیں ہیں جو اس کی نشوونما کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ فی الحقیقت کیا ہیں تاکہ ’’اپنا آپ بننے‘ کا مطلب جان سکیں، تو ضروری ہے کہ اپنی توجہ کا رُخ باہر کی بجائے اندر کی طرف کریں یعنی اشیائے محسوس بشمول جسم، ذہن اور احساسات سے ہٹا کر اپنے وجود کے ناقابل امتیاز مرکزی نقطے پر مرتکز کریں۔ اس اندرونی سمت میں مرتکز توجہ کا رُخ بدیہی طور پر خارجی توجہ کے بالکل مخالف سمت میں ہونا چاہیے۔ یہ خارجی توجہ بعینہٖ وہی چیز ہے جسے ہم معائنہ یا مشاہدہ کہتے ہیں۔ ہم سب کو آج کل یہ سکھایا جاتا ہے کہ حق کی تصدیق کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ معائنے میں مزید باریکی اور شدت پیدا کی جائے اس لیے ہم میں سے اکثر کے لیے اندرونی توجہ میں کوئی ایسی چیز کام آتی ہے جو ہم نے شعوری طور پر پہلے نہیں آزمائی نہ ہی آزمانے پر غور کیا۔ یہ صحیح ہے کہ ہم جائزے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔کیونکہ ہمارے حواس کا اس کے علاوہ اور کوئی مصرف نہیں ہے تاہم اب تک جو کچھ کہا گیا ہے اگر وہ بھی سچ ہے تو حقیقت تک پہنچنے کا ہر وہ راستہ جو سوائے جائزے کے اور کسی چیز پہ انحصار نہ کرتا ہو یقینی طور پر ایک اہم ترین حقیقت کو نظر انداز کر جاتا ہے۔ وہ حقیقت جس سے باقی سب حقیقتیں وابستہ ہیں یعنی ہماری اصلیت کی حقیقت! اگر ہم اس معاملے میں گمراہ ہو جائیں کہ ہم خود کیا ہیں؟ اور اس کی وجہ سے باقی معاملوں میں بھی یعنی دنیا کی باقی اشیا کیا ہیں؟ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اورہماری منزل کیا ہے تو پھر کچھ اور جاننا بے فائدہ ہی ہو گا کیونکہ غالب امکان یہی ہے کہ ہم اپنے علم کا غلط استعمال کریں گے اور وہ بھی اغلباً خود کو نقصان پہنچانے کے لیے!
کیا یہی کچھ نہیں جو آج کی دنیا میں ہو رہاہے؟ کیا اوپر کی گفتگو ہماری آج کی صورتحال کی طرف واضح تنبیہی اشارہ نہیں کر رہی۔
بلاشبہ اب تک آپ پہچان چکے ہوں گے کہ حقیقت کا یہ دوسرا راستہ، یہ اندرونی توجہ یا ’’ارتکاز توجہ‘‘ جو معائنے کے راستے کا گویا اُلٹ ہے یا اس کی تکمیل بھی کر سکتا ہے وہی راستہ ہے جو راہِ عرفان کہلاتا رہا ہے اور جس پر ہر زمانے اور ہر قوم کے دانشمند اور مقدس لوگ گامزن رہے ہیں۔ چونکہ اس راہ کی منزل کا ممیز طور پر ادراک نہیں ہو سکتا، اس لیے اس کا مکمل خاکہ نہیں بنایا جا سکتا صرف اور صرف وہی لوگ اس کی تعلیم دے سکتے ہیں جو اس راہ سے گزرے ہیں۔ اگر آپ ان میں سے نہیں ہیں جن کے لیے صرف سائنسی نقطۂ نظر ہی قابل عمل ہے تو پھر یہ الفاظ آپ کو نری لفاظی یا سو فسطائیت نہیں لگیں گے۔ بہتر ہوگا اگر ہم بات کو تھوڑا اور آگے لے چلیں! کیونکہ شاید آپ نے غور کیا ہو کہ جب ہم ’’آپ کے اصل وجود‘‘ کی بات کرتے ہیں تو اس سے یہ خیال آ سکتا ہے کہ یہ وجود آپ کا ہے، بلکہ یہ بھی کہ آپ کے زیر اثر ہے اور کسی حد تک آپ اسے استعمال کر سکتے ہیں گویا یہ آپ کی ملکیت ہو۔ یقینا ایسا نہیں ہے، کیونکہ آپ کچھ بھی کر لیں اس حقیقت کو بدلنا آپ کی بساط سے باہر ہے کہ آپ جو ہیں سو ہیں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا آپ کا اصل وجود وہی کا وہی رہتا ہے جب کہ بے ثبات اور فنا پذیر صورتوں کا دھارا اس کے پاس سے گزر جاتا ہے۔ اس لیے یہ فرض کر لینے کی کوئی وجہ نہیں کہ یہ وجود فانی ہے۔ مزید برآں ایک خدا کو ماننے والے کے لیے یہ فرض کر لینے کا مکمل جواز موجود ہے کہ یہ وجود فانی نہیں ہے۔ لیکن خیال رہے کہ آپ کے اصل وجود میں غلط فہمی سے ان عرضی اجزائے زائدہ کو شامل نہ سمجھاجائے جو اُس کے زمین پر عارضی قیام کے دوران اس سے قریبی طور پر وابستہ ہو جاتے ہیں۔ بلاشبہ مشاہدے میں آنے والا آپ کا نفسی جسدی مرکب خود بھی انھیں اجزائے زائدہ میں شامل ہے یہی وہ مقام ہے جہاں آ کے بہت سے اللہ کو ماننے والے بھی جنت، دوزخ اور برزخ پہ غور کرتے ہوئے اُلجھن میں پڑ جاتے ہیں جو اصل وجود کے بعد الموت مراتب اور حالتیں ہیں۔

ایک بات اور___ اگر آپ کا عَرَض ہونا قابل امتیاز ہے اور اصلیت قابل امتیاز نہیں ہے تو یہی بات دوسرے انسانوں پر بھی صادق آتی ہے۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ آپ اور باقی انسان اصل میں ایک ہیں بالعرض دو ہیں۔
بنی آدم اعضائے یک دیگر اند!
کہ در آفرینش زیک جوہر اند
اگر آپ صورت حال کو اس روشنی میں دیکھیں گے تو ظاہر ہے کہ دوسرے انسان کو ’’اپنا آپ‘‘ سمجھ کے اس سے محبت کریں گے لیکن آپ صورت حال کو اس روشنی میں صرف اس حدتک دیکھ سکتے ہیں جہاں تک آپ اپنا آپ بن چکے ہیں۔ اس تحقیق کا تقاضا ہے کہ آپ کو اپنے ارضی حدوث کی ہمیشہ بدلتے رہنے والی کثرت سے گذر کر دل و دماغ کی تمام تر یکسوئی اور اپنی تمام تر قوت کے ساتھ اس ثابت وحدث کو تلاش کرنا ہوگا جو آپ کی آپ کے ساتھی کی اور باقی تمام مخلوقات کی مرکزی اور اصل حقیقت ہے۔ اس کے صرف ایک ہی جگہ ملنے کی امید ہے اور وہ جگہ ہے آپ کے اندر___
سیّدنا عیسیٰ علی نبیّنا و علیہ السلام کا قول ہے:
Kingdom of Heaven in within, you seek and yee shall find
اب سمجھے آپ کہ ’’اپنا آپ بننا‘‘ کے الفاظ کو دو انتہائی مختلف معنوں میں لیا جا سکتا ہے!

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. نعمان علی خان on

    ابتدائی لائنیں پڑھی ہیں۔ آغاز عمدہ ہے۔ بہت اہم موضوع ہے۔ ذرا فرصت ملے تو مکمل پڑھتا ہوں۔

  2. نعمان علی خان on

    گو بہت سادہ زبان میں لکھا ہے لیکن صاحب قلم نے ایک عام قاری کے سمجھنے کیلئیے اس مضمون میں کوئی گنجائش نہیں رکھی۔ ایک عام فہم کا قاری یہ نہیں سمجھ پائے گا کہ “اپنا آپ” سے صاحب تحریر کی مراد کیا “روح” ہے؟ یا “جوہر” اور یا پھر کسی طرح کا “ھمزاد”۔ چونکہ نفسیات کی جانب بھی اشارے ہیں اس لئیے “تحت الشعور” کی جانب بھی دھیان جاسکتا ہے۔ “انسانوں سے محبت” کا حوالہ بھی موجود ہے تواس سے یوں لگتا ہے کہ “انسانی ضمیر” کو جگانا اصل مقصد ہے لیکن ساتھ ہی، اس اپنے آپ کی تلاش میں دنیا سے کنارہ کشی اور گوشہ نشینی کی جانب بھی رغبت دلائی گئی ہے۔ “خارج” کا ذکر تو ٹھیٹ فلسفیانہ زبان میں کیا گیا ہے لیکن، داخل کا ذکر فلسفے سے زیادہ تصوف کی جانب اشارے کرتا ہے۔ سو یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ گفتگو کسی داخلی شعور یعنی موضوعیت کے حوالے سے ہورہی ہے۔ یہ بھی نہیں لگتا کہ اپنا آپ سے مراد “ذہن” اور اس کی بھول بھلیاں ہیں۔ اگر ایسا معمولی ذکربھی ہوتا تو میں مشورہ دیتا کہ ڈیوڈ ھیوم کو بغور پڑھا جائے۔ اور پھر ڈیکارٹ، کانٹ اور ھیگل کو۔ اوربات اگر “جوھر” کے حوالے سے ہے تو سارتر کی جانب متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔
    میں ذاتی طور پر مصنف کے نیک جزبے اور اندرون ذات پر ارتکاز توجہ کی دعوت سے بہت متاثر ہوا ہوں لیکن میں اقرار کرتا ہوں کہ میں اس ارتکاز توجہ کی صلاحیت سے یکسر محروم ہوں۔ میں دنیا سے کتنی ہی کنارہ کشی اختیار کرکے اپنے کمرے میں خاموشی طاری کرکے، تنہا، اپنے اندرون پر گیان اور ارتکاز توجہ کرنے کی کوشش کروں، لیکن پاکستان کے بدبخت بھوکے ننگے، بے عزتے، بیماریوں اور لاچاریوں سے ایڑیاں رگڑتے اور اپنے آئینی حقوق سے ناواقف، ان کروڑوں جاھل گنواروں کا مسلسل شور ہے جو مجھے اپنے اندرون ذات میں محو ہونے نہیں دیتا۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: