ڈاکٹر رتھ فاو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیمز اسٹریچن

0

منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

دلی کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا۔ یہ بار بار اجڑی اور بار بار آباد ہوئی۔ کبھی رائے پتھورا، تو کبھی تیمور، کبھی لودھی تو کبھی کیقباد نے اس پر لشکر کشی کی۔ نجانے کیا تھا اس نگری میں کہ یہ سلسلہ کہیں ٹھہرتا ہی نہ تھا۔ کبھی مغلوں نے چڑھائی کی تو کبھی مرہٹوں نے قسمت آزمائی کی۔ ایک قیامت ٓاتی اور ایک جاتی تھی۔ کبھی ابدالی کے سر میں سودا سمایا دلی پہ چڑھائی کرنے کا تو کبھی دلی کی شامت اعمال نادر شاہ درانی کی صورت نازل ہوئی۔کبھی تغلق تو کبھی خلجی اور ٓاخر میں تان گوروں پر ٹوٹی۔ پھر بھی یہ شہر اچھا رہا کہ جس کسی نے اسے لوٹا اسے اپنے ڈھب سے آباد کیا۔ کبھی یہ دہلو کہلایا، کبھی اسے کیلوکھری کا نام دیا گیا، کبھی،سیری، کے نام سے پکارا گیا۔ کسی نے اسے، جہان آباد، بنایا تو کسی نے اسے تغلق آباد کا نام دیا۔ اور آخر اسکی بے قراری کو قرار آہی گیا، گوروں نے مغلوں کو چلتا کیا اور دلی پر قابض ہوئے اور آخر کار اسے ہندوستانیوں کے حوالے کرکے خود بھی چلتے بنےاور آج یہ شان سے سر اٹھائے، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دارالحکومت بنی ہوئی ہے۔

میرا شہر لیکن ایسا بدنصیب ہے کہ آزادی کے بعد سے ہی ہرپل، ہر ساعت، ہر آن اسے لوٹا جارہا ہے اور اسکی بربادی میں،،ہم ہوئے، تم ہوئے کہ میر ہوئے، سب ہی دامے درمے قدمے سخنے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ اس شہر کے قدیم باسی کنارے بیٹھے، بے بسی سے اسے لٹتے دیکھتے ہیں۔ عروس البلاد، شہروں کی دلہن، کا دامن عفت، اپنے پرائے سب ہی تار تار کر رہے ہیں۔ روشنیوں کے اس شہر کو، دہشت، خوف اور نفرت کے اندھیروں میں دفن کردیا گیا ہے۔

 حکومتوں کا تو اس شہر سے کبھی کوئی تعلق ہی نہ رہا (سوائے ایک مختصر عرصے کیلئے آخری فوجی حکومت کے)۔ ان کے نزدیک یہ بہت اہم شہر ہے، صرف اسکے زرائع آمدنی کا سارا حصہ بٹورنے کے اس شہر سے انہیں کبھی کوئی غرض ہی نہیں ہے۔ اس شہر کی ضرورتیں اسکے مسائل ان کا مسئلہ ہی نہیں ہیں۔

مصنف

 ملک کے چپے، چپے سے لوگ قسمت آزمائی کیلئے اسی شہر کا رخ کرتے ہیں اور میرا شہر کسی کو مایوس نہیں کرتا۔ لیکن وائے بدنصیبی، اس شہر سے فیض تو سب اٹھاتے ہیں لیکن اسے اپناتا کوئی نہیں۔ اپنی شناخت صرف اپنے آبائی شہروں کے حوالے سے کراتے ہیں وہ یوں کی اس شہر کا شناختی کارڈ بنا کر نوکریوں اور تعلیمی اداروں کے داخلے سے محروم نہیں ہونا چاہتے۔ پھر جب وسائل تقسیم ہوں توانکا حصہ انکے آبائی علاقوں کو ملے۔ اور تو اور وہ جنہوں نے اسے اپنی آخری منزل بنایا، جن کے لئے اس کے بعد صرف بحیرہ عرب ہی ہے وہ بھی کچھ عرصہ تو اس کی تعمیر و ترقی میں لگے رہے پھر وہ بھی اس لوٹ مار میں جٹ گئے۔ میرے شہر کو ہماری ہوس زر، بد زوقی اور بد سلیقگی کھا گئی۔ خوبصورت، قدیم اور تاریخی عمارتیں کھنڈر بنتی گئیں اور ہم دیکھتے رہے۔ ان حسین یادگاروں کو ڈھا کر بھدے، بے ہنگم اور بدنما شاپنگ پلازے اور فلیٹ بنا دئے گئے۔ قدیم تعلیمی اداروں، ہسپتالوں کا حال، بے حال کردیا۔

 میں نے پچھلے مضمون میں میرے شہر کے ان محسنوں کو یاد کیا تھا جن کا تعلق اسی شہر سے تھا۔ اور ان سے بہت پہلے،،غاصب،، گوروں نے اس شہر کو،اپنا، سمجھ کر اسکے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا۔، تعلیمی ادارے، ہسپتال، بازار، مارکیٹیں، باغیچے، انگریز کا دیا، کیا کچھ نہیں تھا میرے منتخب روزگار، عالم میں انتخاب شہر میں، جسے ہم سب نے لوٹ کر ویران کردیا۔۔

 ناجائز تجاوزات نے عمارتوں کی خوبصورتی ہی ڈھانک دی۔ آج شاید ہی کوئی، میری ویدر ٹاور، کے قریب سے گذرتے ہوئے نظر اٹھا کر اس عمارت کو دیکھتا ہوگا جو کبھی بہت خوبصورت ہوا کرتی تھی۔ اگر صفائی ستھرائی کا انتظام ہوتا، عمارتوں اور دیگر تعمیرات کی دیکھ بھال کیجاتی تو بعید نہیں کہ یہ شہر بھی روم اور لندن کے ہم پلہ ہوتا۔

 

یہی حال طب و صحت کے شعبے میں رہا۔ یہاں کبھی لیڈی ڈفرن، سیونتھ ڈے ایڈونٹست اور سوبھراج جیسے خوبصورت اور میعاری ہسپتال ہوا کرتے تھے۔ آج انہیں دیکھ کر کوئی ان ہسپتالوں میں اپنے مریضوں کو کبھی داخل نہ کرے۔

 

خیر یہ تو عادت سی بنا لی ہے میں نے اور یہ رونا کبھی ختم نہ ہونے والا ہے۔ آج ایسی دو ہستیوں کی بات کرتے ہیں جو کہیں دور دیس سے آئی تھیں لیکن میرے شہر کی ایسی جی جان سے خدمت کی کہ یہاں کے اصلی باسیوں اور وہ جنہوں نے اسے اپنا مسکن بنایا، انہوں نے اس کا عشر عشیر بھی نہ کیا ہوگا۔ میرا شہر جن کا ہمیشہ ہمیشہ احسانمند رہے گا۔

 

دست عیسیٰ۔۔۔روح مریم

 میرے رب کا کام وہی جانتا ہے۔ مالک کائنات نے اپنی سب سے محبوب تخلیق یعنی انسان کے لئے زمین اور ااسمان کی ساری نعمتیں مسخر کردیں لیکن ساتھ ہی اسے تکلیفین اور مصیبتین بھی دیدیں۔ شاید یہ ہمیں اازمانے کیلئے کہ تکلیفیں اٹھا کر بھی کون ثابت قدم رہتا ہے اور مالک کی بندگی کے تقاضے پورے کرتا ہے۔

 انہی مصیبتوں اور کٹھناوٗں میں سے ایک بہت ہی مہیب، تکلیف دہ اور خوفناک بیماری، کوڑھ یا جذام کی ہے۔ کوڑھی بد نصیب اپنے جسم کو گلتے، سڑتے دیکھتا تھا۔ جسم کو گوشت تعفن زدہ ہوجاتا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرتا رہتا۔ اپنے بھی اس کے قریب نہیں آتے۔ شہر سے باہر احاطے بنا کر انہیں وہاں سسک سسک اور تڑپ تڑپ کر مرنے کیلئے چھوڑ دیا جاتا۔

 ہر شہر میں کوڑھی احاطے ہوتے۔ انکی روٹی پانی بھی دور سے ہی انکے سامنے پھینک دی جاتی۔ اس بیماری کو لاعلاج سمجھ لیا گیا اور گویا قدرت سے شکست مان لی۔

 لیکن قدرت ہی نے ایہسے انسان بھی پیدا کئے جو اپنی عزیمت اور ریاضت سے تقدیر کو بھی شکست دیتے ہیں۔ درآصل ایسے جواں ہمتوں کو پشت پر بھی اسی مالک کا ہاتھ ہوتا ہے جو علیٰ کل شئی قدیر ہے۔

 جرمنی کے شہر لائزگ کی رہنے والی، طب کے پیشے سے تعلق رکھنے والی رتھ کتھرینا مارتھا فاوٗ( Ruth Katherina Martha Pfao ) نے پاکستان میں جذام کے بارے میں ایک فلم دیکھی۔ وہ ایک مسیحی تبلیغی ادارے سے وابستہ تھیں۔ جرمنی جیسے لاجواب ملک کی شہری، زندگی کی ہر سہولت اور تمام خوشیا ں تیاگ کر انہوں نے پاکستان جاکر اور جذام کے مریضواں کی خدمت کاتہیہ کیا اور میرے شہر کراچی کا رخ کیا۔ میرے شہر کو سسٹر رتھ نے اپنا گھر ایسا بنایا کہ پھر لوٹ کر ہی نہیں گئیں۔ سٹی اسٹیشن کے عقب میں میکلوڈ روڈ پر ایک چھوٹا سا مرکز بنایا اور کوڑھیوں کا علاج شروع کر دیا

 جنہیں ان کے اپنے کوڑھی احاطوں میں،پھینک، آتے تھے، ان کوڑھیوں کو یہ نیکدل سسٹر رتھ فاوٗ اپنے ہاتھ سے دوائی دیتی، مرہم پٹی کرتی اور ان کی دیکھ بھال کرتی۔

 ڈاکٹر فاوٗ کی نیک نیتی اور محنت کا صلہ مالک نے ایسا دیا اور انکے ہاتھ میں ایسا شفا دی کہ نہ صرف کراچی بلکہ پاکستان کے دیگر حصوں سے بھی جذامی انکے پاس علاج کرانے آتے ریے۔

 ایک اور مہربان ڈاکٹر، آئی کے گل ( I.K.Gill ) بھی اس مشن میں انکے ساتھ شامل ہوگئے اور میری ایڈیلیڈ لیپروسی سنٹر کی بناٗ ڈالی۔ اس سنٹر میں نہ صرف علاج معالجہ بلکہ سروے اور تحقیق کا کام بھی ہوتا جس کا دائرہ پورے ملک میں پھیل گیا۔ سسٹر رتھ اور انکے رفقاٗ کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ عالمی ادارہ صحت ( WHO)نے 1996 میں پاکستان کو جذام سے پاک ملک قرار دیا جو کہ ایشیا کے چند اولین ممالک میں سے ایک تھا۔

 

مشرقی جرمنی کے شہر لیزگ پر جب دوسری جنگ عظیم میں روس نے قبضہ کرلیا تو روتھ فاوٗ اپنے خاندان کے ساتھ فرار ہو کر مغربی جرمنی آگئیں اور طب کاپیشہ اپنایا۔ ڈاکٹر فاوٗ اپنی زندگی سے مطمئن نہیں تھیں اور انسانیت کے لئے کچھ کرنا چاہتی تھیں اور جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ یہ جنونی ہی ہوتے ہیں جو بڑے بڑے کام کر جاتے ہین۔ سن ساٹھ میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ بقیہ زندگی پاکستانی عوام کیلئے اور جذام کے خلاف جہاد کیلئے وقف کردینگی۔ بتدریج انہون نے اپنے مشن کا دائرہ کار پھیلایا اور دور دراز علاقون تک میں بھی نرسنگ کے عملے کی تربیت اور تعلیم کا بیڑہ اٹھایا۔ انہوں نے پاکستان کے علاوہ جرمنی سے بھی عطیات جمع کئے اور کراچی اور راولپنڈی میں جذام کے ہسپتال قائم کئے۔

1988 میں انہیں پاکستانی شہریت دی گئی جو کہ پاکستان کیلئے ایک اعزاز ہے نہ کہ سسٹر رتھ کیلئے۔ 1989 میں انہیں ہلال پاکستان کے اعزاز سے نوازا گیا۔ 2000 میں ڈاکٹر رتھ نے نیشنل لیپروسی کنٹرول پروگرام شروع کیا جس مین جذام کے علاوہ ٹی بی کے مریضوں کا بھی علاج ہوتا ہے۔ 14 اگست 2010 کو انہیں پاکستان کا سب سے بڑا،سول اعزار،، نشان قائد اعظم،، عطا کیا گیا۔ پاکستان کے علاوہ دنیا جہان سے انہیں اعزازات سے نوازا گیا مگر دکھی دلوں کی دعا سے بڑھ کر کیا اعزاز ہوسکتا ہے۔

 

پارے کی طرح متحرک سسٹر رتھ تقریبا 86 برس کی ہوچکی ہیں۔ انک لئے دعا کریں تو کیا کریں، شکریہ ادا کریں تو کیسے کریں، میرے جیسے نو آموز کے پاس تو ایسے الفاظ ہی نہیں ہیں۔ میں تو صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ میرا شہر، میرا ملک ہمیشہ ہمیشہ آپکے شکر گزار رہیں گے۔

 ہمارا شکریہ قبول کریں سسٹر

 

پل بنا، چاہ بنا

سسٹر رتھ فاوٗ بہرحال خوش نصیب ہیں کہ انکی خدمات کا انکی زندگی میں اعتراف کیا گیا۔ لیکن ایک گورا غریب ایسا بھی ہے جو ہمارے حاکموں کے ساتھ آیا تھا اور میرے شہر سے اسکی محبت کی نشانیاں، جگہ جگہ بکھری ہوئی ہیں لیکن اس بے چارے کا کوئی نام بھی نہیں جانتا نہ یہ پتا کہ وہ کب پیدا ہوا اور کب دنیا سے رخصت ہوا، کہان سے آیا کدھر گیا وہِ۔

 

این ای ڈی کالج کے سامنے سے گذرتی ہوئی سڑک جو پاکستان چوک سے جا ملتی تھی، یہ پہلے اس کے نام پر تھی لیکن اب شاید یہ بھی اس کے نام پر نہیں ہے۔ کہاں گیا شاعر جو کہتا تھا

۔،،نام مظلوب ہے تو فیض کے اسباب بناِ،،

 میں تو نہیں جانتا، آپ مجھے بتائیں کہ کیا آپ نے،،جیمز اسٹریچن،، کے نام سے کوئی یاد گار دیکھی ہے۔ مجھے تو اسکا ذکر کہیں بھی نہیں ملتا، بہت سر مارا پر اسکی تصویر تک انٹرنیٹ پر نہ مل سکی۔ اور تو اور جس بلدیہ کراچی کا یہ میونسپل انجینئر اور سیکریٹری تھا انکی آرکائیوز پر بھی اس کا کوئی ذکر نہیں۔وہ انجینئر جو میرے شہر کو لندن کی طرز پر ترقی دینا چاہتا تھا۔ آپ دانتوں تلے انگلیاں داب لیں گے اگر میں اسکی خدمات کا حال بتانے بیٹھ جاوٗں۔۔

 ہم نے تو جو اسکے ساتھ کیا تو سو کیا، یہ دیکھیں کہ اس نے میرے شہر کے ساتھ کیا کیا۔

1873 میں اسے میرے شہر کا میونسپل انجینئر اور سکتر،لگایا، گیا یہ جیمز اسٹریچن سخت قابل منتظم، منصوبہ ساز، ڈیزائنر اور انجینئر تھا۔ عہدہ سنبھالتے ہی اس نے بے شمار ترقیاتی منصوبے شروع کئے۔

 

میرا شہر جو اس سے پہلے ماہی گیروں کی ایک بستی اور بنیادی سہولیات سے محروم تھا۔ شہر میں پانی گدھا گاڑیوں اور گدھوں کی پیٹھ پر لدے مشکیزوں کے زریعے فراہم کیا جاتا تھا۔ جیمز نے سیمینٹ اور لوہے کے پائپوں کے زریعے پانی کی فراہمی کا منصوبہ بنایا۔ حکومت نے جو رقم مختص کی وہ بہت کم تھی۔ جیمز نے احتجاج کیا اور مطلوبہ رقم لے کر ہی رہا۔ پانی کی فراہمی کا ایسا نظام بنایا کہ یومیہ فی شہری 45 گیلن پانی ملنے لگا۔

 انہی دنوں میرے شہر میں ہیضے کی وبا پھیلی۔ گندے پانی کی نکاس کا کوئی نظام نہ تھا اور یہ اس مرض کا سب سے بڑا سبب تھا۔ جیمز نے میرے شہر کا پہلا سیوریج سسٹم بنایا، حفظان صحت کے حوالے سے میرے شہر پر یہ جیمز کا ایک بہت بڑا احسان ہے۔

 جیمز نے بجلی اور ٹیلیفون کی لائینین بچھانے کا منصوبہ بھی شروع کیا جو اسکے عہد کے بعد جا کر مکمل ہوا۔ جیمز اسٹریچن نے ٹراموے کا باقاعدہ نظام قائم کیا اور کراچی موٹر ٹراموے کمپنی کا آغاز کیا جسے ستر کی دہائی میں میرے شہر کے کرتا دھرتاوٗں نے ختم کردیا۔

 شہر کی مرکزی، ایمپریس مارکیٹ، بھی جیمز کا کارنامہ ہے جسے ہم سب نے مل کر ایک کوڑے خانے میں تبدیل کردیا۔

 

میری ویدر ٹاور کی خوبصورت اور دیدہ زیب عمارت، ٹاور کا علاقہ جس کے نام سے جانا جاتا ہے، جیمز کی ماہرانہ صلاحیت کا شاہکار ہے جسے ہم نے اس حال پہ پہنچا دیا ہے کہ ہم اسے نظر اٹھا کے بھی نہیں دیکھتے۔۔

 

جیمز اسٹریچن کو گوتھک، اطالوی اور راجھستانی طرز تعمیر میں مہارت حاصل تھی۔ سندھ کا مشہور، گذری اسٹون، اس کا پسندیدہ تھا اور اکثر عمارتوں میں یہی پتھر نظر آئے گا۔

 ڈی جے کالج، جسے اٹالین طرز پر تعمیر کیا گیا، سندھ مدرستہ الاسلام، اسلامی اور راجھستانی پر بنایا گیا، البتہ اسکا ایک مینار گوتھک طرز پر تعمیر کیا گیا۔ یہ سب جیمز کی تعمیری صلاحیت کے مرہون منت ہیں۔

 میری ویدر ٹاور سے متصل ہرمزجی،جمشید جی، رستم جی،بلڈنگ، ڈینسو ہال، ایڈولجی ڈنشاہ ڈسپنسری اور لیڈی ڈفرن ہاسپٹل اور نجانے کتنی خوبصورت عمارتیں، جیمز کی میرے شہر سے محبت کا ثبوت ہیں۔

جیمز نے جس انداز میں شہر کا نقشہ بنایا، جس طرز کی عمارتیں تعمیر کیں اور جو منصوبے جاری کئے،م اگر ان کا تسلسل رہتا اور انکی مناسب دیکھ بھال کیجاتی تو آج میرا شہر روم اور لندن جیسے شہروں کا ہم پلہ ہوتا لیکن ہم نجانے کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں کہ خوبصورتی، سلیقہ اور صفائی ہمیں ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ آپ حسین سے حسین عمارت تعمیر کر کے دیکھ لیں، سال کے اندر اندر ہم اسے پان کی پچکاریوں، مایوس مریضوں کیلئے خوشخبری کے اشتہاروں، قاضی آیا اور، معراج محمد خان کو رہا کرو کے نعروں سے مزین کردینگے۔

 

آنجہانی کاوسجی ساری عمر کڑھتے رہے، اس شہر کے پرانے نوحہ گر،امر جلیل، اکثر اسکا مرثیہ پڑھتے رہتے ہیں۔ ایک کمزور سی عورت یاسمین لاری نے بچے ہوئے سنگ سمیٹ کر دل ریزہ ریزہ کو جوڑنے کی کوشش کی۔ انکی سعی کے نتیجے میں کئی عمارتوں کو قومی ورثہ قرار دیا گیا۔ لیکن میرے شہر کی اکثریت یا تو اس کی بربادی مین اپنا حصہ ڈال رہی ہے یا لب بام بیٹھی محو تماشا ہے۔

 

کیا کسی اور جیمز اسٹریچن کیلئے ہمیں پھر انگریز کا انتظار ہے

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: