میری مفلسی میرا جرم ہے – کوئی اور میری خطا نہیں

1

اسکا وجود خود اسکے لئے ایک بوجھ بن گیا تھا، دبلا پتلا جسم جھریوں سے بھرا چہرہ آنکھوں میں عجیب سی مایوسی اور مزاج میں گھلی ہوئی سنجیدگی یہ ساری چیزیں مل کر اسکا ایک عجیب سا تائثر دیتی تھیں ساری زندگی محنت اور مشقت کرنے والا انسان جب اپنی جوانی کھو کر بھی بڑھاپے کا سکون حاصل نہ کر پائے تو اس کی حالت اس تھکے ہوئے مایوس مسافر کے جیسی ہوجاتی ہے جو منزل کی تلاش میں خود کو کسی پیچیدہ سی بھولبھلیوں میں لا کھڑا کرتا ہے اور پھر قریہ قریہ گھومتا رہتاہے یہاں تک کے زندگی تمام ہوجاتی ہے مگروہ اپنی منزل تک کبھی نہیں پہنچ پاتااور اسکی تلاش کا سفر اسے گور کے اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔ آج اسے اپنی خستہ حالی اور بد قسمتی پر بہت پچھتاوا ہو رہا تھا مگر ان سب میں بھی اسکا کوئی قصور نہ تھا جس ملک سے انصاف اٹھ جائے اور جہاں کے حکمران اپنے عیش و آرام کی خاطر عوام کے خون پسینے کی بولیاں لگانے میں مصروف ہوجائیں وہاں اس کے جیسے غریب، لاغر اور مزدور لوگ ایسی ہی بد حال زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

رات کے اس پہر جب اسکے خاندان کا ہر فرد خالی پیٹ ایک اور رات نیند کی نذر کر رہا تھا وہ کھلے آسمان تلے چارپائی پر پڑا تاروں کو گھور رہا تھا آنکھوں میں مایوسی اور طبیعت میں اضطراب اسے مذید پریشان کر رہے تھے اپنے چھوٹے سے خاندان کا وہ واحد کفیل تھا جس کی کمائی پر اسکی دو جوان بیٹیاں ، اسکی بیوی اور ایک بیوہ بہن انحصار کرتے تھے۔ جن کی زمہ داری اس کے کمزور کاندھوں پر تھی وقت کی ستم ظریفیوں نے اسے وقت سے بہت پہلے ہی بوڑھا کر دیا تھا بچپن سے جوانی تک اپنے بوڑھے ماں باپ اور بہن بھائیوں کا پیٹ پالتا رہا دن رات مزدوری کرتا رہا پھر اپنے خاندان کی زمہ داری اسکے کاندھوں پر آگئی وقت نے ایک لمحے کے لئے بھی اسکو چین کی سانس نہ لینے دیا اور زندگی اپنی رفتار سے بڑھتی چلی گئی آج اپنی بیماری کو بالائے طاق ڈال کرہمت جُٹا کر بازار کا رخ کیا شدید علالت کی بناء پر  دو دن سے اپنی ریڑھی کو ہاتھ تک نہ لگاسکا تھا مگر آج پیٹ کی خاطر مجبور ہو کر گھر سے نکلا بازار ہمیشہ کی طرح گرم تھا لوگوں کا  جمِ غفیر چار سو تھا اس نے بازار کی چہل پہل کو نظر انداز کرتے ہوئے سیدھا اپنے سیٹھ کی دکان کا رخ کیا،،،

“سیٹھ اگر ادھار پر کچھ پھل مل جائیں تو آج میرے گھر والے بھوکے پیٹ نہ سوئیں گے اور میں جلد ہی آپکا ادھار بھی واپس کر سکوں گا” خوداری اور مجبوری جب انسانی شکل اختیار کرتے ہوں گے تو غفور بابا کا چہرہ ابھرتا ہوگا

“سنو غفور بابا اب پھل فروشی کا دھندا ختم کرو اس دھندے میں اب تمھارا گزارا مشکل ہی ہو ” سیٹھ اس کی حالت دیکھ کر ہنس پڑا اور حقارت سے دیکھتے ہوئے اسے کہا؛ “تم سے اب  کوئی پھل نہ خریدے گا تم کوئی اور کام دھندا دیکھ لواب،، آج یہ قوم پھل کا بائیکاٹ کر رہی ہے کل کلاں سبزی سے لئے چیخے گی” ۔۔

” مگر سیٹھ صاحب اس عمر میں، مفلسی کے عالم میں یہ کمزور اور بیمار جسم کون سی مشقت کا انتخاب کرے پھر” مایوسیوں کے کالے سائے اسکے چہرے کو مذید مرجھاتے ہوئے گزر گئے فکر تھی جو اسے اندر سے جکڑے جاتی تھی اسکا جسم تو لاغر تھا ہی آج روح بھی چھلنی ہو گئی تھی ایک اور بوجھ وہ اپنے سینے پر محسوس کر رہا تھا۔

“سیٹھ کوئی گنجائش نکالو، میں کیا کرسکتا ہوں” وہ بہت مجبور ہوگیا تھا

“غفور بابا اب  پیٹ تو بھرنا ہے نا، کیا کریں سب کے ساتھ یہ مجبوری جڑی ہوئی ہے میرا مشورہ مان لو! اس ملک کے عوام نے اپنے بارے میں سوچنا شروع کردیا ہے اب ان کو تمھارا کوئی خیال نہیں، یہ لوگ کہتے ہیں وہ ہمارے خلاف پھل نہ خرید کر بائیکاٹ کریں گے مگر ان کے اس عمل سے وہ خود نہیں جانتے کہ نقصان تم جیسے مزدوروں کو ہی اٹھانا پڑے گا جو روزانہ اپنی ریڑھی لگا کر گھر کا چولہا جلاتے ہیں، رہی ہماری بات تو ہمارا کیا ہوگا ہم جو پھل تم کو بیچ رہے تھے سستے دام لگا کر یہ عوام اس میں بھی خوش نہیں، ناشکرے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بائیکاٹ کر رہے ہیں ، بڑے ہی معصوم ہیں قسمیں! یہ نہیں جانتے یہاں کا پھل کتنا پسند کیا جاتا ہے پردیس میں اب ہم سارا پھل  دوگنے داموں برآمد کر دیں گے ہمارا کیا نقصان ہوا، اب اتنا پھل سڑایئں گے تھوڑئی نا ۔۔۔” ایک زوردار قہقہہ ہوا میں بلند ہوا اور وہ اپنی کمزور ٹانگوں پر لڑکھڑاتے ہوئے خود کو سنبھال پایا اور اپنی الجھی ہوئی سوچوں کے ساتھ دبے پاؤں وہاں سے نکل گیا،

 مگر آج کچھ پیسے تو گھر لے کر جانے ہی تھے، اب  وہ مرتا  کیا نہ کرتا اس نے اپنی ریڑھی اونے پونے داموں بیچ کر کچھ ضروری اشیاء خریدیں اور گھر کا رخ کیا، گھر نے اسے بخوشی خوش آمدید کہا گھر بھی دیکھ چکا تھا آج مالک خالی ہاتھ نہیں لوٹا ہے، ایک عجیب سے احساس نے اسکو مذید مایوس کردیا بیوی کو سامان دیکر وہ واپس گھر سے باہر نکل گیا گھر کے باہر پیپل کے پیڑ کے نیچے ٹوٹی ہوئی بینچ پر بیٹھ کر اپنے آنے والے دنوں کی فکر میں پریشان ہوگیا۔۔ اب اسکے پاس وہ ریڑھی بھی نہیں تھی جو برسوں سے اسکے خاندان کا پیٹ بھرنے کے کام آرہی تھی، اب وہ کیا کرے گا؟  یہ سوچ اسے پاگل کر رہی تھی ۔۔ اس ملک میں غریب کی کون کب سنتا ہے؟ اگر وہ اپنی فریاد سنائے گا تو کس کو سنائے گا؟ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ان سے زیادہ پیسے لے رہا ہے مگر کیسے؟ وہ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ جس سیٹھ کے خلاف وہ بائیکاٹ مہم چلا رہے ہیں اسکی تو کھال پر اب بھی کوئی فرق نہ پڑے گا وہ ہمیشہ سے پیٹ بھر کھاتا آیا ہے اور آگے بھی کھاتا رہے گا فاقہ کشی کا شکار تو میں اور میرا خاندان ہوگا۔۔۔ کیا یہ قوم میری مجبوری کو کبھی سمجھے گی۔۔؟ یا میں ایسے ہی۔۔۔ اس سے پہلے کے اسکا دماغ مذید کوئی سوال پوچھتا دماغ میں ایک شدید ٹیس اٹھی اور کچھ ہی لمحوں میں گاڑھا سرخ پانی ناک کے غاروں سے بہتا ہوا زمین کا رخ کر گیا،، غفور بابا کا وجود اب بالکل ساکت بے حس و حرکت کھلے آسمان تلے اپنی چارپائی پر پڑا تھا اسکے خاندان اور محلے کے چند افراد چارپائی کے ارد گرد بیٹھے افسوس منا رہے تھے اور اندر ایک کمرے سے کچھ عورتوں کی رونے کی آوازیں ماحول کو مذید سوگواریت بخش رہیں تھیں۔۔اور کھلا آسمان آج آخری بار اسکے وجود کو چارپائی پر اپنے جانب سوالیہ نشان بنا دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. A well written Afasana, as always but this time the words didn’t matter. It was the way you described and delineate the circumstances of old men doing small odd jobs to feed their families. An eye opener for all of us. We are also responsible for this not just the government. Everybody is collecting wealth and trying to snatch as much as wealth as he can completely ignoring the poor in our society. I wonder how are we gonna face Allah with these acts.
    “Injustice anywhere is a threat to justice everywhere.”
    – Martin Luther King
    Instead of going against the big fishes and snakes, we are always trying to find ways of hurting the poor.
    I was really impressed with the way you highlighted the issue. People need to understand how poor live their lives. Please, I request you to write more. To highlight more issues like this. We need people like you who can make a difference with their words
    جو منظر کشی کی گئی ہے اس افسانے میں وہ واقعی قابلِ تحسین ہے. پڑھتے ہوئے انسان اس غریب بندے کے جذبات اور احساسات سمجھ تو نہیں سکتا مگر ایک خاکہ ضرور زہن میں اترتا ہے اور بندہ شکر کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اس افسانے کا مقصد صرف شکر ادا کرنا نہیں بلکہ لوگوں کو احساس دلانا ہے کہ اپنے اردگرد مفلسین اور غرباء کا بھی خیال رکھیں۔ شکریہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: