(9) تحریکِ خلافت و ترکِ موالات اور مولانا آزاد

0
  • 1
    Share

 کسی بھی معاشرے میں شخصیات کے مطالعے کیلیے انکا تجزیہ انسانی لیول پر کیا جانا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ انکی شخصیت پرستی کے بجاے انکے اعلی اوصاف حقیقی تناظر میں سامنے لاے جاسکیں۔ دانش کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت پر ایک جامع تحقیق و تنقید کا آغاز یہاں سے ہو رہا ہے۔ یہ اس سلسلے کا ساتواں مضمون ہے، ہر دو دن بعد ہم اس سلسلہ کی اگلی قسط شائع کرتے رہیں گے۔  زیر نظر مضمون شایع کرنے کا مقصد محض ایک علمی بحث کا آغاز ہے اور اگر کوئی صاحب اسکے جواب میں کچھ لکھنا چاہیں تو دانش کا پلیٹ فارم موجود ہے۔


دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب اتحادی فوجوں کو کامیابی ملی اور دوسرے ممالک کی طرح ترکی بھی شکست خوردہ ممالک میں شامل تھاتو اتحادیوں نے اس بات کا بدلہ اس طرح لیا کہ ترکوں کو ذلت آمیز شرائط قبول کرنے پر مجبور کر دیا گیا اور سلطنتِ عثمانیہ کے حصےبخرےکر دیئے گئے۔ ان حالات میں برصغیرکے مسلمان جن کا خلافت کے ساتھ ایک روحانی تعلق تھا وہ بے چین ہوئے اور ہندوستان میں سلطنتِ عثمانیہ کے حق میں اور خلافت کی بحالی کے لیے تحریک کا آغاز کر دیا۔ خلافت سے مسلمانوں کی وابستگی ہمیشہ سے چلی آرہی ہے۔ اس موقع پر بھی برصغیر کے مسلمانوں نے تحریکِ خلافت کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ جس کے روح رواں برِصغیر کے بہت سے علماء تھے۔ خلافت تحریک اور پھر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تحریک ترکِ موالات اور تحریکِ ہجرت پر دسویں کتابیں موجود ہیں جو اصحاب یہ تفصیل پڑھنا چاہیں وہ ان کتابوں سے رجوع کر سکتے ہیں۔ یہاں ہم صرف مولانا آزاد کے ان بیانات کا تجزیہ پیش کرنا چاہتے ہیں جو انھوں نے اس تحریک کے حوالے سے اپنی کتاب “آزادی ہند” میں پیش کیے۔ اگرچہ مولانا خود اس تحریک کے ہراول دستہ میں شامل رہے تھے اور نہ صرف تحریر و تقریر کے ذریعے مسلمانوں کو اس تحریک کی حمایت پر آمادہ کیا بلکہ اس جرم کی پاداش میں وہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے۔

مولانا کے فطری اور ذہنی انقلاب نے نہ صرف اُن کے اُصولوں اور عقیدوں کو متاثر کیا اور نہ صرف اُن کے اقدار و معیار بدلے بلکہ تاریخی اعتبار سے بھی حقائق و واقعات کی تفہیم بھی مختلف ہو گئی۔ ابتدائی دور میں انہوں نے بعض واقعات اور حوادث کو تاریخی حیثیت سے ایک خاص رنگ میں پیش کیا اور آخری دور میں اِن کی توجیحات اور توضیحات یکسر بدل گئیں۔ مثال کے طور پر ترکِ موالات کی تحریک کی توجیہہ اور اُس کے ارتقاء کے متعلق جو بیانات و خطبات اُس تحریک کے دوران دیے اور جو تقاریر اس زمانے میں کیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت اُس تحریک کی قیادت اور اُس تحریک کے ہیرو مسلمان لیڈرتھے جن کی قیادت علی برادران، حکیم اجمل خان، مولانا عبد الباری اور خود مولانا آزاد کے ہاتھ میں تھی۔ من حیث القوم ہندو 1921 ء تک اس تحریک سے بلکل علٰیحدہ رہے۔

البتہ گاندھی جی شروع ہی سے اس کے ساتھ اور مسلم لیڈروں کے ہم نواو ہم خیال تھے۔ مولانا کی اپنی تقریروں اور تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ ترکِ موالات کا پروگرام خالص اسلامی اور مسلمانوں کا سوچا ہوا اور اُنہی کا جاری کردہ تھا۔ یہاں ہم مولانا کی چند تقریروں کے حوالے پیش کرتے ہیں جس میں وہ یہی باتیں فرما چکے ہیں۔ نومبر1921ء میں اپنے ایک خطبے میں اس مسئلے پر اس طرح اظہار خیال فرماتے ہیں۔

“خلافت کمیٹی نے باوجود نہایت مایوس کن اور مہیب مخالفتوں کے اپنی جدوجہد جاری رکھی اور بالآخر ملک کی سب سے بڑی نائب اور سیاسی جماعت انڈین نیشنل کانگریس کے لیے بھی ترکِ موالات کا نصب العین نظامِ عمل بن گیا اور جوبات ابتداء میں صرف خلاف کمیٹی کی ایک بدعت سمجھی جاتی تھی وہ اب تمام ہندوستان کے لیے ذریعہِؑ نجات تسلیم کر لی گئی ہے۔ ابتداء میں صرف مہاتما گاندھی خلافت کمیٹیوں کی تجویز ترکِ موالات میں شریک و معاون تھے لیکن اب تمام برادران ہنود ہمارے ہم عصر اور ہم نوا ہیں۔ انڈین نیشنل کانگریس کی تمام تحریک خلافت کے لیے ہے۔ اور خلافت تحریک ہی سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے جو نتائج اس وقت کے دامنِ تہی میں نظر آرہے ہیں وہ فی الحقیقت دعوتِ خلافت کے ہی برگ و بار ہیں۔ اگر خلافت کمیٹی کی جدوجہد ظہور میں نہ آتی تو کیا ہندوستان کی جدوجہد کی تاریخ میں یہ عظیم الشان فتح مندی نظر آسکتی تھی کہ گنے ہوئے 90دنوں کے اندر ایک کروڑ پانچ لاکھ روپیہ جمع ہو چکا ہے اور لاکھوں چرخےبیک وقت متحرک ہیں۔”

پھر آگرہ کی صوبائی خلافت کانفرنس کی صدارت فرماتے ہوئے 25اکتوبر1921 ء کو ترکِ موالات سے متعلق اس طرح بیان فرماتے ہیں۔

“اگرمیرا حافظہ غلطی نہیں کرتا تو آپ ہی کا صوبہ ہے جس کی کانفرنس میں سب سے پہلے اس عملِ عظیم کا اعلان کیا گیا جس کو آپ ترکِ موالات کے نام سے سُن چکے ہیں۔ سب سے پہلے ترکِ موالات کا خلافت کمیٹی کی طرف سے بطور ایک عملِ دفاع کے اور بطورِ ایک عملِ احتجاج کے اعلان کیا تھا۔ لیکن جہاں تک اس مسئلہ کا تعلق ایک ملکی مسئلے سے ہے وہاں تک کہا جا سکتا ہے کہ اس مسئلے کے محرک چند رفقاء تھے میں نام لوں گا مہاتما گاندھی جی کا وہ اس تحریک کے اولین اور سب سے بڑے قابلِ عزت رفیق تھے کہ جنھوں نے اس تحریک کا ساتھ دیا۔ خلافت کمیٹی نے احکامِ شرع کے ماتحت اس امر کا فیصلہ کیا کہ ترکِ موالات مسلمانوں کے فرائض میں سے ہے۔ ترکِ موالات کے ضمن میں قران مجید کے احکامات کیا ہیں۔؟ موالات، ولایت سے ہیں، ولایت کے معنی ہیں محبت اور اعانت و نصرت تو ترکِ موالات کے معنی ہوئے مددگاری کے ہر طرح کے تعلقات منقطع کرلینا جب تک وہ جماعت اپنے ظلم سے باز نہ آجائے۔ ایسے غیر مسلم لوگوں کے متعلق بلاشبہ قرآن مجید کی یہ تعلیم ہے کہ ان کے ساتھ تعلقات منقطع کر لینے چاہئیں اور قرآن کریم کا یہ قانون کامل انصاف اور عدالت پر ہے جس کو خود خدا کی فطرت نے قائم کیا ہے۔ سب سے پہلے ترکِ موالات کا اعلان کلکتہ کے اُس جلسہِؑ خلافت میں ہوا جو فروری 1920کو ٹاؤن ہال میں ہوا تھا اور میں اُس کا صدر تھا۔ سب سے پہلے اس کی تحریک وہاں کے خطبہِؑ صدارت میں کی گئی۔”

پھر تھوڑا سا آگے چل کر فرماتے ہیں۔

“کوئی یہ خیال نہ کرے کہ یہ پہلی اپیل ہے بلکہ فی الحقیقت یہ وہ چیز ہے جو تیرہ سو برس سے مسلمانوں میں موجود ہے۔ اس وقت اس مسئلے کے عمل میں اگرچہ خلافت کمیٹی کے تمام اراکین شامل تھے۔ لیکن یہ واقعہ آپ کو یاد ہو گا کہ ہندوستان کی جو سب سے بڑی جماعت تھی یعنی انڈین نیشنل کانگریس نے اس میں شرکت نہیں کی تھی اور یہ آخری میدان تھا جس کو وہ فتح کرنا چاہتی تھی۔ آگرہ کے اجلاس میں تیسری منزل بھی سامنے آئی اور تحریکِ خلافت نے نہایت کامیابی سے اس کو فتح کر لیا۔”

ان تحریروں سے جو کہ خلافت تحریک کے دور میں ہی لکھی گئیں یہ بات واضح ہے کہ ترکِ موالات خالص مسلمانوں کی اور عین اسلامی تعلیمات پر مبنی تحریک تھی جس کے بانی مسلم رہنماء تھے اور ہندو لیڈروں میں صرف گاندھی تھے جنھوں نے اس کا ساتھ دیا۔ مگر 38سال بعد جب مولانا آزاد نے “آزادی ہند” لکھی تو اس میں اپنی مذکورہ بالا تقریروں اور تحریروں کے بالکل برعکس گاندھی کو اس تحریک کا لیڈر بنا ڈالا۔ مولانا “آزادی ہند” میں لکھتے ہیں۔

“اب سوال یہ تھا کہ اگلا قدم کیا ہوایک میٹنگ ہوئی جس میں مسٹر محمد علی، مسٹر شوکت علی، حکیم اجمل خان اور مولوی عبد الباری فرنگی محلی بھی شریک تھے۔ گاندھی جی نے اپنا پروگرام ترکِ موالات سے متعلق پیش کیا، انہوں نے کہا کہ اب وفود اورعرضداشتوں کے دن رخصت ہو چکے ہیں ہمیں حکومت سے اپنا تعاون واپس لے لینا چاہیے۔ یہ وہ واحد طریقہ ہے جو حکومت کو ہم سے معاملہ کرنے پر مجبور کر سکے گا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ تمام سرکاری خطابات لوٹا دیئے جائیں، قانونی عدالتوں اور تعلیمی اداروں کا بائیکاٹ کیا جائے، ہندوستانی ملازمتوں سے مستعفی ہونے اور نئی قانون ساز مجلسوں میں حصہ لینے سے انکار کر دیا جائے۔ جیسے ہی گاندھی جی نے اپنی تجاویز بیان کیں مجھے یاد آیا یہی پروگرام تھا جس کو ٹالسٹائی نے بہت پہلے مرتب کیا تھا۔ 1901 ء میں ایک انارکسٹ نے اٹلی کے بادشاہ پر حملہ کیا تھا۔ ٹالسٹائی نے اس وقت انارکسٹوں کے نام ایک کھلا خط بھیجا تھا کہ تشدد کا طریقہ اخلاقی طور پر غلط اور سیاسی طور پر تقریباً بے سود ہے۔

“اگر ایک شخص کو قتل کر دیا گیا تو کوئی دوسرا اس کی جگہ لے لے گا۔ دراصل تشدد خود تشدد کو جنم دیتا ہے۔ ایک یونانی حکایت کے مطابق قتل ہونے والے ہر سپاہی کے خون سے 999 نئے سپاہی پیدا ہوتے ہیں۔ سیاسی قتل میں ملوث ہونا عفریت کے دانتوں کی فصل اُگانا ہے۔ ٹالسٹائی نے مشورہ دیا کہ کسی جابر حکومت کو بے بس کرنے کا مناسب طریقہ یہ ہے کہ ٹیکس کی ادائیگی سے انکار کر دیا جائے۔ تمام ملازمتوں سے استعفے دے دیئے جائیں اور ایسے ادارے جو حکومت کی حمایت کرتے ہیں اُن کا بائیکاٹ کیا جائے۔ اُس کا خیال تھا کہ اس قسم کا پروگرام کسی بھی حکومت کو مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر دے گا۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے خود الھلال کے بعض مضامین میں اسی سے ملتے جلتے پروگرام کی تجویز رکھی تھی۔

“دوسرے اصحاب نے اپنے اپنے ذہنی پس منظر کے مطابق اس کا جواب دیا۔ حکیم اجمل خان نے غور کے لیے کچھ وقت مانگااور کہا کہ جب تک وہ خود اس پروگرام کو قبول نہ کر لیں دوسروں کو مشورہ نہ دیں گے۔ مولوی عبد الباری نے مراقبہ کرنے اور غیبی ہدایت آنے کا کہا۔ محمد علی اور شوکت علی نے کہا کہ وہ مولوی عبد الباری کے فیصلےکے آنے تک انتظار کریں گے۔ اُس کے بعد گاندھی جی نے میری طرف رخ کیا۔ میں نے ایک لمحہ کی جھجک کے بغیر کہا مجھے یہ پروگرام منظور ہے۔ اگر لوگ سچ مچ ترکی کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو گاندھی کے اس پروگرام کا کوئی بدل نہیں۔ چند ہفتوں بعد میرٹھ میں ایک کانفرنس تھی وہاں سے گاندھی جی نے پہلی بار عدم تعاون کے پروگرام کی تلقین کی۔ وہ بول چکے تو میں نے تقریر کی اور اُن کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا۔ اُس کے بعد کلکتہ میں کانگریس کا اجلاس ہوا جو مہاتما گاندھی کے پروگرام پر غور کے لیے منعقد ہوا۔ گاندھی نے کہا اگر سوراج حاصل کرنا ہے اور مسئلہ خلافت کا حل تلاش کرنا ہے تو ترکِ موالات کے پروگرام پر عمل لازمی ہے۔ لالہ راج پت رائے اس اجلاس کے صدر اور سر سی آر داس اس کے منتظم تھے۔ اُن میں سے کسی نے بھی گاندھی سے اتفاق نہ کیا۔ بین چندر پال نے بڑی زور دار تقریر کی اور کہا حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے بہترین ہتھیار برطانوی سامان کا بائیکاٹ ہے۔ مہاتما گاندھی کے پروگرام کے دوسرے حصوں سے اُسے اتفاق نہ تھا۔ اُن کی مخالفت کے باوجود تجویز ترکِ موالات بھاری اکثریت سے منظور ہوئی۔”

 بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

وہ تحریک جو خالص مسلمانوں کی تحریک تھی اور مولانا کی اپنی تقریریں و تحریریں اس بات کی گواہ ہیں کہ یہ تحریک مسلمانوں نے قرآنی احکامات کے تحت شروع کی تھی۔ مگر اب اس ساری تحریک کا کریڈ ٹ گاندھی کے نام منتقل کر دیا گیا۔ کہاں تو تحریک کے زمانے میں خود مولانا آزاد نے اس تحریک کو مسلمانوں کی تیرہ سو سال کی دینی بنیاد بتلایا تھا اور اسے قرآن مجید کی آیتوں سے مسلمانوں پر لازم قرار دیا تھا اور کہاں یہ گاندھی کی تجویز اور ثالسٹائی کا فلسفہ کہی جا رہی ہے۔ دراصل تحریکِ خلافت کے زمانے میں مولانا آزاد قرآنی تعلیمات کے تحت مسلم قومیت کے حامی اور پرچارک تھے۔ اس سے پہلے بھی الھلال اور البلاغ کی تحریریں ان کے مسلم قومیت کے فلسفے پر شاہد و عادل ہیں۔ ترکِ موالات کے حوالے سے بھی وہ انہی خیالات کے تحت تقریر یں کر رہے تھے۔ مگر ترکِ موالات تحریک کے خاتمے کے بعد جب انھوں نے گاندھی جی کے ہاتھ پر بیعت کی اور ان کے فلسفے متحدہ قومیت کی طرف ان کی کایا پلٹ ہوئی تو پھرہرا سرخ اور سرخ ہرا بن گیا اور جب اپنے آخری دور میں تاریخ کے سابقہ واقعات لکھنے بیٹھے تو یہ ضروری سمجھا کہ ان واقعات کی توجیہہ بھی متحدہ قومیت کے فلسفے کے تحت بیان کی جائے۔ “ہسٹری آف دی کانگریس” کے مصنف نے بھی حقائق کو بدلنے کی اتنی جرات نہیں کی جیسا مولانا ابو الکلام آزاد نے تحریکِ موالات کی تمام تحریک کا ہیرو گاندھی جی کو بنا ڈالا۔

اگرچہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تحریکِ خلافت و ترکِ موالات خالصتاً مسلمانوں کی بنائی ہوئیں تحریکیں تھیں اور پھر اس زمانے کی مولانا آزاد اپنی تقریریں بھی یہی ثابت کرتی ہے۔ میں یہاں ضروری سمجھتا ہوں کہ تحریکِ خلافت و ترکِ موالات کے آغاز، ارتقاء، عروج اور پھر زوال کی تاریخ اجمالاً بیان کر دوں تا کہ ہماری نوجوان نسل یہ جان سکے کہ 1920-1919ء کےہندوستان میں مسلمان اپنے حقوق، استحکامِ خلافت اور آزادی کے لیے کیا کر رہے تھے اور مولانا آزاد کے متحدہ قومیت کے ہندو بھائی کہاں کھڑے تھے۔

پہلی جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد جب اتحادیوں نے ذلت آمیز شرائط پر ترکوں کو مجبور کر کے ترکی کو تقسیم کر لیا تھا اور ابتدائے جنگ میں جو وعدے خلیفہ اور مسلمانانِ ہند سے کیے تھے ان سب کو پسِ پشت ڈال دیا تھا۔ تو اس وقت مولانا محمد علی جوہر کی قیادت میں خلافت کمیٹی بنائی گئی جس میں زیادہ تر افراد وہی تھے جو اس وقت مسلم لیگ کے ممبر تھے مثلاً علی برادران، حکیم اجمل خان، مولانا عبد الباری فرنگی محلی اور مولانا حسرت موہانی وغیرہ۔ خلافت کمیٹی کا وفد وائسرائےسے ملا اور مسلمانانِ ہند کا موقف پیش کیا۔ مگر وائسرائے کا جواب مایوس کن تھا۔

اس کے بعد مولانا محمد علی جوہر کی ہی سربراہی میں دوسرا وفد امرتسر لیگ کے ریزرلیوشن کی تکمیل میں یورپ بھیجا گیا۔ وہاں مولانا محمد علی نے وزراء اور ذمہ دار اصحاب بالخصوص پاپائے روم سے مل کر اور پبلک تقاریر کر کے مسلمانانِ ہند کا نقطہء نظر مسئلہ خلافت کے متعلق پیش کیا۔ لیکن حسبِ توقع کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔ آٓخر وفد ہندوستان آگیا اور اس کا زبردست استقبال ہوا۔ مسلمانوں میں برطانیہ کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوگیا۔ 19مارچ 1920ء کو تمام ہندوستان میں جلسے کیے گئے اور ہڑتالیں کی گئیں۔ مولانا شوکت علی نے یہ تجویز پہلے سے دے رکھی تھی کہ “اگر صلح کے شرائط ہمارے مذہب کے خلاف ہوئے تو مسلمانانِ ہند تختِ برطانیہ سے وفاداری کا تعلق منقطع کر لیں گے۔” مئی میں صلح کے شرائط شائع ہوئے اور خلافت تحریک میں ایک نئے جوش کا اضافہ ہو گیا۔

آخر کار خلافت کمیٹی نے جو 1919ء میں تحفظِ خلافتِ عثمانیہ کے نام سے قائم کی گئی تھی بمبئی میں مئی 1920ء میں طے کر دیا کہ اب مسلمانانِ ہند کے پاس کوئی چارہ سوائے اس کے کہ موجودہ حکومت سے ترکِ تعاون کریں، نہیں رہا۔

دوسری طرف 20مئی 1920ء کو آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی میٹنگ بنارس میں ہوئی۔ یہاں لیڈروں کی ایک کانفرنس ترکِ موالات کے پروگرام پر غور کرنے کے لیے بنائی گئی جس کی میٹنگ 20جون کو ہوئی اور کمیٹی نے تجاویز پیش کیں جس میں برٹش اشیاء کا بائیکاٹ اور عدالتوں و سکولوں کا بائیکاٹ شامل تھا۔

دوسری طرف خلافت کمیٹی یہ پروگرام پہلے سے جاری کر چکی تھی۔ کانگریس نے ابھی تک ترکِ موالات کی تجویز پاس نہیں کی تھی۔ جبکہ خلافت کمیٹی کلکتہ اور دوسری جگہوں پر تائیدی جلسے بھی کر چکی تھی۔ مدراس کانفرنس میں خلافت کمیٹی نے خطابات کا واپس کرنا، مجسٹریوں کو چھوڑنااور ملازمتیں چھوڑنا بھی پروگرام میں شامل کر لیا تھا۔ ترکِ موالات کا باقاعد ہ اعلان صرف مسلمانوں کی طرف سے یکم اگست کو ہوا اور علی برادران نے ملک کے دورے بھی شروع کر دیے۔ وہ گاندھی جی کو بھی خوشامدوں سے اپنا ہمنوا بنانے میں کامیاب ہو گئے تھے جبکہ لالہ لاجیت رائے اور مالویہ جی پین اسلام ازم کا ہوا کھڑا کر کے گاندھی کو خطرات سے ڈرا رہے تھے۔ اس کے ساتھ تحریکِ ہجرت بھی مسلمانوں کی طرف سے شروع ہو چکی تھی۔ اور مسلمان تکالیف اٹھا کر افغانستان کی راہ لے چکے تھے۔

یہ عجیب لطف ہے کہ مسلمان ترکِ موالات پر عامل ہو چکے تھے اور لڑائی شروع کر چکے تھے۔ مگر کانگریس اور ہندو لیڈروں نے ابھی تک اسے منظور نہ کیا تھا۔ 9دسمبر 1920ء کو کلکتہ میں کانگریس کا سپیشل اجلاس ہوا اور ترکِ موالات کی تجویز پاس ہوئی۔ لیکن دسمبر1920ء تک ہندوئوں نے اس پر عمل نہیں کیا کیونکہ ابھی ناگپور اجلاس میں قطعی فیصلہ ہونا باقی تھا۔ ہندو عوام اور لیڈر سخت قدم اٹھانے کو تیار نہ تھے۔ ناگپور اجلاس بھی مسلمانوں کے جوشِ عمل اور آمادگیِؑ کارزار کا ثبوت بنا۔ ناگپور اجلاس کے 14582 ڈیلیگیٹ میں سے 10500مسلم ڈیلیگیٹ تھے۔ سی آراداس 36ہزار روپیہ خرچ کر کے 250ہم خیال ترکِ موالات کی مخالفت میں لے آئے تھے۔ مگر مولانا محمد علی اور مسلمانانِ ہند کی وجہ سے کانگریس نے اسے منظور کر لیا۔

یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گی کہ گاندھی اور کانگریس نے مسلمانوں کو صرف اپنا وطنی بھائی سمجھ کر تحریکِ خلافت کا ساتھ نہیں دیا تھا بلکہ اس میں ان کے کچھ مفاد بھی پوشیدہ تھے۔ گاؤ رکشا کی تحریک ہندؤں نے صدیوں سے چلائی ہوئی تھی۔ وہ ہمیشہ سے چاہتے تھے کسی طرح اس پر پابندی لگوائی جائے مگر ناکام رہے تھے۔ اب مسلمانوں سے تعاون کے بدلے انہیں ایک راستہ نظر آرہا تھا۔ ایک بار جب گاندھی جی مسلمان لیڈروں سے ملنے جا رہے تھے تو مالویہ جی نے انہیں کہا موقع ہے مسلمانوں کو گائے کے ذبیحہ سے روکنے پر آمادہ کریں۔ گاندھی نے چالاکی سے کہا ابھی وقت نہیں، مناسب موقع پر بات کروں گا۔ آخر وہ مناسب موقع بھی آ ہی گیا۔ گاندھی نے تحریک کے عروج پر مسلم رہنماؤں سے کہا ہم نے آپ کے دینی مسئلہ میں آپ کا ساتھ دیا آپ بھی ہندو کے جذبات کو مدِ نظر رکھ کر گائے ذبیحہ کو موقوف کر دیں۔ تیر نشانے پر لگا اور مسلمان علماء نے فتویٰ دے دیا کہ ہندو کے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے اس سال بقرِ عید پر مسلمان گائے کی قربانی نہ کریں۔

 سادگی مسلم کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ

تحریک زوروں پر چل پڑی۔ جیلیں بھر گئیں۔ خطابات واپس کر دیئے گئے، وکالتیں، ملازمتیں اور سکول چھوڑ دیئے گئے۔ ہجرت جاری تھی۔ اور حکومت تنگ و پریشان تھی۔ اگرچہ اب مسلمانوں کے ساتھ ہندو بھی برابر کے شریک تھے مگر تحریک کا ہر اول دستہ مسلمان ہی تھے اور ان کے لیڈر علی برادران کا طوطی بول رہا تھا۔ مسٹرولنٹائل شرل نے “اضطر ابِ ہند” میں سچ لکھا۔ “مسلمانانِ ہند کو انگریزوں کے خلاف بھڑکانے کی سب سے زیادہ ذمہ داری علی برادران کی گردن پر ہے جنہوں نے کانگریس میں داخل ہو کر امن پسند ہندؤں میں جراؑت کے عناصر پیدا کیے اور ادھر مسلمان فوج کو بغاوت پر آمادہ کیا۔”

نومبر1919ء کو شہزادہ ولی عہد ہندوستان وارد ہوئے تو ان کے استقبال کا بائیکاٹ کیا گیا۔ والنٹئیروں نے مخالفت میں مظاہرے کیے۔ پولیس نے گولی چلائی اور 53آدمی مارے گئے اور 400کے قریب زخمی ہوئے۔ اس وقت حکومت نے مسلم والنٹئیروں کے متعلق جو نوٹ شائع کیا وہ “ہسٹری آف آل انڈیا کانگریس” کے مصنف کی زبان سنئے۔

“کانگریس کے والنٹئیر اس وقت گھریلو ملازموں کی طرح تھے جو میلوں وغیرہ میں کام کرتے تھے۔ لیکن خلافت کے والنٹئیر زیادہ فوجی تھے اور وہ باقاعدہ مارچ اور ڈ رل کرتے تھے اور وردیوں میں ملبوس تھے۔”

انہی دنوں جب علی گڑھ یونیورسٹی میں ولی عہد کی آمد احتجاج کیا گیا۔ مالویہ جی نے ہندو یونیورسٹی میں گاندھی کو گھسنے بھی نہ دیا اور پرنس آف ویلز کو ڈاکٹر کی آنریری ڈگری عطا کی۔ مولانا محمد علی نے اپنی مادرِ علمی پر دھاوا بولا اور یونیوسٹی انتظامیہ ترکِ ملازمت پر آمادہ نہ ہوئی تو اس نے علی گڑھ یونیورسٹی کے مقابلے میں جامعہ ملیہ کی بنیاد رکھی۔ مگر ہندو یونیورسٹی پر کوئی ایسا دباؤ نہ ڈالا گیا۔ تحریک اپنے عروج پر تھی۔ تمام مسلمان لیڈر جیل میں تھے۔ حکومت زچ ہو چکی تھی۔ بعید نہیں تھا کہ حکومت گھٹنے ٹیک دیتی اور ہندوستانیوں کے مطالبات مان لیے جاتے۔ مگر عین تحریک کے شباب پر 5فروری 1922ء میں چوراچوری کے واقعے کو بہانہ بنا کر گاندھی جی نے باردولی میں 12فروری کو ریزولیوشن پاس کر کے تحریک بند کر دی۔ جلوس، جلسے اور جیل جانے کے پروگرام ختم کر دیے۔ جب تحریک پُرجوش تھی اور آخری منزل کی طرف گامزن تھی تو اسے یوں ختم کرنا ہندوستانیوں کی قربانیوں سے غداری تھی۔ مولانا حسرت موہانی پہلے کہہ چکے تھے۔”یہ شخص (گاندھی)درمیان میں لے جا کر ڈبوئے گا۔”

جیل میں علی برادران یہ سن کر سکتے میں آگئے۔ بقول مولانا شوکت علی “دنیا تاریک نظرآنے لگی “جیل شیدائیانِ آزادی نے خطوط لکھے۔ جب 24فروری کو ڈاکٹر انصاری کے ہاں اجلاس میں جب یہ خطوط پڑھے گئے تو گاندھی نے جواب دیا۔

“جو لوگ جیل جا چکے وہ سول حیثیت سے مردہ ہیں اور باہر والوں کو مشورہ دینے کا ان کو کوئی حق نہیں ہے۔” حکومت نے سکھ کا سانس لیا۔ مسلمان مایوس ہو گئے۔ اگر دیکھا جائے تو اس وقت مسلم قیادت نے دو بڑی غلطیاں کیں۔ ایک تو مسلم لیگ کے ہوتے ہوئے جب کہ قیادت بھی ان کے ہاتھ میں تھی انہوں نے آل انڈیا خلافت بنا کر خود کو تقسیم کر لیا۔ پھر کانگریس میں بھی یہی اصحاب تھے۔ اگر وہ لیگ کے پلیٹ فارم سے ہی یہ تحریک چلاتے تو یہ سب کچھ نہ ہوتا۔ دوسرا انہوں نے گاندھی پر بھروسہ کیا۔ چورا چوری کے واقعہ سے کانگریس کا مخالف دھڑا گاندھی کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گیا کہ مسلمان ترکی اور افغانستان کی مدد سے ہندوستان پر قبضہ کر لیں گے۔ گاندھی جی ڈر گئے اور تحریک ختم کر دی۔ شومیِؑ قسمت ترکِ موالات کے تمام فرائض خلافت کمیٹی کے تھے مولانا آزاد نے ہی انہیں کانگریس کمیٹیوں کے حوالے کیا۔ جب اس حوالے سے ان پر تنقید ہوئی تو انہوں نے فرمایا۔ “بعض لوگوں کا خیال ہے ترکِ موالات کا عملی کام جو خلافت کمیٹی کی ذمہ داری تھی وہ تمام کانگریس کے پاس چلے جانے سے اب خلافت کمیٹی کیا کرے گی۔ میں کہتا ہوں داخلی جدوجہد کا کام کانگریس نے سنبھال لیا ہے۔ اب بیرونی کام یعنی ” سمرنا فنڈ کا اجراء” ان کے ذمہ ہے۔”

یہ ہے منصف رہبر کا فیصلہ۔ جو انجام ہونا تھا ہوا۔ تمام قربانیاں کانگریس کے نام اور جب موقع آیا کانگریس نے اصل چہرہ دکھلایا۔ کیا عجب یہ تحریک اس طرح ختم نہ کی جاتی تو آزادی تو شاید نہیں مگر حقِ حکمرانی کے مطالبات جو 1935ء کے ایکٹ کے تحت ملے وہ 23-1922 ء میں مل گئے ہوتے۔ مگر اصل حیرت مولانا آزاد کے تضادات کی کہ حضرت یوں بھی تھے اور یوں بھی۔ تحریک کے زمانے میں کچھ اور فرماتے رہے اور مسلمانوں کو قرآن کی آیتیں سناسنا کر تحریک اور تحریک کے پروگرام پر عمل پیرا کرایا مگر بعد میں جب گاندھی کے معتقد ہوۓ تو پتہ چلا کہ اصل پروگرام قرآن سے ماخوز نہ تھا بلکہ یہ ٹالسٹائی کا فسلسفہ اور گاندھی کا عملی اقدام تھا۔ اب اس کی کیا توجیہہ کی جاۓ کہ وہ قرآنی دلائل فریبِ محض تھا، دھوکہ تھا۔

۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔

اس تحریر کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا تیسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا چوتھا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا پانچواں حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا چھٹا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا ساتواں حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا آٹھواں حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: