میرے لیے مٹی کا حرم اور بنادو! قیصر شہزاد

0

ایک نوجوان چرواہے کو عبادت اور دعا کا بہت شوق تھا لیکن مذہبی تعلیم حاصل نہ کرپانے کے باعث وہ روایتی عبرانی دعائیں پڑھنے سے قاصر تھا۔ چنانچہ وہ خدا سے یوں مخاطب ہوا کرتا: ” میرے خدا میں تیری عبادت کرنا چاہتا ہوں لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ کیسے کروں۔ میں بس تیری یہی خدمت بجا لاسکتا ہوں کہ تو اگر اپنی بھیڑ بکریاں میرے سپردکرے تو میں انہیں بلا معاوضہ چرادوں گا۔” ایک روز اتفاقا پاس سے گزرنے والے کسی عالم کے کانوں میں چرواہے کی یہ مناجات پڑ گئی۔ اسے یہ عجیب و غریب دعا سن کر غصہ آیا اور اس نے چرواہے سے کہا: “تم کفر بک رہے ہو ان گستاخانہ کلمات کی بجائے تمہیں دعاوں کی کتاب میں موجود عبرانی دعائیں پڑھنا چاہیے” چرواہے نے اپنی جہالت کا اعتراف کیا تو وہ عالم اسے ہاتھ سے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گیا اور اسے روایتی عبرانی دعائیں سکھادیں۔ ایک ہفتے بعد چرواہا واپس پہنچا اور سب لوگوں کی طرح عبرانی میں دعائیں مانگنا اپنا معمول بنا لیا۔ اس عالم کو ایک شب خواب میں بتایا گیا کہ خدا کو اس چرواہے کی سادہ لوح لیکن بے ساختہ دعا اس قدر پسند تھی کہ جب سے اس نے وہ کلمات کہنا چھوڑے ہیں خدا ناخوش ہے اور عالمِ بالا میں اداسی چھائی ہوئی ہے۔ اسے حکم دیا گیا کہ اس چرواہے کو پھر سے اپنے پرانے انداز میں دعا کیا کرنے کا کہہ دے۔
یہودیوں کی معروف روحانی روایت ‘حسیدیت’ کی ایک کتاب میں پائی جانے والی یہ حکایت فورا ہمیں مولانا روم کی بیان کردہ مشہورحکایت کی یاد دلاتی ہے جس میں موسیٰ علیہ السلام کا ایک چرواہے کے ساتھ یہی قصہ نہایت تفصیل، فنی خوبصورتی اور عمیق روحانی تشریح کے ساتھ بیا ن کیا گیا ہے۔ (دفتر دوم ، جز ۳۵-۳۷) یہ مشابہت اتفاقیہ نہیں کیونکہ مسلم صوفیاء خصوصا مولانا روم کا اثر حسیدی روحانیت پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ مولانا کی بیان کردہ بعض حکایتیں معروف یہودی فلسفی مارٹن بیوبیر کے مطابق مسیح ہونے کے یہودی دعویدار شبتای زوی کے واسطے سے حسیدیت میں داخل ہوئی ہیں کیونکہ زوی بھی روم (موجودہ ترکی) میں رہا جہاں بالآخر اس نے اسلام قبول کیا تھا۔
خیر حسیدی روایت میں مذکورہ حکایت یہ واضح کرنے کے لیے بیان کی جاتی ہے کہ عبادات اور دعا میں الفاظ اور تعبیرات نہیں بلکہ نیت ، جذبہ اور روح کی حیثیت اصل ہوتی ہے۔ یہ معنی مثنوی میں بھی بیان کیا گیا ہے :(البتہ مولانا رومی نے اس قصے کی معنویت کی دو اور سطحوں سے بھی پردہ کشائی فرمائی ہے۔اس تفصیل میں ہم فی الحا ل نہیں جائیں گے)
ما زبان را ننگریم و قال را
ما روان رابنگریم وحال را
ناظرِ قلب ایم اگر خاشع بود
گرچہ گفتِ لفظ ناخاضع بود
زانکہ دل جوہر بود گفتن عرض
پس طفیل آمد عرض جوہر اصل
یعنی ہم زبان و بیان کو نہیں بلکہ روح اور حال کو دیکھتےہیں ۔ ہماری نظر انسان کے دل پر ہوتی ہے کہ آیا اس میں خشوع پایا جاتا ہے یا نہیں ، الفاظ اگر ہمارے شایانِ شان نہ بھی ہوں توہم پروا نہیں کرتے۔ بات یہ ہے کہ جوہر، اور اصل دل ہے جبکہ زبان سے اظہار ایک ثانوی شے ہے جس کادارو مدار اول الذکر پر ہے۔
یہاں یہ بات کہہ دینا ضروری ہے کہ “جنہاں گھڑیا ں سانبھ کے رکھیاں” کے عنوان سے ہم نے جو حکایت چند روز قبل نقل کی تھی وہ باطن کے لیے ظاہر کی اہمیت واضح کرتی تھی جبکہ کہ مولانا روم کی بیان کردہ یہ حکایت باطن کی مرکزی اور بنیادی حیثیت سامنے لاتی ہے۔ ان دونوں حکایات میں کوئی تناقض نہیں بلکہ دونوں کا مجموعی معنی ٰظاہر و باطن کی ایک دوسرے کے لیے اہمیت و ضرورت ہے۔ہاں یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر مقصد اور وسیلے کی اصطلاح میں بات کی جائے تو اہمیت کے پیمانے پر بہرحال باطن کی حیثیت مقصد کی ہوگی اور ظاہر کی وسیلے کی سی۔ اگر باطن درست ہونے کے انتظار میں ظاہر سے غافل ہوجانے والے اپنی خراب گھڑیوں سے غافل ہوجانےوالوں جیسے ہیں تو روح کی اہمیت کے احساس تک سے غافل ظاہری قواعد و ضوابط کے پابند لوگوں کی مثال جاپانی کہانی کے اس اندھے کی سی ہے جو بجھی لالٹین اٹھائے اندھیرے میں چلتا جارہا ہوںاور لوگوں سے ٹکرانے پر غصے سے کہتا ہے کہ اندھو، کیا تمہیں میرے ہاتھ میں پکڑی روشنی دکھائی نہیں دیتی!

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: