پہلا پھل برت”سہہ روزہ”: ارشد محمود

0

قوم کو پہلا سہہ روزہ پھل برَت ” مبارک.۔ ۔ ۔ گو یہ مبارکباد کچھ لوگوں کو شاید قبل از وقت یا بالکل ہی بے وقت لگے کیونکہ کہ قوم میں کچھ “دیگر ویلے” (عصرکے وقت) افطار کرنے والے اتاؤلے اور کچھ اپنے تئیں مفت کے مفتیانِ روزہ خوار بھی شامل ہیں۔ مبادکباد کی جلدی یوں بھی تھی کہ مبادا پھر کوئی نورالھدیٰ سبقت نہ لے جائے۔ پھر انکا بھی خیال تھا جن کا ایمان اب تک ڈول رہا ہے انکو تسلی رہے کہ دیگر(عصر) سے افطار تک بھوک پیاس برداشت کرنے کی نیت باندھے رہیں۔ یوں وہ چاہیں تو دیگر ویلے پری میچیورافطار یا ثوابِ نیت برائے میں سے کم از کم ایک یا دونوں سے فیضیاب ہو سکیں ۔ اب مجھ سے یہ کوئی نہ پوچھے کہ ایمان والوں کی اکثریت ایمان کو ڈول میں کیوں ڈالے رکھتی ہے۔ یہ معاملہ آزادیء اظہار وعمل کا ہے جس کا میں شدید قائل ہوں اور دعا گو ہوں اللہ مجھے اس پر مائل بھی کرے۔
اردو یونیورسٹی کراچی کے نوجوان استاد (پڑھانے والے) نورالھدیٰ شاہین المعروف “پھل والا” کے من میں نہ جانے کیا سمائی کہ رمضان کے پہلے عشرہ کی رحمتوں کو سمیٹنے میں مشغول قوم کو ورغلانے نکل کھڑے ہوئے۔ کہنا انکا یہ تھا کہ ہر رمضان کی طرح اس بار بھی حسبِ سابق روئیت ہلالِ رمضان کے ساتھ پھلوں کی قیمتیں بھی اسمان پرنظر آنے لگی ہیں ۔ سو انہوں نے فیس بک جیسے سستے اور تیز رفتار میڈیا کو مس یوز کرنے کا پلان بنایا۔ مس یوز اس لئےکہا کہ وہ شکل اور حرکات. سےشادی زدہ نہیں لگت ے۔ غٖور کریں تو شکل سے تبلیغی دِکھتے ہیں۔ بہت نیک اور پیارے اپنی ہٹ کے پکے ہیں. غالب گمان ہے کسی مِس کے کہنے یا حُور کی حضوری کے لالچ میں وہ پھل چھوڑ سہہ روز لگانے کا قصد کر بیٹھے قبولیت کی گھڑی تھی یا قسمت دیوی مہربان تھی۔ وہ خود کے ساتھ اپنے پیچھے روزے داروں و کھوجے ماروں کی ایک اچھی خاصی تعداد کو لگانے میں کامیاب ہو گئے۔ انکے سٹیٹس دھڑا دھڑا کاپی پیسٹ ہونے لگے ۔ ۔ ۔ خدا معلوم کاپی پیسٹ کا بھاؤ کہاں پہنچا لیکن فیس بک پر پہلے سے موجود ڈانز کے کان کھڑے ہو گئے۔ بائیں بازو والوں کے ساتھ ساتھ کچھ دائیں بازو والوں بلکہ آجو باجو سے ثواب لوٹنے والوں کو بھی انکی یہ مقبولیت کھٹکنے لگی۔ اور یوں انکی سولو فلائیٹ کو گراؤنڈ کرنے کے لئے کسی نے انکی ٹانگ کھینچی تو کسی نے کان یہ اور بات کہ کسی کے حصہ میں بلاک آیا تو کسی کے حصے میں حسرت۔ ہماری قوم بھی عجیب ہے۔ معاملہ کوئی بھی ہو فورآ بلاک و بلاک ہو جاتی ہے یا حسرت و یاس کی تصویر بن جاتی ہے۔ امید ہے یہ ناچیز بھی کئی اصلی ونقلی (فیک) آئ ڈیز سے بلاک ہوتے ہوتے بچا ہوگا۔
اللہ کا شکر ہے اس تحریک میں خون شامل نہیں ہوا۔ شاید اسی لئے کہ کچھ سرخ و سفید دوستوں کی نظر میں اسکی کامیابی مشکوک ہے۔ تاحال ایک بھی کیجویلیٹی رپورٹ نہیں ہوئی. نہ پھل کا بائیکاٹ کرنے والوں میں سے کوئی نقاہت سے مرا اور نہ زیادہ پھل کھانے والوں میں سے کوئی بد ہضمی سے۔ البتہ زخمی ہر دو طرف بہت ہیں کسی کا دل جھلسا پڑا ہے تو کسی کا جگر خونم خون ہے۔
عین ممکن تھا کہ نورا لھدیٰ کے شاہین کو اڑنے سے پہلے ہی مار گرایا جاتا لیکن ایک بار پھر خواب خرگوش میں مدہوش قوم کی دانش کو بیدار اور بلوائیوں کو اکھٹا ہونے میں ذرا دیر لگی۔ کچھ کرامت نور الھدیٰ کے پیچھے آتے اس جم غفیر اور چند سیاستدانوں کی بھی ہے جنہوں نے انکی ٹانگ اور کان کھینچنے والوں کی ٹانگیں اور کان کھینچ کے نور الھدیٰ کی دانشوروں اور بلوائیوں سے گلو خلاصی کرائی تھی۔
دراصل انسان بنیادی طورپر لائی لگ ہے۔ یہاں انسان سے میری مراد صرف “مرد” حضرات ہیں۔ خواتیں کو استثناء ہے۔ مردوں پر یہ الزام یوں بھی لگتا ہے کہ بقول شخصے انسان خطا کا پتلا ہے، گویا خطا کرنے کا مادہ مرد میں رکھا گیا۔ اسی کے باوصف شاید اللہ نے مرد کو ایک کے بعد ایک اور ایک وقت میں چارچار نکاح کرنے کی ڈھیل دی تاکہ وہ اپنی خطاؤں کے ذریعے ہی کچھ سیکھ سکے۔ عورت کو اللہ نے مرد پر نگران تخلیق کیا تاکہ انسان کارسرکار میں بےجا مداخلت سے باز رہے۔ یوں عورت مرد کردہ ناکردہ بمعہ ہونے والی ممکنہ و ناممکنہ تمام خطاؤں پر نظر رکھتی ہے اور حسب ضرورت درگزر پکڑ یا پکڑ کر درگزر یا کوئی بھی معاملہ کرنے پر قادر ہے۔ ماننا پڑتا ہے کہ نظر، پکڑ اور درگزر کے معاملات ہوں یا عملی میدان میں اتاؤلا پن ہر طرف عورت کو مرد پر ایک درجہ فوقیت ہے۔ اس لئے بھی میں ذاتی طور پر احترام عورت کا قائل ہوں کہ وہ مرد سی خود سر مخلوق کو مہد سے لحد تک سدھارنے کی انتھک کوشش میں جتی رہتی ہے۔ عورت پر لائ لگ ہونے کا الزام لگا کر مزید گنہگار نہیں ہونا چاہتا کہ عورت تو نکلی ہی مرد کی پسلی سے ہے اور وہ اندر سے اسکے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ شاید اس طرف اشارہ کرتے ہوئے علامہ نے کہا تھا “تری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی” علامہ کی وہ جانیں میرے نزدیک مذکورہ خرابی کا ذمہ دارمرد ہے۔ ۔ ۔ ۔ بات ہو رہی تھی احترام کی تو آپ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ قائل تو احترام انسانیت کا ہونا چاہئے لیکن کیا ہے ناں “لگتی ہے اس میں محنت زیادہ”۔ اب کون مومن روزہ بلکہ سہہ روزہ رکھ کر محنت کا دوگنا ثواب سنبھالتا پھرے. جبکہ بقول غامدی صاحب شریعت میں محنت اور روزہ میں سے کسی ایک کو مؤخرکرنے کی گنجائش بھی نکلتی ہو۔ ۔ ۔ ۔
پھل بائیکاٹ تحریک کو آخری خبریں آنے تک جہاں سوشل میڈیا اور ایک آدھ نجی ٹی وی چینل کے علاوہ مارکیٹ اور دسترخواں پربڑی حد تک پذیرائی ملی وہیں یہ تحریک ہمارے آزاد منش دانشور، عملی خواتین اور مدلل وکلا ءبرادری کی حمایت سے محروم نظر آئی. اہل دانش و بار سے پنگے کا باراٹھانے سے رہا البتہ میرا خیال ہے کہ خواتین کا تحریک میں شامل نہ ہونا ناقص حکمت عملی اور ناتجربہ کاری کے کارن ہے۔ ہمیشہ کی طرح اس تحریک میں انہیں شامل ہی نہیں کیا گیا۔ اب وہ بیچاری خود سے شامل ہو کر خود سری کا الزام اس سر پر لینے سے رہیں جو دوپٹہ کو بوجھ بھی برداشت نہیں کرتا۔
یاد آیا۔ ۔ ۔ میں کہہ تھا کہ انسان بنیادی طور پر لائی لگ آدمی ہے۔ مؤرخ کہتا ہے پہلا معلوم آدمی ہی لائی لگ تھاجسے اسکی قانونی گرل فرینڈ اور وکیلِ بزرگ نے لگائی بجھائی اور دلائل سے قائل کر کے ایک پھل کھلا دیا تھا۔ مذکورہ مہم میں بھی کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جن مردوں نے پھل خریدے اور کھائے اسکے پیچھے عورت اور وکلاءکا ہاتھ ہے۔ اسکا یہ مطلب نکلے نہ نکلے کہ ہر تحریک اور مرد کی کامیابی و ناکامی کے پیچھے عورت اور وکیل ہوتا ہے۔ البتہ بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ فی زمانہ کسی بھی تحریک یا فرد کی کامیابی کے لئے نصف بہتر مطلب عورت جو ایک طاقتور میڈیا بھی ہے کی تائید و تعاون اور سرمایہ برائے وکیل فیس بہت ضروری ہیں۔ جن کو یقین نہیں وہ ہر اہم قومی مسئلہ اور عدالتی کیس کے حوالہ سے وزارت نشریات اور وکلاءکی پریس کانفرنس اور ٹی و شوز دیکھا کریں۔
پھل چھوڑ سہہ روزہ کی کامیابی سے ایک خرابی یہ پیدا ہوگئی ہے کہ شاہین کی دیکھا دیکھی کچھ نقالی کے ماہر زاغ و کبوتر بھی میدان میں آگئے ہیں۔ اور پہلے سہہ روزہ کی افطاری سے قبل ہی قوم کو پنچ روزہ، پندرہ روزہ اور چلہ و کلی حرمت برائے پھل اور صبر کا پھل، موبائل اور برانڈڈ سوٹ ومصنوعات وغیرہ کی نیت باندھنے پر اکسا رہے ہیں۔ انکومشورہ ہے کہ خاطر جمع رکھیں قوم ایسی بے وقوف بھی نہیں۔
مجھے اپنے اربابِ بست و کشاد کی دوردندیشی پر بھروسہ تو تھا ہی اب تو میں دل سے قائل بھی ہو گیا ہوں۔ سوشل میڈیا واقعی منہ زور ہوتا جا رہا ہے۔ اس پر پابندی وقت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اس سارے قصیئے میں امکان پیدا ہو گیا ہے کہ قوم کو اس تحریک بازی کا سواد ہی نہ لگ جائے۔ آج پھل چھوڑو، کل موبائل فون کا بائیکاٹ کرو، پرسوں نہ جانے کیا کیا۔ ۔ ۔ ۔ خدانخواستہ قوم سوشل میڈیا کے ذریعے لفظی دعوت و تبلیغ اور ذہنی کشتی کی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے عملی طور پر اکٹھی ہوگئی توجمہوریت خطرہ میں پڑ سکتی ہے۔ اور اگر جمہوریت خطرہ میں پڑی تو پوری پنچائیت خطرہ میں….

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: