اقبال، مُلائیت اور سیکولر مُلّائیت: فتح محمد ملک

0

پاکستانی قوم کے موجودہ مصائب کا سبب یہ ہر گز نہیں کہ اس نے سیکولر طرزِ حیات اپنانے سے انکار کر رکھا ہے۔ پاکستانی قوم صرف اور صرف اس لیے مشکلات و مصائب کی شکار ہے کہ اُسے اسلام کے صراطِ مستقیم کی بجائے ملائیت اور خانقاہیت کی ٹیڑھی میڑھی راہوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ اقبال کے نزدیک مسلمان معاشروں نے اسلام کی حقیقی روح کو گم کر دیا ہے۔ اس روح کو ڈھونڈنا اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا جلی عنوان بنانا ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ہماری خوش بختی یہ ہے کہ مفکر پاکستان علامہ اقبال نے اس روح کی بازیافت اور اسے روحِ عصر سے ہم آہنگ کرنے کا فریضہ بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام دے رکھا ہے۔ ہماری بدبختی یہ ہے کہ ہمارا حکمران طبقہ اسلام کی اس انقلابی روح سے مسلسل خائف چلا آ رہا ہے۔ وہ اسلامی طرزِ حیات اپنانے کی بجائے فرقہ واریت کو ہوا دے کر اسلام کے روشن نام کو بدنام کرنے میں کوشاں ہے۔ فرقہ وارانہ جنگ و جدل اسلامی طرزِ حیات کی ضد ہے۔ اقبال نے آج سے پچانوے (۹۵) برس پیشتر اسلام کے اخلاقی اور سیاسی نصب العین پر اپنے ایک یادگار مضمون کے آخری پیراگراف میں یہ سوال اُٹھایا تھا کہ:
“Is the organic unity of Islam intact in this land? Religious adventurers have set up different sects and fraternities, ever quarrelling with one another. Islam is one and indivisible; it brooks no distinctions in it. There are no Wahabies, Shaias or Sunnies in Islam. Fight not for the interpretations of the truth, when the truth itself is in danger.”
یہ سوال ہم سے آج بھی جواب طلب ہے۔ آج اسلام واقعتا خطرے میں ہے مگر ہمارے ’’مذہبی طالع آزما‘‘ باہمی جنگ وجدل سے اس خطرے کو مزید سنگین بنانے میں مصروف ہیں۔ اسلام بلاشبہ ایک ناقابلِ تقسیم وحدت ہے مگر ہم پاکستانی مسلمان ایک نہیں ہیں اور کئی فرقوں میں بٹ کر باہم دست و گریباں ہیں۔ ہم نے اسلام کی وحدت کو پارہ پارہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسلام سنگین خطرات سے دوچار ہے مگر ہم اسلام کے دفاع میں صف بستہ ہونے کی بجائے اسلام کی مختلف تفسیروں پر آپس میں لڑ مر کر اسلام کے دشمنوں کا کام آسان بنانے میں مصروف ہیں۔ اسلام میں ملائیت اور خانقاہیت کا کوئی تصور موجود نہیں مگرہم مسلمانوں میں ملائیت اور خانقاہیت کے ادارے قائم و دائم ہیں۔ اِن اداروں کو اقبال نے ’’اہلِ حرم کے سومنات‘‘ قرار دیا ہے۔ اِن اداروں کی ساختہ پرداختہ فرقہ وارانہ منافرت نے اسلام اور پاکستان ہر دو کے وجود کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اِن خطرات کا احساس کر کے اقبال کی رہنمائی میں مذاہبِ فقہ کی فرقہ وارانہ حد بندیوں سے اُوپر اُٹھ کرحقیقی اسلامی طرزِ حیات اپنائیں۔
عہدِ ملوکیت میں فقہ کی بنیاد پر نمایاں کیے گئے فروعی اختلافات نے مذاہبِ فقہ کی بنیاد رکھی۔ تعبیرِ دین کی سنجیدہ اور دیانتدارانہ کاوشوں کے زیرِ اثر جو مختلف علمی دبستان وجود میں آئے انہیں رفتہ رفتہ سیاسی رنگ دے کر فقہ کے مستقل مذاہب کی شکل دے دی گئی۔ ملوکانہ سیاست نے آزادیٔ رائے اور مخالفانہ رائے کے احترام کی فضا کو ختم کر کے فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دی تاکہ مسلمان تنگ نظر فرقہ پرستی کے غیر اسلامی چلن میں راسخ ہو کر باہمی جنگ و جدل میں اس حد تک مصروف ہو جائیں کہ انہیں اس بھیانک حقیقت پر غور کرنے کا وقت ہی نہ ملے کہ اُن پر خلافت کے پردے میں قیصر و کسریٰ کی ملوکیت مسلط کر دی گئی ہے۔ بعد ازاں مغربی سامراج نے بھی ملوکیت کے اس ورثے کو اپنے مفیدِ مطلب پایا۔ طلوعِ آزادی کے بعد جب برطانوی سامراج کے لے پالک طبقوں اور برطانوی تربیت یافتہ بیوروکریسی نے پاکستان کے اقتدارِ اعلیٰ کو غصب کر لیا تو انہیں بھی حقیقی اسلام کے انقلابی افکار کے نفاذ سے بچنے کے لیے اسلام کے نام پر مذہبی جنگ و جدل کی فضا راس آ گئی۔یہ فضا آج تک قائم ہے۔ چنانچہ آج ہماری سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم مذہبی فرقہ آرائی کی اس زہریلی فضا سے نجات پا کر اسلام کی روشن تعلیمات کو عملی زندگی کے متحرک قالب میں ڈھالنے کے عمل کا آغاز کریں۔
اقبال نے مذہبی منافرت کے اس سامراجی ورثہ کو دریا بُرد کر کے اسلام کی حیاتِ نو کا خواب دیکھا تھا۔ آل انڈیا مسلم کانفرنس کے اجلاس (منعقدہ لاہور، ۲۱مارچ۱۹۳۲ء) میں اپنے خطبۂ صدارت کے دوران اقبال نے مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے وقت مسلمان نوجوانوںکو بتایا تھا کہ اسلام دنیائے انسانیت کو ہر نوع کی غلامی سے آزاد اورہر طرح کے ظلم سے پاک نظامِ حیات عطا کر سکتا ہے۔ بشرطیکہ ہم اسلام کو اُن زنجیروں سے رہائی دلا دیں جو عہدِ ملوکیت میں اُسے پہنا دی گئی تھیں:
“The faith which you represent recognises the worth of the individual, and disciplines him to give away his all to the service of God and man. Its possibilities are not yet exhausted. It can still create a new world where the social rank of man is not determined by his caste or colour, or the amount of dividend he earns, but by the kind of life he lives; where the poor tax the rich, where human society is founded not on the equality of stomachs but on the equality of spirits, where an Untouchable can marry the daughter of a king, where private ownership is a trust and where capital cannot be allowed to accumulate so as to dominate the real producer of wealth. This superb idealism of your faith, however, needs emancipation from the medieval fancies of theologians and legists.”
اوپر دی گئی سطروں میں جن خیالات کا برملا اظہار کیا گیا ہے وہی خیالات ’’جاوید نامہ‘‘ میں شاعرانہ انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ درج بالا انگریزی عبارت کو اگر ’’جاویدنامہ‘‘ میں بیان کیے گئے ’’محکماتِ عالمِ قرآنی‘‘کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو یہ بات بڑی وضاحت کے ساتھ ذہن نشین ہو جاتی ہے کہ یہاںا قبال اپنے عہد میں مروج سرمایہ داری اور اشتراکیت کے نظاموں کی رسائی اور نارسائی کے حوالے سے بات کررہے ہیں۔ اُن کے نزدیک اسلام سرمایہ داری اور اشتراکیت ہر دو سے زیادہ بہتر طرزِ حیات ہے۔ مشکل یہ ہے کہ یہ نظامِ حیات ابھی تک قرآنِ حکیم میں خوابیدہ ہے اور اس انتظار میں ہے کہ اُسے زندہ و بیدار کر دیا جائے۔ جب یہ نظام زندہ ہوگا اور روبہ عمل آئے گا تو ایک ایسی نئی دُنیا وجود میں آئے گی جس کی شام بھی مغربی دُنیا کی صبح سے زیادہ خوبصورت ہوگی۔ یہ ایک ایسا جہانِ نو ہوگا جو لایزال ہے مگر جس کا ہر لحظہ ایک نئے انقلاب سے عبارت ہے۔ اس جہانِ نو کے ظہور میں سب سے بڑی رکاوٹ ملائیت، خانقاہیت اور ہر دو کی خالق و مالک خاندانی شہنشاہیت ہے۔ ’’جاویدنامہ‘‘ میں اسی موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے اقبال ملائیت کو ’’فی سبیل للہ فساد‘‘ قراردیتے ہیں اور دینِ نبیؐ کی حکمت سے مُلّا کی محرومی (بے نصیب از حکمتِ دین ِ نبیؐ) کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے ہمیں اُس سے یوں متعارف کراتے ہیں:
کم نگاہ و کور ذوق و ہرزہ گرد
ملت از قال و اقولش فرد فرد
مکتب و ملا و اسرارِ کتاب
کورِ مادر زاد و نورِ آفتاب
جواہر لعل نہرو کے اُٹھائے ہوئے سوالات کے جواب میں بھی اقبال نے سلطانی، ملائی اور پیری کو مسلمانوں کے سیاسی، روحانی اور تمدنی زوال کے بُنیادی اسباب بتایا ہے۔ اتاترک کی اصلاحات کو تنقید کا نشانہ بناتے وقت وہ اُس کی ملائیت سے متعلق اصلاحات کو درج ذیل الفاظ میں برحق قرار دیتے ہیں:
“As to licentiate the Ulema I would certainly introduce it in Muslim India if I had the power to do so. To the invention of the myth-making mulla is largely due the stupidity of the average Muslim. In excluding him from the religious life of the people the Ataturk has done what would have delighted the heart of an Ibn Taimiyya or a Shah Wali Ullah.”
آج اگر ہم اپنی قوم کی دینی زندگی سے ملا کو نکال باہر کریں تو اسلام کی اس زبردست خدمت پر ابنِ تیمیہ اور شاہ ولی اللہ کے ساتھ ساتھ اقبال کا دل بھی باغ باغ ہو سکتا ہے اور ہماری دُنیا اور عاقبت بھی سنور سکتی ہے۔ جاننا چاہیے کہ اسلام دین ہے اور فرقے مسلک۔ ہر کسی کو اپنا اپنا مذہبِ فقہ، اپنا اپنا مسلک مبارک ہو۔ ہر مسلک کے پیروکار اپنے مسلک پر قائم رہتے ہوئے دوسرے مسلک کا دِلی احترام کریں۔ دین سب کا اسلام ہے جو تمام مذاہبِ فقہ کی مشترک اساس ہے۔
پاکستان نہ تو سُنی سٹیٹ قائم کرنے کی خاطر وجود میں آیا تھا اور نہ ہی فقۂ جعفریہ کے نفاذ کی خاطر قائم کیا گیا تھا۔ بیشتر مذہبی مسالک کے سربراہ تحریکِ پاکستان کی مخالفت میں سرگرم تھے۔ اُن کی یہ مخالفت آسانی سے سمجھ میں آ سکتی ہے۔ پاکستان کا تصور کسی ایک مذہب فقہ کی دوسرے مذاہب فقہ پر بالادستی قائم کرنے کا تصور نہ تھا۔ پاکستان تو اسلام کے اُن ابدی اور آفاقی اصول و اقدار کی سربلندی کی خاطر وجود میں لایا گیا تھا جو تمام مذاہبِ فقہ اور تمام مذہبی مسالک میں مشترک ہیں۔ چنانچہ پاکستان میں ملائیت اور خانقاہیت کی کوکھ سے جنم لینے والی مذہبی سیاست کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ یہاں صرف اور صرف دینی سیاست کا بول بالا ہونا چاہیے۔ مذاہبِ فقہ کے مختلف مسالک کے وابستگان کو ذاتی زندگی میں اپنے اپنے مسلک کے مطابق زندگی بسر کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے مگر اجتماعی زندگی میں ہر کسی کو اپنے اپنے مذہبی مسلک کی حد بندیوں سے اُوپر اُٹھ کر وہ مشترک اسلامی طرزِ حیات اپنانا چاہیے جس سے دُنیا میں اسمِ محمدؐ کا اُجا ہو سکے۔
(۲)
آج جب میں پاکستان کے کھلے دشمنوں اور دوست نما دشمنوں کو پاکستان کی اسلامی نظریاتی اساس کو مٹا کر پاکستان میں ایک سیکولر طرزِ حیات کو رواج دینے کی تحصیل لاحاصل میں مبتلا پاتا ہوں تو مجھے اقبال کا ۱۹۳۰ء کا خطبۂ الہ آباد یاد آتا ہے جو اسلام اور سیکولرزم کی بحث سے شروع ہوتا ہے۔ آج سے چوہتر برس پہلے پاکستان کا تصور پیش کرتے وقت اقبال نے اپنے اس خطبے میں روح اور مادے کی ثنویت کے باطل تصور کو بے نقاب کرتے وقت یورپ کو یوں تنقید کا نشانہ بنایا تھا:
“Europe uncritically accepted the duality of spirit and matter probably from Manichean thought. Her best thinkers are realizing this initial mistake today, but her statesmen are indirectly forcing the world to accept it as an unquestionable dogma.”
تصورِ پاکستان کو جغرافیائی قالب اختیار کیے ستاون برس ہوچکے ہیں مگر ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ سیکولرزم کا پون صدی پہلے گاڑا گیا مردہ پاکستان کے اندر پھر سے اُکھاڑ کر متحرک کر دیا گیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مغربی طاقتیں ہم پر اپنا سیکولر طرزِ حیات بہ جبرو اکراہ ایک Unquestionable dogma کی صورت میں مسلط کر دینے میں کوشاں ہیں۔ پاکستان سے پہلے اگر یہ طاقتیں ہندی مسلمانوں کو بالواسطہ طور پر سیکولر طرزِ حیات اپنانے پر مجبور کر رہی تھیں تو آج یہی طاقتیں ہمیں براہِ راست اپنے دبائو میں لا کر ہم پر سیکولر ملائیت مسلط کرنے کے درپے ہیں۔ پاکستان کے اندر سرکاری سرپرستی میں کام کرنے والی غیر ملکی تنظیموں (این جی اوز نہیں بلکہ ایف جی اوز) نے آج کل سیکولرزم کے حق میں وہ شور مچا رکھا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ ایسے میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم ایک بار پھر سیکولرزم کا مطلب اُس شخص سے پوچھیں جس نے پاکستان کا تصور پیش کرتے وقت اپنی بات سیکولرزم کی مدلل اور مؤثر تردید سے شروع کی تھی۔ علامہ اقبال نے حیرت انگیز پیش بینی کے ساتھ اپنے خطبہ میں پہلے خود ہی یہ سوال اُٹھایا اور پھر اس کا مدلل جواب دے دیا۔ اقبال کا کہنا یہ ہے کہ اُن کے زمانے کے مسلمان نوجوانوں نے سیکولرزم کا تصور یورپ سے مستعار لیا ہے۔ اسلام میں اس طرح کا کوئی تصور سرے سے موجود ہی نہیں۔ اقبال کے نزدیک سیکولرزم کا تصور یورپ کے مخصوص تاریخی تجربات سے پھوٹا ہے۔
یورپ کی تاریخ کے ایک دور میں پادریوں نے اپنے لیے خُدائی حقِ حکمرانی کا دعویٰ کر کے حکومت پر قبضہ کر لیا اور یوں وہ بہ یک وقت پادری اور بادشاہ بن بیٹھے۔ اس نظام حکومت کو تھیاکریسی کا نام دیا گیا۔ اس نظام کے تحت حکمرانی کے خُدائی حق کے دعویدار پادریوں نے عوام پر ناقابلِ بیان مظالم ڈھائے اورعیسائیت کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ اس سنگین صورتِ حال کے خلاف مارٹن لوتھر نے اپنی احتجاجی تحریک کا آغاز کیا۔ اس تحریک نے بتدریج زور پکڑا اور یوں پادریوں کے حق حکمرانی یعنی تھیاکریسی کو باطل ثابت کرتے ہوئے زندگی کو دو دائروں میں بانٹ کر رکھ دیا گیا۔ یہ دائرے سیکولر اور سیکرڈ یعنی مادی اور روحانی زندگی کے دو الگ الگ دائرے تھے۔ دُنیاوی زندگی کے سیکولر دائرے میں بادشاہوں کا حق حکمرانی تسلیم کیا گیا اور دینی زندگی کے دائرے کو کلیسا تک محدود کر کے پادری کی روحانی شہنشاہیت کو تسلیم کر لیا گیا۔ زندگی کو دو ٹکڑوں میں بانٹ دینے کے اس عمل نے عیسائیت کو فقط رہبانیت تک محدود کر کے رکھ دیا۔
جب یورپ میں عیسائیت کو ایک خالصتاً راہبانہ نظام بنا کر رکھ دیا گیا تو ترکِ دُنیا کا وہ تصور پیدا ہوا جو بالآخر دین اور دُنیا، کلیسا اور ریاست اور مادی زندگی اور روحانی زندگی کو دو الگ الگ اور باہم متصادم حصوں میں بانٹ دینے کا سبب بنا۔ اسلام میں اس طرح کی کسی ثنویت کا کوئی تصور موجود نہیں۔ نہ ہی اسلامی تاریخ میں کبھی تھیاکریسی یعنی علماء کے خُدائی حق حکمرانی کو تسلیم کیا گیا۔ نتیجہ یہ کہ نہ تو سیکولرزم کا تصور اور نہ ہی سیکولرزم کی اصطلاح اسلامی دُنیا میں جنم لے سکی۔ اگر خدانخواستہ مسلمانوں کی تاریخ میں تھیاکریسی قائم ہوگئی ہوتی تو پھر اُس کے خلاف ردِعمل اور ردِعمل کے نتیجے میںسیکولرزم کے پیدا ہونے کا امکان بھی تھا۔ یورپ میں تھیاکریسی قائم ہوئی، اس کے خلاف مارٹن لوتھر نے اصلاحِ دین کی تحریک چلائی اور اس تحریک کی کامیابی نے بالآخر عیسائی دُنیا میں مذہب کو اجتماعی زندگی سے بے دخل کر کے فقط فرد کی نجی زندگی تک محدود کر دیا۔ اس کے برعکس اسلام ایک اجتماعی نظام حیات ہے۔ زندگی ایک ناقابلِ تقسیم وحدت ہے اور انسان کو اس مادی دُنیا میں زندہ رہتے ہوئے اور مادی سرگرمیوں میں مشغول رہتے ہوئے روحانی سربلندی کی راہ اپنانے کا درس دیا گیا ہے۔ اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے اقبال نے اس حقیقت کو بے نقاب کیا ہے کہ:
“To Islam matter is spirit realising itself in space and time.”
اور
“All that is secular is sacred in the roots of its being.”
گویا روح جب زمان و مکاں کی دنیا میں آتی ہے تو مادی قالب اختیار کر لیتی ہے۔ خالقِ اکبر ہی ہر شے کا خالق ہے۔ چنانچہ ہر مادی شے میں خالقِ اکبر کا عکس موجود ہے اور یوں ہر شے اپنی اصل میں روحانی ہے۔اس مختصر مگر جامع فلسفیانہ بحث کے اختتام پر اقبال نے اپنے سامعین کو خبردار کیا تھا کہ وہ اسلامی طرزِ حیات اور سیکولر طرزِ حیات کی اس بحث کو فقط ایک علمی بحث نہ سمجھیں بلکہ اس کی عملی معنویت کو پیشِ نظر رکھیں کیونکہ سیکولرزم یا اسلام کے اس سوال کے درست جواب پر ہی برصغیر میں مسلمانوں کی منفرد تہذیبی ہستی کی بقا کا انحصار ہے!
علامہ اقبال نے اپنے خطبۂ الہ آباد کے آغاز ہی میں یہ سوال اُٹھایا تھا کہ کیا مذہب ایک نجی معاملہ ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اسلام کو فقط ایک اخلاقی نظام کے طور پر تو باقی رکھیں مگر اس کے سیاسی نظام کو متحدہ ہندوستانی قومیت کی تعمیر کی خاطر ترک کر دیں؟ اقبال کے نزدیک یہ سوال برطانوی ہند میں مسلمانوں کے اقلیت میں ہونے کے باعث اور بھی زیادہ سنگین صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یورپ میں جب عیسائیت کو ایک خانقاہی نظام کی صورت دے کر مادی زندگی کو روحانی زندگی سے الگ کر دیا گیا تو وہاں نیکی کا مفہوم ترکِ عمل اور ترکِ دُنیا سے عبارت ہو کر رہ گیا۔ اس لیے اگر یورپ کے لوگ مذہب کو فرد کا نجی معاملہ قرار دے کر سیاسی و اقتصادی اور معاشرتی و تہذیبی نظاموں کو مذہب کے دائرۂ کار سے بے دخل کر دیتے ہیں تو یہ بات قابلِ فہم ہے مگر مسلمانوں میں اس طرح کی سوچ ناقابلِ فہم ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہاں دین اور دنیا دو الگ الگ اکائیاں نہیں ہیں بلکہ دین اور دنیا کا ایک ہی عالم ہے۔ اس لیے کہ:
“The religious ideal of Islam is organically related to the social order which it has created. The rejection of the one will eventually involve the rejection of the other. Therefore, the construction of a polity on national lines, if it means a displacement of the Islamic principle of solidarity, is simply unthinkable to a Muslim. This is a matter which at the present moment directly concerns the Muslims of India.”
یہاں اقبال نے دو باتیں بڑی وضاحت کے ساتھ کہی ہیں۔ اوّل یہ کہ: اسلام کا اخلاقی مسلک، اسلام کے سیاسی مسلک کے ساتھ نامیاتی طور پر مربوط ہے یعنی اخلاقی اور سیاسی ہر دو آئیڈیلز یک جان اور یک قالب ہیں۔ انھیں ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہیں کیا جاسکتا۔ اگر آج ہم متحدہ ہندوستانی قومیت کی تعمیر کی خاطر اسلام کے سیاسی مسلک کو چھوڑ دیں گے تو بالآخر ہمیں اسلام کا اخلاقی مسلک بھی چھوڑنے پر مجبور کر دیا جائے گا۔ یہ گویا ترکِ اسلام کی راہ ہوگی۔ دوم یہ کہ: ہندی مسلمان یہ راہ ہر گز نہ اپنائیں گے ۔ اس لیے متحدہ ہندوستانی قومیت کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہ ہوگا۔
تاریخ اقبال کی حیرت انگیز پیش بینی کی داد دیئے نہیں رہ سکتی۔ ہندی مسلمانوں نے واقعتا اپنی اجتماعی اور سیاسی زندگی میں ترکِ اسلام کی راہ اپنانے کی بجائے اسلام کے ساتھ اٹوٹ وابستگی کا عملی ثبوت فراہم کرتے ہوئے پاکستان قائم کر دکھایا۔ آج سیکولر ملائیت کے علمبردار روشن خیالی اور وسیع النظری کے نام پر ہمیں پھر سے اسلامی طرزِ حیات کی بجائے سیکولر طرزِ حیات اپنانے کا درس دے رہے ہیں۔ اِن کے استدلال پر ضرور غور کرنا چاہیے مگر اس غوروفکر کے دوران اس حقیقت کو ہر گز فراموش نہ کرنا چاہیے کہ سیکولر طرزِ حیات کی راہ کل بھی متحدہ ہندوستانی قومیت اور متحدہ ہندوستان کی راہ تھی اور آج بھی اکھنڈ بھارت کی راہ ہے۔
٭٭٭

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: