قائدِ اعظم اور امام الہندکے خطابات (8)

0

 کسی بھی معاشرے میں شخصیات کے مطالعے کیلیے انکا تجزیہ انسانی لیول پر کیا جانا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ انکی شخصیت پرستی کے بجاے انکے اعلی اوصاف حقیقی تناظر میں سامنے لاے جاسکیں۔ دانش کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت پر ایک جامع تحقیق و تنقید کا آغاز یہاں سے ہو رہا ہے۔ یہ اس سلسلے کا ساتواں مضمون ہے، ہر دو دن بعد ہم اس سلسلہ کی اگلی قسط شائع کرتے رہیں گے۔  زیر نظر مضمون شایع کرنے کا مقصد محض ایک علمی بحث کا آغاز ہے اور اگر کوئی صاحب اسکے جواب میں کچھ لکھنا چاہیں تو دانش کا پلیٹ فارم موجود ہے۔


قارئین مضمون کے عنوان سے کہیں اس غلط فہمی کا شکار نہ ہوں کہ کہیں میں قائدِاعظم محمد علی جناح اور مولانا ابو الکلام آزاد کی شخصیات کا کوئی تقابل پیش کرنے لگا ہیں۔ بلکہ جس طرح سابقہ مضامین میں ہم نے مولانا آزاد کے متضاد اور غیر حقیقی بیانات پر تنقید کی تھی اسی طرح اس مضمون میں بھی مولانا کے قائدِاعظم سے متعلق بعض من گھڑت اقتباسات کا تجزیہ پیش کیا ہے اور ان کے امام الہند بننے کی خواہش اور کوششوں کا تذکرہ بیان کیا ہے۔ مولانا آزاد کے خلاف سخت ترین جملے کہنے والی دو ہی شخصیات تھیں اور اتفاق سے دونوں محمد علی تھے۔ ایک مولانا محمد علی جوہر جنہوں نے مولانا آزاد کے متعلق نہرو رپورٹ کی حمایت کرنے پر 10 جنوری 1929ء کو ہمدرد میں “رودادِ چمن” کے عنوان سے اپنے مضمون میں لکھا۔

“پنڈ ت مالوی جی نے امیر آباد جاتے ہوئے کانپور سے ایک تار ہمارے نام بھیجا جس میں ہم سےدرخواست کی گئی کہ ہم سے علٰیحدگی اختیار نہ کریں اور جو کچھ مسلمانوں کے مطالبات ہوں ان کو پیش کریں۔ اس کا جواب ان کو یہ دیا گیا کہ ہم کو جو کچھ کہنا اور کرنا تھا وہ کر چکے اور کہہ چکے۔ اب اگر مسلمانوں کے ساتھ انصاف کرنا مقصود ہے تو غیر متعصب ہندو لیڈر اٹھیں اور متعصب ہنود کو سمجھا دیں۔ اس تار پران مولانا ابو الکلام آزاد کے بھی دستخط ثبت تھے جو ہنود کی زیادتیوں کے بارے میں عرصہ سے دہنِ مبارک پر سکوت لگا کر ’’ابوالکلام آزاد‘‘ کی جگہ ’’ابو السکوت اسیر‘‘ بنے بیٹھے ہیں اور جنہوں نے واللہ علم بالصواب بقول راویانِ ثقہ کنونشن کا تماشہ ختم ہونے پرفرمایا کہ “مسلمان احمق تھے کہ وہ کنونش کے سامنے اپنے مطالبات پیش کرنے آئے اور ہندو احمق تر تھے کہ انہوں نے ایسے مطالبات کو قبول نہ کیا”۔ جس کے یقینا” معنی یہ ہیں کہ مولانا ابوالکلام آزاد عقلمند ترین شخص ہیں کہ بالکل خاموش رہے اور بولے بھی تو ایک مشہور لطیفے کے امام کی طرح جس کے سارے مقتدی نمازمیں بول اٹھے تھے اور جس نے کہا تھا کہ شکر ہے میں نہیں بولا۔”
اور دوسرے قاعدِ اعظم محمدعلی جناح جنہوں نے مولانا آزاد کی ہندو مسلم مسئلے کے متعلق گفتگو کرنے کی دعوت پر انہیں لکھا تھا۔ “آپ کا ٹیلیگرام اعتماد پیدا نہیں کر سکتا۔ میں آپ سے خط و کتابت یا کسی اور طریقے پر گفت و شنید سے انکار کرتا ہوں۔ کیونکہ آپ مسلم ہندوستان کا قطعی طور پر اعتماد کھو چکے ہیں۔ کیا آپ محسوس نہیں کرتے کہ آپ کو “کانگریس کا مسلم شو بوائے” صدر اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس بات کو رنگ دے کر بیرونی دنیا کو دھوکہ دیا جا سکے کہ یہ نیشنل کانگریس ہے۔ آپ نہ مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور نہ ہندؤں کی۔ کانگریس ایک ہندو جماعت ہے۔ اگر آپ میں عزتِ نفس ہے تو فوراً مستعفی ہو جائیں۔ اب تک آپ نے لیگ کے ساتھ بدترین سلوک کیا ہے۔ آپ کو علم ہے کہ آپ بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ اسے چھوڑ دیجئے۔” مولانا آزاد کو یقینا” اس کا صدمہ ہوا ہو گا۔ اگر وہ اس جملے کا جواب دے سکتے تو شاید ان کی تسلی ہو جاتی مگر حالات اس وقت ایسے تھے کہ تمام دنیا انہیں کانگریس کا نمائشی صدر سمجھ رہی تھی۔ اس لیے وہ اس وقت اس کا جواب نہ دے سکے۔ مگر قائدِ اعظم کا یہ جملہ ایسا تیرِ نیم کش بن کر رہ گیاکہ آخر وقت اس کی خلش ان کو بے چین کرتی رہی اور پھر” آزادی ہند” کی تالیف شاید اسی محرک کا نتیجہ ہے کہ مولانا بتلا سکیں وہ ہرگز شوبوائے نہ تھے۔ اس کتاب کے ایک ایک جملے میں اسی جملے کی صدائے باز گشت سنائی دیتی ہے اور وہ بتلانا چاہتے ہیں کہ کانگریس کے کرتا دھرتا وہی تھے اور گاندھی، نہرو اور پٹیل وغیرہ ان کے بستہ بردار تھے۔

 محمد علی جوہر کے جملے”ابوالسکوت اسیر” کا بدلہ بھی اس طرح لیا کہ” آزادی ہند” میں ان کی تحریکِ آزادی کے لیے کی گئی خدمات کا ذکر تو خیر کیا کرتے بلکہ تحریکِ خلافت و ترکِ موالات کے لیے ان کی محنت کو گاندھی کی جھولی میں ڈال دیا۔

اب ہم اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہیں اور یہ دکھلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ قائدِ اعظم کو قائدِ اعظم کا خطاب کس طرح ملا اور مولانا آزاد کیسے اور کب امام الہند کہلائے۔

مولانا آزاد “آزادی ہند” میں فرماتے ہیں۔
“میرا خیال ہے کہ اس موقع پر مسٹر جناح کی طرف گاندھی جی کا بڑھنا ایک بہت بڑی سیاسی غلطی تھی۔ اس نے جناح کو ایک نئی اور مزید اہمیت عطا کر دی جس کا انہوں نے بعد میں پورا فائدہ اٹھایا۔ گاندھی جی نے جناح کی طرف دراصل شروع ہی سے عجیب و غریب رویہ اپنائے رکھا۔ دوسری دہائی میں کانگریس سے علٰیحدگی کے بعد جناح اپنی سیاسی اہمیت کھو بیٹھے تھے۔ اس کی بہت بڑی وجہ گاندھی جی کے بعض اقدامات اور غلطیاں تھیں کہ جناح نے ہندوستان کی سیاسی زندگی میں اپنی اہمیت پھر سے حاصل کر لی۔ واقعتا” اس بات میں شک ہے کہ گاندھی جی کے رویے کے بغیر جناح کو کبھی یہ برتری حاصل ہو پاتی۔ ہندوستانی مسلمانوں کے وسیع حلقے مسٹر جناح اور ان کی پالیسی کے متعلق شکوک رکھتے تھے۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ گاندھی جی ان کے پیچھے مسلسل بھاگ رہے ہیں اور انہیں خوش کرنے میں لگے ہیں تو بہتوں کے دل میں جناح کے لیے نئی عزت پیدا ہو گئی۔ ان کا خیال تھا فرقہ وارانہ مفاہمت میں مقید طلب شرطوں کی تکمیل کے لیے جناح شاید بہترین شخص ہیں۔

“جب 1944 ء میں نے یہ رپورٹ پڑھی کہ گاندھی جی جناح سے خط و کتابت کر رہے ہیں اور ان سے ملاقات کے لیے بمبئی جا رہے ہیں تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ گاندھی بہت بڑی غلطی کرر ہے ہیں۔ ان کا یہ فعل مسئلوں کو حل نہیں کرے گا بلکہ اس کے بر خلاف ہندوستانی سیاسی صورتِ حال دشوار تر بنا دے گا۔ جناح نے اس صورتحال سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور خود اپنی پوزیشن بنا لی لیکن انہوں نے ایک بھی ایسی بات نہ کی جو ہندوستان کی آزادی کے لیے معاون ثابت ہو سکتی۔”

مولانا آزاد کے اس پورے تبصرے سے تو لگتا ہے کہ اگر گاندھی جی قائدِ اعظم سے خط و کتابت یا ملاقات نہ کرتے تو قائدِ اعظم کو کوئی جاننے والا نہ ہوتا۔ ہندوستان کی سیاسی زندگی میں قائدِ اعظم کو جو اہمیت حاصل ہوئی وہ نہ گاندھی جی کا عطیہ تھی اور نہ گاندھی جی کی غلطی کا نتیجہ۔ قائدِ اعظم نے جو بھی مقام حاصل کیا وہ اپنی دیانتِ فکر، اصابتِ رائے اور بے داغ کریکٹر کی وجہ سے تھا۔ یہ تو مولانا بھی مانتے ہیں کہ قائدِ اعظم کی اہمیت کانگریس سے علٰیحدگی کے بعد کم ہوئی اس سے پہلے وہ اپنا مقام ہندوستانی سیاست میں بنا چکے تھے۔ جس وقت قائدِ اعظم کانگریس میں شامل ہوئے اس وقت ان کے دو بڑے حریف، گاندھی جی افریقہ میں انگریزوں کے لیے رنگروٹ بھرتی کر رہے تھے اور نہروابھی قانون کی تعلیم پا رہے تھے۔ 1906ء میں جب گاندھی پہلی بار ہندوستان آئے تو جس بھی اجلاس میں انہیں بلایا جاتا قائدِ اعظم پہلے سے نمایاں جگہ موجود ہوتے۔ پھر دوسری بار جب انہوں نے افریقہ کو خیر باد کہا اور یہاں ہمیشہ کے لیے آئے تو بھی ان کی منہ دکھلائی کے لیے بلائے گئے اجلاس کی صدارت قائدِ اعظم سے کرائی گئی تا کہ لوگ اکٹھے کیے جا سکیں۔

قاعدِ اعظم نے اپنی اہمیت اس وقت بنوائی جب 1913ء میں قانون ساز اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے مسلمانوں کے ایک دیرینہ مسئلہ، جو 1873ء سے چلا آرہا تھا، کے سلسلے میں “قانون وقف علی الاولاد” کا بل منظور کرایا اور یاد رہے یہ ایک فقہی مسئلہ تھا اور قائدِ اعظم نے مجلس میں اس مسئلے پر جو تقریریں کیں وہ ان کے اسلامی فقہ سے واقفیت کی دلیل ہیں۔ پھر 1916ء میں کانگریس لیگ کے درمیان معاہدہِ لکھنو کرا کر “ہندو مسلم اتحاد کے سفیر” کہلائے۔ اسی طرح 1918ء میں بمبئی کے گورنر لارڈ ولنگٹن سے ان کی چپکلش اور دسمبر میں اس کے الوداعی جلسے کو درہم برہم کرنا ایک یادگار واقعہ ہے۔ اسی بہادری کے صلے میں کانگریس کے چندے سے بمبئی میں جناح میموریل ہال تعمیر کیا گیا۔ جس کے افتتاح کے موقع پر قائدِ اعظم ہندوستان میں موجود نہ تھے۔مسٹر سروجنی نائیڈو نے ہال کا افتتاح کرتے ہوئے کہا تھا۔ “جناح ہندو مسلم اتحاد کا سفیر ہے اور ایسی خوش نصیب شخصیت ہے جس کے ہم وطنوں نے اپنے وطن اور اس کی حیات ہی میں قدر کی ہے۔” ڈاکٹراینی بسنت نے کہا تھا۔ “جناح جیسی شخصیتیں بنی نوعِ انسان کی آزادی کے گلے کا ہار ہیں جن کی یاد ہمیشہ تازہ رہے گی۔” اور مسز سروجنی نائیڈو نے قائدِ اعظم کو تار دیا جس میں لکھ۔ا۔ “پیغمبر کی زندگی ہی میں قوم نے اس کی قدر پہچان لی۔”
 ہاں نہرو رپورٹ کے بعد مسلمان رہنماؤں کی آپس کی پھوٹ اور اختلافات نے انہیں ضرور دل برداشتہ کیا اور وہ انگلستان چلے گئے۔ 1933ء میں ہندوستان میں کوئی ایسا لیڈر نہ تھا جو مسلم لیگ کی قیادت کر سکتا۔ حکیم اجمل خان، مولانا محمد علی جوہر، راجہ صاحب محمود آباد اور سر محمد شفیع اس قابل تھے مگر وہ اللہ کو پیارے ہوچکے تھے۔ آخر لیگ کے سالانہ اجلاس میں قرارداد کے ذریعے قائدِ اعظم کو واپس بلانے اور انہیں مسلم لیگ کی قیادت سنبھالنے کی تجویز پاس ہوئی۔ 1934ء میں قائدِ اعظم ہندوستان آئے اور حالات کا جائزہ لے کر واپس چلے گئے۔ آخر 1935ء میں واپس آکر لیگ کی قیادت سنبھال لی۔ ابھی لیگ کی تنظیم سازی جاری تھی کہ الیکشن کا مرحلہ آگیا۔ اس الیکشن میں اگرچہ مسلم لیگ 485مسلم نشستوں میں سے 102ہی جیت سکی مگر قائدِ اعظم کا پیغام” اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم” برِ صغیر کے کونے کونے میں پہنچ چکا تھا۔

اسی الیکشن میں شکست کے بعد جب قائدِ اعظم نے گاندھی سے درخواست کی کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کے لیے کوشش کریں تو اس وقت گاندھی نے جواب دیا تھا۔”مجھے چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے۔ مجھے افسوس ہے میں اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتا۔” یہ تھا جیت کا نشہ۔ مگر بعد کے ضمنی انتخاب میں 5جگہوں پر مسلم لیگ نے کانگریس کو شکست دی تو حالات بدلنے لگے۔ کلکتہ کے لیگ کے کھلے اجلاس میں 2لاکھ سے زیادہ افراد کا جوش دیکھ کر گاندھی کی آنکھیں کھلیں اور انہوں نے قائدِ اعظم کو خود تار بھیجا۔ اگر قائدِ اعظم کی کوئی اہمیت نہ تھی تو خود مولانا آزاد نے اکتوبر1939ء میں انہیں دو بار کیوں خطوط لکھے۔ پھر 1940ء کا ٹیلیگرام کس لیے تھا جس کے جواب میں قاعدِ اعظم نے’’شو بوائے‘‘ کے فقرے والا خط لکھا تھا۔ جس وقت گاندھی جی 1944 ء میں قائدِ اعظم سے خط و کتابت اور ملاقاتیں کر رہے تھے جس کا حوالہ مولانا آزاد نے دیا ہے اس وقت تو حالات ہی بدل چکے تھے۔ قائدِ اعظم رابطہِؑ عوام مہم کے ذریعے ہندوستان کے مسلمانوں کی آخری امید بن چکے تھے۔ کرپس مشن کا آنا ان کی کامیابی کی دلیل تھی۔ دوسری طرف کانگریس 1942ء کی “ہندوستان چھوڑو” تحریک میں ناکام ہو چکی تھی۔ اس لیے گاندھی کا قائدِ اعظم سے ملنا ازراہِ مجبوری تھا۔

مولانا آزاد کا یہ جملہ بھی حیران کن ہے کہ “جب ان مسلمانوں، جن کے دل میں جناح کے متعلق شکوک تھے، نے یہ دیکھا کہ گاندھی ان کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور انہیں خوش کرنے میں لگے ہیں تو ان کے دل میں جناح کے لیے نئی عزت پیدا ہو گئی۔” جو مسلمان گاندھی کے اتنے عقیدت مند تھے کہ ان کی وجہ سے قائدِ اعظم کی عزت کرنے لگے، انہوں نے براہِ راست گاندھی کے سامنے سرِ عقیدت کیوں نہ جھکادیا۔ یعنی گاندھی جی کی وجہ سے قائدِ اعظم کو زعیم کبیر مانا اور پھر قائدِ اعظم کی وجہ سے گاندھی سے منحرف ہو گئے۔ کیسی عجیب منطق ہے۔

مولانا آزاد “آزادیٔ ہند ” میں مزید فرماتے ہیں۔ “یہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ گاندھی جی ہی تھے جنہوں نے مسٹر جناح کے لیے سب سے پہلے قائدِ اعظم یعنی بہت بڑے لیڈر کے خطاب کو رواج دیا۔ گاندھی کے کیمپ میں ایک بے وقوف لیکن نیک صفت خاتون تھیں جن کا نام امت السلام تھا۔ اس نے اردو اخبارات میں جناح کا ذکر قائدِ اعظم کے طور پر دیکھا تھا۔ جس وقت گاندھی جی ملاقات کے لیے جناح کو خط لکھ رہے تھے، اسی خاتون نے گاندھی جی سے کہا اردو اخبارات جناح کو قائدِ اعظم لکھتے ہیں۔ آپ بھی انہیں اسی نام سے خطاب کریں۔ اس اقدام کے مضمرات پر ایک لمحے کے لیے بھی غور کیے بغیر گاندھی جی نے جناح کو قائدِ اعظم کے نام سے خطاب کیا۔ یہ خط جلد ہی اخباروں میں چھپ گیا۔ ہندوستانی مسلمانوں نے جب یہ دیکھا کہ گاندھی جی بھی جناح کو قائدِ اعظم کہتے ہیں تو انہوں نے سوچا کہ وہ سچ مچ قائدِ اعظم ہیں۔”

مذکورہ خط 1940ء کا ہے جبکہ تحریروں و ثبوتوں کے مطابق 7دسمبر 1936ء کو مرادآباد کی جامع مسجد میں مولانا احمد سعید نے پہلی بار یہ خطاب قائدِ اعظم کے لیے استعمال کیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے مسلم لیگ کے ورکروں کا ایک نعرہ بن گیا۔ مسلم لیگ کے جلسوں میں قائدِ اعظم زندہ باد کے نعرے لگائے جاتے اور 1938ء کے مسلم لیگ کے پٹننہ اجلاس تک یہ نعرہ مقبولیت کے عروج پر تھا۔ اور میاں فیروز الدین ہر اجلاس میں قائدِ اعظم زندہ باد کے نعرے لگاتے تھے۔

ایک اور چیز بھی بڑی اہم ہے جب 1939ء میں صوبوں میں کانگریس کی وزارتیں ختم ہوئیں تو قائدِ اعظم نے سارے ملک میں یومِ نجات کا اعلان کیا۔ یومِ نجات منائے جانے والے دن گلبرگہ کے مسلمانوں کی طرف سے گاندھی کو ایک تار موصول ہوا جس میں لکھا تھا۔ “یومِ نجات کی مبارکباد،قائدِ اعظم زندہ باد” گاندھی نے اپنے اخبار ہریجن میں جنوری 1940ء کو لکھا۔ “جب مجھے یہ تار ملا تو میں بھی تار بھیجنے والوں کی تمنا اور خواہشات میں شامل ہو گیا۔ قائدِ اعظم زندہ باد، قائدِ اعظم ہمارے ایک پرانے ساتھی ہیں۔” اور 16جنوری 1940ء والے خط، جس میں گاندھی نے قائدِ اعظم لکھا تھا، کے ساتھ اپنے ہریجن والے مضمون کی کاپی بھی قائدِ اعظم کو بھیجی تھی۔ دراصل گاندھی چاہتے تھے کہ قائدِ اعظم بھی انہیں مہاتما گاندھی کے نام سے مخاطب کریں لیکن جب قائدِ اعظم نے ایسا نہیں کیا تو پھر کبھی بھی گاندھی نے خطوط میں قائدِ اعظم کو قائدِاعظم کے نام سے مخاطب نہ کیا۔

یہ تمام حقائق مولانا آزاد کے بیان کی نفی کرتے ہیں۔ دوسری طرف “آٓزادی ہند” کے اثرات کا یہ حال ہے کہ آکسفورڈ کی مشہور خاتون پاکستانی محقق محترمہ عائشہ جلال نے ٹیلیویژن پر دعویٰ کر دیا کہ آپ کو پتا ہے قائدِ اعظم کو قائدِ اعظم کا خطاب کس نے دیاتھا۔ جب اینکر نے لاعلمی کا اظہار کیا تو فرمایا گاندھی جی نے۔ ایسی مصنفہ کی بقیہ تحقیق کا اندازہ اس ایک بات سے بخوبی ہو جاتا ہے۔ ویسے ’’الہلال‘‘میں بعض اوقات مولانا آزاد کے نام کے ساتھ بھی قائدِ اعظم لکھا ہوا ملتا ہے۔ اس کے علاوہ مولانا آزاد نے کانگریس کے خصوصی اجلاس میں 1923ء میں گاندھی کو بھی قائدِ اعظم کہا تھا۔

قائدِاعظم کسی قسم کے اعزاز کو نا پسند کرتے تھے اور نہ ہی انہوں نے کبھی اپنے لیے کسی خطاب یا لقب کی خواہش کی۔ جس کا ایک ثبوت مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاء الدین احمد اور قائدِ اعظم کے درمیان خط و کتابت ہے۔ ڈاکٹر ضیاءالدین نے قائدِ اعظم کو لکھا کہ یونیورسٹی انہیں ڈاکٹر آف لاز کی اعزازی ڈگری دینا چاہتی ہے مگر قائدِ اعظم نے انکار کر دیا اور لکھا۔ “میں نے زندگی صرف مسٹر جناح کی حیثیت سے بسر کی ہے اور صرف مسٹر جناح کی حیثیت سے مرنے کی آس رکھتا ہوں۔ مجھے بہت مسرت ہو گی اگر میرا نام کسی کے سابقے سے مبرا رہے۔”

یہ ہے قائدِاعظم کا خطاب اور قائدِ اعظم کا کردار۔ اور دوسری طرف مولانا آزاد اور امام الہند کی کہانی بڑی دلچسپ بھی ہے عبرت انگریز بھی۔

یہ خطاب ایسا ہے جو کبھی مولانا آزاد کی امیدوں اور آرزؤں کا مرکز رہا تھا۔ یہ خطاب پانے کے نہ صرف مولانا آزاد خواہشمند تھے بلکہ یہ خطاب پانے کے لیے انہوں نے مہم بھی چلائی اور مریدوں کی مدد سے دوسرے علماء کو قائل کرنے کی بھی کوشش کی مگر”اے بسا آرزو کہ خاک شدہ”۔ نہ علمائے وقت نے مولانا آزاد کو اس خطاب سے نوازا اور نہ عامتہ الناس نے شرفِ قبولیت بخشا۔ پھر بھی چند فیس بکیے، چند صحافی اور چند نیم ملا ایسے ہیں جو آج بھی مولانا آزاد کے نام کے ساتھ یہ خطاب لکھ کر سینکڑوں علمائے ہند کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

اس خطاب کے اجمال کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ 1919ء میں برصغیر کےعلماء نے جمعیت علمائے ہند کی بنیاد رکھی جس کا پہلاا سالانہ اجلاس نومبر 1919ء میں ہوا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد “شیخ الہند” مولانا محمود حسن مالٹا کی اسیری کے دن پورے کرکے ہندوستان تشریف لائے۔ اس وقت ان کی صحت کافی خراب تھی اور انہوں نے اپنے حلقے کے مریدوں سے کہا کہ میرا کام مکمل ہو چکا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمانانِ ہند ایک جھنڈے تلے جمع ہو کر انگریز سے آزادی کی جدوجہد کریں اور اس کے لیے ایک “امام الہند” کا انتخاب کریں۔ یہ خبر جب مولانا ابوالکلام آزاد تک پہنچی تو ان کے دل میں پہلے سے موجود خواہش نے انگڑائی لی اور وہ سمجھے کہ ان کی مراد برآئی۔ چونکہ اس سے پہلے وہ’’حزب اللہ‘‘ کے نام سے ایک تنظیم بنا چکے تھے جس کے لیے وہ اپنی بیعت بھی لیا کرتے تھے۔ اپنے لیے بیعت کا مقصد ان کے مقرر کردہ خلیفہ مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی کے بقول یہی تھا کہ جب ہندوستانی مسلمان اور علماء کے سامنے آزادی کی جدوجہد میں امامت کا مسئلہ پیدا ہو گا تو ان کے لیے راہ پہلے سے ہموار ہو چکی ہو گی۔

شیخ الہند مولانا محمود حسن کی طرف سے امام الہند کا تذکرہ سن کر مولانا کے خلیفہ رزاق ملیح آبادی مولانا آزاد کے لیے راستہ صاف کرنے نکل کھڑے ہوئے۔ پہلے پہل وہ خود شیخ الہند سے ملے۔ انہیں دو تین ناموں کا تذکرہ کرنے اور ان کے کردار کی کمزوریاں بیان کرنے کے بعد مولانا آزاد کی خوبیاں بیان کرنے اور مولانا محمود الحسن کو ان کی طرف مائل کرنے میں اپنے تائیں کامیاب ہو گئے۔ اگلا مرحلہ کچھ اور علماء کو بھی ہم نوا بنانے کا تھا جس کے لیے مولانا رزاق ملیح آبادی، مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید کو ساتھ ملانے میں کامیاب ہو گئے۔ ان حالات میں جمعیت علمائے ہند کا دوسرا سالانہ اجلاس نومبر 1920ء میں منعقد ہوا جس میں مولانا محمود الحسن بنفسِ نفیس شریک تھے۔ اس اجلاس سے پہلے علماء کے درمیان ہونے والی خط و کتابت سے بھی عیاں ہے کہ اس اجلاس میں مسئلہ امامت زیرِ غور آنے اور کسی کو “امام الہند” منتخب کیے جانے کی امید تھی۔ مگر چند سرکردہ علماء جن میں علامتہ الہند معین الدین اجمیری اور مولانا عبد الباری فرنگی محلی کا خیال تھا کہ ایسے اہم مسئلے کو جلد بازی میں نہ نمٹایا جائے۔ اگرچہ مسئلہ امامت سے مولانا آزاد کو بھی بڑی امیدیں تھیں مگر مذکورہ اجلاس میں مسئلہ امامت اور امام الہند کے انتخاب کی صورت پیدا نہ ہو سکی۔ اس اجلاس کے دس دن بعد شیخ الہند مولانا محمود الحسن کا انتقال ہو گیا۔

تاہم مولانا آزاد اور ان کے لواحقین کی کوششیں برابرجاری رہیں۔ اس سلسلے میں خط و کتابت بھی ہوتی رہی اور ملاقاتیں بھی۔ ان حالات میں جمعیت علمائے ہند کا تیسرا سالانہ اجلاس اپریل 1921ء میں بریڈ ہال لاہور میں ہونا طے پایا۔ جس کی صدارت کے لیے منتظمین نے پیشگی مولانا آزاد کا نام اس امید میں طے کر دیا کہ اب “امام الہند” کی تجویز منظور ہو جائے گی۔ جسے امام لہند بننا ہے اسے ہی اجلاس کا صدر ہونا چاہیے مگر ایسا نہ ہو سکا۔ مذکورہ اجلاس میں جب یہ تجویز زیرِ غور آئی تو پہلے خود مولانا آزاد نے اور بعد میں مفتی کفایت اللہ اورمولانا احمد سعید نے حمایت کی۔ لیکن اس کے بعد مولانا معین الدین اجمیری نے تقریر کی اور کہا “آیاز قدرِ خود بشناس۔ کہاں تم اور کہاں یہ رفیع و عالی منصب۔ تم ایسے نو عمر کو تو اکابر علماء کی موجودگی میں زبان کھولنا بھی مناسب نہیں۔” ان کے بعد مولانا انور شاہ کشمیری اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے بھی مخالفت میں تقریریں کیں۔ جبکہ مولانا عبد الباری فرنگی محلی اور علی برادران بھی مولانا آزاد کے لیے اس خطاب کے مخالف تھے۔ اس موقع پر سینکڑوں علماء موجود تھے مگر مولانا آزاد کے حق میں کہیں سے کوئی آواز نہ اٹھی اور یہ قصہ ہمیشہ کے لیے یہیں دفن ہو گیا۔

اوپر میں نے عبد الرزاق ملیح آبادی کا ذکر کیا ہے۔ یہ وہی عبد الرزاق ملیح آبادی ہیں جنہوں نے “آزاد کی کہانی،آزاد کی زبانی” جیل کے دوران مولانا آزاد سے سُن کر مرتب کی تھی۔ اپنی دوسری کتاب “ذکرِ آزاد”مولانا آزاد کے ساتھ گزارے 38 سال کے ضمن میں لکھتے ہیں۔

“مولانا آزاد نے بتایا دوسرے صوبوں میں بیعت کا کام جاری کر دیا ہے۔ یو پی کا صوبہ تم اپنے ذمہ لو۔ میں راضی ہو گیا۔ تواپنے ہاتھ سے لکھ کر تحریر دی جس میں مجھ کو اپنا خلیفہ مقررکیا اورلکھا کہ میں ان کی بیعت لینے کا مجاز ہوں۔ تحریر حسبِ ذیل ہے۔

“اخویم مولوی عبد الرزاق ملیح آبادی نے فقیر کے ہاتھ پر بیعت کی ہے وہ بیعت لینے اور تعلیم و ارشادِ سلوکِ سنت میں فقیر کی جانب سےمازون و مجاز ہیں، جو طالبِ صادق ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے انہوں نے خود فقیر سے بیعت کی۔”

آگے لکھتے ہیں۔ “اسی زمانے میں شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحب مالٹا کی نظر بندی سے چھوٹ کر پہلی دفعہ لکھنو تشریف لائے اور فرنگی محل میں ٹھہرے۔ میں وہاں گیا اور بزمِ خویش دونوں بزرگوں یعنی مولانا عبد الباری اور حضرت مولانا محمود الحسن کو مولانا آزاد کے امام الہند بننے پر راضی کرنا چاہا مگر دونوں بات ٹال گئے۔ مولانا عبد الباری نے ایک مبہم تحریر بھی لکھ دی جس کا خلاصہ حسبِ ذیل ہے۔

“مولانا محمود الحسن سے دریافت کیا تو وہ بھی اس بار کے متحمل نظر نہیں آتے۔ مولانا ابوالکلام صاحب اسبق ہیں۔ان کی امامت سے مجھے استخفاف نہیں ہے۔ سر و چشم قبول کرنے کو تیار ہوں بشرطیکہ تفریقِ جماعت کا اندیشہ نہ ہو۔ مولانا تو اہل ہیں۔ کسی نا اہل کو بھی اگر اہلِ اسلام قبول کر لیں گے تو وہ لوگ سب سے زیادہ اطاعت گزار و فرمانبردار مجھے پائیں گے۔ اصل یہ کہ یہ تحریک دیانتاً میں اپنی سمت سے جاری کرنا نہیں چاہتانہ کسی کو منتخب کر کے اس کے اعمال اپنے اوپر لینا چاہتا ہوں۔ مسلمانوں کی جماعت کا تابع ہوں۔ اس سے زائد مجھے اس تحریک سے تعرض نہیں۔”

یہ خط مولانا کو ملا انہوں نے مجھے لکھا۔ “مولوی عبد الباری کا خط دیکھا “یارِما ایں دارد و آں نیز ہم” سرِ دست اس قصہ کو تہہ کیجئے اور کام کیے جایے۔ پنجاب، سندھ اور بنگال میں تنظیم مکمل ہے۔”

اب یہ معلوم نہ ہو سکا پنجاب، سندھ اور بنگال میں جس تنظیم کے مکمل ہونے کا مولانا آزاد دعویٰ کر رہے ہیں وہاں کتنے ہزار یا کتنے لاکھ لوگ مولانا نے مرید کر لیے تھے۔

 آگے چل کر مولانا رزاق ملیح آبادی ایک اور خط مولانا آزاد کی طرف سے نقل کرتے ہیں۔

“بہر حال ہمارا دائرہِؑ عمل مکمل ہو چکا ہے۔ پنجاب، سندھ و بنگال متحد و متفق ہیں۔ اور اب کام تیزی سے جاری ہو گیا ہے۔ ان لوگوں کے فیصلے کا انتظار بے سود تھا اور بے سود ہے۔ ” یعنی مولانا محمود الحسن، مولانا عبد الباری اور دوسرے علماء سے حما یت بے سود تھی اور بزعمِ خود مولانا آزاد خود کو اس منصب کا نہ صرف اہل پاتے تھے بلکہ “امام الہند” بن بیٹھے تھے۔ کیونکہ بقول ان کے پنجاب، سندھ و بنگال ان کی امامت پر متفق ہو چکے تھے۔

عبد الرزاق ملیح آبادی مزید لکھتے ہیں۔

“پھر مولانا آزاد نے تحریکِ امامت کو ختم کر دیا اور امامت کے معاملے کی اہمیت دفعتاً” مولانا کے ذہن میں کم ہو گئی اور اس کا سبب انہوں نے کبھی نہیں بتایا۔” مگر بقول ملیح آبادی۔” لیکن مولانا محمدعلی جوہر نہایت مستعد لیڈر تھے اور طوفانی طبیعت رکھتے تھے۔ ان کا اثر تیزی سے بڑھ رہا تھا اور مولانا آزاد کی امامت ہی کے نہیں خود مولانا کی ذات کے سخت مخالف تھے۔ دونوں میں عمر بھر رقابت رہی۔ قدرتی طور پر مولانا نے جو ازحد معاملہ فہم اور ٹھنڈی طبیعت کےآدمی تھے۔ محسوس کر لیا کہ علی برادران سے تصادم مسلمانوں میں پھوٹ ڈال دے گا۔ مسلمانوں کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ بھی انہی علی برادران کےساتھ تھا۔ پھر فرنگی محل بھی مخالف تھا اورگو شیخ الہند کی طرف سے مخالفت نہ تھی مگر دیوبند کا طاقتور حلقہ بھی مولانا کا طرفدارنہ تھا”۔

جو بات ہم نے اوپر دوسرے حوالوں سے لکھی ہے مولانا آزاد کے خلیفۂِ مجاز کی تحریر اس کی تائید کرتی ہے۔ یعنی علمائے ہند مولانا آزاد کے لیے”امام الہند”کے خطاب کے مخالف تھے۔ اس کے باوجود کچھ لوگ آج بھی انہیں “امام الہند” لکھتے اور انہیں “امام الہند” منوانا چاہتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ برِصغیر میں انہی کے مسلک کے سربرآوردہ علماء نے انہیں اس خطاب سے نوازنے سے یکسر انکار کردیا تھا۔

ایک طرف قائدِ اعظم جو کسی سابقے و لاحقے کو ناپسند کرنے والے اور دوسری طرف مولانا آزاد جو “امام الہند” کا خطاب پانے کے متمنی و شیفتہ۔

۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔

اس تحریر کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا تیسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا چوتھا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا پانچواں حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا چھٹا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا ساتواں حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: