افطار پارٹی میں جانے کے سنہرے اصول (شوکت علی مظفر)

0

افطار میں جس کی رفتار سست ہو ایسے لوگوں پر ترس نہ کھایا جائے تو کیا کیا جائے؟ مانا کہ مہنگائی نے لوگوں کو خیالی پلائو اور شربت دیدار تک محدود کردیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ افطار پارٹیوں میں جاکر بھی مسکینی کا اظہار کیا جائے۔پارٹی کا مطلب ہی یہی ہوتا کہ آپ نے پیٹ کے علاوہ کسی پارٹی کی نہیں سننی۔ بعض لوگ شرم کے مارے پارٹیوں سے بھی بھوکے واپس آجاتے ہیں کہ زیادہ کھاتے دیکھ کر لوگ کیا کہیں گے؟ حالانکہ ایسے موقع پر لوگ صرف اشیاء خورد و نوش کو ہی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کو تو وہ فارغ وقت میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ کچھ لوگ نفاست سے کھانے کے باعث بھی خالی پیٹ رہ جاتے ہیں اور دونوں ہاتھوں سے مال سمیٹنے، سمیٹ کر حلق میں انڈیلنے، حلق سے پیٹ تک منتقل کرنے والوں کو کراہیت سے دیکھ دیکھ کر اپنا پیٹ بھر لیتے ہیں۔ اگر پارٹیوں میں کوئی شرم سے کھا نہیں سکتا، مناسب مقدار میں کھانے پینے کی اشیاء نہیں سمیٹ سکتا، نفاست اور رکھ رکھائو کے باعث وہ اپنا سا منہ لے کر رہ جاتا ہے تو ایسے لوگوں کیلئے ہی مَلک صاحب نے افطار پارٹی میں جانے، جاکر کھانے اور حق مہمانی ادا کرنے کے کچھ سنہری اصول وضع کیے، امید ہے کہ ان پر آنکھ بند کر کے عمل کیا جائے تو افاقہ ہوگا۔
٭افطار پارٹی میں جانے سے قبل مارکیٹ کا چکر لگا لیں تاکہ آپ کو پتہ چل جائے کہ آپ کتنی قیمتیں چیزیں مفت میں کھانے جارہے ہیں۔
٭جس طرح شادی میں سمجھ دار لوگ کھانا لگانے کی میز کے قریب ہی بیٹھ کر سیاسی گفتگو کرتے ہیں افطار میں اس کے الٹ کرنا ہوتا ہے کیونکہ افطار کا سامان سب کے سامنے چن دیا جاتا ہے اس لیے آپ دسترخوان پر اس جگہ بیٹھیں جہاں ہاتھ آسانی سے دائیں بائیں حرکت کرسکے اور ہر چیز آپ کی پہنچ میں ہو۔
٭افطار پارٹیوں میں سیاسی گفتگو بالکل نہیں کرنی کیونکہ ایک تو اس سے روزہ خراب ہونے کا اندیشہ رہتا ہے دوسرا ٹائم بھی نہیں کٹتا البتہ محلے کے مولوی کی برائیاں اور تراویح میں کی جانے والی غلطیاں گنوا کر اچھا ٹائم پاس کیا جاسکتا ہے۔

شوکت علی مظفر

٭اگر کسی کا روزہ نہیں اور وہ پھر بھی افطار پارٹی میں موجود ہے تو بالکل فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ بار بار پیاس لگنے کا ذکر کریں، موسم کی سختی اور حالات کی کم بختی بیان کریں اور اپنی پہلی افطاری کا قصہ سنانے بیٹھ جائیں اس طرح لوگوں میں آپ کا امیج بن جائے گا کہ آپ پیدائشی روزہ دار ہیں۔
٭احتیاطی طور پر ایک عدد کم سن لیکن سمجھ دار بچہ ساتھ لے کر جائیں کیونکہ یہی ہستی آپ کو افطار کے وقت زیادہ سامان سمیٹنے میں مدد دے گی، بچے کی فرمائش کے نام پر آپ قدرے دور بیٹھے احباب کے سامنے پڑی طشتریوں میں موجود کوئی بھی چیز مانگ سکتے ہیں۔ اس سے ایک تو شرمندگی نہیں ہوگی اور احباب بھی انکار سے ہچکچائے گا کہ بچے کو کس منہ سے منع کیا جائے؟ البتہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ کوئی دوسرا یہی حرکت کرے تو فوراً ٹوک دیں کہ کیا کر رہے ہیں حاجی صاحب! یہ چیز تو بچے کیلئے عام دنوں میں نقصان دہ ہے رمضان میں کھلا کر کیا اسے نیم جان کرنے کا ارادہ ہے، بچے سے دشمنی کیوں کرنے لگے ہو۔ اگلا خود ہی پریشان ہوکر انکار کردے گا اور فوراً آپ وہ چیز اٹھا کر مزے سے کھا لیں کیونکہ آپ کون سا بچے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ٹوٹکا اگر کوئی دوسرا آپ کے ساتھ آزمانے کی کوشش کرے تو فوراً کہہ دیں، اجی جانتا ہوں سب۔ بس آپ دیجئے، بچے کب مانتے ہیں ان باتوں کو۔
٭میزبان کی جانب سے جونہی شربت کا جگ رکھا جائے تو اسے ٹھیک طریقے سے رکھنے کا کہہ کر اپنے سامنے لیکن قدرے پرے رکھیں ورنہ سب آپ سے شربت مانگتے رہیں گے اور یوں وقت اور سامان ضائع ہوتا رہے گا۔ اس موقع پر ایک طریقہ یہ اختیار کیا جاسکتاہے کہ جیسے ہی شربت رکھا جائے تو آپ طبی نکتہ نظر واضح کرنا شروع کردیں کہ افطار کے وقت فوراً زیادہ سیال چیزیں استعمال نہ کی جائیں کیونکہ اس سے پیٹ خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اور دو تین پیچیدہ و سنجیدہ بیماریوں کے نام بھی اپنے فرضی رشتہ داروں یا دوستوں سے منسوب کردیں کہ وہ بھی افطار میں زیادہ شربت استعمال کرنے سے انتقال فرما گئے۔
٭ اذان ہوتے ہی ایک اہم مرحلہ شروع ہوجاتا ہے، کچھ لوگوں کو کھجوریں بہت پسند ہوتی لیکن وہ محفل کے احترام میں زیادہ کھانے سے اجتناب برتتے ہیں، تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں آپ دل کھول کر کھجوریں کھائیں بس احتیاط یہ کریں گٹھلیاں ہمیشہ برابر والے کے سامنے رکھیں اور فروٹ کے چھلکوں میں بھی یہی احتیاط آپ کی شخصیت کو چار چاند لگا سکتی ہے۔ اگر کوئی دوسرا یہی حرکت کرے تو فوراً ٹوک دیں، حضرت! مجھے کھجور کی گٹھلیوں سے الرجی ہے، مجھ پر رحم کیجئے اور ذرا کم کھائیے کیونکہ روزہ تقویٰ سکھاتا ہے نہ کہ تکیہ لے کر دستر خوان پر بیٹھ جانا۔
٭آپ ہر پھل کا مزا لیں اور آخر میں سموسہ کھا کر شربت پئیں تاکہ پیٹ میں گنجائش بن جائے، تین تین منٹ کے کئی کامیاب رائونڈ آپ کرسکتے ہیں۔ شربت ہمیشہ نمکین چیز کے بعد پئیں اس سے زیادہ مزا آتا ہے اور شربت بھی زیادہ پینے میں آسانی ہوتی ہے۔
٭لوگ نماز کیلئے اٹھنے لگیں تو آپ بھی دستر خوان پر طائرانہ نظر ڈال کر دیکھ لیں کہ کوئی چیز رہ تو نہیں گئی اگر کچھ رہ گیا ہو تو بلا جھجک وہ طلب کرکے کھالیں اس سے آپ کا نماز میں دھیان نہیں بٹے گا کہ فلاں چیز رہ گئی، کھا لیتا تو اچھا تھا۔
٭نماز کے لیے اٹھتے وقت آپ میزبان سے اس چیز کی تعریف ضرور کریں جو آپ کو زیادہ پسند آئی ہے۔ تعریف سن کر میزبان کے کالر کھڑے ہوجائیں گے لیکن آپ نے یہیں بس نہیں کرنا۔ آپ نے تعریف کے فوراً بعد میزبان کے کان بھی کھڑے کردینے ہیں کہ تھوڑا پارسل کردیں تو سحری میں بھی لطف لوں گا اور آپ کو دگنا ثواب حاصل ہوگا۔ تعریف کے بوجھ تلے میزبان میں انکار کی ہمت نہ ہوگی۔ بالفرض میزبان اگر چالاکی کرے اور چیز ختم ہونے کا کہے تو آپ نے ہار نہیں ماننی بلکہ فرمائش کو کنورڈ کرتے ہوئے کہہ دینا ہے کہ جو چیز بچ گئی ہو وہی دے دیں، اب آپ کو ثواب سے محروم کرنا اچھی بات تو نہیں ہے۔
٭ اکثر افطار پارٹیوں میں نماز کے بعد کھانا بھی ہوتا ہے اس لیے نماز خشوع خضوع سے کچھ طویل کرکے ادا کریں اس سے بھی پیٹ میں گنجائش بن جاتی ہے دوسرا لوگ آپ کو نمازی سمجھ کر عزت بھی دیں گے۔
امید ہے کہ یہ کچھ سنہری اصول آپ کو پسند آئے ہوں گے ویسے بھی مَلک صاحب تو رمضان میں ایک ہی نعرہ لگاتے ہیں کہ نہ ایم کیو ایم، نہ پی پی، نہ ن لیگ، نہ پی ٹی آئی اور نہ کوئی اور پارٹی۔ بس ایک ہی پارٹی زندہ باد اور وہ ہے افطار پارٹی!

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: