کولڈ ڈرنک: میڈیا اور تاجر کے گٹھ جوڑ کی بھیانک داستان

0
  • 1
    Share

عہد کم ظرف کی’خوراک‘ گوارا کرلیں؟

جدید دور میں صارفیت، انفرادیت اور سرمایہ داریت کے مذموم اتحاد ثلاثہ نے انسان کو بری طرح سے گھیر رکھا ہے اور اس سے ’’خبر‘‘ کو چھپا کر باخبر رہنے کے مسلسل فریب میں مبتلا کررکھا ہے۔ ہماری خوراک بھی اب خوراک کی روایتی تعریف کے مطابق خوراک ہی نہیں رہنے دی گئی، اور اسے بھی فطرت کے بجائے مشینوں کا مرہون منت کردیا گیا ہے۔ ہم روزانہ “خوراک” کے نام پہ کیا کچھ اپنے معدے میں اتاررہے ہیں اور اسکے ہماری زندگی اور صحت پہ کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں، یہ حقائق چشم کشا اور خوفناک ہیں۔  جناب ریاض خٹک نے اس نازک موضوع پہ قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنی اختصاصی تعلیم کی بدولت ریاض صاحب اس موضوع پہ مکمل دسترس اور اندر کی  خبر رکھتے ہیں۔ دانش کے قارئین اس حوالے سے مختلف پہلووں پہ یہ مضامین سلسلہ وار ملاحظہ کرتے رہیں گے۔ شاہد اعوان


مارکیٹ میں میڈیا اور تاجر کے گٹھ جوڑ کی کوئی شاندار مثال ممکن ہے تو وہ آج کے کولڈ ڈرنکس کی ہے۔ انسانی حیات پانی کے بغیر ممکن نہیں۔ ہمارے جسم کا اغلب حصہ پانی ہی ہے۔آج بھی ہم کھانے کے بغیر دو ہفتے جی لیں گے، پانی کے بغیر تین دن بھی نہیں۔پانی ہی زندگی ہے۔
پانی کی طلب اور محبت ہم زندگی کے ساتھ لائے ہیں۔اسی محبت میں ہم کبھی اسے شربت بنا لیتے ہیں، کبھی لسی تو کھبی شراب، شربت اور شراب کا فرق بہرحال صدیوں سے سب جانتے مانتے آئے ہیں۔ زندگی کیلئے پانی پیا گیا، لذت کیلئے شربت اور نشے کیلئے شراب۔اور نشہ حرام ہے، کہ اس میں انسان انسانیت کے معیار سے گر جاتا ہے۔لیکن یہ کولڈ ڈرنکس کیا ہیں؟
1886 میں ایک کیمسٹ جون پیمبرٹن نے کاربونیٹڈ واٹر میں ہائی لیول فرکٹوز ملا کر اسے کیمکل کا رنگ اور فلیور دے کر کوکاکولا بنا دیا۔ کاربونیٹڈ واٹر چمکتے دمکتے اُس پانی کو کہتے ہیں، جس میں پریشر کے ساتھ مائع کاربن ڈائی آکسائیڈ ملا دی جائے۔ 1916 تک اسے میڈیا کمپین کا سلوگن delicious and healthy مل گیا، اسکے بعد سوفٹ ڈرنکس نے پلٹ کر نہ دیکھا۔
Delicious پر تو الگ الگ رائے ممکن، کہ ہر فرد الگ ذائقہ پسند کرتا ہےلیکن اس میں healthy کا سلوگن کیسے مان لیا جاتا ہے؟ دنیا کے کسی کونے میں کسی بھی آزاد ڈاکٹر سے پوچھ لیں، کولڈ ڈرنک میں صحت کے موافق کچھ بھی نہیں نکال سکتا۔ ہاں اس میں صحت کی تباہی کی لمبی لسٹ آج کے انٹرنیٹ دور میں آسانی سے دستیاب ہیں۔ جو دانتوں سے شروع ہو کر شوگر سے بھرے جگر اور دائمی بیماریوں کی ایک طویل فہرست کو محیط ہے۔

کولڈ ڈرنک ایک فیشن سمبل کی طرح اپنایا گیا۔ ہم اپنے معاشرے کے پس منظر میں جب دیکھتے ہیں تو یہاں کوئی کنزیومر سیفٹی محکمے فعال نہیں۔ کولا مشروبات کی بانی کمپنیاں تو اُمید ہے کہ اپنی فارمولیشنز کنٹرول کرلیتی ہوں گی۔مسئلہ دو نمبر سے دس نمبر تک انکے ناموں سے بیچنے والوں کا زیادہ خراب ہے۔ یہ کولڈ ڈرنکس ہائی شوگر لیول کے مشروب ہیں۔ ان کو خراب ہونے سے بچانے کیلئے پیسٹی سائیڈز ڈالے جاتے ہیں۔جو ایک مخصوص تناسب کے بعد انسانی جسم کیلئے شدید نقصاندہ ہیں۔یہ پیسٹی سائیڈز اس مشروب کی شیلف لائف بڑھانے کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ہمارے ہاں لمبی شیلف لائف کیلئے انکا تناسب بڑھا دیا جاتا ہے۔
کولڈ ڈرنکس پر ہم اسکی کیمیائی ساخت میں شامل فاسفورک ایسڈ، سوڈیم بینزوئیٹ، ایتھائی لین گلائکول، براون بورڈیکس کی بات نہیں کرتے، نہ اُس کاربن ڈائی آکسائیڈ کا جو ہر سانس میں زہر سمجھ کر ہم باہر نکالتے ہیں، اور اشتہاروں کی چمک دمک میں کولڈ ڈرنکس کے ساتھ اندر لے کر جاتے ہیں۔ہم ان کیمیائی اجزا کے جسم پر منفی اثرات کا بھی ذکر نہیںکرتے کہ یہ عام ہیں۔ ہم بس یہ سوال کرتے ہیںکہ ہر فرد اپنے آپ سے صرف یہ پوچھ لے، کہ اس کولڈ ڈرنک کی زندگی میں اتنی اہمیت کیوں بنالی گئی ہے۔؟ یہ کیا وجہ ہے کہ پارکس میں موٹاپے سے پریشان گھنٹہ گھنٹہ پسینہ بہا کر بندہ نکلتا ہے اور سیدھا کسی کولڈ ڈرنک کی بوتل پی کر اپنی ہی محنت کو لمحوں میں برباد کردیتا ہے۔؟
ماہ رمضان میں افطار و سحر میں تو کولڈ ڈرنکس سے ہر صورت پرہیز لازم ہے۔ کیونکہ یہ جسم سے پانی چرا لیتے ہیں۔ ان میں شوگر کی اتنی زیادہ مقدار ہوتی ہے کہ جتنا پانی اس مشروب میں ہوتا ہے اس سے کئی گنا زیادہ پانی اسکی شوگر کو پراسس کرنے میں استعمال ہوتا ہے۔ مثال سے ایسا سمجھیے کہ ایک گلاس کولڈ ڈرنک کا پی لیا جایے تو یہ آپ کے بدن سے اتنا پانی چرا لیتا ہے کہ آپ کو کم از کم 8 گلاس پانی پی کر یہ تناسب واپس بنانا ہوتا ہے۔
ایک اور بڑا مسئلہ انرجی ڈرنکس ہیں۔ یاد رکھیں انرجی ڈرنکس صحت کیلئے کولڈ ڈرنکس سے بھی زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں۔ اسکے ہر سولہ اونس میں 160 ملی گرام کیفین اور ہر ایک اونس پر 8۔4 گرام کنڈینسنڈ شوگر ہوتی ہے۔ یہ ہائی ڈوز انسان کو وقتی بوسٹ دیتی ہے۔ لیکن اس بوسٹ کی جو قیمت بدن نے ادا کرنی ہے۔ وہ بہت ہی زیادہ ہے۔
اپنے سادہ پانی کی قدر کریں۔ قدرت نے آپکا جسم اسی سے بنایا۔ آپ بھی اسے سادہ پانی ہی فراہم کریں۔


اس سلسلہ کی پہلی تحریر یہاں ملاحظہ کیجئے

اس سلسلہ کی دوسری تحریر یہاں ملاحظہ کیجئے

 اس سلسلہ کی تیسری تحریر یہاں ملاحظہ کیجئے

اس سلسلہ کی چوتھی تحریر یہاں ملاحظہ کیجئے

اس سلسلہ کی پانچویں تحریر یہاں ملاحظہ کیجئے

اس سلسلہ کی چھٹی تحریر یہاں ملاحظہ کیجئے

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: