ہڑتال نہیں کنٹرول: لالہ صحرائی حل تجویز کرتے ہیں

0

ایک کمپنی کے ڈائریکٹر نے پیکنگ سیکشن کے مزدوروں سے کہا، آج مجھے پانچ سو پیٹی پیک کرکے دو تو میں تمہیں بے تحاشا مٹھائی کھلاوں گا، مزدور یہ سن کر ایکسائیٹڈ ہو گئے، کسی سیانے مزدور نے کہا یہ کام ہماری طاقت سے باہر ہے اسلئے نہ کرو، پہلے ہم تین سو پیٹی پیک کرتے ہیں آج زیادہ سے زیادہ سواتین سو کر دیں، سیٹھ کو اگر زیادہ مال چاہئے تو اسے کہیں کہ کچھ مزدور اور بھرتی کرلے مگر مٹھائی کو ترسا ہوا غریب طبقہ کچھ سننے کو تیار نہ ہوا اور آڑے ٹیڑھے ہو کر شام تک پانچ سو پیٹی پیک کر دی، شام کو سبکو خوب مٹھائی کھلائی گئی لیکن اگلے دن جب پھر سے نارمل۔وے میں تین سو پیٹی پیک ہوئی تو ڈائریکٹر نے آکے سب کو خوب لتاڑا کہ حرامخورو تم کام پورا نہیں کرتے، کل جب پانچ سو پیٹی پیک کر سکتے تھے تو آج کیوں نہیں، تم کام چور ہو پورا کام نہیں کرتے لہذا کل سے پانچ سو پیٹی پیک کرکے دیا کرو یا پھر یہاں سے چلتے بنو، اسے کہتے ہیں کسی ایوینٹ کا آفٹرمیتھ یا کسی کام کا منفی نتیجہ۔
مہنگے فروٹ کے خلاف ہڑتال پر اس مہم کے حق میں اور مخالفت میں بہت کچھ کہا گیا ہے، دلائل دونوں طرف کے ٹھیک ہیں لیکن اس مہم کا نیٹ۔ایفیکٹ زیرو ہی رہے گا بلکہ آفٹرمیتھ میں اس مہم کا منفی اثر بھی ظاہر ہو سکتا ہے، تین دن کی فیس بک ہڑتال سے ریئل مارکیٹ پر پانچ دس فیصد سے زیادہ اثر پڑنے والا نہیں، بالفرض اس ہڑتال کا آن۔گراؤنڈ صورتحال پر اگر سوفیصد اثر بھی پڑ جائے گا تو بھی اس کا نقصان پلٹ کر صارفین کو ہی ہوگا، ان تین دنوں میں دکاندار، ریڑھی بان اور آڑھتی کا جو نقصان ہوگا وہ فائربیک ہوکر اگلے بیس دنوں میں آپ سے ہی پورا کیا جائے گا لہذا کامیاب ہڑتال کی صورت میں یقین رکھیئے گا کہ جس قیمت کو آج آپ دو سو روپیہ کہہ کر رو رہے ہیں اگلے بیس دنوں میں اسی کو آپ نے دو سو بیس روپے کہہ کے رونا ہے اور فردر کوئی شنوائی بھی نہیں ہونی۔


بائیکاٹ کا فیصلہ بلاشبہ درست ہے اور اس پر اتحاد و یگانگت بھی مثالی ہے لیکن آپ کی ڈائریکشن بلکل غلط ہے۔


آپ کا فیصلہ بلاشبہ درست ہے اور اس پر اتحاد و یگانگت بھی مثالی ہے لیکن آپ کی ڈائریکشن بلکل غلط ہے، یہ سارا پریشر انتظامیہ پہ ہونا چاہئے تھا کہ وہ قیمتوں پر کنٹرول کرے کیونکہ ہمارے پاس ہر کمشنری کے ماتحت پرائس کنٹرول کمیٹیوں اور مارکیٹ کمیٹیوں کا نظام ہر قسم کی منڈی میں موجود ہے خواہ وہ دانہ منڈی ہو، گروسری یا پروویژن مارکیٹ ہو، سبزی منڈی یا فروٹ منڈی ہو، اس نظام سے پرائسز کو ہر مارکیٹ میں معقول سطح پر رکھا جا سکتا ہے مگر بدعہدی اور بددیانتی کا کیا ھو گا جس کی وجہ سے کوئی بھی اپنا کام مؤثر طریقے سے کر نہیں پاتا، آپ کا پریشر اس سرکاری مشینری پر ہونا چاہئے تھا جو اپنا کام چھوڑ کر عیدی بنانے کیلئے اس لوٹ مار میں برابر کی حصہ دار ہے۔
مسئلہ صرف فروٹ کا نہیں ہے بلکہ بیسن، مصالحوں اور سبزی سمیت دیگر چیزوں کا بھی یہی حال ہے یہاں تک کہ کراچی کے بیشتر علاقوں میں پینے کا پانی بھی نہیں چھوڑا جا رہا تاکہ ٹینکر مافیا کو فائدہ پہنچے اور واٹر سپلائیز کے لوگ ان سے عیدی لے سکیں یہی وجہ ہے کہ رمضان کے آغاز سے واٹر سپلائیز کا پانی مفقود ہے جس کی وجہ سے عوام کو تین ہزار روپے تک کا ٹینکر خریدنا پڑ رہا ہے۔
قیمتوں میں گرانی کا اصل اور پائیدار توڑ یہ ہے کہ سرکاری مشینری بالخصوص یونین کونسل کو چاہئے کہ ہر رمضان میں اتوار بازار کی طرز پر تیس دن کیلئے ہر آبادی کے پاس موجود کھلے میدانوں میں رمضان بچت بازار قائم کرے جہاں مرچنٹس کو فری میں جگہ دی جائے اور بجلی و صفائی کی مد میں صرف سو روپیہ فی کس ٹیکس لیا جائے، ان بازاروں میں سرکاری مشینری اور یونین کونسل کے عوامی نمائیندوں کی نگرانی میں پورا مہینہ فروٹ، سبزی اور گوشت کنٹرول ریٹ پر دستیاب ہونا چاہئے۔
معاشرے میں موجود پوری مارکیٹ پر کنٹرول کرنا انتظامیہ کیلئے ایک مشکل کام ہے لیکن جب ان رمضان بچت بازاروں میں سبزی، فروٹ اور گوشت کنٹرولڈ پرائس پر ملے گا تو یقیناً بڑی تعداد میں گاہک انہی مارکیٹوں کا رخ کرے گا اس انتظام کا آفٹرمیتھ یقینی طور پر یہ نکلے گا کہ معاشرے میں پھیلے ہوئے سب چھوٹے بڑے دیگر بازاروں کے تاجر خودبخود اپنی اوقات میں آجائیں گے۔
جس طرح بقر عید پر ہر شہر میں جگہ جگہ عارضی منڈی مویشیاں قائم کی جاتی ہیں اور ان کا انتظام بھی باآسانی ہو جاتا ہے اسی طرح رمضان میں سبزی، فروٹ اور گوشت کی عارضی منڈیاں ہی اس مرض کا بہترین علاج جن کا انتظام منڈی مویشیاں جیسا مشکل بھی نہیں، اس کے برعکس دیگر ہر کوشش یا تو بیکار جائے گی یا فائیر بیک کرے گی۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: