ہوگئی شام، گر گئے دام: لبنٰی سعدیہ

0

ایک پرانی کہانی:
اقبال کوئلے کا کاروبار کرتا تھا۔ روز کندھے پہ کوئلے سے بھری بوری لاد کر گلی گلی آواز لگاتا اور شام میں خالی بوری اور بھری ہوئی جیب لیکر شاداں فرحاں گھر لوٹ آتا، جہاں اسکی بیوی اور بچے اسکے لائے ہوئے، رزقِ حلال سے لطف اندوز ہوتے۔ پھر یوں ہوا کہ ملک میں گیس دریافت ہوگئی اور جگہ جگہ گیس پائپ لائن بچھا کر لوگوں کے گھروں میں گیس پہنچائی جانے لگی۔ اقبال کے علاقے میں بھی لوگوں نے گیس لگوانی شروع کردی۔ پہلے ایک گھر نے کوئلہ لینا ترک کیا پھر دوسرا پھر تیسرا اور یہ سلسلہ دراز ہی ہوتا گیا۔ اقبال کی بوری خالی ہونا اور جیب بھرنا بند ہوگئی اور ایک دن اقبال بھی اس علاقے میں نظر آنا بند ہوگیا۔
ایک دن ایک صاحب کا چولہا خراب ہوگیا، بازار کسی کاریگر کو دیکھنے گئے تو دکان میں اقبال نظر آیا، ’ارے اقبال کوئلے والے؟ تم یہاں؟‘
اقبال خوشدلی سے ہنسا، ’اب کوئلے والا نہیں جی، چولہے ٹھیک کرنے والا، کوئلے کا کاروبار اب کہاں!، پیٹ نے روٹی مانگ کر دوسرا ہنر سکھا دیا‘
ــــــــــــــــ
بات سمجھ آئی؟ اللہ سب کا ہے۔
انسان کی پیدائش پانی سے ہوئی ہے، ہر سانچے میں ڈھل جاتا ہے ہر ماحول میں رنگ جاتا ہے
عزم و ہمت ہو تو راستے بہت۔۔۔۔
ــــــــــــــــــــ
آج کل سوشل میڈیا پہ ’ترکِ ثمر مہم‘ عروج پہ ہے۔
کیا ہوا؟ کوئی پریشانی؟
اچھا پیشانی پہ پڑے بل ہٹائیں ہم سادہ الفاظ میں بتاتے ہیں
جی تو ہم پھلوں کے سہ روزہ بائیکاٹ کی بات کررہے ہیں
ہمارا ذاتی نقطہء نظر پوچھیں تو ہمیں نا تو اس مہم سے فائدہ ہوتا نظر آرہا ہے نا نقصان
مگر اہلیانِ رخِ کتاب پہ تو، دائیں بائیں والوں نے ایسا غدرمچا رکھا ہے گویا کھانے والا پھل نا ہوا کلہاڑی کا پھل ہوگیا
ـــــــــــــــــــ
بائیکاٹ کے حامی کہتے ہیں، ’کہیں سے تو پہلا قدم اٹھانا ہوگا‘
مخالف طنز کرتے ہیں، ’تو برانڈڈ مال سے شروع کیجیے نا‘
حامی کہتے ہیں، ’برانڈڈ غریب کا مسئلہ نہیں، پھل تو غریب کھانا چاہتا ہے رمضان میں‘
مخالف ہنسی اڑاتے ہیں، ’تو ٹھیلے والا بھی تو غریب ہے بیچارہ، منڈی کے بڑے بیوپاریوں کا بائیکاٹ کرو‘
حامی کہتے ہیں، ’تو ٹھیلے والے کو کچھ رقم دے دیں‘
مخالف سوال اٹھاتے ہیں، ’یعنی ایک محنت کش کو بھکاری بنا دیں؟‘
حامی کہتے ہیں، کہیں نا کہیں، کچھ تو اثر ہوگا‘
مخالف اکساتے ہیں، ’تو جا کر حکمرانوں کا گریبان پکڑو، مکمل فرق پڑے گا‘
ـــــــــــــــــــــ
یہ حامی مخالف کا کھیل چلتا رہے گا۔ ہماری نظر میں اسکا سیدھا سا حل ہے
جو لوگ حامی ہیں اور پھل بائیکاٹ کے زریعے گراں فروشوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں وہ پھل نا خریدیں۔
جو لوگ مخالف ہیں اورغریب ٹھیلے والے کی غربت پہ اشک بہا بہا کر فیس بک کو نہلا رہے ہیں وہ اپنی ضرورت سے دگنا پھل خرید لیں
اوربائیکاٹ کرنے والوں کو ہدیہ کردیں کہ وہ بھی افطار میں مزے اٹھالیں آپ کے زریعے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حامی بائیکاٹ میں کامیاب
پھل فروش کمانے میں کامیاب
اور مخالفین پھل فروشوں کی عملی امداد میں کامیاب
تینوں خوش
ہپؔی اینڈنگ
ـــــــــــــــــــ
آپ مذاق سمجھ رہے ہیں؟ جی نہیں ہم بے حد سنجیدہ ہیں
کیسے؟
بتاتے ہیں۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــ
کچھ عرصہ پہلے حکومت نے موبائل کارڈ پہ ٹیکس بڑھا دیا۔ ایسے ہی فیس بک پہ نعرہ باز مہم چلائی گئی اور ٹیکس واپس لینے کے لئے ایک مخصوص تاریخ کا اعلان کیا گیا کہ ان تاریخوں میں اپنا موبائل بند رکھ کر احتجاج درج کرائیں۔ ہمارے دس بارہ ایکسٹرا آفیشنٹ اسٹوڈینس نے ہمیں بار بار تحریری پیغام بھیج کر یاد دہانی کرائی کہ ان تاریخوں میں موبائل بند رکھنا ہے۔
ان تاریخوں میں ہم نے اپنے تمام پیغام بھیجنے والے طلبہ و طالبات کو مس کال دی
’سب کا موبائل ’آن‘ تھا
ــــــــــــــــــــــــ
جناب! آپ کسی کام کے حامی ہوں یا مخالف
آپکی حمایت یا مخالفت ’عملی‘ ہونی چاہیے ’کتابی‘ اور ’زبانی‘ نہیں
آپ کے خیال میں آپ کا بائیکاٹ گراں فروشی پہ اثر انداز ہو سکتا ہے۔ دل و جاں سے بائیکاٹ کیجیے
یاد رکھیں جیت یقین کی ہوتی ہے، تعداد کی نہیں۔۔۔
ـــــــــــــــــــــ
آپ کو لگتا ہے یہ بائیکاٹ غریب کی روزی مار دے گا۔ مگر مچھ کے آنسو بہانا بند کیجیے۔ غریب کی جیب آپ کے اشکوں سے بھرنے والی نہیں۔ جائیے اور اے سی مال سے پھل خریدنے کے بجائے دھوپ میں کھڑے ہوکر غریب کے ٹھیلے سے خریدیے
یہ سوچنا بند کیجیے کہ کسی کے بائیکاٹ سے کوئی بھوکا مر جائے گا
ابتدائے دنیا سے آج تک نا جانے کتنے پیشے بنے اور ختم ہوگئے
ایک پیشہ ختم ہوا تو دوسرا آگیا
زندگی کا پہیہ رکتا کبھی نہیں ہے
حیرت ہے کہ آپ تین دن کے بائیکاٹ سے سہمے جاتے ہیں!!
جناب!جو کوئی کچھ کرنا چاہتا ہے
اسے کرنے دیجیے
آپ اپنا کام کیجیے مگر عملی، الفاظ کی جادوگری نہیں۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــ
معلمہ ریاضی، لبنیٰ سعدیہ عتیق

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: