فروٹ بائیکاٹ مہم اور پاکستانی سنڈروم – محمود فیاض

0

بات سادہ تھی مگر یار لوگوں نے بتنگڑ بنا دیا۔ فروٹ بائیکاٹ شائد پہلی سوشل میڈیا مہم ہے جو خالص عوامی پذیرائی پر پروان چڑھ رہی ہے۔ اسکا انجام کیا ہوگا خدا معلوم، مگر اسکا آغاز نہائت شاندار ہے۔ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے اس مہم کو خوش آمدید کہا اور تقریباً ہر طبقہ فکر کے سنجیدہ لوگوں نے اس پر عمل کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

مہم کا بنیادی مقصد صرف ایک تھا کہ ماہ رمضان میں زخیرہ اندوز جو پھل فروٹ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیتے ہیں اس کا مقابلہ پھل فروٹ سے دو تین دن پرہیز کر کے کیا جائے۔ اس سے زخیرہ اندوزوں کی نہ صرف حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ انکو صارفین کی قوت کا اندازہ بھی ہوگا۔ شائد حکومت کے بہرے کانوں تک بھی عوام کی یہ فریاد پہنچے اور وہ اپنے فوڈ انسپکٹروں کو عیدی جمع کرنے کی بجائے قیمتیں کنٹرول کرنے پر آمادہ کر سکے۔ اس سادہ سے مقصد اور بے ضرر سی کوشش کو یار لوگوں نے دو تین دن میں اختلاف کی بھٹی پر ایسے ابالا دیا کہ اس وقت تک فیس بک اور باقی سوشل میڈیا پر ایک گھمسان کا رن مچا ہوا ہے۔

میری اس تحریر کا مقصد ان تمام اعتراضات کا زکر کرنا یا انکے جواب الجواب لکھنا نہیں ہے کہ وہ آپ میری وال پر جا کر دیکھ سکتے ہیں، بلکہ اس وقت آپ کو فیس بک پر ہر طرف اعتراضات اور ان کے شافی جوابات ہی ملیں گے۔ میں تو ان رویوں کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں جو مخالفت برائے مخالفت اور بحث برائے بحث میں سامنے آئے ہیں۔
سوشل میڈیا کی اولین خالص عوامی مہم کے شروع ہونے سے پہلے ہی پاکستانی قوم کا اصل مرض واضح ہو کر سورج کی طرح ہماری نظروں کے سامنے طلوع ہو چکا ہے۔ اس قوم میں فکروعمل کی بجائے پراگندہ خیالی پروان چڑھ چکی ہے اور یہی اس کی موجودہ تمام تکلیفوں کی وجہ ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ پاکستان آج اس حال کر اس وجہ سے پہنچا ہے، مگر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم ایسے برے حال سے نکل اس لیے نہیں پارہے کہ ہم پراگندہ خیالی میں بری طرح مبتلا ہو چکے ہیں۔ شائد کچھ عرصے بعد دنیا اس بیماری کو “پاکستانی سینڈروم” کے نام سے یاد کرنا شروع کردے کہ جس میں کسی قوم کے افراد من حیث القوم فکری انتشار کا شکار ہو جاتے ہوں۔ اور کسی بھی سمت میں کوئی بھی رستہ اختیار کرنے سے قاصر ہو جائیں۔

آئیے اس “پاکستانی سینڈروم” کی کچھ علامات پر غور کرتے ہیں۔

یہ کیوں کریں وہ کیوں نہ کریں۔
یہ اس سینڈروم کی بہت بنیادی علامت ہے۔ آپ دنیا کا کوئی بھی کام لے آئیں۔ جو باقی ممالک میں اپنی مثال آپ ہو۔ پاکستان میں ہم اس کا متبادل پیش کر دیں گے۔ یا اس سے بہتر نکال لائیں گے۔ آپ کہیے کہ ہمیں وقت کی پابندی کرنا چاہیے۔ لوگ آپ کو بتانا شروع ہو جائیں گے کہ وقت کی پابندی سے زیادہ ضروری ہے آپ پانچ وقت نماز کی عادت ڈال لیں، یا پھر اصل مسئلہ وقت کی کمی ہے۔ یا پھر وقت کی بات کرتے ہو، وقت تو صرف امیروں کے پاس ہوتا ہے۔ یا پھر وقت کی پابندی جیسے فضول کاموں کے لیے وقت کس کے پاس ہے، اس سے بہتر ہے کہ آپ سیلابی پشتے بنانے کی مہم چلاؤ۔

یہ کوئی سازش ہے
دوسری بڑی علامت اس بیماری کی۔ ہر بات کو کسی سازش سے ملادو۔ یہی مہم دیکھ لیں۔ اگر یہ جماعت اسلامی یا تحریک انصاف نے شروع کی ہوتی تو اس وقت تک سازشی تھیوریوں نے آسمان چھو لینا تھا۔ عمران خان کی پچھلی دو نسلوں کو کٹہرے میں لے آنا تھا احباب نے اور جماعت کے بانی کی کتابوں سے حوالے نکال نکال بتانا تھا کہ یہ ہڑتال کیوں جائز نہیں ہے۔ اب چونکہ یہ خالص عوامی انداز میں اٹھی ہے تو سازش ڈھونڈنے والے زرا مشکل میں ہیں۔ البتہ دبی دبی آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ امیر طبقوں کو نظر انداز کر کے ٹھیلے والوں کے خلاف مہم “کس وجہ” سے چلائی جا رہی ہے کہیں کچھ دال میں کالا تو نہیں۔

ایسے نہیں ویسے کرنا تھا
تیسری علامت اس سینڈروم کی یہ ہے کہ ہر کوئی اپنے انداز اور اپنی سمجھ سے کام کرنا چاہتا ہے۔ بلکہ بعض نابغے تو صرف اس لیے معترض ہو جاتے ہیں کہ یہ کسی اور کا خیال ہے تو وہ اسکو سپورٹ کیوں کریں۔ پھر ایک سے بڑھ کر ایک ترمیم شروع کی جاتی ہے۔ اسکو اس طریقے سے کرتے تو اچھا ہوتا۔ موسم ، وقت، انداز، اطوار، سلیقہ، نمائندگی، کیمپین، ان کو ایک ایک بات پر اعتراض ہوتا ہے۔ مقصد محض ایک اچھے کام کو زرا پٹڑی سے ہٹانا ہوتا ہے۔ شائد لاشعوری طور پر خود کو ڈرائیونگ سیٹ پر نہ پا کر یہ علامت شدت سے ظاہر ہونے لگتی ہے۔

بھانڈ پنے کے جراثیم
چوتھی علامت جو ایسے سینڈروم میں ظاہر ہوتی ہے وہ ایسے حضرات میں نظر آتی ہے جن کو بظاہر کوئی اعتراض نظر نہیں آتا مگر وہ اپنی سی کوشش سے اس چلتی بارات میں نمایاں ہونا چاہتے ہیں۔ وہ جگتوں اور لطیفوں سے اپنا رانجھا راضی کرتے ہیں۔ بظاہر وہ غیر جانبدار لگتے ہیں مگر حقیقت میں انکی دل سے خواہش ہوتی ہے کہ خوب ٹھٹھا اڑے ان لوگوں کا جو ایسے مایوسی کے دور میں زرا رجائیت کی بات کرتے ہیں۔

اعداد و شماری و تفصیلاتی
کچھ احباب کے لیے یہ اپنی اسٹیٹسٹکس کی کتابیں جھاڑنے کا وقت ہوتا ہے۔ وہ ایسے ایسے اعدادوشمار سے لوگوں کا دل برا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ عام آدمی بےچارہ پریشان ہو جاتا ہے کہ اس سے اتنے ملین لوگوں کا بیڑا غرق ہونے جارہا تھا بس انہی کے جدول کر پڑھ کر اس کی بچت ہو گئی ہے۔

ملی جلی کیفیت
کچھ شریف لوگ ایسے میں ملی جلی کیفیت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ ایک کی سنتے ہیں تو اسکی بات ٹھیک لگتی ہے تو دو پہر اس کی حمائت میں لگے رہتے ہیں۔ سہ پہر کو دوسرے کی بات اچھی لگتی ہے تو ادھر کو ہو جاتے ہیں اور پوری شام پہلے والے کی مخالفت میں گذرتی ہے ۔ معصوم علامت ہے مگر بندے کو خجل و خوار کروا دیتی ہے۔

دوستو! فروٹ بائیکاٹ کی مہم شروع ہونے سے پہلے ہی کئی مثبت مقاصد حاصل کر چکی ہے کہ اس سوشل میڈیا پر پاکستان میں ایک بڑا ٹرینڈ بن چکی ہے۔ آن لائن میگزین میں مضامین چھپ رہے ہیں۔ اور “پاکستانی سینڈروم” کے باوجود یہ کامیابی کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہے۔ اس مہم نے جہاں ہمارے درمیان موجود فکر انتشار کو واضح کیا ہے وہاں خاموش طبقے کو بھی عوام کی حمائیت میں بولنے پر مجبور کر دیا ہے۔ میری خواہش ہے کہ ہم سب اس “پاکستانی سینڈروم” سے نکل سکیں اور یکسوئی اور اتفاق کے ساتھ پاکستان کے مزید گھمبیر مسائل پر اپنی کوششیں لگا سکیں۔ انشااللہ یہ مہم اس سفر کا نقطہ آغاز ثابت ہوگی۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: