بلا عنوان و بلا تبصرہ!

0

 ربی ذویا کامقصدِ حیات اسرارِ حیات کی دریافت تھا جس کی خاطر اس نے موسیٰ علیہ السلام کی شخصیت کے ایک ایک نقش کی پیروی کا عزم کررکھا تھا۔ سالہاسال وہ ان جیسا بننے کی سعی میں مشغول رہا لیکن گوہرِ مقصود حاصل نہ کرسکا۔ ایک رات صحائف کے مطالعے کے بعد تھکن سے چور ہوکر وہ لیٹا تو فورا نیند نے آلیا۔ خواب میں اسے خدا کی آواز سنائی دی۔ ” ذویا! تم اس قدر پریشان اور دل شکستہ کیوں ہو؟ ربی نے جواب دیا: میری زندگی اپنے اختتام کو پہنچنے والی ہے لیکن میں ابھی بھی اپنے نصب العین سے کوسوں دور ہوں!” ارشاد ہوا: “اگر مجھے ایک اور موسیٰؑ کی حاجت ہوتی تو میں خود تخلیق کرلیتا۔ جب تم لوٹ کر میرے پاس آو گے تو میں تم سے یہ نہ پوچھوں گا کہ کیا تم ایک اچھے موسیٰؑ تھے یا نہیں بلکہ یہ دیکھوں گا کہ کیا تم ایک اچھے “ربی ذویا ” تھے یا نہیں!”

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: