دردِ بے زباں —— حیا ایشم — قسط 5

0

سیشن سے آںے کے بعد سے حبہ کافی خاموش سی تھی، حنظلہ محسوس تو کر رہا تھا مگر سائیکالوجسٹ کی ہدایات کے مطابق اس نے اسے بالکل نہیں کریدا، نہ ہی اسے بولنے پر اکسایا، ہاں مگر صبح اسے واک کے لئے ضرور ساتھ لے گیا، یہ دن قدرتا انہیں ایک دوسرے کے قریب لا رہے تھے، اب حنظلہ اپنی سوچوں پر خود حیران ہوتا تھا، اس نے کیسے اسے چھوڑنے کا سوچ لیا تھا، اور خود ہی مفروضہ قائم کر لیا تھا کہ وہ اسے پسند نہیں کرتی، کہ وہ اسکی قربت سے بھاگتی تھی، دوا لینے کے بعد سے اسکی منفی سوچوں اور بیزار رویوں میں بھی خاصی کمی آئی تھی۔ مگر آج حبہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی۔
“کیا سوچ رہی ہو؟” حنظلہ نے نرمی سے پوچھا
“آپ مجھ سے تنگ تو نہیں آگئے؟” حبہ نے کب سے ذہن میں چلٓتا سوال بالآخر لبوں پر لانے کی جسارت کر دی، وہ خود بھی اب اس مسلسل سوچ سے تنگ آ گئی تھی۔ یہ خوف کہ وہ چھوڑ دے گا اسکے ذہن سے نکلتا ہی نہیں تھا۔ حنظلہ ہلکا سا مسکرا دیا وہ کیا سوچ رہا تھا اور وہ کیا سوچ رہی تھی۔
“کیوں تمہیں ایسے کیوں لگتا ہے؟” حنظلہ نے یقین دہانی کی بجائے اسے سے ہی سوال کیا
“پتہ نہیں مجھے ڈر سا رہتا ہے آپ مجھے چھوڑ نہ دیں، مجھ سے بیزار نہ ہو جائیں” حبہ کی آںکھوں میں نمی سی تھی
حنظلہ نے آہستگی سے اسکا ہاتھ تھام لیا،دونوں چلتے چلتے ایک پاس بنے بینچ پر جا بیٹھے، حنظلہ نے محسوس کیا حبہ کا ہاتھ اس گرمی میں بھی ٹھنڈا ہو رہا تھا، پتہ نہیں اسکے وسوسے اسے کس کس طرح اذیت میں رکھتے ہوں گے، وہ تو سائیکالوجسٹ سے وہ خودبھی ساتھ ساتھ فیملی کاونسلنگ لے رہا تھا۔ تو اسے وہ بتاتی رہتی تھی کہ اس کی بیماری کے ساتھ کیسے ڈیل کرنا ہے، اسکی منفی سوچوں سے کیسے اسے نکالنا ہے کہ عام طور پر ہماری گفتگو سے مریض بجائے کے بیماری سے نکلے، الٹا اور بیماری میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
“حبہ تم جس بیماری سے گزر رہی ہو ناں، اس میں تمہارے برین کیمیکلز اور مزید بننے والی منفی سوچیں تمہیں ایسے ہی خوف و ہراس میں رکھیں گی، میں نے تم سے شادی کی ہے، ہاں یہ کوئی محبت کی شادی نہیں تھی، مگر تم بہرحال مجھے پسند آئی تھیں، اور خود میں نے امی سے تمہارے بارے میں بات کرنے کو کہا تھا۔ محبت کوئی طوفانی جذبہ نہیں ہوتا کہ جس کا یقین میں تم میں اتار سکوں، ہاں مگر یہ محبت ہی ہے ناں کہ میں اس وقت تمہارے ساتھ ہوں، تمہیں سن رہا ہوں، تم سے بات کر رہا ہوں، تمہاری خوشی خیر میرے لئے اہم ہے، تم ٹھیک ہو جاؤ اس میں تمہاری ہر ممکن مدد کرنے کے لئے تیار ہوں، یہ میری تم سے محبت ہی ہے ناں؟ “
اس نے اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔۔۔ مگر پتہ نہیں کیوں حبہ کی آںکھوں میں کہیں نہ کہیں وہ خوف کی کیفیت دِکھ رہی تھی۔ وہ خوف اسکے سائے ابھی بھی اتنی شدت تو نہیں مگر ہاں لرزاں ضرور تھے۔ حنظلہ نے اسکی کیفیت دیکھتے مزید بات سے گریز کرتے الٹا سوال کر دیا۔۔
” ویسے لفظ ہی نہیں دراصل تو ہمارے ایکشنز ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہونے کا احساس یقینی بناتے ہیں۔ کیا تمہیں لگتا ہے کہ میں تم سے بےزار ہوں؟”
” نہیں ۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔ پتہ نہیں یہ سوچ میرے ذہن سے نہیں جاتی، ” حبہ نے گویا بےبسی سے اقرار کیا،
“ان شاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا، تم پریشان مت ہو، پہلے سے بہتر ہوناں، اور ٹھیک ہو جاؤ گی” حنظلہ نے اس کا ہاتھ نرمی سے سہلاتے امید و یقین سے کہا، جس سے حبہ کی روح ذہن و قلب فی الحال خالی تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“پتہ نہیں کیوں میرے ذہن سے یہ خوف نہیں جاتا، کہ میرے شوہر مجھ سے بے زار ہو کر مجھے چھوڑ نہ دیں، حالانکہ انکے روئیے میں ایسا کچھ نہیں ہے، مگر پھر بھی یہ سوچ نہیں جاتی” حبہ نے سیشن میں سائیکالوجسٹ سے اپنا خوف شئیر کیا
“ہممم تو گویا اس کا مطلب تو یہ ہوا ناں کہ آپ کو اپنے شوہر سے محبت ہو گئی ہے؟” سائیکالوجسٹ نے مسکراتے ہوئے گویا اسے کوئی خوشخبری دی ہو
حبہ اس کی بات پر کچھ جھینبتی حیران سی ہوئی ۔۔
“محبت۔۔۔” اسے عجب سا لگا یہ لفظ۔۔
اب وہ سائیکالوجسٹ کے ساتھ بہت آسانی سے اپنے دل کی بات کرنے لگی تھی، اسے خود حیرانی ہوتی تھی وہ اتنا بول سکتی ہے، وہ اتنا محسوس کر سکتی ہے، اسے لگ رہا تھا وہ زندہ ہو رہی ہو، اسکا احساس شکستہ ہی سہی بے حسی سے نکل کر بلکنے سے ہو کر محسوس کر سکنے کی کیفیت میں آ رہا ہو۔ اسے اب سیشنز میں آنا اچھا لگتا تھا۔ پہلی بار وہ کسی پر یقین کرنے لگی تھی۔۔ وہ کُھل کر اپنے احساس بتانے لگی تھی۔۔
“محبت کا تو پتہ نہیں ۔۔ کیسی ہوتی ہے، اس میں تو خوشی ہوتی ہے ناں،،، سرشاری کا سا احساس، میرے اندر کی تو خاموشی نہیں جاتی، یا پھر یہ خوف،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ چھوڑ نہ دیں” بے اختیار سا آنسو اپنی کیفیات کے اظہار میں نگاہ سے ڈھلکا تھا۔
“آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے، وہ آپ کو چھوڑ دیں گے؟”
سائیکالوجسٹ رابعہ نے اسے یقین دلانے کی بجائے الٹا اس سے سوال کیا تھا
وہ اسکو دیکھتی جیسے خلاء میں دیکھتی رہی، خاموشی کا وقفہ ویسے ہی رہا، حبہ سے اب یہ درد نہیں سہا جا رہا تھا
“کیونکہ میں انکے قابل نہیں ہوں۔ کیونکہ میں اچھی نہیں ہوں، وہ بہت اچھے ہیں” یہ کہتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی،
رابعہ خاموشی سے اسے روتا دیکھتی رہی، نہ اسے چپ کروایا نہ ٹشو دیا، وہ یہی چاہتی تھی یہ بلک بلک کر رو دے، خوف جب محبت سے جا ٹکرائے ناں تو پھر یا محبت رہ جاتی ہے یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ محبت اور باطل خوف ایک جگہ نہیں رہ سکتے ۔ اور اس لڑکی نے آزاد ہونا تھا، کہ محبت نے اسے چن لیا تھا
اور شاید اس نے بھی۔۔۔تبھی تو اس خامشی کے صندوق میں بے انت گہرائیوں میں دبے اس اذیت ناک راز کو آج اسکی بلکتی محبت اسکے لبوں پر لے آئی تھی، کہ جب تک محبت کے پروں پر خوف کے پتھر بندھے ہوں،، محبت کی فضا میں اڑنا محال ہے، اور محبت اب اس لڑکی کو پر جھوٹ سے آزاد کرنا چاہتی تھی،
وہ رو رہی تھی۔۔۔ بلک بلک کر رو رہی تھی، پھر یکدم خاموش ہو گئی، بالکل خاموش، جیسے آنسو کسی نے بند کروا دئیے ہوں۔۔ گویا اس نے کوئی فیصؒہ کر لیا ہو آزادی کا۔۔۔۔۔

“وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ آدمی مجھے قرآن پڑھاتا تھا۔ میں بہت چھوٹی تھی۔۔۔۔ 6 یا 7 سال کی، میں بہت ذہین تھی، سب سے پہلے سبق یاد کر لیتی تھی، سب سے اچھی قرآت و آواز تھی، وہ آدمی ۔۔۔۔ میں اس غلیظ آدمی کو قاری نہیں کہوں گی۔۔۔۔” وہ کسی ٹرانس کی سی کیفیت میں بولتی جا رہی تھی
“وہ قاری کہلانے کے لائق نہیں تھا، مجھے بہت توجہ دیتا ،، میں خوش ہوتی، میں اکلوتی تھی، وہ امی سے تعریف کرتا تو امی کا اعتماد اسکی طرف بڑھنے لگا، اکثر ہوتا سب بچوں کو چھٹی دے دیتا، مجھے کسی بہانے روکتا کہ تمہیں قرآن جلدی ختم کرواؤں گا، کبھی دوسرے بچوں کا سبق سننے کو کہتا، باقیوں کو کم مجھے زیادہ ٹافیز دیتا۔ ایک دن۔۔۔۔۔ اس دن بارش ہو رہی تھی، اس نے سب بچوں کو چھٹی دے دی، میں جانے لگی تو اس نے کہا بارش رک جائے تو وہ مجھے خود چھوڑ آ ئے گا، ہمارا گھر اس سے تھوڑی ہی دور تھا، میں چلی جاتی مگر چونکہ وہ استاد تھا میں نے اسکی مانی، تھوڑی دیر بعد ۔۔۔ اسنے کہا کہ مجھے سردی نہ لگے سو میں کمبل میں آ کر بیٹھ جاؤں، اس دن اسکی بیوی بازار گئی ہوئی تھی، اور بچے دو چھٹیاں گزارنے اپنی نانی کے گھر۔ اس نے کہا اس کو اپنی بیٹی بہت یاد آ رہی ہے، وہ اسکے ساتھ کمبل میں بیٹھتی ہے پھر وہ اسے بھی کہانیاں سناتا ہے اور سبق پڑھاتا ہے، مجھے سردی نہیں لگ رہی تھی، اور نہ ہی پڑھنے کو دل چاہ رہا تھا، مگر چونکہ وہ استاد تھا اور امی کہتی تھیں استاد کی ہر بات مانتے ہیں، مجھ سے انکار نہیں کیا گیا، بجلی بہت زیادہ چمک رہی تھی، اب مجھے بارش بجلی سے بہت ڈر لگتا ہے۔ مجھے خواب میں آتا ہے کوئی میرا منہ دبا کر مجھے مارنے کی کوشش کر رہا ہے۔۔۔” ربط و تسلسل ٹوٹا تھا۔۔۔ غیر مربوط سا انداز لئے وہ حال و ماضی کے درمیان سفر کر رہی تھی۔۔ سائیکالوجسٹ رابعہ اسے ٹوکے بنا سن رہی تھی۔۔۔ حبہ کی آنکھیں بالکل خشک تھیں، مگر اسکی نظر کے سامنے جیسے کوئی فلم چل رہی ہو، اور کسی فوٹو گرافک میموری سے ساری چیزیں وہ بیان کرتی جا رہی ہو، اچانک وہ خاموش ہو گئی۔۔۔اسکی آںکھوں سے پھر ایک تواتر سے آںسو گرنے لگے،،،
 
“حبہ۔۔۔ آج اس درد کو نکال دیں اندر سے جس کی آپ مستحق نہیں ہیں۔۔۔ اپنے درد کو اپنا ناسور نہ بننے دیں ” اسکی خاموشی کو حوصلہ افزائی کی ضرورت تھی،
حبہ کو تقویت سی ملی ۔۔۔
“اس نے کہا وہ مجھے کمبل میں بٹھا کر سیپارہ پڑھائے گا۔ سیپارہ ۔۔۔۔۔ تو اللہ کا کلام ہوتا ہے ناں؟ پتہ ہے تب مجھے اللہ بہت اچھا لگتا تھا، میں اللہ سے بہت باتیں کرتی تھی، میرے شوہر کی امی تبھی بیوہ ہو کر ہمارے گھر آئی تھیں، وہ اکثر جائے نماز پر جب روتی ملتیں، تو مجھ سے اللہ کی باتیں کرتی تھیں، میں انکے لئے حنظلہ اور انکے ابو کے لئے اللہ سے دعا کرتی تھی مجھے میری امی نے دعائیں سکھائی تھیں، کہ اللہ سے کیسے باتیں کرتے ہیں، پتہ ہے اسکے بعد میں نے کبھی دعا نہیں مانگی،”
سچے دلوں کو تعلق ٹوٹنے کی تکلیف کیا ہوتی ہے یہ تعلق والے جانتے ہیں۔۔۔۔ آنسو پھر سےٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے۔۔۔۔ رابعہ سر تا پیر اسے سن رہی تھی محسوس کر رہی تھی، اور شاید حبہ یہی چاہتی تھی کہ وہ خاموشی سے سنے اور وہ اپنے اندر سے اس سرطان کو کھینچ پھینکے جو اندر ہی اندر اسے کتنے سالوں سے جکڑے ہوئے تھا۔ نگل رہا تھا۔ حبہ بمشکل تھوک نگلتے پھر سے بولی،، کوئی غیر مرئی طاقت جیسے اسے وہ سب بلوا رہی تھی جو اس نے خود بھی شاید کبھی دوبارہ نہیں سوچا تھا۔ مگر حیرت یہ تھی کہ ایک ایک جزو مکمل ڈیٹیل کے ساتھ اس کی یادداشت میں آج بھی ویسے ہی محفوظ تھا جیسے وہ واقعہ ہوا تھا۔
 
“میرے کمبل میں بیٹھتے ہی اس نے ایکدم میرا ہاتھ پکڑ لیا، پتہ نہیں کیوں مجھے اچھا نہیں لگا، حالانکہ میرے باپ نے کبھی محبت سے میرا ہاتھ نہیں پکڑا تھا۔ لیکن میں نے محسوس کیا یہ باپ والی شفقت باپ والا لمس نہیں۔۔۔ میں نے ایکدم اسے کہا کہ مجھے گھر جانا ہے، مگر اسکی آنکھوں میں مجھے کسی جانور کی حیوانیت کی سی چمک نظر آ رہی تھی، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
اچانک تسلسل ٹوٹا تھا۔۔ کسی فلم کا سرا کسی حقیقت سے جڑا تھا۔۔ کسی ماضی سے کسی حال نے سر ابھارا تھا۔۔
“پتہ ہے جب میری شادی ہوئی میں نے کتنے دن حنظلہ کو اپنے قریب نہیں آنے دیا، میں ڈر جاتی تھی۔ کبھی کوئی بہانہ کرتی کبھی کوئی۔۔۔ وہ جانور میرے تصور میں۔۔۔ وہ چہرہ میرے سامنے آ جاتا تھا، لیکن حنظلہ نے مجھ سے کبھی زبردستی کرنے کی کوشش نہیں کی۔ انھوں نے ہمیشہ میری رائے میری مرضی کا احترام کیا۔۔۔ اور یہی بات مجھے اندر سے توڑتی ہے، میں انکے قابل نہیں ہوں، وہ مجھ سے بہتر ڈیزرو کرتے ہیں۔۔۔۔کاش وہ آدمی میری زندگی میں کبھی نہ آیا ہوتا۔۔۔ میں بھی پاک ہوتی “
حبہ بے بسی سے رو رہی تھی۔
رابعہ ابھی بھی خاموش تھی۔۔۔ مگر سرتاپا سماعت بنے۔۔ آنکھوں میں ایک اپنائیت کا گہرا احساس لئے۔۔
“پھر اس آدمی کو میں نے ایک قاری سے شیطان بنتے دیکھا، میں بہت چھوٹی تھی تو سمجھ بھی نہیں پا رہی تھی وہ کیا چاہتا ہے، مگر شاید قدرت نے ہی انسان کے بن کہے صحیح اور غلط کا احساس رکھا ہوا ہے، سو مجھے محسوس ہو رہا تھا کچھ غلط ہے، اس سے پہلے کہ وہ میری خآموشی کا کوئی فائدہ اٹھاتا میں نے اچانک۔۔۔۔۔۔ میں نے چیخنا شروع کیا، وہ اسکی توقع نہیں کر رہا تھا، اس نے پہلے مجھے پیار سے چپ کروانا چاہا، جب میں چپ نہیں ہوئی تو میرے منہ پر ایک تھپڑ مارا، زندگی میں وہ پہلا تھپڑ تھا جو مجھے کسی بھی انسان نے مارا تھا۔ میرا باپ تو مجھ سے دور ہی تھا، مگر میری ماں ایک بہت نرم دل عورت ہیں انھوں نے کبھی مجھے نہیں مارا۔ میں اسکے تھپڑ پر پہلے تو ساکت ۔۔۔ پھر اور زور سے چیخنے لگی، مجھے محسوس ہو رہا تھا کچھ بہت غلط ہونے والا ہے، شاید صرف یہی ایک ذریعہ ہے کہ کوئی مجھے اس سے بچا سکتا ہے، میرا ارادہ بھانپتے اچانک اس نے میرا منہ زور سے بھینچ دیا، مجھے لگ رہا تھا میری سانس بند ہو جائے گی، مگر اس شخص کو مجھ پر کوئی رحم نہیں آرہا تھا۔۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنی آخری حد کراس کرتا۔ اچانک دروازے سے اسکی بیوی اندر آ گئی، اسکی بیوی کے ہاتھ میں جو بھی سامان تھا وہ چھوٹ کر زمین پر جا گرا، بارش کی وجہ سے لائٹ نہیں تھی، سو اسکی بیوی دروازے کی بیل دئیے بغیر خود ہی چابی کھول کر اندر سیدھا کمرے میں آ گئی۔”
حبہ کا سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا، وہ تھوک نگلتے اور مسلسل روتے اس آنکھوں کے سامنے چلتے منظر کو ایسے بتا رہی تھی جیسے ابھی سب اسکے سامنے یا اسکے ساتھ ہو رہا ہو۔
“ایک دم وہ آدمی ۔۔ ہڑبڑا گیا کہ یہ سب کیا ہو رہا تھا۔ اسکی بیوی نے اپنے ہی منہ پر اپنے ہاتھ رکھ کر شاید اپنی چیخ روکی تھی، اس آدمی کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے اچانک مجھے چھوڑتا وہ بھاگتا ہوا باہر نکل گیا، میں بری طرح خوفزدہ تھی،،، اور بلک بلک کر رو رہی تھی۔ میں نے دیکھا وہ عورت بھی شاک اور صدمے کی کیفیت سے نکل کر اپنے ساتھ لپٹا کر رونا شروع ہو گئی۔۔۔ پتہ نہیں وہ مجھے چپ کروا رہی تھی یا کیا، مجھے اس وقت سمجھ نہیں آئی وہ کیوں رو رہی تھی، پھر اس نے خود کو سنبھالا۔۔ میرا حلیہ درست کیا، مجھے پیار کیا، اور کہنے لگی، اب اس آدمی کے پاس کبھی مت آںا، اور یہ بات کسی کو نہ بتانا، ۔۔۔ لیکن ہاں اگر تمہارے گھر والے تمہیں یہاں آنے کو پھر کہیں تو پھر بتا دینا۔ چلو میں تمہیں گھر چھوڑ آؤں۔۔۔”
 مجھے یاد ہے واپسی پر بہت تیز بارش ہو رہی تھی، مجھے لگ رہا تھا جیسے آسمان بھی میرے ساتھ یا اس عورت کے ساتھ رو رہا ہو۔ ابھی ہم ایک ہی گلی میں مڑے تھے تو سامنے سے امی آتی نظر آئیں، وہ مجھے ہی لینے آ رہی تھیں کہ بارش بہت زیادہ ہو رہی ہے ۔۔ اس عورت نے امی کو دور سے دیکھتے ہی مجھے چپ ہونے کو کہا، اور خود بھی چہرہ صاف کیا، اور مجھے امی کی طرف بڑھاتے دور سے ہی سلام کہتے بارش کے بہانے میں جلدی میں واپس مڑ گئی۔۔۔۔ مجھے یاد ہے مجھے گھر آ کر بہت تیز بخار ہو گیا، سب سمجھے شاید میں بارش سے بیمار ہو گئی ہوں،” حبہ تھوڑا ہلکا ہوئی۔۔ مگر خاموش بھی
“تو کیا آپ نے اپنی امی کو بتایا؟” رابعہ نے دھیمے سے لہجے میں پہلا سوال کیا
“نہیں ۔۔ میری ہمت نہیں ہوئی،۔ وہ ابو کو یاد کر کے بہت روتی تھیں،،، اور پھر اس آدمی کی بیوی کے آنسو میرے ذہن سے نہیں جاتے تھے، وہ تکلیف میں اپنی ماں کے چہرے پر نہیں دیکھنا چاہتی تھی، جب اس عورت نے کہا کہ کسی کو نہ بتانا،، تو مجھے لگا ہاں یہ بات کسی کو کبھی نہیں بتانے والی نہیں۔۔۔۔ دوسرا امی نے کبھی مجھے فورس بھی نہیں کیا اس آدمی کے پاس دوبارہ پڑھنے کے لئے، کچھ ماہ بعد اس کی بیوی اسے چھوڑ کر چلی گئی، اس نے خلع لے لی تھی، پھر پتہ چلا اس آدمی کا ایکسیڈنٹ ہوا تو وہ اپنے بھائی کے پاس گاؤں چلا گیا، وہیں رہتا ہے۔۔۔۔”
حبہ کا چہرہ ستا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔

۔۔۔جاری ہے۔۔۔

اس کہانی کا چوتھا حصہ یہاں ملاحظہ کریں 

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: