داستان گو —- قسط نمبر 4 — ادریس آزاد

0
  • 1
    Share

آئیسوان کو آج ’’وِلسما‘‘ کے ہیڈکوارٹرجانا تھا۔ ولسما، سِڈرہ کمیونٹی کا واحد ادارہ تھا جو عہدِ قدیم کے لوگوں کو قبروں سے اُٹھانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ وِلسما صدیوں سے لوگوں کو جَگا رہا تھا۔ جب بھی کسی شخص کو صدیوں کی نیند کے بعد اُٹھانا مقصود ہوتا تو پہلے وِلسما کے ماہرین اس کے ڈی این اے اور سوانح حیات کا مطالعہ کرتے۔ کسی بھی مرے ہوئے شخص کا ڈی این اے حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ مشکل کام ہوتا تھا ایسے لوگوں کی یاداشت کا لَوٹانا۔ اب تک ولسما کے پاس کئی ایسے ڈی این اے جمع ہوگئے تھے جن لوگوں کو باوجود کوشش کے ’’وِلسما‘‘ اُن کی پرانی یاداشت کے ساتھ نہ جگا سکاتھا۔ سائنسدانوں کے لیے یہ ایک معمہ تھا۔ کسی بھی شخص کو دوبارہ جگانے کے لیے سب سے پہلے اُس کا ڈی این اے حاصل کیا جاتا تو سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا کہ آیا اس کے ڈی این اے سے ہی اس کی ساری یاداشت حاصل کی جاسکتی ہے؟ دس فیصد لوگوں کی یاداشت ان کے ڈی این اے سے ہی واپس آجایا کرتی تھی۔ لیکن اگر زیادہ تر لوگوں کا ڈی این اے یاداشت کے معاملے میں تاریک ہوتا۔ صرف شخص کی جسمانی شناخت حاصل ہوپاتی اور یاداشت نہ ملتی۔ تب اور کئی طریقوں سے اُس کی یاداشت کا ریکارڈ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی۔ دراصل مختلف صدیوں کے لوگوں کا معاملہ مختلف ہوتا تھا۔ مثلاً وہ لوگ جو شروع دور کی سِڈرہ کمیونٹی میں بیدار کیے گئے تھے ان کی یاداشتیں ولسما کے پاس پہلے سے محفوظ تھیں۔
’’مائنڈ اپلوڈنگ‘‘ کی سائنس کو ترقی ملی تو واقعہ یوں ہوا کہ 2108 میں زمین کے لوگوں کو اُس وقت کی حکومتوں نے سرکاری ریکارڈ کے لیے ’’مین کمپیوٹر‘‘ کے ساتھ جوڑ دیا تھا۔ اصل میں شناختی نمبر کے اِس عمل کی ابتدأ بہت پہلے یعنی بیسویں صدی میں ہی ہوگئی تھی، جب زمین کے ایک ملک امریکہ کے ایک قانون نافذ کرنے والے ادارے ’’ایف بی آئی‘‘ نے سب سے پہلے فنگر پرنٹس سے انسانی شناخت کا عجیب و غریب نظام شروع کیا۔ اس سے پہلے لوگ بوقتِ ضرورت اپنی شناخت بدل لیا کرتے تھےلیکن فنگر پرنٹس ٹیکنالوجی کے بعد بہروپ بدلنا خاصا مشکل ہوگیا تھا۔ پھر اکیسویں صدی کے آغاز میں جب امریکہ پر حملے ہوئے اور امریکہ کے دو بڑے ٹاوزر گرادیے گئے تو شناخت کا نظام بدلنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اس زمانے کی حکومتوں نے شہریوں کی شناخت کے لیے کئی طرح کے طریقے اختیار کیے جیسا کہ آنکھوں کی پُتلی، چہرے کے مسام، قدقامت، آواز اور لہجےکو بھی شناختی نشان کے طور پر استعمال کیا جاتارہا۔ اکیسویں صدی کے اوائل میں ڈی این اے کے ذریعے انسانوں کی پہچان کا نظام شروع ہوا جسے فی الواقعہ ’’ولسما‘‘ کے قیام کی طرف پہلا قدم شمار کیا جاسکتاہے۔ اگرچہ ’’ولسما‘‘ بہت بعد میں قائم ہوا لیکن اس کی بنیادیں اِسی دور میں تلاش کی جاسکتی تھیں۔
یہی وہ دور ہے جب انسانوں نے جانداروں کی کلوننگ میں کمال حاصل کرلیا تھا۔ اکیسویں صدی کے آخر تک انسانوں کو بھی کلون کیا جانے لگا۔ بعض لوگوں کے نزدیک یہ عمل اتنا خطرناک تھا کہ انہوں نے باقاعدہ اس کے خاتمے کے لیے جدوجہد کی۔ لیکن چونکہ کلوننگ ذرا بھی مشکل کام نہ تھا اور کوئی بھی شخص جس کے پاس ایک اچھی خورد بِین ہوتی اپنے گھر کے گیراج میں کلوننگ کا تجربہ انجام دے سکتا تھا، سو کلوننگ کو روکنا حکومتوں کے لیے ناممکن ہوگیا۔ ایک ایک شخص کے کئی کئی کلون پیدا کیے جاتے۔ اکیسویں صدی کے اختتام پر امریکی فوج میں ایک پوری بٹالین کلونز پر مشتمل تھی۔ یہ سب نہایت طاقتور اور بے پناہ ذہین سپاہی تھے۔ جنہیں امریکی ادارہ ’’ڈارپا‘‘ پیدا کرتا اور جنگی مقاصد کے لیے بے دریغ استعمال کرتاتھا۔ انہیں سپرسولجرزکہا جاتا تھا۔ لیکن بائیسویں صدی میں انسانوں پر کلوننگ کا استعمال بند کردیا گیا۔ 2108 میں شناخت کرنے کا نظام یکسر بدل دیا گیا۔ ہرشہری کے دماغ کو سرکاری کمپیوٹرز کے ساتھ جوڑدیا گیا۔ کوئی شہری، کچھ بھی سوچتا یا جوبھی خواب دیکھتا، اُن سب کا ریکارڈ حکومتوں کے پاس محفوظ ہونے لگا۔ چونکہ اس عمل سے لوگوں کی ذاتی زندگی میں بہت زیادہ مداخلت پیدا ہوگئی تھی، اس لیے حکومتوں کے خلاف بے شمار تحریکیں چلیں۔ لوگ اپنی پرائیویسی میں حکومت کو شامل نہیں ہونے دینا چاہتےتھے۔ جب سرکاری اہلکار کسی نومولود کو شناختی نظام کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے پہلا انجکشن لگانے آتے تو مائیں اپنے بچوں کو چھپا لیا کرتی تھیں۔ دنیا کا کوئی شخص بھی اِس حق میں نہیں تھا کہ ان کی ذاتی زندگی میں حکومت اس قدر دخل اندازی کرے۔ ہرکوئی اپنے دماغ کو سرکاری کمپیوٹروں کےساتھ منسلک ہونے سے بچانے کی کوشش کیا کرتا۔ کیونکہ اس طرح کوئی راز، راز نہ رہتاتھا۔ کسی کی ذاتی سوچ، اس کی ذاتی سوچ نہ رہتی تھی۔ کیونکہ جن لوگوں کے دماغ سرکاری کمپیوٹروں کے ساتھ ایک بار جوڑ دیے جاتے، وہ تمام عمر جو کچھ سوچتے، یا جوکوئی خواب دیکھتے، سب ریکارڈ کسی ویڈیو کی صورت حکومت پاس محفوظ ہوجاتا۔ اگر کوئی شخص کوئی بُری بات سوچتا تو حکومت اس کے عزائم جان لیتی اور اسے وقت سے پہلے ہی گرفتارکرلیتی۔ یہی وجہ تھی کہ ہر شخص شناخت کے اِس نظام کے خلاف ہوگیا۔ بالآخر اُس وقت کے ایک مُلک نے، جس کا نام ’’اِنڈیا‘‘ تھا، سب سے پہلے ایک نہایت عجیب و غریب چارہ ڈالا۔ یہ ایسا شکنجہ تھا کہ لوگوں کو اپنی پرائیویسی کا خیال بھول گیا اور ہرکوئی خوشی خوشی اپنے دماغ کو سرکاری کمپیوٹرز کے ساتھ جڑوانے کے لیے رضامند ہوگیا۔
انڈیا کی حکومت نے اپنے شہریوں کو میڈیا کی ایک بھرپور کمپین کے ذریعے اِس بات کا یقین دلایا کہ جو کوئی بھی اپنا دماغ سرکاری کمپیوٹروں کے ساتھ جُڑوائے گا۔ اسے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جاسکے گا۔ شروع شروع میں لوگوں کو یقین نہ آیا۔ سب سے پہلے جب ایک نوعمر لڑکے کوبے وجہ قتل کیا گیا تو اس کے والدین کو حکومتی اہلکاروں نے یقین دلایا کہ وہ اُن کا مرا ہوا بچہ اُنہیں زندہ کرکے واپس کرینگے۔ کیونکہ بچے کا دماغ پیدائش کے پہلے دن ہی سرکاری کمپیوٹرز کے ساتھ جوڑ دیا گیا تھا۔ اور مرنے والے نوعمر لڑکے کی آخری سانس تک کی ویڈیو فلم حکومت کے ریکارڈ میں محفوظ تھی۔ چنانچہ کلوننگ جس کا استعمال صرف جانوروں کے لیے باقی رہ گیا تھا اور انسانی کلوننگ کی ہرسطح پر ممانعت تھی، سب سے پہلے ہندوستان کی حکومت نے دوبارہ سے شروع کردی۔ انہوں نے نوعمر ’’مہادیو‘‘ کا ڈی این اے لے کر اُسے اس طرح دوبارہ پیدا کیا کہ اس کی تمام یاداشت کا ریکارڈ بھی اس کے دماغ میں منتقل کردیا۔ یہ ایک نہایت مشکل کام تھا۔ مہادیو کے والدین یہ نہ چاہتے تھے کہ اُن کا بچہ انہیں دوبارہ بچپن سے پالنا پڑے۔ یہی وجہ تھی کہ انڈیا کے سائنسدانوں نے بچے کو ایک شیشے کی ٹیوب میں بڑا کیا، جس کے دماغ کے ساتھ مختلف کمپیوٹرز جُڑے ہوئے تھے اور ہرروز شیشے کی ٹیوب میں بڑے ہوتے ہوئے، مہادیو کے دماغ میں اُس کی اپنی یاداشتیں تھوڑی تھوڑی کرکے داخل کی جاتی رہیں۔ انسانی جسم کی بافتوں(ٹِشوز) کی پرورش سالہاسال میں ہوتی تھی لیکن ہندوستان کے ماہرین ِ حیاتیات نے ’’برائلرچکن‘‘ کی طرز پر ایک نئی ٹیکنالوجی ایجاد کرلی۔ کوئی بھی انسانی بچہ اُس وقت، صرف تین ماہ میں ہی اتنا بڑا کرلیا جاتا کہ جتنا پورا مکمل انسان۔ مہادیو جب شیشے کی ٹیوب سے باہر آیا اور اسے اس کے والدین کے سامنے لایا گیا تو اس نے اپنی ماں باپ اور بہن بھائیوں کو دیکھتے ہی انہیں پہچان لیا۔ اِسے زمین کی تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ سمجھا گیا کیونکہ اس دن کے بعد سے تقریباً ہر شخص خوشی خوشی اپنا دماغ سرکاری کمپیوٹرز کے ساتھ جُڑاوانے کے لیے راضی ہوگیا۔ اور یوں جب لوگوں کو پتہ ہوتا تھا کہ ان کی ہر ہر سوچ بڑے کمپیوٹر میں پڑھی جارہی ہے تو وہ خود بخود اخلاقی طور پر اچھے ہونے لگے۔ کوئی بھی ایسی سوچ جو منفی ہوتی لوگ جان بوجھ کر نہ سوچنا چاہتے تاکہ حکومت کو پتہ نہ چل جائے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ایسا ہوا کہ دنیا میں کوئی ایک بھی انسان ایسا نہ بچ گیا جو کسی منفی سوچ کو اپنے ذہن میں جگہ دیتا۔ ہندوستان میں ٹیکنالوجی نے یہ کرشمہ دکھایا تو پھر دیر نہ لگی اور دنیا کے ہر ملک نے اپنے شہریوں کے دماغ نہایت آسانی کے ساتھ اپنے سرکاری کمپیوٹرز کے ساتھ جوڑنا شروع کردیے۔ کیونکہ اب لوگ اپنے آس پاس دیکھ رہے تھے کہ جب بھی ایسا کوئی شخص مرجاتا جس کے دماغ میں چلنے والا ہرخیال اور ہرتصور سرکاری کمپیوٹرز میں محفوظ ہوتی، وہ دوبارہ واپس زندہ کردیا جاتا تو لوگوں نے پرائیویسی اور ذاتی زندگی کی پرواہ ترک کردی۔ ہرکوئی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جینا چاہتا تھا۔ تئیسویں صدی کے آغاز تک زمین پر کوئی ایسا شخص موجود نہیں تھا جس کی یاداشتوں کا ریکارڈ اپنے ملک کی حکومتوں کے پاس محفوظ نہ تھا۔
چنانچہ یہی وجہ تھی کہ وہ لوگ جو شروع شروع میں ’’ولسما‘‘ نے بیدار کیے تھے ان کی یاداشتوں کا پورا ریکارڈ ولسما کے پاس پہلے سے موجود تھا۔ ولسما نے لوگوں کو دوسری مرتبہ جگایا تھا۔ ان ادوار کے ہرہر شہری کو۔ ’’ولسما‘‘ اپنے طریقے پر جگانے کے اِس نئے اور جدید ترین عمل کو ’’رینوویشن‘‘ کا نام دیتاتھا۔ اب انسانی بافتوں کو اور بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پروان چڑھایا جاتا۔ اب تو یہ صورتحال تھی کہ اگر کسی شخص کو زندہ کرنا ہوتا تو صبح اس کا ’سٹیم سیل‘ شیشے کی ٹیوب میں ڈالا جاتا اور شام تک وہ ثابت و سالم اپنی مکمل سابقہ زندگی اور یاداشتوں کے ساتھ اُٹھ کھڑا ہوتا۔

وِلسما نے بعد میں یاداشت حاصل کرنے کے اور بھی کئی طریقے اختیار کرلیے۔ جن میں وِلسما کے لیے سب سے مہنگا طریقہ ٹیلی پورٹیشن کے استعمال کا طریقہ تھا۔ دراصل ٹیلی پورٹیشن میں زندہ انسانوں کو پہلے ’’ڈی میٹیریلائز‘‘ کرنا ہوتاتھا اور پھر دوبارہ دوسرے مقام پر میٹیریلائز کرنا ہوتاتھا۔ یعنی پہلے مادی حالت سے فقط ایک موج کی شکل میں تبدیل کرنا ہوتا تھا اور پھر دوسرے مقام پر دوبارہ اُس موج کو مادی حالت میں تبدیل کرنا ہوتاتھا۔ یہ سڈرہ کمیونٹی کی سب سے مہنگی اور مشکل ٹیکنالوجی تھی۔ پہلے دن، دانش لوگوں کی سپیس شِپ پر نائتلون اِسی ٹیکنالوجی کے ذریعے پہنچا تھا، جب وہ اچانک غیب سے نمودار ہوگیا تھا۔ لیکن ٹیلی پورٹیشن کے ذریعے کسی انسان کی سابقہ زندگی کا ریکارڈ کیسے حاصل کیا جاتا؟ اس کے لیے کسی کیمرہ مین کو آسمان میں بہت دُور کہیں ٹیلی پورٹ کردیا جاتا۔ کسی ایسے سیّارے پر جہاں سے روشنی سیّارہ ’’ارتھ‘‘ تک ایک خاص وقت میں پہنچتی تھی۔ یعنی اگر کسی شخص کو 1940 سے جگانا ہوتا تو آسمان میں پہلے ایسا ایسٹرائیڈ یعنی بڑی سی چٹان ڈھونڈی جاتی جہاں سے آنے والی روشنی زمین پرٹھیک 1940 سالوں میں پہنچ رہی ہوتی۔ کیمرہ مین کو وہاں بھیج کر وہاں سے زمین پر ہونے والے واقعہ کی تاریخی شہادت ریکارڈ کرلی جاتی۔ یہ ایک طرح سے براہِ راست ریکارڈنگ کا طریقہ تھا۔ جو سیّارے، اَرتھ سے ایک ہزار یا دوہزار یا چند ہزار سال کی دُوری پر تھی، وہاں پر نصب کردیا جانے والا کیمرہ اپنے وقت کی براہِ راست ویڈیو ریکارڈ کرتاتھا۔ کئی صدیاں پہلے کسی کیمرہ مَین نے ’واقعہ ٔ کربلا ‘ کو مکمل طور پر ریکارڈ کرکے براہِ راست نشر کردیا تھا جس پر پوری دنیا میں بے پناہ شور مچا تھا۔ تب سڈرہ کی ساری کمیونٹی نے اِس رائے کے حق میں ووٹ دیا تھا کہ کوئی بھی ایسی ریکارڈنگ بغیر پیشگی اطلاع اور عوامی منظوری کے نشر نہ کی جائے۔ دراصل واقعۂ کربلا سے پوری سڈرہ کمیونٹی میں یکلخت صدمے کی ایک لہر دوڑ گئی تھی اور سڈرہ کمیونٹی میں صدمے کو ’’کرائسس‘‘ کہہ کر پکارا جاتاتھا۔ مائمل جیسے خدمتگار ہرگز نہ چاہتے تھے کہ سڈرہ کمیونٹی میں کوئی روئے یا کوئی آنسو بہائے۔ اِس واقعہ کو’’ ماس لیول‘‘ کا کرائسس سمجھا جاتا۔ بعد میں جب اور زیادہ سنگین واقعات اور خاص طور پر پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے واقعات ریکارڈ کیے گئے تو انہیں عوامی سطح پر نشر نہ کیا گیا۔ وہ فقط طالب علموں تک محدود کردیے گئے۔
وِلسما کے لیے اس سے قدرے کم مہنگا طریقہ ’’ٹائم مشین‘‘ کے ذریعے کسی شخص کی زندگی کی پوری ویڈیو حاصل کرنے کا تھا۔ ولسما کے پاس جب بھی ایسا کوئی کیس آتا تو آئیسوان ذاتی طور پر پوری چھان بین کرتا اور اُس کی کوشش ہوتی کہ ’’ٹائم مشین‘‘ کے استعمال سے بھی حتی الامکان بچاجائے۔ کیونکہ ٹائم مشین لاانتہأ ٹائم لائنوں میں سے کسی ایک تک محدود ہوتی تھی۔ اور ریکارڈنگ کے باوجود، شخص کی یاداشت فقط اتفاق ک آج آئیسوان ’’ولسما‘‘ کے ہیڈ کوارٹر جارہاتھا۔ کیونکہ گزشتہ کچھ دنوں سے آئیسوان کے پاس پھر ویسا ہی عجیب وغریب کیس منظوری کے لیے آیا ہوا تھا۔ یہ ایک ادھیڑ عمر شخص کو جگانے کا کیس تھا اور اِس کیس میں بھی یاداشت واپس لانے کا ہر طریقہ ناکام ہوچکاتھا۔ اب صرف ایک ہی راستہ بچا تھا کہ آئیسوان اس شخص کے لیے ’’ٹائم مشین‘‘ کے استعمال کی اجازت دے۔ تاکہ سائنسدان ماضی کی ویڈیو چلا کر اُس کی پوری یاداشت کا ریکارڈ حاصل کرسکیں۔ ٹائم مشین میں کبھی کسی انسان کو نہیں بھیجا جاتا تھا، ہمیشہ ویڈیو ریکارڈ کی جاتی تھی۔ ٹائم لائنز کے لااِنتہا ہونے اور متوازی ہونے کی وجہ سے احتیاط کی جاتی تھی۔ جب بھی کسی کو نہایت ضروری حالات میں ماضی کی ٹھیک ٹائم لائن میں بھیجنا مقصود ہوتا تو صرف گریوٹی بس کا استعمال کیا جاتاتھا۔ گریوٹی بس کے استعمال کا طریقہ ناممکن کی حد تک مشکل سمجھا جاتا تھا اور نناوے فیصد معاملات میں ففتھ ڈائمینشن میں موجود سِڈرہ کے کارندوں کی طرف سے، کوانٹم سیٹلائٹ کے ذریعے گرین سگنل ہی موصول نہ ہوتا تھا۔ پانچویں ڈائمینشن میں جاکر ہمیشہ کے لیے سڈرہ سے بچھڑ جانے والے سڈرہ کے حقیقی جانثار کارندے، وہاں سے امکانات کی تمام لائنز کو دیکھ سکتے تھے۔ اس لیے زیادہ تر، کسی انسان کو واپس ماضی میں بھیجنے کا سگنل انکار کی صورت میں ہی آتا تھا۔ ی ہی مرہون ہوتی۔
لیکن آج بھی ولسما کی شدید خواہش اور کوشش تھی کہ کسی طرح ڈی این اے سے ہی یاداشت کو بھی مکمل کامیابی کے ساتھ حاصل کرلیا جائے۔ وہ چاہتے تھے کہ کامیابی کی شرح دس فیصد سے کسی طرح بڑھائی جاسکے یہی وجہ تھی کہ عادّین دن رات اِس سوال کا جواب حاصل کرنے میں لگے ہوئے تھے کہ آخر تمام انسانوں کی یاداشت ان کے ڈی این اے سے کیسے نکالی جاسکتی ہے؟
آج آئیسوان ’’ولسما‘‘ کے ہیڈ کوارٹر جارہاتھا۔ کیونکہ گزشتہ کچھ دنوں سے آئیسوان کے پاس پھر ویسا ہی عجیب وغریب کیس منظوری کے لیے آیا ہوا تھا۔ یہ ایک ادھیڑ عمر شخص کو جگانے کا کیس تھا اور اِس کیس میں بھی یاداشت واپس لانے کا ہر طریقہ ناکام ہوچکاتھا۔ اب صرف ایک ہی راستہ بچا تھا کہ آئیسوان اس شخص کے لیے ’’ٹائم مشین‘‘ کے استعمال کی اجازت دے۔ تاکہ سائنسدان ماضی کی ویڈیو چلا کر اُس کی پوری یاداشت کا ریکارڈ حاصل کرسکیں۔ ٹائم مشین میں کبھی کسی انسان کو نہیں بھیجا جاتا تھا، ہمیشہ ویڈیو ریکارڈ کی جاتی تھی۔ ٹائم لائنز کے لااِنتہا ہونے اور متوازی ہونے کی وجہ سے احتیاط کی جاتی تھی۔ جب بھی کسی کو نہایت ضروری حالات میں ماضی کی ٹھیک ٹائم لائن میں بھیجنا مقصود ہوتا تو صرف گریوٹی بس کا استعمال کیا جاتاتھا۔ گریوٹی بس کے استعمال کا طریقہ ناممکن کی حد تک مشکل سمجھا جاتا تھا اور نناوے فیصد معاملات میں ففتھ ڈائمینشن میں موجود سِڈرہ کے کارندوں کی طرف سے، کوانٹم سیٹلائٹ کے ذریعے گرین سگنل ہی موصول نہ ہوتا تھا۔ پانچویں ڈائمینشن میں جاکر ہمیشہ کے لیے سڈرہ سے بچھڑ جانے والے سڈرہ کے حقیقی جانثار کارندے، وہاں سے امکانات کی تمام لائنز کو دیکھ سکتے تھے۔ اس لیے زیادہ تر، کسی انسان کو واپس ماضی میں بھیجنے کا سگنل انکار کی صورت میں ہی آتا تھا۔
آئیسوان، سپیس ایلی ویٹر(space elevator) کے سٹاپ پر پہنچا تو ابھی ایلیویٹر کو واپس آنے میں کچھ دیر تھی۔ چنانچہ وہ سامنے رکھے بنچوں میں سے ایک پر بیٹھ گیا۔ پاس ہی ایک جوان العمر خاتون بیٹھی سویٹر بُن رہی تھی۔ وہ بھی شاید ایلی ویٹر کا انتظارکررہی تھی۔ آئیسوان نے خاتون کو سوئٹر بُنتے دیکھا تو مُسکراتے ہوئے پوچھا،
’’سویٹر ننھا مُنا سا ہے۔ معلوم ہوتاہے، کسی ننھے فرشتے کے لیے بُن رہی ہیں؟‘‘
خاتون نے آئیسوان کی جانب چونک کر دیکھا او رپھر ہنستے ہوئے کہنے لگی،
’’ہاں! ’’شاہ ظل، مائی فرسٹ بے بی‘‘
آئیسوان کو ہلکی سی حیرت ہوئی۔ ایک تو خاتون نے انگریزی زبان میں بات کی تھی اور دوسرے اس نے کوئی عجیب وغریب نام لیا تھا جو آئیسوان نے پہلے کبھی نہ سناتھا۔ چنانچہ آئیسوان نے قدرے تجسس کے ساتھ دوبارہ پوچھا،
’’شاہ ظل؟ یہ کس زبان کا نام ہے؟‘‘
’’یہ اردو ہے‘‘
’’اوہ اُردو‘‘
اب آئیسوان سمجھ گیا تھا کہ خاتون ہیومین ورژن ون ہے اور ماضی سے دوبارہ اُٹھائی گئی ہے۔ خاتون کا پیٹ بڑھا ہوا نہ دیکھ کر، آئیسوائن نے کہا،
’’لگتاہے آپ نے ’شاہ ظل‘ کو دنیا میں لانے کے لیے ’’اِن کیوبیٹر‘‘ ٹیکنالوجی کو پسند کیا‘‘
خاتون نے پھر ہنستے ہوئے جواب دیا،
’’نہیں! بچہ چار ماہ تک میرے پیٹ میں تھا۔ پھر جب پیٹ بڑھنے لگا تو اس کے باپ نے کہا کہ اب ’اِنکیوبیٹر‘ میں رکھوادیتے ہیں۔ اصل میں اس کا باپ میرے پیٹ کو پھُولا ہوا نہیں دیکھنا چاہتاتھا‘‘
یہ کہتے ہوئے خاتون نے بے خیالی میں اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔ آئیسوان نے بھی اس کے پیٹ ی جانب دیکھا اور پھر نظریں ہٹاتے ہوئے پوچھا،
’’اوہ! توآپ شادی شُدہ بھی ہیں، ضرور پائرہ جارہی ہونگی؟‘‘
’’جی ہاں! ہمارا وہاں اپنا گھر ہے۔ میں یہاں اپنا بے بی دیکھنے کے لیے آئی تھی۔ ہمیں پائرہ سے ’جبرالٹ نزدیک پڑتاہے‘۔ اس لیے میرا پورا کیس یہیں تیار ہوا‘‘
اسی اثنأ میں سپیس ایلی ویٹر بھی نیچے آگیا۔ خاتون اور آئیسوان ایک ساتھ اُٹھے اور ایلی ویٹر کی طرف بڑھنے لگے۔ سپیس ایلیویٹر ایک شاندار سواری تھی۔ یہ گویا ایک عمودی بَس تھی، جس میں تہہ در تہہ منزلیں بنی ہوئی تھیں۔ ہرمنزل پر لوگ اس طرح بیٹھتے جیسے ساحلِ سمندر پر کسی عالیشان بنگلے میں بیٹھے ہوں۔ چاروں طرف شیشے لگے ہوتے تھے تاکہ مسافر باہر کے مناظر سیکھ سکیں۔ جوں جوں ایلی ویٹر اُوپر کو اُٹھتا جاتا نیچے ’جبرالٹ‘‘ کے مناظر، نظارہ ہائے دیدنی بنتے چلے جاتے۔ آئیسوان کے ساتھ سوار ہونے والی خاتون کسی اور منزل میں چلی گئی۔ جبکہ آئیسوان ’’بوگی نمبر تیرہ‘‘ میں تھا۔ یہاں بھی اس کے آس پاس لوگ بیٹھے تھے۔ ساتھ والی ٹیبل پر ایک باپ اپنے نوعمر بیٹے کو سپیس ایلی ویٹر ز کی تاریخ بتارہا تھا۔
’’ سپیس ایلی ویٹر ز کی ٹیکنالوجی اب اپنے عروج پر ہے بیٹا! تم تو میڈیکل سائنس میں چلے گئے ورنہ تمہیں اس کی ساری انجنرئنگ خود معلوم ہوتی۔ خیر! زندگی پڑی ہے۔ کبھی میری خواہش بھی پوری کرنا اور انجنئرنگ بھی سٹڈی کرنا۔ اکیسویں صدی کے اواخر میں جب سپیس ایلی ویٹرز کے ابتدائی خاکے بنائے جارہے تھے تو سائنسدانوں نے زمین سے خلا تک ’’کاربن نینو ٹیوبز‘‘ سے بنے ہوئے بہت طویل ستون استعمال کیے تھے جو سمندر میں موجود کسی بہت بڑے بحری بیڑے کے ساتھ بندھے ہوتے اور ان کا دوسرا سِرا خلا میں ہوتا تھا اور آج دیکھو!پندرہ سوسال بعد سیپس ایلی ویٹر بغیر کسی سیڑھی کے سیدھا سپیس سٹیشن تک چلا جاتاہے‘‘
لڑکے نے بحری بیڑے کے ساتھ بندھے ہوئے ایلی ویٹر کے بارے میں سنا تو اس کی ہنسی نکل گئی۔ اس نے حیرت کے ساتھ کہا،
’’واقعی؟‘‘
’’ہاں! واقعی۔ میں نے اپنی انجنئرنک کے دوارن لگ بھگ بیس پچیس ہزار قسم کے ایلی ویٹرز کے بارے میں پڑھاتھا‘‘
لڑکے کے چہرے پر شدید حیرانی کے تاثرات تھے۔ وہ غالباً پائرہ سے پہلی بار باہر آیا تھا۔ اور شاید اب بھی دونوں باپ بیٹا پائرہ ہی جارہے تھے۔ چند منٹوں میں ایلی ویٹر نے اِن لوگوں کو ’’ٹاپ‘‘ پر پہنچا دیا۔ یہاں ایک بہت بڑا خلائی سٹیشن تھا۔ قدیم زمانے کے ریلوے سٹیشنوں کی طرز کا یہ خلائی سٹیشن جبرالٹ سے آنے والے ایلی ویٹرز کا آخری سٹاپ تھا۔ یہاں سے ہرسیّارے کی طرف مختلف گاڑیاں روانہ ہوتیں۔ ہرطرح کے لوگ، ہرطرح کا سفر کرتے۔ جیسے آج آئیسوان پرانے طرز کی گاڑی میں سفر کرنے والا تھا۔ آئیسوان فطرت پسند تھا۔ وہ ہمیشہ قلم اور کاغذ سے لکھتا اور کتابوں سے پڑھتا یعنی الیکٹرانک میڈیا استعمال کرتا نہ کوئی اور ذریعہ۔ حالانکہ وہ خود ہیومین ورژن ٹُو تھا اور مائمل کا خاص قابلِ اعتماد ساتھی تھالیکن اس کی طبیعت پرانی چیزوں کے ساتھ میل کھاتی تھی۔ اُس دن بھی جب مائمل اُس سے ملنے آئی تھی تو وہ میز پر سرجھکائے کاغذ پر قلم سے کچھ لکھ رہاتھا۔ اُسے جب بھی ’’ولسما‘‘ کے ہیڈکوارٹر جاناہوتاوہ ہمیشہ ’’نیوکلیئر انجن سے چلنے والی‘‘ عام، کلاسیکی بس کے ذریعے جانا پسند کرتاتھا۔ یہ خلائی بس تھی۔ سوار ہونے سے پہلے آئیسوان نے بس کا نمبر پڑھا،
’’پانامہ، بوئنگ ففٹی فائیو‘‘
آئیسوان بس میں سوار ہوگیا۔ یہ بس سیّارہ ’’ بعثان‘‘ کی طرف روانہ ہونے والی تھی۔ آئیسوان نے ہاتھ پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھا۔ ابھی صبح کے دس بجے تھے۔ وہ جانتا تھا کہ سیّارہ ’’بعثان‘‘ جہاں ولسما کا ہیڈ کوارٹر تھا یہاں سے سات گھنٹے کی دُوری پر ہے۔ چنانچہ اس نے اپنے بیگ سے، ایک کتاب نکالی اور نیم دراز ہوکر حسبِ معمول مطالعہ شروع کردیا۔ گزشتہ کچھ دنوں سے وہ ’’مارسل پراوسٹ‘‘ کی کتاب، ’’اِن سرچ آف لاسٹ ٹائم‘‘ پڑھ رہاتھا۔
******
ماریہ نہایت بے چینی سے ٹہل رہی تھی۔ اُس کا چہرہ جوشِ جذبات سے سُرخ تھا اور آنکھوں میں عجب طرح کی چمک تھی۔ ماریہ کو دُور سے دیکھ کر بتایا جاسکتا تھا کہ اُس کی جذباتی شدت کی سطح بے پناہ بلند یعنی اِس وقت انتہاپر تھی۔ وہ کبھی بنچ پر بیٹھ جاتی، لیکن پھر فوراً اُٹھ کر کھڑی ہوجاتی۔ اسے اپنی شریانوں میں خون، روشنی کی رفتار سے دوڑتاہوا محسوس ہورہاتھا اور دِل کی دھڑکن تھی کہ گویا کوئی رَتھ دوڑرہاتھا۔ آج اُس کے محبوب، شارق کو پندرہ سوسال کی طویل نیند کے بعد جگایا جانے والا تھا۔ وہ اِس وقت ’’بعثان‘‘ سیّارے کے سب سے بڑے ادارے ’’ولسما‘‘ میں موجود تھی۔ وہ کبھی اندر عمارت میں چلی جاتی اور کبھی پھر باہر آکر سبزے پر ٹہلنے لگ جاتی۔ آج کا سارا دن اُس نے اسی طرح گزارا تھا۔ اور اِس وقت سہ پہر کا وقت۔ ایک دو گھنٹے میں شام ہونے والی تھی۔ شام تک ’’شارق‘‘ کی آنکھ کھل جانی تھی۔ اُسے ولسما کے ڈاکٹرز نے یہی بتایا تھا۔ ڈاکٹرز جب ماریہ کی حالت دیکھتے تو ہنس ہنس کر اُسے چھیڑتے اور وہ خوش ہوتی۔ ایک ڈاکٹر نے تو اس سے پوچھ لیا،
’’مسٹر شارق اور آپ پہلی بار کب ملے تھے؟‘‘
ڈاکٹر کے سوال کرنے کی دیر تھی کہ ماریہ جیسے سُن ہوگئی۔ وہ کچھ دیر ساکت رہی اور پھر نہ جانے کیا ہوا کہ وہ پھوٹ پھو ٹ کر رونے لگ گئی۔ ڈاکٹرز پریشان ہوگئے۔ ان میں سے ایک لیڈی ڈاکٹر نے آگے بڑھ کر ماریہ کو گلے سے لگالیا اور کہا،
’’اوہ ہو! آپ تو رونے بیٹھ گئی ماریہ! آج کا دن تو ہنسنے کا دن ہے آپ کے لیے۔ ہے کہ نہیں؟‘‘
ماریہ روتے روتے ہنسنے لگی۔ وہ آنسو پونچھتی جاتی تھی اور بتاتی جاتی تھی کہ،
’’ہم پہلی بار ایک دوسرے سے لڑنے کے لیے ملے تھے۔ اُس دن میں نے شارق کا سر پھوڑ دینا تھا۔ میں لڑکیوں کی طرف سے لیڈر تھی اور شارق لڑکوں کی طرف سے لیڈرتھا۔ ہم دونوں میں اینٹ کُتے کا بَیر تھا …….. اور ہم دونوں پورے کالج کی آنکھوں کا تارہ تھے‘‘
ماریہ کے منہ سے ’’اینٹ کُتے کا بیر‘‘ کے الفاظ سن کر ڈاکٹرز اور نرس گومگو کا شکار ہوگئے جیسے اُنہیں بات کی سمجھ نہ آئی ہو۔ ماریہ ہنسنے لگی،
’’ارے یہ محاورہ ہے ڈاکٹرز! ‘‘
’’وہ تو ہمیں اندازہ ہوگیا ہے کہ یہ محاورہ ہے، لیکن اینٹ کو کسی کتے کے ساتھ بَیر کیسے ہوسکتاہے۔ ہم تو یہ سوچ رہے ہیں‘‘
یہ سنا تو ماریہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی اور پھر ہنستے ہنستے دہری ہوگئی،
’’ارے نئیں! ہمارے زمانے میں لوگ کُتوں کو اینٹ سے مارتے تھے۔ یعنی کوئی پتھر اُٹھایا اور کُتے کو زور سے مارا۔ دُور بھگانے کے لیے‘‘
اب تو ڈاکٹرز اور بھی حیران ہونے لگے۔ اُسی لیڈی ڈاکٹر نے قدرے فکر مندی سے کہا،
’’لیکن وہ کُتوں کو کیوں مارتے تھے اور دُور کیوں بھگانا چاہتے تھے؟‘‘
’’اُف ارے بابا! کُتے انسانوں کو کاٹتے تھے نا‘‘
ڈاکٹرز کی حیرت تھی کہ بڑھتی جاتی تھی،
’’کُتے انسانوں کو کاٹتے تھے؟ کمال ہے۔ یعنی وہ دَور تو ہم سے بھی ایڈوانس تھا۔ کُتے پروگرامڈ تھے۔ کُتوں کی پروگرامنگ کی گئی تھی۔ اف ! کتنی جدید بات ہے‘‘
اب حیران ہونے کی باری ماریہ کی تھی۔ وہ سوچ میں پڑگئی کہ اس میں زیادہ جدید ہونے والی کیا بات ہے؟ کتے تو کتے ہوتے ہیں اور انسانوں کو کاٹتے بھی ہیں۔ لیکن وہ خاموش رہی۔ اتنے میں ایک ڈاکٹر نے کہا،
’’اچھا چھوڑیں! آپ ہمیں بتارہی تھیں کہ آپ لوگ کس طرح ملے تھے‘‘
ماریہ بھی جیسے کسی خیال سے بیدار ہوگئی۔ تب ماریہ نے انہیں، اپنے اور شارق کی محبت کی داستان سنائی۔ وہ لوگ ماریہ کی محبت کے ایک ایک واقعہ پر عش عش کراُٹھتے تھے۔ آخر میں جب ماریہ نے اپنی محبت کا انجام بتایا تو سب لوگ اُداس ہوگئے۔ دراصل ماریہ اور شارق کو، ماریہ کے گھر والوں نے غیرت کے نام پر زہر دے کر مارڈالا تھا۔ ماحول سوگوار ہوگیا تھا۔ ڈاکٹرز کچھ دیر خاموش رہے، پھر ایک قدرے بڑی عمر کے ڈاکٹر نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا،
’’لوجی! کہانی ختم کہاں ہوئی ہے ابھی؟ کہانی تو ابھی شروع ہوئی ہے۔ آج شام تک شارق بیدا ہوجائے گااور تمہارے پاس ہوگا جیتا جاگتا۔ اور کوئی ایسا انسان نہ ہوگا درمیان میں جو تم دونوں کو محبت کرنے سے روکے۔ آج تمہارے لیے خوشی کا دن ہے لڑکی! مِٹھائی کھلاؤ!‘‘
مٹھائی کھلاؤ کے الفاظ ماریہ کے کانوں کو بہت بھلے لگے۔ اس کی اداسی یکلخت ختم ہوگئی اور دوبارہ ہنسنے لگی۔
اب سہ پہر کا وقت تھا اور ماریہ سبزے پر بے چینی سے ٹہل رہی تھی۔ اُس کی پریشانی کی دراصل ایک وجہ تھی۔ اُسے ڈاکٹرز نے بتایا تھا کہ کوانٹم کمپیوٹر کی ایجاد سے پہلے کا جتنا بھی زمانہ ہے وہاں کے لوگوں کی یاداشت واپس لانے میں اگر کوئی نقص آجائے تو پھر معاملہ پیچیدہ ہوجاتاہے۔ اورماریہ پریشان تھی تو اس وجہ سے کہ کہیں ایسا نہ ہو، شارق اپنی اصل یاداشت کے ساتھ واپس نہ آسکے۔ حالانکہ اُسے ڈاکٹرز نے شارق کی میمیوری اپ لوڈنگ کی تمام رپورٹس یہی دی تھیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ لیکن پھر بھی ماریہ کے دل میں خوف بیٹھ گیا تھا۔
بعثان سیّارے کا سُورج غروب ہونے تک ماریہ کی یہی حالت رہی۔ جونہی سوُرج کی آخری کرن بھی دُور پہاڑوں کے پیچھے چھپ گئی۔ ایک نوجوان ڈاکٹر دوڑتاہوا ماریہ کے پاس آیا۔
’’آپ یہاں کیا کررہی ہیں۔ اندر آئیے! شارق آنکھیں کھولنے والا ہے‘‘
اف۔ پھر کیا تھا۔ ماریہ تو روپڑی۔ وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی۔ اس سے چلا نہیں جارہاتھا۔ ’’یااللہ! یہ کیا ماجرا ہے‘‘۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا۔ ڈاکٹر نے آگے بڑھ کر اُسے بازو سے تھاما اور اُٹھا کر کھڑا کردیا،
’’ارے شہزادی! تم ڈر کیوں رہی ہو؟ ارے بھئی نوجوان پوری ذہنی صحت کے ساتھ آنکھیں کھولے گا۔ میں تم سے وعدہ کرتاہوں۔ میں نے تمام پورٹس کو خود چیک کیا۔ ساری کی ساری’ نیورل ایکٹوٹی‘ نارمل ہے۔ ہم تو اسے فقط جسمانی سپارک دینگے۔ تاکہ آنکھ کھول سکے۔ ذہن تو اس کا کام کررہا ہے بابا! تم ڈرو مت! آؤ میرے ساتھ‘‘
ڈاکٹر کی بات سننے کی دیر تھی، ماریہ کا سارا خوف رَفُو ہوگیا۔ وہ تیز تیز قدموں سے ڈاکٹر کے ساتھ چلنے لگی۔ دل کی دھڑکن تو اب بھی اُس کی اُتنی ہی تیز تھی لیکن ساتھ ہی شارق کو دوبارہ زندہ دیکھنے کی خوشی اور پھر شارق کے ساتھ ہمیشہ رہنے کا خیال اُسے جیسے آسمانوں پر اُڑائے چلا جارہا تھا۔ ماریہ اور ڈاکٹر شارق کے کمرے میں پہنچے۔ شارق پر نظر پڑتے ہی ماریہ کا دل زور سے اُچھلا۔ وہ دوسری طرف سے گھوم کر بیڈ کے نزدیک آئی۔ اور شارق کے پاس بنچ پر بیٹھ گئی۔ اب شارق کو کوئی سرنج، کوئی پائپ، کوئی پورٹ نہیں لگی ہوئی تھی۔ نہ ہی یہ کمرہ کسی ہسپتال کا کمرہ معلوم پڑتاتھا۔ یہ کسی رہائشی کمرے جیسا سادہ سا کمرہ تھا۔ بیڈ پر آنکھیں بند کیے لیٹا شارق گویا اپنے گھر کے کمرے میں اپنے بستر پر سورہا تھا۔ ماریہ کو بنچ پر بیٹھتا دیکھ کر تمام ڈاکٹرز کمرے سے باہر نکل گئے۔ جاتے جاتے ڈاکٹرز کی ٹیم کے لیڈر، قدرے بڑی عمر کے ایک ڈاکٹر نے کہا،
’’شارق کو ’سٹرائیک‘ دیا جاچکاہے۔ اب یہ پانچ منٹ کے اندر اندر خود ہی آنکھیں کھول دیگا۔ وش یُو آل دہ بیسٹ!‘‘
اب صرف ماریہ تھی اور شارق تھا۔ ایک سادہ سا کمرہ۔ بالکل وہی دنیا جو 2011 میں ہوا کرتی۔ بالکل ویسا ہی بستر، ویسا ہی سب کچھ۔ ماریہ کا حال بُرا ہوا پڑاتھا۔ وہ خود چند دن پہلے ہی بیدار ہوئی تھی اور ابھی اُسے یہاں کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں تھا۔ بس اُسے صرف اتنا پتہ تھا کہ یہ مرنے کے بعد کی زندگی نہیں ہے، یہ وہی دنیا ہے اور اِن لوگوں نے ماریہ کو ڈی این اے کی مدد سے زندہ کیا ہے۔ وہ لوگ ڈاکٹرز ہیں اور یہ کہ فرشتے نہیں ہیں۔ دراصل ماریہ ابتدائی چند دن سب ڈاکٹرز کو فرشتہ سمجھتی رہی اور مسلمان ہونے کے ناطے میدانِ حشر کا انتظار کرتی رہی۔ لیکن یہاں تو سب کچھ نارمل تھا۔ بالکل ویسے کا ویسا جیسا اُس کی اپنی دنیا میں ہوا کرتاتھا۔ بہرحال چند دن لگے اُسے ٹھیک ہونے میں۔ اب اُسے ڈاکٹرز کی بات پر یقین آچکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اتنی خوش تھی۔ اسے شارق کے ساتھ اپنا دوبارہ ملنا اگلے جہان میں اتنا اچھا نہ لگتاجتنا اُسے اِسی جہان میں دبارہ ملنا اچھا لگ رہا تھا۔ وہ خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھی۔ اس نے شارق کے چہرے کی طرف پیار سے دیکھا۔ وہی ماتھا، وہی گال، وہی بال اور وہی ہونٹ۔ ماریہ بے اختیار ہوگئی۔ اس نے آگے بڑھ شارق کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ اسی اثنأ میں اس نے دیکھا کہ شارق کی آنکھوں میں پپوٹے حرکت کررہے تھے۔ وہ یکلخت تن کر بیٹھ گئی۔ اب ماریہ کی سانسیں رُک چکی تھیں۔ اس نے فوراً شارق کا ہاتھ تھام لیا۔ اور اپنی انگلیوں سے اس کا ہاتھ دبانے لگی۔ پھر کسی خیال کے تحت اس نے پکارا،
’’شاری! ‘‘
اُس نے پھر پکارا،
’’اوئے!‘‘
’’اوئے شاری آنکھیں کھول! دیکھ تو میں تمہارے پاس بیٹھی ہوں۔ ہم زندہ ہیں‘‘
اچانک شارق نے آنکھیں کھول دیں۔ وہ خالی خولی آنکھوں سے خلاؤں میں گھور رہا تھا اور ماریہ کے دل کی دھڑکن اُتھل پتھل ہوتی جارہی تھی۔ ماریہ نے آگے بڑھ کر شارق کے گال تھپتائے اور پھر پکارنے لگی،
’’شارق! شاری! میری جان! میری طرف دیکھو! مائی لوو، آئی ایم ہیئر‘‘
شارق نے سرگھماکر ماریہ کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں شناسائی کی جھلک نظر آئی اور اس نے نہایت نحیف آواز میں کہا،
’’ماری! ‘‘
ماریہ کی تو چیخ نکل گئی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو ’’شاری ماری‘‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ شارق نے اسے ماری کہا تھا۔ وہ دیوانہ وار شارق پر گر گئی اور اس کے سینے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ شارق نے اپنے دونوں بازو اس کے گرد حمائل کردیے۔ اور وہ نحیف آواز میں پوچھ رہا تھا،
’’ہم کہاں ہیں؟ مجھے کیا ہوا تھا؟ مجھے لگا کہ دُودھ میں کچھ ہے۔ مجھے لگا دُودھ میں زہر ہے۔ دُودھ تمہاری بھابھی لائی ہیں نا؟ کہاں ہے ؟ دودھ کا خالی گلاس کہاں ہے؟ ماریہ! ہمیں احتیاط کرنی ہوگی۔ تمہارے بھائی کے چہرے پر مجھے اپنے لیے عجیب سی نفرت دکھائی دیتی ہے۔ چلو! یہاں سے نکل چلیں!‘‘
ماریہ کچھ نہ بول رہی تھی۔ وہ بس رورہی تھی اور روتی جارہی تھی۔

—جاری ہے۔—

پہلی قسط اور ناول کا تعارف اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

دوسری قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

تیسری قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: