مرد، فلرٹ اور دوسری شادی: فلک شیر کا جواب

1
  • 1
    Share

گذشتہ روز دانش پہ شایع ہونے والے طیبہ زیدی کے مضمون ’شادی شدہ مرد اور فلرٹ‘  کے جواب میں فلک شیر کا یہ مضمون تصویر کا دوسرا رخ دکھا رہا ہے۔


مرد کو یقیناً اللہ تعالیٰ نے چار شادیوں کی اجازت دی ہے اور وہ کر بھی سکتا ہے، یہ دعوی ہے محترمہ طیبہ زیدی کا۔ ایک عورت ہونے کے ناطے جس فراخ دلی اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ انہوں نے کیا ہے، شاذ ہی دیکھنے سننے میں ملتا ہے، لیکن ہمارا مشورہ ہے کہ اپنی تحریر میں پیش کی گئی مرکزی تجویز ” مرد حضرات سے گزارش ہے بھلے ایک بیوی اچھی نہیں تو دوسری لے آئیں لیکن بیوی لائیں، دھوکہ دہی سے ایک دوسرے کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائیں” پیش کرنے سے پہلے اس معاشرے میں بسنے والی صرف درجن بھر خواتین سے ہی رائے لے لیں۔

دوسری شادی کا مسئلہ پیچیدہ ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت کے لئےبہت مشکل ہے اپنے شریک حیات کو شئیر کرنا۔ دیگر بہت سی چیزوں پہ شاید وہ کمپرومائز کر سکتی ہے، لیکن اس ایک مسئلہ پہ خود کو پیچھے ڈالنا اس کے لیے کافی مشکل ہے. اس شذرے میں ہم مرد کے تعدد ازواج کے حق اور اس کی حیاتیاتی و نفسیاتی توجیہات سے زیادہ یہ دیکھنا چاہیں گے، کہ معاشرہ اور ہمارے یہاں کی خواتین اس سلسلہ میں کس قدر کشادہ دل واقع ہوئی ہیں۔

ہمارے یہاں تو یہ سوچ پائی جاتی ہے، کہ مرد اگر نکاح کی بجائے کسی غیر محرم عورت سے فلرٹ کرتا ہے، فون انٹرنیٹ پہ رابطہ رکھتا ہے، تو یہ کہا جاتا ہے، کہ چھوڑو اسے، منہ کالا کرتا ہے تو کرنے دو گے، گھر کی مالکن تو میں ہی ہوں، اولاد بھی میرے پاس ہی ہے اور کل کو یہ دھکے کھا کر واپس میرے پاس ہی آئے گا۔ اگر نکاح کر لیا تو سوتن آئے گی، سب کچھ شئیر کرنا پڑے گا، گھر، مال اور جائیداد۔ شوہر آج اس کے پیچھے پھرتا ہے، تو کل کلاں کو اسے چھوڑ کر واپس گھر ہی لوٹے گا، اور کہاں جائے گا۔ بظاہر یہ دوراندیش خاتون بھول جاتی ہے، کہ مرد کے اس حرام تعلق کی نحوست اور بدبختی اس کے مال، اولاد، جائیداد اور گھر ہر چیز پہ پڑنا ہے اور اس کا براہ راست شکار وہ خود بھی ہو رہی ہے، کہ وہ تعلق، جو صرف اس کے. لئے حلال تھا، ایک حرام تعلق کی بے برکتی کی وجہ سے اُس کے لیے بھی کالعدم ہوا پڑا ہے۔ خوشی، دسراتھ اور تسکین سمیت وہ تمام راحتیں، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لیے نکاح کے بعد ارزاں تھیں، اس سے چھن چکی ہیں۔ انجانے کل کے لئے وہ اپنے آج کو جہنم بنا لیتی ہے اور خاوند ایک کے بعد دوسرے، دوسرے کے کے بعد تیسرے ایسے جال میں پھنستا یا پھنساتا چلا جاتا ہے، گویا ایک شیطانی چکر میں معاشرے کے کئی چھوٹے چھوٹے یونٹس پڑ جانا قبول کر لیتے ہیں، لیکن قبول نہیں کرتے تو یہ کہ اُس مرد کےاس تعلق کو حرام سے حلال کروا لیا جائے اور گھر کو بہت حد تک نارمل کر لیا جائے۔

ہمارے ایک عزیز اچھے خاصے زمیندار تھے۔ سینکڑوں ایکڑ کے مالک ان صاحب کی بیوی مختلف وجوہات سے وظیفہء زوجیت ادا کرنے کے قابل بھی نہ تھیں، جبکہ وہ خود اچھے خاصے صحتمند اورمتحرک تھے۔ انکے ڈیرے پہ ملازمین کی ایک فیملی رہتی تھی، انہیں ان میں سے ایک لڑکی اچھی لگی اور انہوں نے اس سے نکاح کر لیا۔ خاندان بھر نے ان کا بائیکاٹ کیا، سگے بیٹوں نے کھڑی فصل جلا ڈالی۔ اشتہاری بلا کر انہیں وہا ں اپنے گھر اور زمین سے نکلنے پہ مجبور کیا اور بعد میں ایک دن ان کی سربریدہ لاش ملی۔ اس پہ ڈیروں میں بیٹھے لوگ ہنستے تھے اور سمجھدار روتے تھے، کہ ایک جیتا جاگتا آدمی، جسے شرع اللہ نے اپنی حاجت کے لیے نکاح کا حلال آؤٹ لیٹ دیا تھا، اور اسے دوسروں کے ہاتھوں ناک اور جائیداد کے لئے زندگی سے ہاتھ دھونے پڑے۔

میرے ننھیال کے گاؤں میں ایک بزرگ آدمی نے ایک مائی صاحبہ سے نکاح کر لیا، بیٹے انہیں کھانے پینے میں بھی تنگ کرتے تھے۔ میں نے اپنے کانوں سے انتہائی متشرع لوگوں کو ان پہ تبصرہ کرتے سنا “بابے نوں ایس عمرے کیہڑی اگ لگی سی” (بابے کو اس عمر میں کیا آگ لگی تھی؟)
ہماری سوسائٹی کا مجموعی ڈھانچہ ہی اسی طرح کا ہے، کہ مرد کو گناہ کی اجازت تو مل جاتی ہے، آنکھ بند کر لی جاتی ہے، لیکن نکاح کے نام پہ ہی چاروں طرف غیرت اور عزت پامال ہوتی دکھائی دیتی ہے، دل اور خاندان ٹوٹنے لگتے ہیں اور یہ نہیں دیکھا جاتا، کہ مالک الملک نے اپنے بندوں کوجانچ پرکھ کر ہی چار شادیوں کی اجازت کا دروازہ رکھا ہے، تاکہ حرام اور چور دروازے اسے تلاش نہ کرنا پڑیں۔ نکاح کی خواہش پہ وہ نکاح کر سکے اور معاشرہ سکون اور چین سے آگے بڑھ سکے۔

اوپر دو مثالیں میں نے قصباتی اور نیم مذہبی پس منظر رکھنے والی کمیونٹیز سے پیش کی ہیں اور مثالیں بھی وہ پیش کی ہیں، جن میں دوسری شادی کی انتہائی جائز اور معقول وجہ موجود تھی۔ اب اگر اس سے ایک درجہ بڑھ کر ہم ایسی مثالیں تلاش کرنا چاہیں، جہاں کوئی مرد کسی حرام تعلق کے نہ ہوتے ہوئے بھی دوسری بیوی کی طبعاً ضرورت محسوس کرتا ہو اور ایسا کر گزرے، تو اس کو مسجد سے بازار اور گھر سے کاروبار تک، گویا ہر جگہ کم ازکم ایک نیم اوباش اور عیاش طبع آدمی تو تصور ضرور ہی کیا جاتا ہے، زیادہ سے زیادہ کی تو بات ہی چھوڑیں۔ زمانے بھر کا کون سا طعنہ ہے جو ایسے شخص کو نہ دیا جاتا ہو، کون سی جگت اور لطیفہ ہے جو اس پہ فٹ نہ کیا جائے گا، جس نے زنا کی بجائے نکاح، یعنی حرام کی بجائے حلال کو اختیار کیا ہو۔ سوشل بائیکاٹ سے لے کر اولاد کی بغاوت تک، کس کس آگ کے دریا سے اسے نہیں گزرنا ہوتا۔ وہ جو کل تک معاشرے میں ایک “شریف” اور “معزز” آدمی کے طور پہ جانا جاتا تھا، آج وہ بیک قلم روسیاہ اور غنڈہ ٹائپ تصور کیا جانے لگتا ہے۔ پہلی بیوی اولاد کو خواستہ و نخواستہ ایسی ڈھلوان پہ لا کھڑا کرتی ہے، جہاں سے واپسی کا کوئی رستہ نہیں ہوتا۔ اولاد کو باپ ایک ولن دکھائی دیتا ہے، کیوں، صرف اس لیے کہ اس نے حلال کا وہ رستہ اپنایا ہے اور حرام سے بچا ہے، تاکہ خدا کا مجرم نہ بنے۔

دوسری طرف صاحب فلرٹ کے لیے میدان کھلے ہیں اور ریستوران بھی، سوشل میڈیا معاون ہے اور دفتری اوقات کار بھی۔ عورت گھر منتظر ہے، کہ صاحب کب تشریف لائیں اوربندی ان کے ناز نخرے دیکھے۔لیکن وہ کہیں اور ہی گم اور مصروف ہیں۔ کہتے ہیں، عورت اس معاملے میں بہت حساس ہوتی ہے، نظر کے فرق اور پھرتی نظر کو لمحے بھر میں پہچان لیتی ہے۔ لیکن اس سے آگے کی منزل مشکل ہے، وہ جان تو لیتی ہے، مگر دل نہیں مانتا۔ ہمارے معاشرے کے پیٹرنز، ہار جانے کا دکھ، بچھڑ جانے کا خوف اور انجانے وسوسے اسے قائل کر لیتے ہیں، کہ اس قضیے کو باہر ہی نبیڑنا ہے، گھر آیا، تو جانو مجھے بیٹھے بٹھائے بن باس مل گیا۔ حالانکہ یہ وقت ہوتا ہے کھل کر بات کرنے کا. یہ بتانے کا کہ حرام نہیں چلنے کا، اتنے ہی ‘مرد’ ہیں حضرت، تو نکاح کیجیے۔ کھل کر بات کرنے کی صورت میں اکثر مرد حضرات اپنے گریبان وغیرہ میں خوب اچھی طرح نظر ڈال لیتے ہیں، کہ اس سلسلہ میں ان کے خیالات اور عملی میدان میں کس قدر قربت اور جگر میں حوصلہ وغیرہ ہے۔ اگر وہ اس سلسلہ میں سنجیدہ ہوں، تو بسم اللہ۔ دیکھیے گا، کہ حرام کی جو لعنت اس گھر کے تمام متعلقین پہ پڑنا تھا، اللہ تعالیٰ اس کی بجائے حلال کی برکت سے معاملات میں خیر و برکت عطا فرمائیں گے۔

فلرٹ اور حرام تعلق کی تمام شکلیں بالآخر بے چینی، بے سکونی اور پریشانی ہی لے کر آتی ہیں۔ بحیثیت معاشرہ ہمیں اس کے اسباب اور حل دونوں پہ ہمدردی سے غور کرنا چاہیئے کہ یہ مرد کی طرف سے ہو یا عورت کی طرف سے۔ مجھے اس سے بہت حد تک اتفاق ہے، کہ خواتین شادی کے بعد بہت حد تک ایسی کسی سرگرمی سے بچی رہتی ہیں۔ط اور انہیں اس حوالے سے زیادہ چھان بین، تفتیش اور جذباتی بلیک میلنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی وجہ ان کی فطری خود سپردگی، وفا اور حیاءکی روایت ہے،دوسرا ایک گھر وہ پا لیتی ہیں، جہاں ایک خاندان کی تعمیر کا جینز میں موجود خواب اور جذبہ انہیں کسی تخریبی سرگرمی کے بجائے تعمیر ہی تعمیر کی طرف گامزن رکھتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں، کہ محترمہ زیدی صاحبہ کا مضمون دوسری شادی کی وکالت باامر مجبوری کر رہا ہے، لیکن یہ بھی انگریزی محاورے کے مطابق بہت بڑی چھلانگ ہے۔ شروع میں ہم نے انہیں عرض کیا تھا، کہ اس سلسلہ میں کچھ خواتین سے رائے لے لیں کہ وہ اس حوالے سے کس قدر کشادہ دل ہیں۔

اس شذرے میں معاشرے کی نکاح ثانی کے سلسلہ میں غیر شرعی اور نامعقول سوچ پہ ہم نے بات کی ہے۔ لیکن فاضل مصنفہ نے قلم جس درد سے اٹھایا ہے، اس کی کسک ایک عورت ہی سمجھ سکتی ہے، ویسے کیا خیال ہے ہم مرد بھی کچھ محسوس کرنے کی کوشش کریں۔ یاد رہے، کہ جس خدا نے مرد کو عقد ثانی کی اجازت دی ہے، اس نے نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے۔ نکاح کیجئے لیکن اگر مرد چار چھوڑ چالیس نکاح بھی کر لے گا یکے بعد دیگرے اور نظر کی حفاظت نہ کرے گا، تو بالآخر حرام کی طرف اس کا مائل ہونا قریب قریب طے ہے اور یاد رہے کہ یہ زنا ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو خاندان کا ادارہ بہت عزیز ہے اور تبھی تو حلال کاموں میں طلاق یعنی اس ادارے کے خاتمے کے ٹول کو سب سے ناپسندیدحلال امر قرار دیا گیا ہے۔ سو خاندان کو تباہ کرنے والے کو اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں پکڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عفت و عصمت اور حیاءاختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور معاشرے کو شرور و فتن سے محفوظ رکھے۔

About Author

فلک شیر سادہ اور خالص شخصیت کے مالک ہیں۔ انگریزی ادبیات میں ماسٹرز، استاد ، ترجمہ کاری، تصوف، زراعت، جدید زندگی اور انسان کی حالت زار، اسلامی تحاریک اور ادب انکی فکری جولانگاہیں ٹھہرتی ہیں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: