مِٹّھو بھٹیارا : اشرف صبوحی دہلوی

0
  • 29
    Shares

دلی کی نثر کی اپنی الگ ہی چاشنی ہے ۔ اپنے مزاج میں کبھی بادِ صر صر تو کبھی بادِ خنک اور کبھی یکسر اڑھائی انچھر ۔ اپنی اڑنگ بڑَنگ بھی پورے تُزَک و احتشام کے ساتھ لے کر چلتے ہیں ۔ میاں مٹھو کے نام کے ساتھ بھی اڑی اڑی طاق پہ بیٹھی والا ہی ںمعاملہ ہوا ۔ بکّھل ، بکھّری ایسے چٹخارے دار ذائقوں سے بھر پور ہیں جو پڑھنے والے کو اپنی بے تکلفی اور اپنائیت کا گرویدہ کر کے اپنے جیسی بھاشا بولنے پہ مجبور کر دیتے ہیں ۔
اشرف صبوحی ایسے ہی جانے بوجھے جادو نِگار تھے۔ دلی کی ایسی نثر لکھنے والے آخر نثار۔ ایک جانفشاں تحریر۔ آ ئیے دلی کا ایک چکر لگاتے ہیں۔
اردو ادب سے ایک لاجواب انتخاب، دانش کے باذوق قارئین کے لیے۔


میاں مٹّھو کا نام تو کچھ بھلا سا ہی تھا، کریم بخش یا رحیم بخش ٹھیک یاد نہیں، ڈھائی ڈھوئی کے مینہ سے پہلے کی بات ہے۔ ساٹھ برس سے اوپر ہی ہوئے ہوں گے۔ مگر ایک اپنی گلی والے کیا، جو انھیں پکارتا میاں مٹّھو کہہ کر اور انھیں بھی اسی نام سے بولتے دیکھا۔ میاں مٹّھو بھٹیارے تھے۔ سرائے کے نہیں۔ دلّی میں محلے محلے جن کی دکانیں ہوتی ہیں، تنور میں روٹیاں لگتی اور شوربا، پائے اور اوجھڑی بکتی ہے۔ نان بائی اور نہاری والوں سے ان بھٹیاروں کو ذرا نیچے درجے کا سمجھنا چاہیے۔ تنور والے سب ہوتے ہیں۔ نان بائیوں کے ہاں خمیری روٹی پکتی ہے۔ یہ بے خمیر کے پکاتے ہیں۔ ادھر آٹا گندھا اور ادھر روٹیاں پکانی شروع کر دیں۔ پراٹھے تو ان کا حصہ ہے۔ بعض تو کمال کرتے ہیں۔ ایک ایک پراٹھے میں دس دس پرت اور کھجلے کی طرح خستہ۔ دیکھنے سے مُنھ میں پانی بھر آئے۔ قورمہ اور کبابوں کے ساتھ کھائیے۔ سبحان اللہ۔ بامن کی بیٹی کلمہ نہ پڑھنے لگے تو ہمارا ذمہ۔
شاہ تارا کی گلی میں شیش محل کے دروازے سے لگی ہوئی میاں مٹّھو کی دکان تھی۔ شیش محل کہاں؟ کبھی ہو گا۔ اس وقت تک آثار میں آثار ایک دروازہ وہ بھی اصلی معنوں میں پھوٹا ہوا باقی تھا۔ نمونتہً بہ طور یادگار۔ اب تو ہمارے دیکھتے دیکھتے وہ بھی صاف ہو گیا۔ اس کی جگہ دوسری عمارتیں بن گئیں۔ دروازہ تو کیا رہتا، دروازے کے دیکھنے والے بھی دو چار ہی ملیں گے۔ سنا ہے جاڑے گرمی برسات محلّے بھر میں سب سے پہلے میاں مٹھو کی دکان کھلتی۔ منھ اندھیرے، بغل میں مصالحہ کی پوٹلی وغیرہ سر پر پتیلا، پیٹھ کے اوپر کچھ چھپٹیاں کچھ جھانکڑ لگنی میں بندھے ہوئے گنگناتے چلے آتے ہیں۔ آئے دکان کھولی، جھاڑو، بہارو کی، تنور کھولا، ہڈیوں گڈیوں یا اوجھڑی کا ہنڈا نکالا۔ ہڈیاں جھاڑیں۔ اس کوٹھی کے دھان اس کوٹھی میں کیے۔ یعنی گھر سے جو پتیلا لائے تھے۔ ہنڈے کا مال اس میں ڈالا۔ مصالحہ چھڑکا اور اپنے دھندے سے لگ گئے۔ سورج نکلتے نکلتے سالن، نہاری، شروا جو کہو درست کر لیا۔ تندور میں ایندھن جھونکا۔ تندور گرم ہوتے ہوتے غریب غربا کام پر جانے والے روٹی پکوانے یا لگاون کے لیے شروا لینے آنے شروع ہو گئے۔ کسی کے ہاتھ میں آٹے کا طباق ہے تو کوئی مٹّی کا پیالہ لیے چلا آتا ہے اور میاں مٹّھو ہیں کہ جھپا جھپ روٹیاں بھی پکاتے جاتے ہیں اور پتیلے میں کھٹا کھٹ چمچا بھی چل رہا ہے۔
مٹھو میاں کی اوجھڑی مشہور تھی۔ دور دور سے شوقین منگواتے۔ آنتوں اور معدے کے جس مریض کو حکیم اوجھڑی کھانے کو بتاتے وہ یہیں دوڑا چلا آتا۔ کہتے ہیں کہ پراٹھے بھی جیسے میاں مٹھو پکا گئے پھر دلّی میں کسی کو نصیب نہ ہوئے۔ ہاتھ کچھ ایسا منجھا ہوا تھا، تندور کا تائو ایسا جانتے تھے کہ مجال ہے جو کچار ہے یا جل جائے۔ سرخ جیسے باقرخانی، سموسے کی طرح ہرپرت الگ نرم کہو تو لچئی سے زیادہ نرم بالکل ملائی۔ کرارا کہو تو پاپڑوں کی تھئی۔ کھجلے کو مات کرے۔ پھر گئی کھپانے میں وہ کمال کہ پائو سیر آٹے میں ڈیڑھ پائو کھپا دیں۔ ہر نوالے میں گھی کا گھونٹ اور لطف یہ کہ دیکھنے میں روکھا۔ غریبوں کے پراٹھے بھی ہم نے دیکھے۔ دو پیسے کے گھی میں تربہ تر۔ بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا کہ ڈیڑھ پائو گھی والے سے دو پیسے والے پر زیادہ رونق ہے، اس ہنر کی بڑی داد یہ ملتی کہ غریب سے غریب بھی پراٹھا پکوا کر شرمندہ نہ ہوتا۔ پوسیری اور چھٹنکی پراٹھے دیکھنے والوں کو یکساں ہی دکھائی دیتے۔ مال دار اور مفلس کا بھید نہ کھلتا۔
پچھلے وقتوں میں ہر آدمی اپنی کھال میں رہتا، جس رنگ میں ہوتا وہی رنگ دکھاتا۔ جس قوم کا ہوتا وہی بتاتا۔ یہ نہیں کہ پیٹ سے زیادہ ملا اور اپھر گئے۔ ہیں اوباش اور صورت ایسی اختیار کی کہ لوگ صوفی کہیں۔ تھے مردھوں میں، اللہ نے کام چلا دیا اب مرزا مغل کی اولاد ہونے میں کیا شک رہا۔ اللہ نے جیسا بنا دیا۔ جس پیشے میں رزق اتار دیا۔ جو صورت بنا دی۔ اپنی شخصیت کی جھوٹی نمائش انسان کیوں کرے۔ جہاں ہو، کیا وہاں شرافت نہیں دکھا سکتے؟ حلال خور، چمار، کنجڑے، قصائی سب اپنے اپنے درجے میں شریف ہوتے ہیں۔ اچھے کام کرو، دین داری بھل منسائی کے ساتھ، دوسرے سے پیش آئو، حرام خوری پر کمر نہ باندھو۔ یہی شرافت ہے۔ جنم کا اولیا کرم کا بھوت، پہلے کپوت، دوجے اچھوت، اونچے خاندان سبھی تو فرشتے نہیں ہوتے۔ ایک درخت کے بہت سے پھل کِڑ کھائے بھی نکل آتے ہیں۔ دھول کوٹ کی بعض کچریاں ایسی مزے دار دیکھو گے کہ لکھنئو کا چتلا پانی بھرے۔
کوئی پچاس برس ہوئے کلن نفیری والا، گل زار بھانڈ، اچپل ہیجڑا، ننوان پتلی، اجلا دھوبی، ببی رنگریز، چپّو قضائی، چھوٹا گھوسی، امیر نائی، شبّو شہدا، بنّو گورکن، کوڑا بھنگی کہنے کو کمین اور پیشے کے لحاظ سے نیچے مگر ان کی شرافت کیا کہنا؟ پھر خدا نے، اُن کو بڑھایا چڑھایا بھی ایسا ہی تھا۔ میاں مٹّھو رہے تو بھٹیارے کے بھٹیارے۔ غریب کو مرتے مرتے گھر کا مکان تک نہ جڑا۔ بھٹیارے سے نان بائی بھی نہ بنے۔ سدا اپنے ہاتھ ہی سے تندور جھونکا۔ ہاں یہ بات ضرور تھی کہ جیتے جی کوئی اُن کی طرف انگلی نہ اٹھا سکا۔ کیا مجال کہ کسی طور طریق میں بساند آتی۔ نور کے تڑکے سر جھکائے آنا، ہنس کر بات کرنا اپنے کام سے کام رکھنا اور رات کے بارہ بجے آنکھیں بند کیے چلے جانا۔ آدمی کچھ مشیّن نہ تھے۔ معمولی قد، چھریرا بدن، سر گھٹا ہوا، چندی آنکھیں، پلکیں اڑی ہوئی۔ شاید دھوئیں اور آگ نے آنکھوں اور پلکوں کا یہ درجہ بنا دیا تھا۔ ڈاڑھی کیا بتائوں۔ جب کبھی ہو گی تو بالکل خصی بکرے کی سی۔ تندور میں جھک کر روٹی لگائی جاتی ہے۔ کوئی کیسا ہی چھپا کاکرے آگ کی لپٹ کہاں چھوڑے۔ جھلستے جھلستے لہسن کی پیندی بن کر رہ گئی تھی۔ ڈاڑھی کا یہ حال تو مونچھوں کا کیا ذکر؟
دلّی میں جب تک شاہی رہی، دن عید رات شب برات تھی۔ ایک کماتا کنبہ بھر کھاتا۔ نہ ٹیکس تھے نہ اتنی گرانی۔ ہر چیز سستی غدر کے بعد تک روپے کا پچیس سیر آٹا۔ پکا دو سیر ڈھائی سیر گھی۔ بکری کا اچھے سے اچھا گوشت چار یا چھ پیسے سیر، ترکاریاں پڑی سڑتیں۔ کون پوچھتا؟ مکانوں کا کرایہ برائے نام۔ اوّل تو غریب یا امیر سب کے مرنے جینے کے ٹھکانے اپنے الگ۔ پکا محل نہ سہی کچی کھپریل سہی، دوسرے غیر جگہ بسے بھی تو مفت برابر۔ آٹھ آنے، روپے دو روپے حد تین، اس سے زیادہ نہ کوئی دیتا نہ لیتا۔ ان فارغ البالیوں اور راحتوں کے بعد مہینے کے تیس دن میں اکتیس میلے کیوں نہ ہوتے؟ روز ایک نہ ایک تہوار رکھا تھا۔ پھر جو تھا رنگیلا۔ بات بات میں دل کے حوصلے دکھانے اور چھٹی منانے کے بہانے ڈھونڈے جاتے۔ عید کے پیچھے ہفتے بھر تک سیریں منائی جاتیں۔ باغوں میں ناچ ہو رہے ہیں۔ دعوتیں اڑ رہی ہیں۔ شب برات آئی، آتش بازی بن رہی ہے۔ وزن سے وزن کا مقابلہ ہے۔ بسنتوں کی بہار دیکھنے کے قابل ہوتی، سورج مکھی کے ارد گرد مرہٹی بازوں کے غول ہیں۔ واہ واہ کا شور ہے۔ آج اس مزار پر پنکھا چھڑا کل اس درسگاہ۔ محرم میں سبیلیں سجتیں۔ تعزیہ داریاں ہوتیں، براق نکلتے، اکھاڑے جمتے۔
دلّی کی دل والی منھ چکنا پیٹ خالی۔ غدر کے بعد کی کہاوت ہے۔ گھر بار لٹ گیا، شاہی اجڑ گئی، سفید پوشی ہی سفید پوشی باقی تھی۔ اندر خانہ کیا ہوتا ہے؟ کوئی کیا جانے باہر کی آب رو جہاں تک سنبھالی جا سکتی سنبھالتے۔ مدتوں پرانی وضع داری کو نبھایا۔ شہر آبادی کی رسمیں پوری کرتے رہے۔ سات دن فاقے کر کے آٹھویں روز پلائو کی دیگ ضرور چڑھ جاتی۔ اپنے بس تو بات دادا کی لکیر چھوڑی نہیں۔ اب زمانہ ہی موافق نہ ہو تو مجبور ہیں۔ فاقے مست کا لقب بھی مسلمانوں کو قلعے کی تباہی کے بعد ہی ملا ہے۔ اللہ اللہ! ایک حکومت نے کیا ساتھ چھوڑا سارے لچھن جھڑ گئے۔ ہر قدم پر مُنھ کی کھانے لگے۔
اگلے روپ اب تو کہاں دیکھنے میں آتے ہیں۔ کچھ بد نصیبی نے بگاڑے تو کچھ نئی تہذیب سے بدلے۔ اور جو کہیں دکھائی بھی دیں گے تو بالکل ایسے جیسے کوئی سانگ بھرتا ہے۔ دل کی امنگ کے ساتھ نہیں صرف رسماً کھیل تماشا سمجھ کر۔ محرم میں سبیلیں آج بھی رکھی جاتی ہیں۔ تعزیہ داری بھی ہوتی ہے مگر دلوں کے حوصلے مر گئے تو زندگی کس بات میں؟ پرانی روحوں کو ثواب پہنچانے کے سوا کچھ نہیں۔ میاں مٹّھو دکان کے آگے دو کورے مٹکے رکھ کر سبیل بھی لگاتے اور برابر کی دکان میں تعزیہ بھی رکھتے۔ ان کے تعزیے میں کوئی ندرت تو نہ ہوتی۔ آرائش والوں سے بنوا لیتے۔ معمولی کھپچیوں اور پنّی کا۔ ہاں جو چیز دیکھنے کے قابل تھی وہ ان کی عقیدت یا سوگ دار صورت چاند رات سے جو یہ امام حسینؑ کے فقیر بنتے تو بارھیوں کو حلیم کھا کر کہیں نہاتے دھوتے اور کپڑے بدلتے۔
دلّی میں پچاس ساٹھ برس پہلے تک منتوں، مرادوں کا بڑا زور تھا۔ درگاہوں میں چلّے چڑھتے، مسجدوں کے طاق بھرتے جاتے بچوں کے گلوں میں اللہ آمین کے گنڈے ڈالتے، جینے کے لیے طرح طرح سے منتیں مانی جاتیں، کوئی شاہ مدار کے نام کی چوٹی رکھتا، کوئی حسینی فقیر بناتا۔ لوگ کچھ کہیں، جہالت کے عیب لگائیں یا عقیدے کا کچا بتائیں سچ تو فارغ البالی کے سارے چونچلے تھے۔ وہ جو مثل ہے کہ کیا ننگی نہائے گی کیا نچوڑے گی۔ دل ہی افسردہ ہو اور ہاتھ ہی خالی ہو گئے تو جس کام میں جتنی چاہو فی نکال لو۔ خیر! وقت وقت کی راگنیاں ہوتی ہیں۔ مطلب یہ کہ میاں مٹّھو بھی فقیر بنتے تھے۔ بچپن میں ماں باپ نے بنایا ہو گا۔ جوانی میں بد صورت پر بھی کچھ نہ کچھ روپ ہوتا ہے۔ سبر پوشی بھا گئی۔ ہر سال فقیر بننے لگے۔ تعزیہ داری کئی پشتوں سے ان کے ہاں ہوتی آئی تھی۔ یہ اپنے بڑوں کی سنّت کیوں ترک کرتے۔ اس کے بعد لوگوں کا بیان ہے کہ انھیں کچھ نظر بھی آیا۔ حضرت عباس کی زیارت بھی ہوئی اور ایک مرتبہ نہیں بلکہ کئی مرتبہ۔ یہی سبب تھا کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق سچے دل سے تعزیہ نکالتے اور جو کچھ کرتے بناوٹ سے خالی ہوتا۔ جوانی بھر ان کا یہی طور رہا اور مرتے مرتے اور کچھ ہو نہ ہو تو تعزیہ نکالنا اور فقیر بننا نہ چھوڑا۔ آخر میں غریب کی آنکھیں جاتی رہی تھیں۔ دکان پر ایک شاگرد کو بٹھا دیا تھا۔ وہ نالائق نکلا۔ آٹھ آنے روز استاد کو دیتا وہ بھی آٹھ آٹھ آنسو رلا کر۔ تا ہم جس طرح بنتا محرم کے لیے انھیں بیس پچیس روپے بچانے لازمی تھے۔ دوستوں کو حلیم کھلا کر فقیری اترتی۔
باپ کے مرنے کے بعد میاں مٹّھو نے جب دکان سنبھالی ہے تو ان کی عمر پچیس برس سے کم نہ ہو گی۔ شادی ہو گئی تھی بلکہ دو بچے بھی ہو کر مر گئے تھے۔ باپ کے سامنے بھی یہ گھنٹے دو گھنٹے کے لیے تعزیے کے پاس آ کر بیٹھتے لیکن رات کے دس بجے دکان اٹھا کر۔ اب تمام ذمہ داری کا بوجھ ان کے سر پر آ پڑا تھا اس لیے چراغ چلتے ہی جلدی جلدی دُکان داری ختم کی۔ پاس کی مسجد میں نہائے۔ سبز تہمد باندھا۔ سبز کرتا پہنا لال، کلاوہ گلے میں ڈالا، جھولی سنبھالی۔ سبز دو پلڑی ٹوپی منڈے ہوئے سر پر جمائی اور تعزیے کے پہلو میں دوزانوں آ بیٹھے۔ ملنے والوں میں جو سوز، نوحہ، مرثیہ پڑھنے والے ہوتے، آتے اور ثواب کے لیے کچھ پڑھ کر چلے جاتے۔ اب جہاں جہاں اس قسم کی تعزیے داری ہوتی ہے یہی دیکھنے میں آیا ہے۔ انھیں خود بھی سوز پڑھنے کا شوق تھا۔ شوق کیا تعزیہ داری، سبیل لگانے، حسینی فقیر بننے اور تعزیے کے آگے آگے کچھ پڑھنے کو نجات کا باعث سمجھتے تھے۔ آواز تو جیسی بھونڈی تھی، تھی ہی۔ طرہ یہ کہ سلام یا بین جو چیز حضرت پڑھتے وہ بھی سنا گیا کہ آپ کی تصنیف ہوتی۔ لیکن پڑھتے وقت صورت کچھ ایسی سچ مچ کی رونی بناتے اور ایسے جذبے کے ساتھ ادا کرتے کہ سننے والے حضرت امام کی بے کسی کو بھول کر ان پر ترس کھانے لگتے۔
محلّے میں کئی جگہ تعزیے نکلتے اور بڑی کاری گری کے ہوتے۔ مرثیے بھی وہاں خوب خوب پڑھے جاتے مگر بھیڑ جتنی ان کی دکان کے آگے رہتی کہیں نہ رہتی۔ بڈھوں کو رقت چاہیے اور بچوں کو دل لگی۔ یہ دونوں باتیں میاں مٹّھو میں موجود تھیں۔ بڑے بوڑھے تو انھیں کچھ اور ہی سمجھنے لگے تھے۔ جاگتے یا سوتے یا سقائے سکینہ کی زیارت کر چکے تھے۔ سبز عمامہ باندھے، نقاب ڈالے، نیزہ ہاتھ میں لیے، گھوڑے پر سوار سید الشہدا حضرت امام حسینؑ کو بھی انھوں نے اپنے تعزیے کے سامنے دیکھا تھا۔ یہ اپنا کھڑا ہوا سلام الاپتے اور وہ بیٹھے سردھنا کرتے۔ لکڑے بالے کچھ تو ریوڑیوں یا کھیلوں کے لالچ میں جمے رہتے یا ان کی حرکات و سکنات کا تماشا دیکھنے کے لیے۔ بے چارے شاعر تو کیا تھے بلکہ کلام مجید بھی پورا نہیں پڑھا تھا۔ جوانی میں چائوڑی بازار بھی دو چار ہی مرتبہ گئے ہوں گے ورنہ مرثیے کے دو چار بند، سلام کے پانچ سات شعر یا کوئی سوز وہیں سے یاد کر لاتے۔ اب شوق پورا کرنا ٹھہرا۔ گھڑا گھڑا کر ایک سلام بنا لیا۔ میرا حافظہ کم بخت ایسا خراب ہے کہ کئی دفعہ سنا اور یاد نہیں رہا۔ حالانکہ میاں مٹھو اسی سلام کی بدولت بنے۔
سلام کہو یا مرثیہ، سوز کہو یا نوحہ کوئی ایسی چیز تھی جس میں بار بار؎
’’نبی جی کے لاڈلوں پر بھیجو سلام‘‘
آتا تھا۔ اور اسی کو وہ سب سے زیادہ لہک لہک کر ادا کرتے تھے۔ اس سے بحث نہیں کہ یہ ناپ تول کے حساب سے کوئی مصرعہ ہے یا کیا۔ افسوس میں نے لکھ کیوں نہ لیا۔ اور اب جس سے پوچھتا ہوں اسی ایک مصرعہ کے سوا کچھ نہیں بتاتا۔ اچھا اس مصرعے سے اور میاں مٹّھو کے خطاب سے کیا نسبت؟ آہ دلّی مرحوم؟دلّی والوں کی دور بلا، میاں دلّی والے ہی نہ رہے۔ دلّی کا چھ برس کا بچہ تک سمجھ جاتا۔ آخر کریم بخش یا رحیم بخش پر میاں مٹّھو کی پھبتی بھی تو بچوں ہی نے کہی تھی۔ ’’نبی جی کے لاڈلوں پر بھیجو سلام‘‘ والا سلام پڑھتے انھیں دوسرا دن تھا کہ محلے کا ایک لڑکا روٹی پکوانے آیا۔ اتفاق سے رات کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ لڑکا انھیں دیکھتا اور مسکراتا رہا۔ اکیلا تھا کچھ کہنے کا، ہبائو نہ پڑا۔ اتنے میں اس کا ایک یار بھی آ پہنچا۔ ایک نے دوسرے کو دیکھا۔ میاں مٹّھو کی طرف اشارہ کیا اور دونوں کھل کھلا کر ہنس پڑے۔ ہنستے ہنستے ایک بولا’’میاں مٹھو ہیں‘‘ دوسرا کہنے لگا۔ ’’میاں مٹّھو نبی جی بھیجو‘‘۔ دکان پر کھڑے ہونے والے، لونڈوں کی باتوں پر لوٹ لوٹ گئے۔اب کیاتھا ساری گلی میں ’’میاں مٹھو نبی جی بھیجو‘‘ شروع ہو گیا۔ اس دن سے یہ ایسے میاں مٹّھو بنے کہ لوگوں کو ان کا اصلی نام ہی یاد نہ رہا۔ لیکن اللہ بخشے کبھی برا نہ مانا اور نہ اپنی وضع بدلی۔ مرتے مرتے اپنا وہی سلام پڑھا۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: