ثقلی موجیں اورڈارک انرجی  Gravitational Waves and Dark Energy

0

گزشتہ برس جو ثقلی موجیں دریافت ہوئی تھیں اور جنکی پشین گوئی کوئي سو سال قبل آئن سٹائن نے اپنے عمومی نظریہ اضافیت کے ذریعے کی تھی۔ اس نظریہ میں ایک مسئلہ ہے جس کو cosmological constant یا کائناتی مستقل کی اصطلاح سے جانا جاتا ہے۔

یہ کاسمولوجیکل کانسٹنٹ ہے کیا؟ یہ خالصتا ریاضیاتی اصطلاح ہے جسکو کسی مثال کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن پہلے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ثقلی موجوں کی دریافت کے دوران LIGO لیبارٹری میں جو لیزر کو جھٹکا لگا تھا اور وقت کا الاسٹک تھوڑا سا ڈھیلا پیمائش ہوا ہے کیا اسکی کوئی اور مختلف وضاحت ہو سکتی ہے؟ فی الحال شاید ”نہیں“ مگر مستقبل میں شاید ”ہاں“۔

LIGO Gravitational Detector (Lab)

سو سال قبل جب آئن سٹائن اپنا نظریہ بنا رہا تھا تو اس وقت آئن سٹائن سمیت ساری دنیا یہ سمجھتی تھی کہ کائنات نہ پھیل رہی ہے اور نہ ہی سکڑ رہی ہے یعنی حالت سکون static میں ہے۔ مگر آئن سٹائن کو اپنا نظریہ کا ریاضی ثابت کرنے کے ليے ایسی کائنات درکارتھی جو یا تو پھیل رہی ہو یا پھر سکڑ رہی ہو۔ اب آئن سٹائن جو اوروں کیطرح ہی کائنات کو static سمجھتا تھا اس نے ایک جگاڑ لگایا اورcosmological constant پیدا کر کے اپنا نظریہ پیش کر دیا۔ جب کئی سالوں بعد ایک دوسرے سے دور جاتی کہکشاؤں سے یہ مشاہدہ ہوا کہ کائنات حالت سکون میں نہیں ہے اور واقعتا پھیل رہی ہے اور نہ صرف پھیل رہی ہے بلکہ تیزی سے پھیل expand at an accelerated rate رہی ہے تو نظریہ اضافیت کا یہ جگاڑ ایسے ہی محسوس ہوا جیسے خواہ مخواہ پنسل کو اس کے سکے کی نوک پر بیلنس کرنے کی کوشش کی جائے حالانکہ پینسل لٹا کے بھی بیلنس کی جاسکتی ہے۔ آئن سٹائن کے بقول یہ اسکی ریاضیاتی مساوات میں ایک بہت بڑا بلنڈر تھا۔

اچھا عجیب سی بات نہیں کہ قوت تجاذب gravity تو اجسام کو آپس میں کھینچتی ہے لیکن اجرام فلکی ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں تو اسکا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ کائنات میں کشش ثقل کے مخالف بھی ایک قوت gravitationally repulsive موجود ہے اور یہ اتنی طاقتور ہے کہ اجرام فلکی کے دور ہونے کی رفتار بجائے کم ہونے کے تیز ہوتی جارہی ہے جیسے کوئی دھکا لگا رہا ہو۔ اس نامعلوم قوت کا نام فی الحال ڈارک انرجی رکھا گیا ہے۔ ممکن ہے LIGO لیبارٹری میں لیزر کو لگنے والا جھٹکا ڈارک انرجی کی کسی لہر سے بھی متاثر ہو۔ خیر اگلے پندرہ سالوں میں لیزا LISA-Laser Interferometer Space Antenna اور Einstein Telescope یا ET جیسے عظیم الشان گریویٹیشنل ڈیٹیکٹر بن رہے ہیں جو موجودہ LIGO ڈیٹیکٹر سے سے بھی 100 گنا زیادہ حساس ہوں گے۔

آئن سٹائن ٹیلی سکوپ

آئن سٹائن بہرحال ایک ذہین شخص تھا اور ذہین شخص کی جگاڑ بھی بڑے کام کی ہوتی ہے۔ اب ہم کچھ تصوراتی رشتہ داریاں کرتے ہیں۔ دیکھیں cosmological constant کی جگاڑ لگانے کا مطلب تھا کہ کائنات پھیل رہی ہے اور کائنات کسی قوت (ڈارک انرجی) کی وجہ سے پھیل رہی ہے اور وہ قوت کاسمولوجیکل کانسٹنٹ ہی ہے اور یہ کشش ثقل کے متضاد کام کرتی ہے۔ (اصل بات مزید وضاحت کی متقاضی ہے لیکن بات کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں)

مستقبل کا سپیس گریویٹی اینٹینا – LISA

تو گزشتہ سال ہونے والی ثقلی موجوں کی دریافت کا اعلان کرتے ہوئے نرگس ماول والا نے ہمیں بتایا کہ 800 ملین نوری سال قبل کائنات کے کسی انجانے کونے میں دو بلیک ہولز کے ملاپ سے تجاذب کی ایک لہرپیدا ہوئی جسکا اثر لیگو لیبارٹری میں سفر کرتی لیزر کی شعاعوں پر پڑا تو اس میں کاسمولوجیکل کانسٹنٹ کا کیا حساب کتاب ہو گا جو ان ثقلی لہروں پر لگایا گیا ہوگا۔ اور ظاہر ہے کاسمولوجیکل کانسٹنٹ یا ڈارک انرجی (جسکی وجہ سے کائنات پھیل رہی ہے) کا الٹ اثر800 ملین نوری سالوں میں ان ثقلی لہروں پر بھی تو پڑا ہو گا۔ ہو سکتا ہے ہمارے دو نئے ڈیٹیکٹرز (اوپر بیان کردہ لیزا اور آئن سٹائن ٹیلی سکوپ) مستقبل میں مزید بہتر پیمائش بتا سکیں۔ اور ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ان سفر کرتی ثقلی لہروں پراسکی مزاحمت کار ڈارک انرجی کے کچھ رگڑوں کے نشانات کا ہونا بھی ممکن ہو سکتا ہے جو اگر کسی طریقے سے دریافت کرليئے جائیں تو اس کائنات کے کچھ اور دریچے کھل سکتے ہیں۔

یہ گراف اندازہ بتا رہا ہے کہ اس وقت کائنات میں مادہ کی مقدار محض 4 فیصد ہے باقی سب ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی ہے

 

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: