یونانی فکرمیں سریت کا حلول: نعمان علی خان

0

 تاریخ اسلام کے عظیم ترین مفکرین میں سے زیادہ ترنے فلسفہ یونان کی شرحیں لکھنے یا اس فلسفے کو رد کرنے کے علاوہ کوئی بہت اہم کام نہیں کیا۔ ان ہر دو طرح کے مسلم مفکرین کو “فلسفی” کہنا کچھ اتنا مناسب اور دیانتدارانہ عمل نہیں۔ ہمارے مفکرین نے یونان سے بہت کچھ سیکھا لیکن جو بات نہیں سیکھی وہ یہ کہ تفلسف پراسرار علوم کو جاننے اور پر اسرارانداز میں ہی سینہ بسینہ منتقل کردینے کا نام نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فلسفہ اور سائنس میں سے بیشتر کو مسلمانوں نے تصوف، طبابت اور الکمی کے پر اسرار علوم میں ڈھال دیا۔ واضع ہو کہ وہ علما جو علم کلام، کیمسٹری اور طبابت کی باقاعدہ پریکٹس کرتے تھے ان میں سے بیشتر کے بارے میں ہمیشہ یہی تصور عام رہا اور آج بھی ہے، کہ جو کچھ وہ عامتہ الناس کے سامنے لائے وہ تواس علم کا عشر عشیر بھی نہیں کہ جو ان کے قلب کے نہاں خانوں میں قدرت کے رازوں کی طرح پوشیدہ تھا۔ لہٰذہ جو کتابیں مسلم علما نے لکھیں ان کو ہی وہ اصل اور مکمل “علم” نہیں سمجھا جاتا کہ جس کے وہ رازدان تھے، بلکہ ان کتابوں کو یا تو عام کنزمپشن کیلئیے بظاہرعالمانہ محسوس ہوتا مواد سمجھا جاتا ہے، یا ان علما کے اصل علم کا پردہ تصور کیا جاتا ہے اور یا پھر ان کتابوں کے بین السطورمیں پوشیدہ وہ اصل علم خیال کیا جاتا ہے کہ جو عام قاری کے پلے ہی نہیں پڑ سکتا اورجہاں تک عارفین رازکا تعلق ہے تو جتنا جس کی سمجھ میں آجائے وہ اپنی “توفیق” کے مطابق اسے اپنی کتابوں میں بیان کردیتا ہے۔ یعنی ابتدائی مسلم شارحین یونان کے بعد ان مسلم شارحین کے آئندہ آنے والے شارحین کا ایک ختم نہ ہونے والا سلسلہ ہے جو آج تک چل رہا ہے۔


کاش ہمارے مفکرین ابن رشد، ابن خلدون، جابر بن حیان اور ابن الہیثم کی طرح، یونانیوں سے عقلیت اور معروضیت میں تفکر سیکھتے، بجائے اس کے کہ یونان کی عقلیت میں بھی مشرق کی باطنیت کا پیوند لگاکر تاریخ کی بھول بھلیوں میں پھنسے رہتے۔


حقیقت یہ ہے کہ یونانی مفکرین نے اپنی تحاریر میں کہیں بھی اس پراسراریت اور علم کی بخیلانہ سریت کا طرز عمل اختیار نہیں کیا تھا۔ لیکن مسلم شارحین نے ان کی شرحیں اس انداز میں اور اغلباً اسی وجہ کے اظہار کیلئیے لکھیں گویا یونانیوں کی تحاریر کا فقط ترجمہ کرنے سے ان یونانیوں کے فلسفہ و فکر کے راز مسلمانوں کی سمجھ میں آ ہی نہیں سکتے۔ اس طرز عمل نے یونانیوں کی عقل و دانش کے بارے میں مسلم دنیا میں عجیب و غریب مافوقیت کے قصے بھی مشہور کردئیے ورنہ حقیقت یہی تھی کہ یونانی فکرمحض معقولیت اور منطقیت کی جویا تھی۔ یونانی مفکرین شاید وہ پہلے اہل نظر لوگ تھَے جنہوں نے مافوق الفطرت نظریات اور متھالوجی میں گھرے ہونے کے باوجود، انسانی وجودیت اور کائنات کے بارے میں اپنے دلائل کوان غیر مرئی تصورات سے علیٰحیدہ رکھا۔ یونایوں کی عقل پرستی کو مد نظر رکھا جائے تو بآسانی یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اگر یونانیوں کو اپنی مزہبیات اور متھالوجی میں ذرا بھی معقولیت نظر آتی تو یقیناً وہ اسے بھی اپنے بنیادی مباحث میں شامل کرتے۔ اسلامی علم کلام پر لاکھ تنقید کی جائے لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مسلمانوں کی اس فکری روایت میں یونانیوں کی منطق وعقل پسندی کا گہرا اثر ہے۔ یونانی متھالوجی میں اگر ویسی ہی معقولیت ہوتی جیسی کہ مسلمانوں کے قران و حدیث کی تعلیمات میں تھی تو یہ بات یقینی ہے کہ دینیات پر تفکربھی یونانیوں سے ہی مسلمانوں کو منتقل ہوتا۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو یہ بات بھی یقینی ہے کہ اسلامی علم کلام میں جو فکری کمزوریاں موجود ہیں ان میں بھی بدرجہ اتم کمی ہوتی۔

 کیا یہ بات حیرت انگیز نہیں کہ قران پاک میں “علم” اور “عالم” کا، جگہ جگہ ذکر ہے۔ لیکن مسلم کلامی اور مفکرین آج تک “علم” کی تعریف نہیں کرپائے۔ علم کیا ہے، یہ امر آج بھی مسلم فکر میں ایک سربستہ راز ہے۔ ہمارے ماہرین علم کلام آج تک ہمیں نہیں سمجھا پائے کہ قران کن لوگوں سے مخاطب ہے جنہیں وہ کہتا ہے کہ “وہ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے”۔ افلاطون کی ریپبلک کے باوجود ہمارے علما یہ نہیں سمجھا پائے کہ “عدل اور ظلم” سے کیا مراد ہے اور آج کی جدید ریاست میں قران کے مطابق “نیک عمل”، “حقوق اللہ اور حقوق العباد” سے کیا مراد ہے؟ فلسفہ اور کلام کیا فقط یہی طے کرنے کیلئیے ہے کہ ایک سوئی کی نوک پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں؟ ان مسلم فلاسفہ نے آج تک یہ نہیں بتلایا کہ قران کن لوگوں کو “عالم” اور”عقل والے” کہہ کر ان کیلئیے معاشرے میں کیا مناصب تجویز کرتا ہے؟ نہ انہوں نے کھل کر یہ راز فاش کیا کہ یہ “علم الغیب” کیا ہے اور ان میں سے کون کون ہے جس پر اللہ نے جتنا رب نے چاہا غیب کا علم فاش کیا؟ اور اس کا کیا ثبوت ہے کہ جسے یہ خود پر اتراعلم الغیب قرار دے رہے ہیں وہ واقعی علم الغیب ہی ہے؟

کاش ہمارے مفکرین ابن رشد، ابن خلدون، جابر بن حیان اور ابن الہیثم کی طرح، یونانیوں سے عقلیت اور معروضیت میں تفکر سیکھتے، بجائے اس کے کہ یونان کی عقلیت میں بھی مشرق کی باطنیت کا پیوند لگاکر تاریخ کی بھول بھلیوں میں پھنسے رہتے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: