پاکستان موت کا کنواں یا بھارت خواتین کا جہنم ۔۔۔  فارینہ الماس

0

 دہلی کے علاقے یمنا وہارمیں رہائش پزیر لڑکی جو اپنی ذاتی بوتیک چلا رہی تھی۔ یکا یک بوتیک کے کام سے اس کا دل اچاٹ ہو نے لگا اور نئے کاروبار کی تگ و دو اسے ملائیشیا لے گئی۔ وہاں اس کا مقصد کاروبار ہی تھا لیکن نجانے یہ پاکستان کا دھوکے باز لڑکا طاہر بیچ میں کہاں سے آ ٹپکا جس نے اپنے پیار کے میٹھے بولوں سے اس معصوم سی لڑکی کا دل موہ لیا۔ اور اس عشق کے چکر میں وہ بنا کسی تصدیق کے پاکستان آ کر طاہر سے بیاہ پر بھی رضامند ہو گئی۔ وطن واپس لوٹنے کے بعد طاہر کے سپانسر کردہ ویزے پر وہ لڑکی پاکستان آئی اور یہاں تین مئی کو بونیر کی عدالت میں اس کا طاہر سے نکاح ہوا۔ ٹھیک دو دن بعد، یعنی پانچ مئی کو طاہر اسے بھارتی ہائی کمیشن میں ویزے کی معلومات کے لئے ساتھ لے گیا۔

Writer: Farina Almas

یہاں سے کہانی اک نئے موڑ میں داخل ہوئی لڑکی یعنی عظمیٰ نے ہائی کمیشن میں جا کر پناہ طلب کر لی اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے پاکستان آئی اور یہاں بری طرح پھنس گئی طاہر نے گن پوائنٹ پر اسے اغوا کیا اسے نشہ دے کر بے ہوش کیا اور اسی بے ہوشی میں اس سے نکاح کر لیا۔ بعد ازاں اسے مارا پیٹا، ڈرایا دھمکایا اور یرغمال بنائے رکھا۔ یہاں کہانی کچھ سمجھ سے بالا تر تھی کہ اگر وہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے آئی تھی تو اس کے رشتہ دار تھے کہاں وہ تو تاحال دستیاب نہ ہو پائے تھے۔ اس لڑکی نے اپنے والد تک کا نام ویزے میں غلط لکھوارکھا تھا۔ پھر ایک ویڈیو سامنے آگئی جس میں عظمیٰ بقائمی ہوش و حواس طاہر سے کمرہ عدالت میں نکاح نامے پر دستخط کر رہی تھی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ لڑکی پہلے ایک بیاہ بھگتا کر یہاں پہنچی تھی اور اس کی انڈیا میں ایک بیٹی بھی تھی۔ وہ خود کو ڈاکٹر کہلوا رہی تھی جب کہ وہ محض ایک لیڈی ہیلتھ ورکر تھی۔ پھر اس نے بیان بدلا اور عدالت کو بتایا کہ اسے طاہر سے ملائیشیا میں محبت ہو گئی تھی لیکن یہاں آکر اسے معلوم ہوا کہ وہ پہلے سے شادی شدہ اور چار بچوں کا باپ ہے۔ لیکن اس کا یہ جھوٹ بھی واٹس ایپ کی اس چیٹ سے واضح ہو گیا جو اس نے طاہر سے کی اور اسے کہا کہ وہ اپنی شادی کے بارے میں اس کے بھائی کو کچھ مت بتائے اور اپنی تعلیم گریجویشن ہی بتائے۔ شکل سے انتہائی معصوم دکھنے والی اس لڑکی نے پاکستان کے خلاف اصل زہر فشانی تو انڈیا جا کر محترمہ سشما سوراج کی ہمراہی میں ایک پریس کانفرنس میں کی۔ اس نے اپنے بیان میں کہا کہ ” پاکستان ایک ایسی جگہ ہے جہاں جانا تو بہت آسان ہے لیکن وہاں سے واپس نکل کر آنا بہت مشکل ہے۔ جو لڑکیاں پاکستان کو بہت اچھا سمجھتی ہیں خصوصاً مسلم لڑکیاں انہیں بتانا چاہتی ہوں کہ پاکستان موت کا کنواں ہے۔ وہاں ایک ایک گھر میں تین تین چار چار بیویاں ہیں۔ وہاں عورت تو کیا مرد بھی محفوظ نہیں ” گویا یہ وہ بیان تھا جسے دلانے کے لئے ہندوستان کی فارن منسٹری نے سو سو پاپڑ بیلے۔ ورنہ ہر بات یہ ثابت کر چکی ہے کہ یہ لڑکی ہر بیان میں جھوٹ پر جھوٹ بولتی رہی۔ اور طاہر اگر اسے اغوا کر کے رکھتا تو بخوشی انڈین ایمبیسی میں خود کیوں لے کر جاتا۔ اسے تو شاید معلوم بھی نہ تھا کہ یہ لڑکی اس کے ساتھ کیا کرنے والی ہے۔ زیادہ قصور کس کا تھا، طاہر کا تھا یا عظمیٰ کا یا پھر دونوں برابر کے قصور وار تھے اس بارے تو کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا لیکن عظمیٰ کے پاکستان مخالف بیان سے یہ تو ثابت ہو جاتا ہے کہ اس واقعے سے ہندوستان کو پاکستان کے خلاف منافرت پھیلانے کا ایک اور موقع ہاتھ لگ گیا جس کا اس نے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ اور اس سارے ڈرامے کے لئے مہرہ بنایا عظمیٰ کو جوایک مسلمان ہندوستانی شہری ہے۔ اس متواتر جھوٹ بولنے والی لڑکی زہر فشانی کو دیکھتے ہوئے اس کی اطلاع کے لئے کچھ گزارشات پیش ہیں۔

تم جس دیس میں رہتی ہو اسے پرنام کرنے اور اس کی سرزمین کو ماتھا ٹیکنے سے پہلے زرا سوچو کہ آیا پاکستان موت کا کنواں ہے یا تمہاری وہ دھرتی ماتا جس کی شان کے قصیدے سشما سوراج جیسی مسلم کش سوچ رکھنے والی خاتون نے تم سے کہلوائے؟کیا تم جانتی ہو کہ جب 2002 میں گجرات کے بے گناہ مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا تھا تب تمہاری مودی سرکار کی اہم رکن یہی سشما سوراج تھی۔ جو ایک نہیں کئی بار یہ کہہ چکی ہے کہ مسلمانوں کو ان کی اوقات یاد دلائے رکھنا بہت ضروری ہے۔ تم تو اس کی انتہا پسندانہ سوچ کی گہرائی کو کبھی سمجھ بھی نہ پاؤ گی۔ اے لڑکی پاکستان میں عورت کو غیر محفوظ کہنے سے پہلے کیا تم نے اپنے دیش کے بارے میں کبھی یہ سنا ہے کہ اسے “عورتوں کا جہنم ” کہا جاتا ہے۔ کیونکہ بھارت کا نمبر، عورتوں سے ذیادتی اور امتیازی سلوک کرنے والے ملکوں میں سب سے اوپر ہے۔ یہاں ہر آدھ گھنٹے کے بعد ایک عورت کی عزت تار تار کی جاتی ہے۔ یہاں دلت عورتوں، مسلمان بچیوں، سیاحت کے لئے آئی خواتین اور حتیٰ کہ طالبعلم اور اور ملازمت پیشہ خواتین پر بھی جنسی حملے ہوتے رہنا ایک معمول کی بات ہے۔
تمہیں دہلی کی 23 سالہ فزیو تھراپی کی طالبہ کا واقعہ تو یاد ہی ہوگا جس کی عصمت دری چلتی ہوئی بس میں کی گئی۔ اسے انتہائی بے دردی سے اجتماعی ذیادتی کا شکار بنایا گیا اور چلتی ہوئی بس سے باہر پھینک دیا گیا۔ وہ طالبہ جسم سے کہیں ذیادہ روح کے زخموں کو سہار نہ پاتے ہوئے سنگاپورکے ایک ہسپتال میں دم توڑ گئی تھی۔ تمہارا سارا مہا بھارت سراپااحتجاج بنا۔ ہر گلی ہر محلے ہر کوچے سے زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والوں نے چیخ چیخ کر احتجاج کیا۔ مجرموں کو پھانسی بھی ہوئی لیکن جنسی حملوں کے واقعات بڑھتے ہی گئے۔ صرف 2001سے 2013تک کے عرصے میں ہی 26لاکھ 4ہزار ایک سو تیس ریپ کے کیس پولیس کے پاس درج کروائے گئے اور کئی ہزار کیس تو ایسے ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی ایک مسلم خاندان کی چار خواتین کو ان کے مردوں کے سامنے ذیادتی کا نشانہ بنایا گیا، گھر کے مردوں کے ہاتھ پاؤں انہی عورتوں کے دوپٹوں سے باندھ دئے گئے اور گھر کے سربراہ کو مزاحمت پر گولی مار دی گئی۔ ابھی شاید وہ ویڈیو تاحال گردش میں ہے جس میں یو پی کے ایک جنگل میں 14 لڑکے ایک بے بس ماں کے سامنے اس کی کمسن بچی کی عزت کو اپنے پیروں تلے روندنے کی کوشش میں ہیں اور وہ تڑپتی ماں ان کے آگے ہاتھ جوڑے رحم کی بھیک مانگ رہی ہے۔ تمہاری دھرتی ماتا کے تو بڑے بڑے شہروں مثلاً دلی اور ممبئی میں عورتوں کو ٹیکسیوں، رکشوں، بسوں میں حتیٰ کہ راہ چلتی لڑکیوں کو بھی ذیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اکثریت اجتماعی آبرو ریزی کے واقعات کی ہے۔ انسانیت اس حد تک گر چکی ہے کہ اگر چھ وحشیوں کا گروہ حملہ آور ہوتا ہے تو ان میں سے کسی ایک کے اندر بھی کہیں کسی کونے کھدرے میں سسکتی، بچی کچھی انسانیت بھی اس کے اس فعل کے آڑے نہیں آتی۔

ایک امریکی میگزین نے بقول تمہارے ” مہلاؤں کے لئے محفوظ سرزمین بھارت” کو دنیا کا “جنسی دارالحکومت “لکھا اور اب دنیا تمہیں اسی نام سے پکارتی ہے۔ کیا تم جانتی ہو کہ تمہاری اپنی ماضی کی ایک بہت نامور اداکارہ جیا بچن کے اس ہندوستان کے بارے کیا خیالات ہیں۔۔۔۔ ان کا کہنا ہے کہ “بھارت میں ایک عورت کی بجائے ایک گائے ہونا ذیادہ محفوظ ہے “یعنی گائے جیسے جانور کی عظمت ایک انسان کی عزت سے ذیادہ افضل اور مقدم ہے۔ تمہارے ملک کے جنسی درندے جو ہر جگہ ہر شہر میں چھپے بیٹھے ہیں دنیا سے آئی سیاح خواتین کی بھی سرعام عزت اتار دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے خواتین سیاحوں کی تعداد میں35 فیصد کمی آئی ہے۔ تمہارے ملک میں تو ننھے منے بچے بھی جنسی ہوس کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔ پہلے تین سال، پھر اڑھائی سال اور اب محض دس ماہ کی بچی کے نشانہ بنائے جانے والے واقعات رپورٹ ہوئے۔ بچوں کو جنسی مقاصد میں استعمال کئے جانے کے کالے دھندے کے واقعات میں تمہارے مہان بھارت میں 70فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تمہاری بی جے پی تو خود اس کالے دھندے میں خاتون سیاستدان جوہی چوہدری کی صورت ملوث پائی گئی۔ اسی مہان بھارت میں دلتوں کی عورتوں کو عصمت دری کے بعد جلا دیا جاتا ہے یا ان کے جسموں کو کتوں کے آگے ڈال دیا جاتا ہے۔ کتنی عورتیں ہیں جو ہر سال جہیز نا لا پانے پر سسرال میں جلا دی جاتی ہیں۔ ؟
بھارت میں عورتوں کے خلاف ہونے والے جرائم کے کوائف اکٹھے کرنے والے شمیر پدن یارے کہتے ہیں، “بھارت میں عورت کا زندہ بچ جانا ایک معجزے سے کم نہیں۔ لڑکی کی زندگی کو ماں کے پیٹ میں ہی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ لڑکوں کی خواہش رکھنے والوں کو جس وقت پتہ چلتا ہے کہ لڑکی جنم لینے والی ہے تو اسی وقت اسقاط حمل سے اسے قتل کر دیا جاتا ہے۔ “1980ءسے 2010ءتک ایک کروڑ بیس لاکھ بچیوں کو جنس کے تعین کے بعد اسقاط حمل سے مار دیا گیا۔

حیرت کی بات ہے کہ تم تو واقعی اتنی معصوم نکلیں کہ اپنے ہی ملک کے بارے کچھ بھی نہیں جانتیں۔ تمہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کشمیر کی وادیوں میں کس طرح نہتے کشمیریوں کی زندگیوں اور معصوم کشمیری لڑکیوں کی عزت سے کھیلا جا رہا ہے ورنہ تم ضرور پاکستان کی بجائے بھارت کو لڑکیوں تو کیا مردوں کے لئے بھی غیر محفوظ سمجھتی۔ کم سے کم اپنی “سشما میم” سے ہی پوچھ لیا ہوتا تو شاید پاکستان کو موت کا کنواں کہنے کی بجائے تم اپنے دیش کو مہلاؤں کا جہنم کہنے کو ترجیح دیتیں۔ نجانے ایک دو دن میں تم کس کس کے گھر ہو آئیں جو تمہیں ہر گھر میں تین تین چار چار بیویاں نظر آئیں۔ چلو اگر نظر آئی بھی ہیں تو اتنا جان لو کہ ان عورتوں کو اپنے شوہروں کے گھروں میں باعزت زندگی ملتی ہے۔ تمہارے ملک کی طرح سڑکوں پر ان کا ریپ نہیں کیا جاتا۔۔۔۔

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: