امام غزالی : فلسفے کا مخالف فلسفی —– سہیل عمر 2

0
  • 3
    Shares

علوم دینی میں غزالی نے جو تصانیف چھوڑی ہیں ان میں بھی فلسفیانہ پہلو پر پوری توجہ دی گئی ہے۔ ان سے پہلے فلاسفہ بالخصوص ابن سینا نے قرآن کریم کی چند فلسفیانہ تفسیریں لکھی تھیں۔ شیخ الرئیس نے آیئہ نور کی تفسیر پر خاص توجہ دی اور اس آیت مبارکہ پر پہلی حکیمانہ اور فلسفیانہ تفسیر سپرد قلم کی جس سے اس روایت کا آغاز ہوا جو ہمیں بعد میں غزالی، ملا صدرا اور بہت سے دوسرے مسلمان مفکرین میں جاری نظر آتی ہے۔ البتہ آیئہ مذکورہ کی جو تفسیر غزالی نے مشکوۃ الانوار میں کی ہے وہ اگرچہ ابن سینا کی اشارات میں بیان کردہ تفسیر سے بہت مختلف ہے مگر اس سے بے تعلق نہیں۔ اپنی کتب مثلاً جواہر القرآن میں غزالی نے جس تفسیری روش کو اختیار کیا اور کتاب آسمانی کی تاویل اور تفسیر کے مسئلے کو جس انداز میں بیان کیا وہ بعد کے دور میں فلاسفہ کی توجہ کا مرکز رہا ہے اور اس کی فلسفیانہ جہت ملا صدرا کی اسرار الآیات اور خاص طور پر آیئہ نور پر ان کی تفسیر میں نمایاں ہے۔ فلسفہ اسلامی میں ما بعد کی تبدیلیوں اور سہروردی کے ہاں تفسیر قرآن کی فلسفیانہ فکر سے مربوط کرنے(کی کوشش) کو سامنے رکھیے تو علوم قرآنی کے ضمن میں غزالی کی تحریروں کی فلسفیانہ اہمیت واضح ہو جائے گی۔
علم کلام میں اگرچہ غزالی ابو الحسن اشعری کے پیرو اور مشائی فلاسفہ کے سخت مخالف تھے تا ہم علم کلام میں فلسفیانہ مباحث کی بنا انھی کے ہاتھوں پڑی اور وہ واقعی فلسفیانہ علم کلام کے موسس ٹھہرتے ہیں جو بعد کو فخر الدین رازی، میر سیّد شریف جرجانی اور عضد الدین ایجی جیسے متکلمین کے ہاں کمال کو پہنچا۔ آٹھویں اور نویں صدی ہجری کے مورخین مثلاً ابن خلدون وغیرہ نے جس چیز کو ’’کلامِ متاخرین‘‘ کا نام دیا ہے اس کا آغاز اگرچہ غزالی کے استاد امام الحرمین جوپنی سے ہوتا ہے لیکن اس فلسفیانہ علمِ کلام کی بنا ڈالنے میں اساسی کردار غزالی کی الاقتصاد فی الاعتقاد جیسی تصنیفات نے ادا کیا۔ غزالی کا علم کلام فلسفے کا مخالف ہے مگر خود ایک فلسفیانہ جہت رکھتا ہے اور اگر لفظ فلسفہ کو اس کے متداول معنی میں استعمال کریں تو یہ قبول کرنا پڑے گا کہ غزالی کی تصانیف فلسفیانہ فکر کے اہم منابع میں سے ہیں، گو مشائی فلسفہ کے اعتبار سے فلسفہ نہ کہلائیں۔ حادث اور قدیم کا ربط، علت و معلول، جسم کی جوہریت، جزولایتجزی، علم اشیا وغیرہ جیسے مباحث ان کی کتاب میں منطق و استدلال کے سہارے بیان ہوئے ہیں اور ایسے انداز میں ان کی تفصیل دی گئی ہے جو ان کی تحریر کو اشاعرہ اور دیگر متکلمین سابقہ کے مکتب فکر سے جدا کرتا ہے باوجویکہ انھوں نے اشاعرہ کے علمِ کلام کی بنیاد کا دفاع کیا اور وہ خود اس مکتب فکر کے اہم ترین مفکرین میں شمار ہوتے ہیں۔

فلسفہ اسلامی کے ما بعد کے مکاتبِ فکر سے غزالی کا رابطہ دیکھنے کے لیے سب سے پہلے مکتبِ اشراق کی پیدا ئش میں ان کی تصانیف کی اہمیت کا جائزہ لینا چاہیے۔ ابتدا میں شاید یوں معلوم ہو گا کہ غزالی کا نقطئہ نظر سہروردی کے افکار سے سرے سے لگا نہیں کھاتا اور یہ دونوں مشہور مفکرین فکر اسلامی کے دو متقابل نقطوں سے عبارت ہیں۔ لیکن مزید غور کرنے پر دونوں کے درمیان ایک گہرا ربط آشکار ہو سکتا ہے۔ اولاً یہ فلسفہ مشائی پر غزالی کی تنقید نے سہروردی کی مشائی کے لیے زمین ہموار کی۔ ثانیاً، عقل اور تعلق عقل و وحی کے بارے میں حکمۃ الاشراق اور سہروردی کی دوسری تصانیف میں جو کچھ موجود ہے وہ غزالی کے نقطئہ نظر سے چنداں دور نہیں بلکہ بہت سی جگہوں پر ایک ہی ہے۔ تیسری چیز یہ کہ عرفا اور حکما میں غزالی پہلے شخص ہیں جنھوں نے نور اور تفسیر آیئہ نور کے باب میں اس اُسلوب میں گفتگو کی جو بعد کو اشراقی کہلایا۔
غزالی سے پہلے کے مفسرین نے قرآن میں اللہ کے بارے میں استعمال ہونے والے لفظ نور کو مجاز پر محمول کیا تھا اور عام نورِ محسوس ہی کو حقیقی نور سمجھا تھا۔ جب کہ غزالی مشکوۃ الانوار میں واضح طور پر لکھتے ہیں کہ فقط نورِ الٰہی نورِ حقیقی ہے اور اس کے سوا جس چیز کو بھی نور کہیے وہ مجاز کے حکم میں ہو گی۔ یہی نادر نظریہ در اصل حکمت اشراق کی فلسفیانہ بنیاد ہے۔ اشراقیت میں نور وہ حقیقت اور وہ وجود ہے جسے مطلق معنی اور کامل صورت میں صرف ذاتِ احدیث کے لیے برتا جا سکتا ہے۔ نور اسم الٰہی ہے اور ماسوی اللہ کے لیے جب بھی نور کہیں گے تو یہ صرف مجازً نور ہو گا۔ مشکوۃ الانوار میں بیان کردہ بحث دربارئہ نور کا اثر سہروردی پر اس سے کہیں زیادہ ہے جتنا کہ اب تک جانچا گیا ہے۔ تاریخ فکر اسلامی میں غزالی کے ظہور کو فلسفئہ استدلالی پر تنقید، عقل و وحی کے ربط کی بحث اور نور کے عرفانی اور حکیمانہ معنی میں توضیح، تینوں اعتبار سے مکتب اشراق کی پیدائش میں مئوثر جاننا چاہیے۔ شہاب الدین سہروردی یقیناً ان کی کتب سے براہ راست یا عین القصناۃ ہمدانی جیسے عارفوں کے ذریعے آشنا رہے ہوں گے۔
غزالی کا اثر بعد کی صدیوں میں فلسفیانہ عرفان پر بھی نمایاں ہے۔ عین القصناۃ سے لے کر ابن عربی، صدر الدین قونوی، جیلی، عبد الرزاق کاشانی تک وہ تمام متصوفین کا جو عرفان نظری یا فلسفیانہ عرفان پر بحث کرتے رہے، آثارِ غزالی سے واقف تھے۔ خود غزالی کو بھی الرسالۃ اللدنیہ، مشکوۃ الانوار، رسالہ الطیر، معارج القدس فی النفس، المعارف العقلیہ اور لباب الحکمۃ الالٰہیہ جیسی تصانیف میں عرفانِ نظری کے مذکور مکتب فکر کا پیش رو کہا جا سکتا ہے۔ غزالی کی اس نوع کی تصانیف ایک بہت اہم فلسفیانہ پہلو کی حامل ہیں جس سے ابن ترکہ اور بعد کے ایرانی فلاسفئہ متاخرین نے بہرئہ وافر پایا۔ ان فلاسفہ کی عرفانِ نظری پر خاص توجہ رہی ہے۔
ان رسائل میں عرفانِ نظری کے بہت سے اساسی مثاحث بیان ہو گئے ہیں مثلاً’’علم لدنی‘‘ جس کا امکان غزالی تسلیم کرتے ہیں اور اسے طریق سیر و سلوک اور راہ حق کا مقصود اعلیٰ قرار دیتے ہیں۔ یہ علم تزکیئہ نفس، تصفیئہ قلب اور راہِ معرفت کے رہبر کے سامنے سر جھکا دینے سے حاصل ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ علمی اور عقلی جہت پر بھی محتوی ہے۔ یہ مبحث غیر معمولی فلسفیانہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس کا ثبوت ما بعد کے فلاسفہ مثلاً ملا صدرا میں نظر آتا ہے۔

معاد کے بارے میں بھی غزالی کے مباحث فلسفیانہ اور عرفانی اعتبار سے غایت اہمیت کے حامل ہیں۔ جن لوگوں نے اسلام میں فکر و فلسفہ کی تاریخ پر غور کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ اگرچہ شیخ الرئیس اور بعض دوسرے فلاسفئہ سلف نے مسئلہ معاد پر کتابیں لکھی تھیں لیکن اس موضوع کی تفصیل بعد کی صدیوں کے فلاسفہ کے ہاتھوں انجام پائی۔ ملا صدرا کا نام خاص طو رپر لیا جا سکتا ہے جن کی اسفار میں اسلامی فلسفیوں کے مقابلے میں اس موضوع پر سب سے زیادہ مفصل بحث شامل ہے۔ ان پیروی میں قرون اخیر کے دیگر حکمائے بزرگ مثلاً ملا عبد اللہ زنوری، ملا علی زنوری اور حاجی ملا ہادی سبزواری وغیرہ نے معاد کے موضوع پر بہت سے رسائل سپرد قلم کیے۔ خود ملا صدرا نے اسفار میں جہاں معاد کی بحث کی ہے وہاں غزالی کی تعریف کی ہے۔ ان کے مکتب فکر کے پیرو بھی اس فلسفیانہ بحث میں خود کو آثار غزالی کا مرہون منت سمجھتے تھے۔ سہروردی کی حکمۃ الاشراق پر ملا صدرا کا حاشیہ ان کا فلسفیانہ شکاہکار ہے۔ اس میں بھی معاد کی بحث میں غزالی کا ذکر موجود ہے اور صدر المتالہین نے کوشش کی ہے کہ حکمت متعالیہ کے اُصول خاص طو رپر وحدت و اصالتِ وجود، تشکیک وجود، حرکت جوہریہ وغیرہ کے حوالے سے اور فلسفیانہ بیان کے سہارے اس موضوع پر غزالی اور ابن سینا کی آرا کا تضاد حل کیا جائے۔ ساتھ ہی یہ چیز بھی عیاں ہے کہ معاد کے بارے میں ملا صدرا نے غزالی کی آرا سے بلاشبہ بہرہ ور فرمایا تھا۔
مذکورہ بالا اجمالی بحث سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اکثر لوگوں کے ذہنوں میں فلسفے سے غزالی کے رابط کا جو تصور ہے وہ خلاف واقع ہے۔ ایران میں اسلامی مکتب فلسفہ کے پیروان کو عام طور پر صرف فلسفے کے دشمن اور مخالف کے طو رپر جانتے ہیں۔ عرب دنیا میں بیشتر یورپی مستشرقین کا مئوقف مانا جاتا ہے اور ان کی دیکھا دیکھی غزالی کو علوم عقلی کا مخالف اور اسلامی تہذیب میں ان علوم کے انحطاط کا اصلی سبب بتایا جاتا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان میں ایک طبقہ ان کو دیکارت اور اس کی تشکیک کا پیش رو سمجھتا ہے اور دوسرا گروہ، ان کی مخالفِ فلسفہ کو نظر انداز کرتے ہوئے نجات دہندہ فلسفہ کے عنوان سے ان کی تعریف کرتا ہے۔ ان تمام نظریات میں صداقت کا ایک نہ ایک پہلو تو موجود ہے مگر کوئی بھی پوری حقیقت بیان نہیں کرتا۔ غزالی فلسفہ مشائی کے مخالف ضرور تھے مگر منطق اور استدلال سے انھیں کوئی عناد نہ تھا۔ علوم عقلیہ میں سے ہر ایک کی تعریف میں اس علم کی حدود و ثغور واضح ہیں۔ جب یہ علوم اپنی حدود سے تجاوز کر کے دعویٰ کرتے تو غزالی ان کی مخالف کرتے وگرنہ خود ان علوم سے انھیں عداوت نہ تھی۔ دیکارت اور سترھیوں صدی کے فلاسفہ کے پیش رو وہ یقیناً نہ تھے۔ اگر ان فلاسفہ کی کتابیں غزالی تک پہنچ گئی ہوتیں تو وہ یقیناً ایک اور’’تہافت‘‘ رقم کرتے جو شیخ الرئیس اور فارابی کے خلاف لکھی جانے والی ’’تہافت‘‘ سے کہیں زیادہ تند و تیز ہوتی۔ وحی کی مدد سے علم لدنی تک عقل کی رسائی کا امکان دیکھتے ہوئے وہ ان فلسفیوں کے افکار پر یقیناً تعجب کرتے۔
آخر میں یہ بات بھی قبول کرنا ہو گی کہ غزالی ابن سینا اور ملا صدرا کی طرح اسلامی فلسفی نہ تھے۔ تا ہم فلسفے کا یہ مخالف اپنے طو رپر ایک ایسا حکیم تھا جس کا اثر فلسفئہ اسلامی میں پھیلا ہوا ہے۔ آسمانِ معارفِ اسلامی کے اس درخشندہ ستارے کی اہمیت کا از سر نو جائزہ لیا جانا چاہیے جس میں کلام، فقہ، تفسیر، تصوفِ عملی اور اخلاقیات کے لیے ان کی خدمات کے علاوہ ان کی فلسفیانہ اہمیت پر بھی توجو دی جائے تا کہ افراط و تفریط سے الگ ہو کر غیر جانبداری سے ان کی علمی صورت سب کے لیے روشن ہو سکے۔ آثارِ غزالی کی فلسفیانہ جہات اور بعد کے زمانے میں ان کے اثرات پر غور و تفحص سے واضح ہو جائے گا کہ مغرب والوں نے ان کی کتاب مقاصد الفلاسفہ کے لاطینی ترجمے سے ان کو جس معنی میں فلسفی سمجھا تھا اس معنی میں اگرچہ وہ فلسفی نہیں تھے تا ہم عالم اسلام کے مشرقی علاقوں، خاص طو رپر ایران میں، بعد کے زمانے میں جس طرح فلسفہ پروان چڑھا اس میں ان کا قابل توجہ حصہ ہے۔ ایران کے اس عظیم مفکر کے اثرات ملائیشیا سے لے کر اندلس و مغرب اسلامی تک غالب رہے ہیں۔ ایران میں ان کے بعد جو مکاتبِ فلسفہ اُبھرے وہ قرونِ اخیر میں ایران کی اسلامی ثقافت کا درخشاں ترین پہلو میں اب تک ان مکاتب پر غزالی کے اثرات کا جو جائزہ لیا گیا ہے وہ نا مکمل ہے۔ غزالی کے اثرات اس سے زیادہ ہیں۔
ان کے اپنے زمانے میں فلسفے کے جو معنی رہے ہوں اس کے لحاظ سے وہ فلسفے کے دشمن تھے لیکن فلسفے کے کلی اور متداول معانی کے اعتبار سے انھیں حکیم اور فیلسوف ہی کہنا چاہیے۔


مضمون کے پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: