برِصغیر میں ہارس ٹریڈنگ کے بانی، مولانا ابوالکلام آزاد (7)

0
  • 10
    Shares

 کسی بھی معاشرے میں شخصیات کے مطالعے کیلیے انکا تجزیہ انسانی لیول پر کیا جانا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ انکی شخصیت پرستی کے بجاے انکے اعلی اوصاف حقیقی تناظر میں سامنے لاے جاسکیں۔ دانش کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت پر ایک جامع تحقیق و تنقید کا آغاز یہاں سے ہو رہا ہے۔ یہ اس سلسلے کا ساتواں مضمون ہے، ہر دو دن بعد ہم اس سلسلہ کی اگلی قسط شائع کرتے رہیں گے۔  زیر نظر مضمون شایع کرنے کا مقصد محض ایک علمی بحث کا آغاز ہے اور اگر کوئی صاحب اسکے جواب میں کچھ لکھنا چاہیں تو دانش کا پلیٹ فارم موجود ہے۔


آج کل کے گئے گذرے دور میں بھی جبکہ کسی پارٹی کی طرف سے منتخب شخص کا اپنی پارٹی چھوڑنا قابل مذمت بات ہے اور اس شخص کے لیے شرمندگی کا باعث ہوتا ہے۔ ایسے فرد کے لیے لوٹا تک کے قابل مذمت الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ اسی طرح کسی اکثریتی پارٹی کو محروم رکھ کر اقلیتی پارٹیوں کا منصوبہ تیار کر کے حکومت ان کے ہاتھ میں تھما دینا بھی کوئی قابلِ تعریف بات نہیں ہے۔ ایسی باتیں آج سے ستر اسی سال قبل شاید سوچنا بھی محال ہو۔ مگر وائے حیرت کہ کئی دہائیاں قبل جب یہ سب کچھ سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا مولانا آزاد نے نہ صرف یہ کارہائے نمایاں سر انجام دیئے بلکہ وہ اسےاپنی کتاب ’’آزادی ہند‘‘ میں اپنے لیے قابلِ فخر بھی ثابت کرتے ہیں۔ وہ جو کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا یا پھر یہ مقولہ کہ محبت، سیاست اور جنگ میں سب جائز ہے۔ مولانا آزاد نے ان بے اصولیوں پر ان اچھے وقتوں میں بھی عمل کر دکھایا۔ آئیے اس کی تفصیل مولانا ہی کی زبانی سنتے ہیں۔ مولانا آزاد’’آزادیِ ہند‘‘ میں 1937ء کی کانگریسی وزارتوں کے ضمن میں فرماتے ہیں۔
“یو پی میں مسلم لیگ کو بڑی کامیابی ملی جس کی بڑی وجہ جمعیت العلماء ہند کا تعاون تھا۔ جمعیت نے لیگ کی حمایت اس تاثر کے ساتھ کی تھی کہ انتخابات کے بعد مسلم لیگ کانگریس کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔اس وقت یو پی میں چودھری خلیق الزمان اور نواب اسماعیل خاں مسلم لیگ کے لیڈر تھے۔ جب حکومت کی تشکیل کے لیے میں لکھنو آیا تو میں نے دونوں سے بات کی۔ انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ وہ کانگریس سے صرف تعاون ہی نہ کریں گے بلکہ مکمل طور پر کانگریس پروگرام کی حمایت بھی کریں گے۔ انہیں فطری طور پر توقع تھی کہ نئی حکومت میں مسلم لیگ کا کچھ حصہ ہو گا۔ مقامی صورتِ حال ایسی تھی کہ دونوں میں سے کوئی بھی تنہاحکومت میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ یا تو دونوں کو لیا جاتا یا پھر کسی کو نہیں۔ اس لیے مجھے امید تھی کہ دونوں حکومت میں شامل کر لیے جائیں گے۔ اگر وزارت کو صرف سات اراکین پر مشتمل ہونا تھا تو دو مسلم لیگی ہوں گے باقی سب کانگریسی۔ نو افراد کی کابینہ میں کانگریس کی اکثریت اور بھی زیادہ نمایاں ہو گی۔ مجھ سے گفتگو کے بعد اس ضمن میں ایک نوٹ تیار کیا گیا کہ مسلم لیگ پارٹی کانگریس کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور کانگریس پروگرام کو قبول کرے گی۔ نواب اسماعیل خاں اور چودھری خلیق الزمان دونوں نے دستاویز پر دستخط کیے اور میں لکھنؤ سے پٹننہ کے لیے روانہ ہو گیا۔ کیونکہ بہار میں وزارت کی تشکیل کے لیے میری موجودگی ضروری تھی۔

“چند روز بعد میں آلہ آبادواپس آیا اور یہ معلوم کر کے مجھے شدید افسوس ہوا کہ جواہر لال نے خلیق الزمان کو اور نواب اسماعیل خاں کو لکھ دیا تھا کہ دونوں میں سے صرف ایک وزارت میں جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ مسلم لیگ کو کرنا تھا کہ کس کو شامل کیا جائے۔ مگر میں پہلے عرض کر چکا ہوں اس کی روشنی میں دونوں میں سے کوئی اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ تنہا شامل ہو جائے۔ چنانچہ دونوں نے معذرت کر لی اور کہا کہ جواہر لال کی پیش کش کو قبول کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ یہ ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ تھا۔ اگر لیگ کی تعاون کی پیش کش قبول کر لی گئی ہوتی تو عملی مقاصد کے اعتبار سے مسلم لیگ کی پارٹی کانگریس میں ضم ہو گئی ہوتی۔ جواہر لال کے اس عمل نے یو پی میں مسلم لیگ کو ایک نئی زندگی عطا کر دی۔ ہندوستانی سیاسیات کے تمام طالب علم یہ جانتے ہیں کہ لیگ کی تنظیمِ نو یو پی ہی سے ہوئی۔ مسٹر جناح نے موقع کا پورا فائدہ اٹھایا اور ایک جارحانہ کارروائی شروع کر دی جس نے انجامِ کار پاکستان بنوایا۔

“میں نے جواہر لال کو اس پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ اپنے موقف میں ترمیم کر لیں۔ میں نے ان سے کہا کہ لیگ کو وزارت میں شامل نہ کر کے انہوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ میں نے انہیں خبردار بھی کیا کہ ان کے اس فعل کے نتیجے میں مسلم لیگ میں ایک نئی جان آجائے گی اور اس طرح ہندوستان کی آزادی کے راستے میں نئی مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ جواہر لال نے مجھ سے اتفاق نہیں کیا اور اس پر قائم رہے کہ ان کا فیصلہ درست تھا۔ انہوں نے یہ دلیل دی کہ صرف چھبیس ممبروں کی طاقت پر مسلم لیگ کابینہ میں ایک سے زیادہ نشست کا دعویٰ نہیں کر سکتی تھی۔ مسٹر جناح نے صورتِ حال کا پورا فائدہ اٹھایا اور پوری لیگ کو کانگریس کے خلاف کر دیا۔ انتخابات کے بعد ان کے بہت سے حامی اس نقطے تک پہنچ گئے تھے کہ جناح سے الگ ہو جائیں لیکن اب جناح کو انہیں اپنے حلقے میں شامل کرنے کا دوبارہ موقع مل گیا۔”

حسبِ عادت مولانا آزاد نے اصل واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مسلم لیگ پارٹی کی طرف سے کسی موقع پر بھی نواب اسماعیل خاں نے یا چودھری خلیق الزمان نے انفرادی حیثیت میں اپنی وزارتوں کے حصول کے لیے کوئی گفت و شنید نہیں کی تھی۔ مولانا آزاد اور جواہر لال دونوں سے جو گفتگو ہوئی وہ جماعتی حیثیت میں تھی۔ جواہر لال کانگریس کی کامل اکثریت ہونے کی وجہ سے مخلوط حکومت کے خلاف تھے البتہ انفرادی حیثیت سے وہ مسلم لیگ کے ممبران کو وزارت میں اس شرط پر لینے کے لیے تیار تھے کہ وہ اپنی پارٹی توڑ کر کانگریس کے حلف نامے پر دستخط کر دیں۔ مگر دونوں نے یہ پیش کش ٹھکرا دی۔ پھر یہ دعویٰ بھی کہ دونوں اصحاب نے کانگریسی کا پروگرام منظور کر کے کسی مسودے پر دستخط کر دیئے تھے، خلافِ واقعہ ہے۔ 1959ء میں اخبار’’ہندو‘‘ کے سوال کے جواب میں نہرو نے کہا تھا کہ ایسا کوئی معاہدہ ہوا ہی نہیں تھا جس پر دستخط کی نوبت آتی۔ دوسری طرف چودھری خلیق الزمان نے بھی اس بات سے انکار کیا تھا کہ انہوں نے کسی مسودے پر دستخط کیے تھے۔

 مولانا آزاد نے یہ بھی فرمایا کہ یو پی میں جمعیت العلماء ہند نے لیگ کا اس لیے ساتھ دیا تھا کہ انہیں امید تھی کہ الیکشن کے بعد لیگ کانگریس سے تعاون کرے گی۔ ہوسکتا ہے جمعیت کوایسی کوئی امید ہو مگر قرائن اس بات کی تصدیق نہیں کرتے۔ کیونکہ یہی الیکشن تھے جب مولانا حسین احمد مدنی نے فرمایا تھا ” جو مسلمان مسلم لیگ کو ووٹ نہیں دے گا وہ دونوں جہاں میں روسیاہ ہوگا۔” بہرحال قائدِ اعظم نےتو تعاون کی پیش کش کی تھی۔ وہ تو نہرو تھے جنہوں نے جیت کے نشے میں قائد اعظم کی پیش کش یہ کہہ کر ٹھکرا دی تھی کہ’’ہندوستان میں دو طاقتیں ہیں ایک حکومت اور دوسری کانگریس۔” جس کے جواب میں قائد اعظم نے کہا تھا۔ “ایک تیسری قوت بھی ہے وہ مسلم لیگ ہے۔” اس کے باوجود قائدِ اعظم نے گاندھی جی سے اس معاملے میں مداخلت کو کہا تھا مگر انہوں نے بھی یہ کہہ کر قائدِ اعظم کا ہاتھ جھٹک دیا کہ “مجھے ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے۔” قائدِ اعظم توتعاون کو تیار تھے لیکن کانگریس آمادہ نہ ہوئی۔ اس پورے معاملے میں ایک اہم چیز کو معلوم نہیں کیوں مولانا نے بیان کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ حالانکہ اس کا تعلق بھی اسی صوبے یو پی سے تھا۔ وہ تھا حافظ ابراہیم کا معاملہ۔ حافظ ابراہیم صاحب مسلم لیگ کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے۔ انہیں مولانا آزاد نے مسلم لیگ سے استعفیٰ دلا کر اس شرط کے ساتھ کانگریس میں شامل کرایا کہ وہ وزارت میں لیے جائیں۔ مولانا حفظ الرحمان حافظ ابراہیم کے بہنوئی تھے اور مولانا بشیر احمد کٹھوڑی ان کے خاص دوست اور جمعیت العلماء ورکنگ کمیٹی کے ممبر تھے۔ ان دونوں اصحاب نے مولانا آزاد کے ذریعے کانگریس سے معاملہ کر لیا۔ حافظ ابراہیم صاحب کے مسلم لیگ سے استعفیٰ نے ہی کانگریس اور لیگ کے درمیان تعاون کو ناممکن بنا دیا تھا۔ اس دور میں یہ ایک عجیب واقعہ تھا اور لیگ نے اسے اپنے اوپر جارحانہ اقدام تصور کیا اور لیگ اور کانگریس میں ٹھن گئی۔ جب تمام ملک نے اس اقدام کو بری نظر سے دیکھا تو حافظ ابراہیم نے اس کی تلافی اس طرح کرنا چاہی کہ اپنی سیٹ سے مستعفی ہو کر دوبارہ انتخاب لڑا مگر اس طرح کہ وزارت پر بدستور قائم رہے اور اپنے وزارتی اثرات سے کام لے کر ضمنی انتخاب میں کامیاب ہو گئے۔

یہ تھا مولانا کا کارنامہ۔ ان کا کام بس یہی رہ گیا تھا کہ مسلم لیگ کے ممبران کو وزارت کا لالچ دے کر انہیں لیگ سے علٰیحدہ کر دیا جائے۔ اگر چودھری خلیق الزمان اور نواب محمد اسماعیل خاں وزارت کے لالچ میں مسلم لیگ کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوئے تو یہ ان کی عظمت تھی۔ مولانا نے اپنی طرف سے پوری کوشش کر لی۔ جب وہ نہیں مانے تو مولانا الٹا نہرو پر الزام دھرنے لگے۔ یہی کچھ کانگریس نے سی پی میں کیا تھا۔ جہاں مسٹر محمد شریف جو مسلم لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے انہیں بھی حافظ ابراہیم کی طرح وزارت کا لالچ دے کر لیگ سے استعفیٰ دلا دیا تھا۔ پھر مسٹر شریف کو جس طرح ذلیل کرکے نکالا گیا وہ ایک عبرت انگیز واقعہ ہے۔ ہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہی دو واقعات مسلم لیگ میں نئی جان ڈالنے کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔ مسلمانانِ ہند نے سمجھ لیا کہ ان کی رائے کا احترام نہیں ہو رہا اور وہ یک جان ہو کر مسلم لیگ کی پشت پر آ کھڑے ہوئے۔ اس کے بعد تمام ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ نے کانگریس کو شکست دی۔ پھر وزارتوں کے لالچ، کسی حرص و تحریص، برلا اور بجاج کی تجوریوں کے باوجود کانگریس کو مسلم لیگ کی صفوں سے کوئی غدارنہ مل سکا۔ مسلم لیگ آگے ہی آگے بڑھتی رہی یہاں تک کہ 1946ء کے انتخابات میں تمام مسلم نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے قیامِ پاکستان کی منزل آسان کر دی۔

اسی طرح کا ایک واقعہ 1946ء کے انتخابات میں بھی پیش آیا جسے مولانا آزاد نے اپنا کارنامہ بنا کر پیش کیا ہے۔ اسی کے متعلق مولانا آزاد’’آزادی ہند‘‘ میں فرماتے ہیں۔ “جیسا کہ عام طور پر توقع تھی کانگریس کو سوائے بنگال، پنجاب اور سندھ کے تمام صوبوں میں زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔ ان تین صوبوں میں پوزیشن الجھی ہوئی تھی۔ بنگال میں مسلم لیگ واحد سب سے بڑی پارٹی تھی اور اس نے تقریباً آدھی نشستوں پر قبضہ کر لیا۔ پنجاب میں یونینسٹ پارٹی اور مسلم لیگ کی تعداد تقریباً یکساں تھی اور پلہ برابرتھا۔ سندھ میں بھی مسلم لیگ نے بڑی تعداد میں نشستیں جیتیں لیکن اسے اکثریت نہیں مل سکی۔ شمال مغربی صوبہ سرحد میں جہاں مسلم اکثریت سب سے بڑی تھی۔ لیگ کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں اور کانگریس حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی۔”

آگے بڑھنے سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مولانا کے ان فرمودات پر تبصرہ کر لیا جائے تا کہ تقریباً یکساں،تقریباً آدھی،اکثریت نہیں ملی، کانگریس حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی، جیسے جملوں کی حقیقت واضح ہوجائے۔ مولانا آزاد نے اپنی روایتی رنگ آمیزی سے تاریخی حقائق کو ہی مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔ بنگال کے متعلق مولانا نے فرمایا۔ ’’بنگال میں مسلم لیگ واحد سب سے بڑی پارٹی تھی اور اس نے تقریباً آدھی نشستوں پر قبضہ کر لیا۔” بنگال میں کُل 119مسلم نشستیں تھیں جن میں سے 112 مسلم لیگ نے جیت لی تھیں۔ کیا خوب ہے کہ 119میں سے 112سیٹوں کو مولانا نے تقریباً آدھی فرما دیا۔ اسی طرح پنجاب کے متعلق فرمایا۔ “پنجاب میں یونینسٹ پارٹی اور مسلم لیگ کی تعداد تقریباً یکساں اور پلہ برابر تھا۔” حالانکہ پنجاب میں کل 86مسلم نشستیں تھیں جن میں سے 79مسلم لیگ نے جیت لی تھیں جبکہ یونینسٹ پارٹی کے صرف 5ممبر کامیاب ہو سکے تھے۔ یہاں بھی مولانا نے اپنی بلاغت سے 79اور 5 سیٹوں کو تقریباً یکساں بنا دیا۔ اسی طرح سندھ کے متعلق بیان کیا۔ “سندھ میں بھی مسلم لیگ نے بڑی تعداد میں نشستیں جیتیں لیکن اسے اکثریت نہیں مل سکی۔” حقیقت یہ ہے کہ سندھ میں کُل 34مسلم نشستیں تھیں جن میں سے 29مسلم لیگ کے پاس تھیں اور 5مسٹر سید کی ترقی پسند مسلم لیگ نے حاصل کی تھیں۔ پھر سرحد کے متعلق ارشاد ہوتا ہے۔ “سرحد میں جہاں مسلم اکثریت سب سے بڑی تھیں لیگ کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں اور کانگریس حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی۔” یہاں پر مولانا نے مغالطہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ درست ہے کہ کانگریس سرحد کے گورنر کی مدد اور آزاد آراکین کو ملا کر خان حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ مگر یہ کہنا کہ لیگ کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں تاریخ کے ساتھ مذاق ہے۔ سرحد میں پارٹی پوزیشن یہ تھی۔ مسلم لیگ 17، کانگریس 16، جمعیت العلماء 2اور آزاد ایک۔ یہاں 17سیٹوں کے ساتھ مسلم لیگ سب سے بڑی پارٹی تھی مگر مولانا یہاں مسلم لیگ کو ناکام قرار دیتے ہیں۔ یہ ہے مولانا کی تاریخ نویسی۔ یہ تو تھا مولانا کے دیئے گئے اعداد و شمار کا تجزیہ۔ اصل کہانی آگے ہے۔ مولانا آزاد آگے چل کر’’آزادیٔ ہند‘‘ میں فرماتے ہیں۔

“پنجاب میں صورتِ حال بالخصوص مشکل تھی۔ یہ ایک مسلم اکثریتی صوبہ تھا مگر کسی پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہیں تھی۔ مسلم اراکین، یونینسٹ پارٹی اور مسلم لیگ میں تقسیم تھے۔ میں نے دونوں گروپوں سے بات چیت کی۔ لیگ نے جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے مسٹر جناح کی ہدایت کے تحت میرا دعوت نامہ قبول نہیں کیا مگر کسی نہ کسی طرح میں مذاکرات کو اس انداز سے چلانے میں کامیاب ہو گیا جس نے کانگریس کی مدد سے یونینسٹ پارٹی کو وزارت بنانے کا موقع فراہم کر دیا۔ گورنر شخصی طور پر مسلم لیگ کی طرف جھکاؤ رکھتے تھے مگر انہوں نے دیکھا کہ ان کے سامنے کوئی اور صورت نہیں سوائے اس کے کہ یونینسٹ پارٹی کے سربراہ خضرحیات خاں کو حکومت کی تشکیل کے لیے مدعو کیا جائے۔

“یہ پہلا موقع تھا جب پنجاب میں کانگریس حکومت میں شریک ہوئی تھی۔ یہ ایک ایسی صورتِ حال تھی جسے اس وقت تقریباً ناممکن تصور کیا جاتا تھا۔ ملک بھر میں سیاسی حلقوں نے اعلان کیا کہ میں نے ان مذاکرات میں، جنہوں نے پنجاب وزارت کی تشکیل کا راستہ دکھایا، زبردست صلاحیت اور تدبر کا ثبوت دیاہے۔ پورے ملک میں آزاد آراکین نے غیر مشروط طور پر مجھے مبارکباددی۔ نیشنل ہیرالڈ نے جو یو پی کانگریس کا ترجمان ہے مجھے اس بات پر سراہا کہ میں نے سلیقے کے ساتھ پنجاب کے پیچیدہ اور مشکل ترین مسئلے کو حل کیا تھا اور یہاں تک کہا کہ میں نے جس طرح صورتِ حال کو نمٹایا ہے اور وہ کسی بھی کانگریسی لیڈر کی طرف سے مذاکرات میں تدبر اور ہوشیاری کی واضح ترین مثالوں میں سے ایک تھا۔

“جواہر لال جیسا کہ گرم جوش اور فیاض ہیں اور ان کے دماغ میں ذاتی حسد نے کبھی گھر نہیں کیا۔ بہر حال ان کے بعض اعزاء و احباب مجھ سے ان کے قریبی تعلقات پسند نہیں کرتے تھے اور ہمارے درمیان رقابتیں اور مشکلات پیدا کرنا چاہتے تھے۔ جواہر لال میں یہ کمزوری ہے کہ وہ اصولی مصلحتوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور ان لوگوں نے اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر انہیں میرے خلاف کرنا چاہا۔ ان لوگوں نے ان سے بات کی اور کہا کانگریس اور یونینسٹ پارٹی کا اتحاد اصولاً غلط تھا۔ ان کا استدلال تھا کہ مسلم لیگ ایک عوامی تنظیم تھی اور کانگریس کو پنجاب میں لیگ سے مل کر حکومت بنانی چاہئے تھی نہ کہ یونینسٹ پارٹی کے ساتھ مل کر۔ کمیونسٹوں نے کھلم کھلا ہی لائن اختیار کی۔ جواہر لال جزوی طور پر ان کے خیالات سے مثاتر ہوئے تھے اور ہو سکتا ہے انہوں نے سوچا ہو کہ یونینسٹ پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت بنا کر میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اصولوں کی قربانی دے رہا ہوں۔

“مجھے نہیں معلوم کہ جواہر لال کے ذہن پر اس تلقین کا اثر کس حد تک پڑا مگر بمبئی میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کے دوران میں نے دیکھا کہ کم و بیش ہر معاملے پر انہوں نے میرے طرزِ عمل کی مخالفت شروع کر دی۔ جواہر لال نے یہ رخ اپنایا کہ پنجاب میں میں نے جو پالیسی اختیار کی وہ درست نہیں تھی۔انہوں نے یہاں تک کہا کہ میں نے کانگریس کے وقار کو گرا دیا ہے۔ مجھے یہ سن کر تعجب بھی ہوا اور افسوس بھی۔ میں نے پنجاب میں جو کچھ کیا تھا اس لیے کیا تھا کہ کانگریس حکومت میں شامل ہو جائے۔ اس حقیقت کے باوجودکہ گورنر مسلم لیگ کی وزارت قائم کرنے کے لیے کوشاں تھے میری ہی جدوجہد کے نتیجے میں مسلم لیگ کو ایک کونے میں ڈال دیا گیا تھا اور کانگریس نے اقلیت میں ہوتے ہوئے بھی پنجاب کے معاملات میں ایک فیصلہ کن عنصر کی حیثیت حاصل کر لی تھی۔ خضر حیات خان کانگریس کی مدد سے وزیر اعلیٰ بنے تھے اور ظاہر ہے کہ کانگریس کے اثر میں تھے۔”

یہ ہے مولانا کا کارنامہ جس پر وہ بے انتہا خوش ہیں۔ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ پنجاب کی 86مسلم نشستوں میں سے 81مسلم لیگ نے جیت لی تھیں اور یونینسٹ کے صرف پانچ ممبر کامیاب ہوئے تھے۔ مگر مولانا فرماتے ہیں مسلم ممبر مسلم لیگ اور یونینسٹ پارٹی میں بٹے ہوئے تھے، حقائق کا منہ چڑانا ہے۔ اس صوبے میں کُل نشستیں 177تھیں۔مسلم لیگ86اور بقیہ سکھ، ہندو اور مشترک حلقے۔ مسلم لیگ86سیٹوں میں سے 81جیت چکی تھی۔ اس صوبے میں وزارت سازی کے لیے 88ارکان چاہئیں تھے۔ مسلم لیگ کو مزید 7ارکان کی حمایت درکار تھی۔ یہ سات ارکان اسے ملنا مشکل نہ تھا۔ پھر مولانا کا یہ کہنا کہ گورنر مسلم لیگ کا حامی تھا وہ لیگ کے لیے کوششیں کر رہا تھا۔ بالکل غلط ہے۔ وہ مسلم لیگ کا حامی ہوتا تو 7آزاد ارکان آسانی سے دلا سکتا تھا۔ مگر1944ء میں وہ پہلے بھی پنجاب کے معاملے میں مسلم لیگ کی مخالفت کر چکا تھا۔ لہٰذا اب بھی وہ لیگ کا حامی نہیں تھا۔ پھر قائدِ اعظم اور مسلم لیگ کی اصول پرستی کا یہ حال تھا کہ یونینسٹ پارٹی نے لیگ سے اتحاد کی خود خواہش کی تھی اور صرف ایک وزارت مانگی تھی لیکن قائدِ اعظم نے انکار کر دیا اور کہا تھا غیر مسلموں سے اتحاد کر لیں گے مگر یونینسٹ سے نہیں۔ دوسری طرف مولانا آزاد کے کمالات کہ 17ہندو اور کئی سکھ ارکان کو اکٹھا کر کے 5سیٹوں والے حضرت حیات خان کے ما تحت کر کے اسے وزیر اعلیٰ بنوا دیا۔ واقعی مولانا کا یہ کارنامہ سنہرے حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔

ادھرمولانا یہ بھی بتاتے ہیں کہ خود کانگریس کا ایک حلقہ بھی اسے بے اصولی سمجھتا تھا یہاں تک کہ نہرو نے بھی اسے پسند نہیں کیا۔ مگر مولانا ہیں کہ اسے اپنے کارنامے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ لگتا ہے ان کا مقصد ہی یہی رہ گیا تھا کہ جیسے بھی بن سکے مسلم لیگ اور قائدِ اعظم سے اپنے اختلافات کا بدلہ لیا جائے چاہے اس سے مسلمانوں کے مفادات کا نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ یہی یونینسٹ حکومت تھی جس نے سکھوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر مظالم ڈھائے اور اسی بندوبست کی وجہ سے بعد میں پنجاب کی ایسی تقسیم ہوئی جس سے خون کی ندیاں بہہ گئیں۔ واہ مولانا واقعی یہ آپ کا عظیم کارنامہ تھا۔ اصول پسندی اوراخلاقیات کا چاہے جنازہ نکل جائے مگر سیاسیات میں آپ کامیاب ٹھہرے۔

۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔

اس تحریر کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا تیسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا چوتھا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا پانچواں حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا چھٹا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: