امام غزالی : فلسفے کا مخالف فلسفی —– سہیل عمر

0
  • 4
    Shares

تمہید: ہمیں یہ بات بھی قبول کرنا ہو گی کہ غزالی ابن سینا اور ملا صدرا کی طرح اسلامی فلسفی نہ تھے۔ تا ہم فلسفے کا یہ مخالف اپنے طور پر ایک ایسا حکیم تھا جس کا اثر فلسفئہ اسلامی میں پھیلا ہوا ہے۔ آسمانِ معارفِ اسلامی کے اس درخشندہ ستارے کی اہمیت کا از سر نو جائزہ لیا جانا چاہیے جس میں کلام، فقہ، تفسیر، تصوفِ عملی اور اخلاقیات کے لیے ان کی خدمات کے علاوہ ان کی فلسفیانہ اہمیت پر بھی توجہ دی جائے تا کہ افراط و تفریط سے الگ ہو کر غیر جانبداری سے ان کی علمی صورت سب کے لیے روشن ہو سکے۔ آثارِ غزالی کی فلسفیانہ جہات اور بعد کے زمانے میں ان کے اثرات پر غور و تفحص سے واضح ہو جائے گا کہ مغرب والوں نے ان کی کتاب مقاصد الفلاسفہ کے لاطینی ترجمے سے ان کو جس معنی میں فلسفی سمجھا تھا اس معنی میں اگرچہ وہ فلسفی نہیں تھے تا ہم عالم اسلام کے مشرقی علاقوں، خاص طو رپر ایران میں، بعد کے زمانے میں جس طرح فلسفہ پروان چڑھا اس میں ان کا قابل توجہ حصہ ہے۔ ایران کے اس عظیم مفکر کے اثرات ملائیشیا سے لے اندلس و مغرب اسلامی تک غالب رہے ہیں۔ ایران میں ان کے بعد جو مکاتبِ فلسفہ اُبھرے وہ قرونِ اخیر میں ایران کی اسلامی ثقافت کا درخشاں ترین پہلو میں اب تک ان مکاتب پر غزالی کے اثرات کا جو جائزہ لیا گیا ہے وہ نا مکمل ہے۔ غزالی کے اثرات اس سے زیادہ ہیں۔
ان کے اپنے زمانے میں فلسفے کے جو معنی رہے ہوں اس کے لحاظ سے وہ فلسفے کے دشمن تھے لیکن فلسفے کے کلی اور متداول معانی کے اعتبار سے انھیں حکیم اور فیلسوف ہی کہنا چاہیے۔


فکر اسلامی کی اشاعت اور اس کے تاریخی انقلابات سے تھوڑی بہت آگاہی رکھنے والا ہر شخص ابن سینا کے فلسفے پر ابو حامد محمد الغزالی کی تنقید اور اسلامی ویونانی مشائی فلسفے کی مخالفت سے واقف ہے۔ یہ بھی معلوم ہے کہ غزالی نے اپنی کتاب مقاصد میں ابن سینا اور مشائی مکتبِ فکر کے فلسفے کی تلخیص کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر تنقید بھی کی اور تہافۃ الفلاسفۃ میں یہ کوشش کی کہ بو علی سینا اور فارابی کے فلسفے کو جڑ بنیاد سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ انھوں نے اپنے خود نوشت احوال حیات المنقذ من الضلال میں بھی اس فلسفے کے نقائص اور اس پر اعتراضات بیان کیے۔ ان تینوں مقامات پر غزالی نے ان مکاتب فکر کے پیروکاروں پر کفر آمیز افکار کی تنقید کا الزام تک لگایا ہے۔ لہذا غزالی اور فلسفے کی بحث میں اس پہلو کی تکرار بے معنی ہو گی۔ یوں بھی فلسفے کے دشمن اور مخالف کے طو رپر غزالی کا ایک ایسا تصور بن چکا ہے جس کے بارے میں مزید کچھ کہنا بے مصرف ہے، خاص طو رپر ان لوگوں کے لیے جو ایران میں فکر و فلسفہ کی روایت کے دامن میں پروان چڑھے اور جنھوں نے غزالی کو زیادہ تر فلاسفہ خلف کے نقطہ نظر سے دیکھا۔

با یں ہمہ غزالی کی تصانیف کا اگر دقتِ نظر سے مطالعہ کیا جائے اور فکر اسلامی کے ما بعد کے ادوار میں ان کے نفوذ اور اہمیت کو سامنے رکھا جائے تو یہ پتا چلے گا کہ اگرچہ غزالی ایک معنی میں فلسفہ دشمن تھے بلکہ شاید پانچویں صدی میں فلسفہ مشائی کا زور توڑنے اور اشعری علم کلام کو قوت دینے والی سب سے اہم شخصیت تھے، تا ہم اس کے باوجود وہ خود بھی فلسفی اور حکیم تھے۔ اپنی فلسفیانہ نظر اور تصانیف سے انھوں نے نہ صرف فلسفہ مشائی کی عمارت منہدم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا بلکہ بعد کے صدیوں میں فلسفیانہ سوچ کے سفر پر مثبت اثرات مرتب کیے۔ ہماری تحریر کا مقصد غزالی کی فکر کے اسی فلسفیانہ اور حکیمانہ تناظر کو نمایاں کرنا ہے کیونکہ بو علی سینا اور فارابی کے فلسفے کی مخالفت تو پہلے ہی معروف خاص و عام ہے۔
غزالی کی کتب پر غور کرنے سے ایک بنیادی چیز آشکار ہوتی ہے اور وہ یہ کہ انھوں نے عقل و خرد پر توجہ دی ہے، ان کی اہمیت کی تائید کی ہے اور انسان کی فکری، دینی اور روحانی زندگی میں عقل کے مثبت کردار کا اقرار کیا ہے۔
اس معاملے میں غزالی فلاسفہ کے ساتھ ہیں اور اس کے لیے انھوں نے فقہائے حنابلہ، صوفیا کے ایک خاص طبقے حتیٰ کہ متکلمین تک کے برعکس نقطئہ نظر اپنایا ہے۔ یہ مکاتب فکر عقل اور منطق کے مخالف تھے۔
یہ درست ہے کہ غزالی کے ہاں عقل صرف منطقی اور ارسطا طالیسی معانی تک محدود نہیں ہے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اسے حقائق الٰہیہ کے ادراک کا وسیلہ قرار دیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود انسان کے حصول کمال کے لیے عقل کی اہمیت پر زور دینا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس معاملے میں حکما کے ہم خیال ہیں اور اپنے مخالف فلاسفہ سے عقل کی اہمیت اور عقلی و منطقی مقولات پر انحصار کرنے کی ضرورت پر متفق الرائے ہیں۔ اسلامی فکریات کے تمام مختلف مکاتب فکر کو سامنے رکھ کر اگر دیکھا جائے تو یہ نظر آتا ہے کہ فلسفئہ مشائی کی شدید مخالفت کے باوجود غزالی حیاتِ انسانی میں عقل و خرد کے کردار اور کسب کمال میں اس کے حصے کے مسئلے پر فلاسفہ ہی کے پہلو میں کھڑے ہوئے ہیں اور ان فلاسفہ اور بہت سے دیگر صوفیا کی طرح معرفت کو کلید سعادت گردانتے ہیں، نیز انسان کے لیے معرفت حق تک دسترس کے امکان اور ایک علم برتر کے قائل ہیں۔

غزالی کی فکر کا یہ پہلو ان کے علم نطق سے اعتنا سے بھی ظاہر ہے۔ ان کی منطق پر یہ توجہ علمائے دین کے اس طبقے(جس کی مثال ابن تیمیہ ہیں) کے برعکس ہے جنھوں نے منطق کی مخالفت کی، ساتھ ہی ان کا یہ رویہ ان صوفیا کے نقطہ نظر سے بھی لگا نہیں کھاتا جنھوں نے انسان کو اپنے نفس سے رہائی دلانے اور شہوات و عالم نفسانی کی ماری ہوئی عقل تک محدود سوچ سے آزاد کرنے کے لیے صرف پائے استدلالیاں کو چوبیں بتانے ہی پر تکیہ کیا‘‘۔ غزالی نے نہ صرف یہ کہ منطق کو رد نہیں کیا بلکہ اس کو بہت اہمیت دی ہے اور اس موضوع پر اہم تصانیف یادگار چھوڑی ہیں۔ مقاصد کے علاوہ غزالی نے معیار العلم ارسطو کی منطق پر لکھی اور اس کے بعد محک النظر فی المنطق کے نام سے ایک مختصر کتاب بھی تالیف کی۔ اسی طرح غزالی کی ایک نادر تصنیف القسطاس المستقیم ہے۔ اس کا موضوع بھی منطق ہے البتہ اس کی بنیاد اس زمانے میں متداول ارسطو کی منطق کی بجائے قرآن کریم کی منطقی میزانوں پر رکھی گئی ہے۔ ابتکاری حیثیت رکھنے والی یہ کتاب’’در حقیقت منطق قرآن کا بیان ہے۔ اس کے پانچ میزان یوں ہیں تعادل اکبر، تعادل اوسط، اصغر، تلازم، تخالف‘‘۔
اس کتاب کی اہمیت اور ما بعد کی صدیوں میں اس کے نفوذ کا اندازہ ملا ہادی سبزواری کی شرح منظومہ میں مذکورہ پنج میزان ماخوذ از القسطاس المستقیم کا حوالہ دیکھ کر ہوتا ہے۔ یوں فلسفے کے دشمن امام غزالی خود منطق کے عالم ٹھہرتے ہیں، ایسا عالم جس نے منطق کی اشاعت میں حصہ لیا اور اس علم میں گراں قدر تصانیف چھوڑیں جو بلاشبہ فلسفہ مشائی اور دیگر علوم نظری اور حکمت ہائے استدلال کی بنیاد ہیں۔

غزالی ان مفکرین کے زمرے میں آتے ہیں جنھوں نے فلسفے پر فقط عقائد یا احساسات کے اعتبار سے ہی تنقید نہیں کی بلکہ ان کے فلسفے پر تنقید ہے۔ تہافت میں ان کی کوشش ہے کہ مشائی فلاسفہ کی آرا کا تجزیہ فلسفیانہ انداز اور فلسفیانہ تجزیہ کاری کے ساتھ کیا جائے۔ یہ چیز حدوث و قدم کی بحث سے بالخصوص نمایاں ہے جو تہافت کا سب سے اہم فلسفیانہ مبحث ہے، اسی لیے ابن رشد نے تہافت التہافت میں ہر موضوع سے بڑھ کر اس موضوع پر غزالی کے نظریات کا تجزیہ کیا ہے اور جواب دیا ہے۔ غزالی کی کوشش تھی کہ زمان و مکان، علیت اور دیگر مقولات پر، جو مسئلہ حدوث و قدم میں لازماً درپیش آتے ہیں، فلسفیانہ طریقے سے بحث کی جائے۔ البتہ یہ نکتہ واضح ہونا چاہیے کہ غزالی نے کس حد تک شیخ الرئیس کے نظریات کو سمجھا اور فلسفیانہ نقطہ نظر سے ان آرا کو پرکھا؟ مکتب مشائی کے پیروکاروں نے غزالی کو فلسفیانہ فہم و ادراک سے عاری جانا ہے اور اس میں شک نہیں کہ غزالی فلسفے میں اپنے استاد خود تھے اور صدیوں سے بو علی سینا کے فلسفے کے استادوں اور صاحب نظر لوگوں نے جس طرح ان کی آرا کو سمجھا غزالی اس طرح نہیں سمجھ پائے تھے اور اسی لیے ان کی نظر اسے فلسفے کے اُصولوں تک نہیں پہنچی۔ اس کے باوجود فلسفے پر غزالی کی تنقید کو نری کلامی یا عقائدی تنقید نہیں جاننا چاہیے بلکہ ایک فلسفی کی فلسفے پر فلسفیانہ تنقید سمجھنا چاہیے۔ جو شخص بھی غزالی کی فکر کے فلسفیانہ پہلوئوں پر نظر ڈالنا چاہتا ہو اسے فلسفے پر غزالی کی تنقیدات کا فلسفے کے نقطئہ نظر سے مطالعہ کرنا چاہیے۔
غزالی نے اسماعیلیہ فرقے پر جو تنقید کی اس میں اگرچہ فلسفے سے زیادہ سیاسی پہلو غالب تھا تا ہم اسے بھی فلسفیانہ رنگ سے خالی نہیں کہا جا سکتا۔ المنقذ من الضلال کی تالیف سے قبل غزالی نے اسمٰعیلی نظریات کا مطالعہ کیا تھا اور چونکہ ابو حاتم رازی، حمید الدین کرمانی اور ناصر حسرو وغیرہ اسمٰعیلی مفکرین اپنے زمانے کے نمایاں فلسفیوں میں شمار ہوتے تھے لہٰذا ان کی فکر کا مطالعہ غزالی کو بلا شبہ فلسفیانہ سوچ بچار کے میدان میں لے گیا ہو گا۔ پھر غزالی نے فضائح الباطنیہ کے نام سے ایک مبسوط کتاب اور حجۃ الحق، تواہم الباطنیہ کی طرح کے چھوٹے چھوٹے رسائل بھی لکھے جن میں ان کی کوشش تھی کہ حقائقِ عالم روحانی تک دسترس اور معرفت خدا وندی کے حصول کے لیے امام معصوم سے تعلیم پانے کی ضرورت کے جو دعاوی اسمٰعیلیہ نے کیے تھے ان کو رد کیا جائے‘‘۔ اگرچہ ان تالیفات میں فلسفیانہ استدلال و برہان سے زیادہ جدل و مناظرہ کا رنگ ہے تا ہم فلسفیانہ اعتبار سے بھی غزالی کا ردِ اسمٰعیلیہ اہم ہے۔ اسی لیے اسمٰعیلیہ کے پانچویں مستعلوی داعی علی بن محمد الولید (یمن) نے فضائح الباطنیہ کا جو مفصل جواب دیا اس میں صرف اسمٰعیلیوں کے بعض آرا و افکار پر غزالی کے شبہات ہی پر بحث نہیں کی بلکہ عقل اور وحی کے رابطے اور تعلیم (لدنی) کے بارے میں غزالی کے نقطئہ نظر پر بھی فلسفیانہ اعتبار سے گفتگو کی ہے۔
غزالی کی فکر کا اہم ترین فلسفیانہ تناظر علم و معرفت کا مسئلہ ہے۔ صوفیائے سلف میں سے کچھ لوگوں نے اپنی تحریروں میں علم و شناخت کے مسئلے پر قطعاً توجہ نہیں دی۔ متکلمینِ سلف نے بھی عقل کو عالم بالا کے حقائق کی معرفت سے لاچار قرار دیا تھا۔ ان دونوں کے برعکس غزالی اس بات کے معتقد ہیں کہ انسان حق تعالیٰ کو پہچاننے اور یقین و معرفت تک پہنچنے کی قدرت رکھتا ہے۔ ان کی ساری زندگی حصولِ معرفت اور یقین تک رسائی کی کوشش میں گزری اور ان کی اہم ترین تحریروں میں عقلِ ماورائی، ذہن کی قوتِ استدلال اور عالمِ قدس سے رابطہ جیسے اُمور پر توجہ ہر جگہ ہویدا ہے۔ ان کی پیش کردہ علم لدنی کی تعریف، عقل کی گوناگوں مراحل میں درجہ بندی، جس کا بلند ترین درجہ عقل انبیا ہے، عقل اور وحی کا تعلق، حقائق ازلی کی شناخت کا مکان، علم الٰہی کا حصول، عقلا استدلالی اور اشراق کا جوڑ جیسے مباحث کے اثرات ان کے زمانے کے بعد سہروردی سے لے کر ملا صدرا اور شاہ ولی اللہ تک بہت سے مسلمان مفکرین اور فلاسفہ کی فکر میں وافر نظر آتے ہیں۔ جہاں تک فلسفے کے اصل مسائل کے فہم کا تعلق ہے یہ صراحت سے کہا جا سکتا ہے کہ غزالی ان مباحث پر غور و پرداخت اور ان کی چھان بین کرنے والے اہم ترین مفکر ہیں۔ اسلام کی فکری تاریخ میں کم لوگ ہوں گے جن کی فکر کے اثرات ان فلسفیانہ مباحث میں اتنے دور رس ہوئے ہوں۔
علوم کی قسم بندی کا مسئلہ علم اور منہاج شناسی سے گہرا تعلق رکھتا ہے اور مسلمان فلسفی اسے فلسفے کے بنیادی مباحث میں سے جانتے تھے۔ کندی سے لے کر ملا صدرا اور شاہ ولی اللہ تک اکثر مسلمان مفکرین نے اس پر توجہ دی ہے۔ فلاسفہ تو خاص طور پر اس کی اہمیت کے قائل رہے ہیں اور اس کے بارے میں غور و فکر کرتے رہے ہیں۔ مختلف شعبہ ہائے علوم اور معرفت کی گونا گوں شاخوں کے مابین وحدت پیدا کرنے میں چونکہ اس مبحث کو پورا دخل حاصل تھا لہٰذا غزالی نے متکلمین کی بجائے اپنے زمانے سے پہلے کے صوفیا و فلاسفہ کی پیروی میں اس موضوع سے خاص اعتنا برتا ہے اور احیا العوم الدین میں اس کو خوب واضح کیا ہے۔ البتہ غزالی کے ہاں علوم کی بنیادی تقسیم فرض عین اور فرض کفایہ کے تحت ہے۔ یہ فلسفیانہ نہیں بلکہ فقہی رنگ ہے۔ تا ہم ان دو کلی مقولات کے اندر غزالی نے ان تمام گونا گوں علوم پر گفتگو کی ہے جن پر فلاسفہ کی توجہ رہی ہے اور بعض فلسفیوں مثلاً فاربی نے احصا العلوم کے نام سے ان پر تحریریں بھی چھوڑی ہیں۔ غزالی کے ہاں پائی جانے والی قسم بندی کے اُصول اولیہ اگرچہ سابقہ فلاسفہ کی نگارشات سے مختلف ہیں لیکن علوم کی شاخوں مثلاً علومِ عقلی، علومِ عقلی و نقلی کا تعلق، وحی اور تکلیفِ شرعی وغیرہ بر بحث میں بھی نفس توجہ فلسفیانہ ہی رہی ہے اور فلسفئہ مشائی پر حملوں کے باوجود علوم کی قسم بندی کے معاملے میں ان کے نظریات ابن سینا، فارابی اور کندی کی تحریروں سے کاملاً ہم آہنگ ہیں اور اسلامی فکریات میں علوم کی قسم بندی پر ہر مکمل تحقیق میں غزالی کے افکار کا جائزہ لینا ضروری ٹھہرتا ہے۔ یہ جائزہ فقط فقہی یا تاریخی اہمیت کے اعتبار سے نہیں بلکہ فلسفیانہ حیثیت کے لحاظ سے ہو گا۔ غزالی نے علوم کی جو تقسیم کی ہے اس میں اپنے معاصرین کے کلام اور فقہائے اہل دنیا کی مذمت کی ہے اور دانش محض یا معرفت کی تعریف کی ہے جو تصوف کے مترادف ہے اور چونکہ ان کے لیے تصوف اور معرفت تو عام تھے اور ایک عقلانی جہت کے حامل لہٰذا ان کی علوم کی تقسیم بندی بھی فلسفیانہ رنگ میں ہے بشرطیکہ فلسفے کو اس کےکلی معنی میں سمجھا جائے اور صرف مشائی فلسفے تک محدود نہ قرار دیا جائے۔

۔۔۔۔ مضمون کا دوسرا اور آخری حصہ یہاں ملاحظہ کیجئے ۔۔۔۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: