پنجاب یونیورسٹی گرلز ہاسٹل: حقیقت حال — سحرش عثمان

1

حجاب اوڑھا کرتی تھی وہ ، مکمل پردے والا حجاب، ہاتھوں پر گلووز بھی پہنتی تھی۔دو ایک بار بات چیت کے بعد اس کے جہادی خیالات کے متعلق جانکاری حاصل ہوگئی۔
اب ہم نے اسے “ااوائڈ” کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک دن ڈیپارٹمنٹ سے باہر نکلتے اس پر نظر پڑی تو ہم جیسے جانتے نہیں پہچانتے نہیں کی عملی تفسیر بنے گزرنے لگے تو اچانک ہمارے نام کی پکار سے فضا گونج اٹھی، ناگواری سے پیچھے مڑ کے دیکھا تو محترمہ ہمیں ہی دیکھ کر ہاتھ ہلا رہی تھیں، چارو ناچار ہاتھ ہلانا پڑا حال احوال اور ہم سٹک لیے۔
اگلے دن کیفے ٹیریا میں کوئی اچانک آن ٹکرایا_____ پھر وہی محترمہ سوالیہ نشان بنے چہرے کو دیکھ کر کہنے لگیں حجاب میں پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے نا۔
یہ میں ہوں__کہا جی؟ کہنے لگیں کیا ہوا ناگواری کو قطعی چھپائے بغیر کہا کچھ نہیں بس موڈ نہی بات چیت کا۔اور دل میں سوچا اب تو ضرور پیچھے ہٹ جائے گی۔
لیکن حیرت کا جھٹکا اسوقت لگا جب کہنے لگیں کوئی بات نہیں میرے ساتھ بھی ایسے ہوتا ہے کبھی کبھی کسی سے بات کرنے کا جی نہیں چاہتا۔
یہ تھا ہاسٹل سے میرا پہلا تعارف۔

وہ پیاری حجابی دوست اب آپ لوگوں کو جھٹکا لگا ہوگا لفظ دوست سے۔وہ ہے ہی ایسی دوست کہے جانے کے قابل۔
نہ صرف وہ بلکہ ہاسٹلز کی ساری قرآن کلاس والی دوستیں وہ جب شروع شروع میں خود کو ایک دوسرے کا ایمان کا ساتھی کہا کرتی تھیں تو مجھ جیسے بہت سے زیر لب طنزا مسکرایا کرتے تھے۔
لیکن ہاسٹل کے چار اور کئیوں کے چھ سالوں نے انہیں درست ثابت کیا۔
بہت سی لڑکیاں جنہیں میں ننجا ٹرٹل تو کبھی جہادی آنٹی تو کبھی دہشت گرد کہہ کر پکارا کرتی تھی ان میں سے کسی نے کبھی پلٹ کر مجھے نہیں کہا بی بی یہ جو تم کلاس میں تنک کر لوگوں کو مائے ڈریس مائے پرسنل میٹر کے جواب دے کر لاجواب کرتی ہو تو کیا یہ کلیہ ہمارے لیے بھی قابل عمل ہے؟ بھلا کیوں؟ کیوں کہ وہ لڑکیاں پیس فل کو ایگزسٹینس کی قائل تھیں۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا ہاسٹلز میں رہ رہی ہیں تو کہیں نا کہیں کسی فضول بات کا حوالہ بننا پڑے گا سو احتیاط لازم__ کلاس میِں حجاب اوڑھنے والی زیادہ تر لڑکیاں ہاسٹلرز تھی __ چھ بجے کے بعد پی یو کہ ہاسٹل کے گیٹ انڈیا پاکستان بارڈر کی طرح بند ہوجاتے ہیں۔
جس پر ہاسٹل کی لڑکیوں اور وارڈن کے درمیاں آئے روز معرکے ہوا کرتے تھے__ ہاسٹل کی لڑکیاں ڈنر کرنے پانچ بجے جایا کرتی تھیں___
اور ویلنٹائنز ڈے اور نیو ائیر نائٹ کا نام سن سن کے اور شریکوں کے لال منہ دیکھ کرخود کو چپیڑیں مارنے والوں کی اطلاع کے لیے بتاتی چلو پی یو میں دونوں مواقع پر باقاعدہ چھٹی ہوا کرتی ہےاور چھٹی پر یاسٹلز میں صرف الو بولتے ہیں یا وہ لڑکیاں جن کا اگلے دن پیپر یوتا ہے۔
خیر یہ سب بتانے سے صفائی دینا یا ایکسپلین کرنا مقصد نہیں تھا بتایا اس لیے کہ مجھے اپنے حصے کا سچ بولنا تھا۔
پر آج یہ لائنز لکھتے ہوئے اپنے حصے کا سچ بولتے یوئے نہایت افسوس اور دکھ ہو رہا ہے۔ وہ ساری لڑکیاں جو ہاسٹلز میں چھ چھ سال گزار کر اس دور ابتلا میں بھی عزت مخفوظ رکھ حیا کا پاس رکھ کر گھروں کو واپس جا چکیں یا جانے والی ہیں وہ سب کسی ڈیسپو کے ناکام اور فرسٹریٹڈ جذبات کی وجہ سے سوالیہ نشان کا شکار ہیں۔
ہاسٹلز میں ہر قسم کی لڑکیاں ہوا کرتی ہیں ہر لڑکی ایک الگ فیملی کی ریپرزینٹیشن۔
الگ ماحول سے آئی ہوئی الگ لڑکی الگ فرد دراصل الگ الگ ماحول اور فیملی گرومنگ کا الگ الگ نمائندہ۔
جن میں زیادہ تر ٹیپیکل پڑھاکو ٹائپ لڑکیاں ہوتی ہیں۔اپنی اپنی کلاس کی ٹاپر نیچرل سائنسز پڑھنے والی اماں ابا کی لاڈلی سیدھا سا کلیہ ہے جس معاشرے میں صرف دو فیصد لڑکیاں یونیورسٹی جا پاتی ہوں اور ان دو فیصد میں بھی پوائنٹ ایٹ پوائنٹ نائن پرسنٹ ہاسٹلرز ہوں بھیا ایسی لڑکیاں پڑھ کے میرٹ پہ آ کہ ہاسٹلز آتی ہیں ابا فیس دیتے ہیں اماں کھانے فریز کر کر کہ لاڈ اٹھاتی ہیں۔بھیا ایسی لڑکیاں میریٹ پی سی میں “ملاقاتیں” افورڈ نہیں کرسکتیں۔
یہ جملے لکھتے ہوئے بھی شرم آ رہی ہے خود کے لڑکی ہونے پر نہیں آپ کی سو کالڈ علمیت کی مردانہ تشرییحات پر۔
کسی نے ٹیکسی ڈرائیور سے قصہ سنا اگلے دن صبح اٹھا اور فون اٹھایا ٹائپ کیا اور چھپوا دیا ان کی بلا سے ایک ہزار لڑکی ان کے الزام کی زد میں آاءی ہے دو ہزار یا پانچ ہزار انہوں نے تو “سچ” کا بول بالا کردیا اللہ اللہ خیر صلا۔
کسی نے ثبوت مانگا؟ گواہی چاہی؟ کسی نے یہ بھی نہیں پوچھا جب ٹیکسی ڈرائیور کا نام بھی نہیں معلوم تو کس برتے پر کہانیاں لکھ رہے ہیں آپ جناب۔
میں نہ تو ماہر قانون ہوں نہ اسلامی فقہ کا علم ہے لیکن کم علمی کے باوجود یہ معلوم ہے مجھے ایسے الزامات پر حد لگتی ہے۔تو کیا اس اسلامی جمہوری ملک میں کسی میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ وہ اتنی زیادہ پاک دامن لڑکیوں پر فضول گھٹیا الزام لگانے پر معافی مانگے؟ یا پھر اپنے الزامات ثابت کرنے کے لیے ثبوت مہیا کرے؟ یا پھر آپ سب عبداللہ بن ابی کے قبیلے سے ہیں؟ کیا آپ سب منافق ہیں؟
یہ لکھنا اس لیے ضروری سمجھا کیوں کہ اب کسی پیمبر پر سورہ نور نہیں اترے گی۔اب ہمارے بیچ کسی امام زماں کو نہیں آنا۔
اب میری جنس کی پاک دامنی اپنے اختیار کی حد تک مجھے ثابت کرنا ہے۔
اور اپنے الزامات کو بہرحال آپ ہی نے ثابت کرنا ہے وگرنہ حشر تو برپا ہونا ہی ہے ناں؟
آپ کی خوش قسمتی آپ ہم آپ پاکستان جیسے ملک میں رہتے ہیں کوئی مہذب ملک ہوتا جہاں انصاف کی قیمت نہ ہوتی تو اب تک کوئی آپکو سو کر چکا ہوتا۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: