ہمارا ناقص ریاض۔ چوہدری بابرعباس

0

اس وقت سے ڈریں کہ کہیں ایسا ہی سلوک ہمارے ساتھ بیجنگ میں نہ روا رکھا جائےجیسا ریاض میں رکھا گیا۔
یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اگر امریکہ عرب اسلامک کانفرس صرف امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی اور دفاعی معاہدوں کی ایک تقریب تھی تو باقی پچاس اسلامی ممالک کو اور بالخصوص ہمیں کیوں گھسیٹا گیا ؟
گویا ان تمام اسلامی ریاستوں کے سربراہان کو ان معاہدوں پر شاہد رہنے کے لئے مدعو کیا گیا تھا ؟

پورا خلیج اسوقت حالت جنگ میں ہے بالخوص شام کی بلواسطہ اور یمن کی بلا واسطہ جنگوں سے جہاں انتہائی تشویش ناک دفاعی مسائل پیدا ہوئے ہیں وہاں ان محارب حالات نے سعودی عرب کی معیشت پر بھی یقینی طور پر سخت منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ ان حالات پر قابو پانے کے لئے سعودی حکومت ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔ اور اس ضمن میں حکومت کی طرف سے ویژن دو ہزا تیس کے نام سے ایک روڈ میپ بھی تیار کیا گیا ہے جس پر انتہائی سرعت سے عمل جاری ہے اور شہزادہ محمد بن سلیمان اس سلسلے میں انتہائ متحرک اور پر جوش ہیں۔ اور یقیناً مذکورہ امریکہ عرب کانفرنس بھی اسی کا ایک حصہ ہے۔ اس ادراک کے ساتھ کہ دھائیوں کو چھوتی اور اب سرحدوں پر امنڈ آتی ان جنگوں کو کمزور معیشت کے ساتھ پایا تکمیل تک پہنچانا ممکن نہیں، امریکہ اور سعودی عرب کا دفاعی اور اقتصادی تعاون جہاں پہلے ہی وسیع بنیادوں پر موجود ہے، اس کانفرنس میں طے پانے والے معاشی اور دفاعی منصوبے ایک نئ حکمت عملی کے تحت امریکہ کو مزید انگیج رکھنے کی ایک کوشش بھی ہے۔ ایسی صورت میں اسکی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ دنیا بھر میں اوباما اور بش کی جنگی سرمایہ کاریوں کو –جنہوں نے امریکی معیشت کو سخت نقصان پہنچایا ہے– کو سمیٹ کر امریکہ کو ایک مضبوط معیشت کی راہ پر ڈالنا چاہتی ہے جبکہ شام میں جاری خانہ جنگی میں عرب امریکی اتحاد کو کچھ وقت تک مزید قائم رکھنا عرب اتحاد کے لئے انتہائ ضروری ہے۔ ایسی صورت میں ایسے دفاعی سامان کی فروخت اور تین سو ارب ڈالر کے اقتصادی معاہدے عالمی جنگوں اور تنازعات ، بڑھتی ہوئ غربت اور سماجی جرائم میں گھرے ایک کاروباری صدر کی قیادت میں خود امریکہ کے لئے –جبکہ خلیجی ممالک اور سعودی عرب جو کسی بھی حوالے سے سرمایہ کاری کے لیے ایک بہترین منڈی ثابت ہوئے ہیں– ایک جنگ میں بلا مقابلہ فتح سے کم نہیں ہے۔ جسکی کہ کوششیں بھی خود سعودی حکومت کی طرف سے کی گئ ہیں۔
حیران کن بات کہ اینٹی اسلام اور مسلم، امریکی صدر جسکا انتخابی نعرہ ہی اسلام دشمنی اور مسلمان سے نفرت کا تھا وہ اپنا پہلا سرکاری دورہ ہی ایک ایسے اسلامی روحانی طور پر امت مسلمہ کے قائد ملک کا کرتا ہے جس پر آج تک امریکی حکومت گیارہ نومبر کے واقعات میں ملوث ہونے کے اعتراف کے لیے دباو ڈالتی رہی ہے جسکی یاد دہانی اسی کانفرنس کے ہی روز ایران کی طرف سے کروائی بھی جاتی رہی جس واقعہ کے بدلے میں لاکھوں مسلمانوں کا بے گناہ خون بہایا گیا اور ملکوں کے ملک اجاڑ دیئے گئے، کو نہ تو وہ انتخابی نعرے یاد آئے اور نہ ہی امت کے اس قائد اور اتحاد کی علامت کو لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کی ہلاکتیں اور انکے نیست و نابود ہوتے ملک نظر آئے جو اس “دفاعی اور اقتصادی “پارٹنر کے ہاتھوں ہی انجام پائے۔ مستزاد یہ کہ ان معاہدوں میں شامل اہم ترین گلوبل سینٹر فار کمبیٹنگ ایکسٹریمسٹ آئیڈیالوجی کا فیتہ بھی ٹرمپ جیسے اسلام دوست سے ہی کٹوایا گیا___!
ایک بڑا سبق ہے ہمارے جیسے بخشو ملک کے لئے کہ جب بات مفاد کی آتی ہے تو ریاستیں اپنا مفاد ہی مقدم رکھتی ہیں۔


ٹرمپ نے پاکستان سے موجودہ سرد تعلقات کی وجہ سے پاکستان کو ریاض کانفرنس میں خاطر میں نہیں لایا تو اس میں کچھ نہ کچھ حصہ بھارت کا بھی ضرور ہے جسکے پیچھے اسکا برسوں کا ریاض ہے۔


اس کانفرنس کے کل دو مقاصد میں سے دوسرا مقصد سعودی عرب کا اپنے دفاع کو نا قابل تسخیر بنانا ہے جو درحقیقت اصل مقصد تھا جس کے تحت امریکہ سعودی عرب کو 110 ارب ڈالر کا دفاعی سامان فراہم کرے گا۔ اسی تناظر میں سعودی عرب اسلامک ملٹری اینٹی ٹیرزم کولیشن کے فعال قیام کے لئے بھی کوشاں ہے جسکو پاکستان کی بھی حمایت حاصل ہے۔ تاہم پاکستان حکومت کی طرف سے کہ باقائدہ اور عملی شمولیت کا فیصلہ ٹی آر اوز پر ہو گا ایک درست پوزیشن ہے۔ جس طرح حالیہ امریکہ عرب کانفرنس میں پاکستان اور اس کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے، یہ اب اور بھی اہم ہو گیا ہے۔ اور یہ جاننا بھی ضروری ہو گا کہ آیا یہ اتحاد ممبر اتحادی مسلم ممالک کے دفاع کو بھی اتنی ہی نہ صرف اہمیت دے گا بلکہ عملیت سے بھی کام لے گا جتنا اہم اس اتحاد کے لیے سعودی عرب کا دفاع ہے ؟جبکہ دفاعِ حرمین شریفین پر تو پاکستان سمیت کسی بھی مسلم ملک کو کوئ سوال نہیں ہے۔ اس مسئلہ کے ہوتے ہوئے کہ جس میں بعض مسلم ممالک میں بعض معاملات پر باہمی کشیدگیاں پائی جاتی ہیں جیسے پاکستان اور افغانستان، ترکی اور شام، ایران اور اعراق، بحرین اور قطر کے داخلی حالات، کے علاوہ پاکستان اور ایران کی حساس ہمسائیگی اور تعلقات جیسے مسائل کو اگر یہ ممالک کسی طرح اکاموڈیٹ کر کہ اس مسلم اتحاد میں شامل ہوتے ہیں تو وہ بالا سوال کرنے کے یقینا مجاز ہوں گے۔ اور ہونے چائیں۔ سوال تو یہ بھی پیداہوتا ہے کہ ایسے ہی کسی مسلم اتحاد کی کہیں زیادہ ضرورت بیت المقدس کو صیہونی طاقت سے آزاد کرانے، غزہ میں گزشتہ سال معصوم فلسطینیوں پر اسرائیلی بے رحم بم باری، لٹتے، اجڑتے اور خون میں نہاتے اعراقیوں اور افغانیوں اور بے آبرو اور زبح ہوتے برمی مسلمانوں کے لئے تھی۔ جوکہ نہ ہو سکا اورجس کی ذمہ داری پوری مسلم دنیا پر عائد ہوتی ہے۔
ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے یہ کافی ہونا چاہیئے کہ ریاض میں ہمارے ساتھ روا رکھے جانے والا سلوک امریکی یا بھارتی سر زمین پر نہیں ہوا بلکہ پاکستانی جسے اپنا وطن ثانی کہتے ہیں جس سے پاکستان ہمیشہ بڑے بھائی ایسی مشفقانہ ہمدردی کی توقع رکھتا ہے کی سر زمین پر ہوا۔ جس کا ہمیشہ سعودی عرب نے مظاہرہ بھی کیا ہے۔ مگر وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ اگر ہم بخشو نہ ہوتے اور ایران اور سعودی کشیدگی میں ثالث کا آپشن نہ رکھتے تو اس طرح بے آبرو نہ کیے جاتے۔ ہماری بھی بہت اہمیت ہوتی۔ گو کہ ہمارا یہ فیصلہ درست تھا مگر ہاتھ میں کشکول لیے اگر ہم مسٹر یس سر نہیں رہتے تو کوئی بھی ہمیں مسندِ تقرب پر نہیں بٹھائے گا۔ اسکا ادراک بہت اہم ہے دور اندیش حکمران ہی متدارک کہلا سکتے ہیں۔
اس کانفرنس اور اسکے خدو خال پر بہت کہا سنا جا چکا ہے۔ سوال اب یہ ہے کہ ہمیں کیا کرناچاہیے۔
اب وقت کا ناگزیر تقاضہ ہے کہ پاکستان ایک پچھ لگ پتر بن کر عالم کی طرف دیکھنا چھوڑ دے اور ایسے عالمی اجتماعات میں اپنی جائز اور جسکا وہ حقدار بھی ہو خطاب اور امریکی صدر سے ملاقات درکنار اپنے لئے تعریف کے چند کلمات کے لئے بھی ترسے یا اسکا وزیر اعظم کبھی نیویارک میں اور کبھی ریاض میں امریکہ کے صدر جسکا پاکستان ہمیشہ سے فرنٹ لائن اتحادی رہا ہو سے چند غیر رسمی ہی سہی جملوں اور مصافحہ کے لئے بھی جتن کرتا پھرے۔ مگر ہمارے اپنے ہی معیار دیکھیں کہ ایک بے اعتناء مصافحہ کی ہی ہم اتنی تشہیر اور سیلیبریشن کرتے ہیں کہ جیسے یہ ہی ہمارا اس کانفرنس کا کل حاصل ہو۔
روز اول سے ہمیں دو بڑی حساس صورتوں کا سامنا رہا ہے، اول دو عالمی طاقتوں کے پولز میں سے ہم نے امریکہ کا انتخاب کیا جبکہ خطے میں ہمارے سینگ روس کے ساتھ پھنسے رہے، دوسرا مزہبی طور پر کہ حرمین شریفیں ہمار ے لئے مذہبی اور روحانی مقامات مقدسہ ہیں جن سے ہماری ایک لازوال وابستگی ہے، جبکہ ہماری سرحدوں سے متصل ایران کے ساتھ ہمارے تعلق کی اپنی نوعیت ہے، اور ان دو ممالک کی کشیدگی ہمارے لئے ہمیشہ ایک پیچیدہ صورت حال پیدا کئے رکھتی ہے۔ جس کو ہم شائد کوئی بہتر توازن مہیا نہیں کر پارہے یا پھر دونوں فریق ممالک ہمیں بھی ایک فریق دیکھنا چاہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ایک طرف تو پہلی بار سعودی عرب کی طرف سے ایسے بے اعتناء رویے کا ہمیں سامنا کرنا پڑا دوسری طرف ایران کی ہمارے ساتھ مخاصمت اب ڈھکی چھپی نہیں رہ گئی۔
ہم اپنے اچھے کیے کے دفاع میں بھی اتنے کمزور اور غیر سنجیدہ ثابت ہوئے ہیں کہ جسے اپنے پیٹ کا نوالہ ہمیشہ ہی کھلایا اور سلامتی کو خطرے میں اور معیشت تک کوداو پر لگایا افغانستان بھی اپنے آقاوں کی ایما پر حسب تو فیق غرانے سے باز نہیں آتا۔
اعلانیہ دشمن بھارت نے، دہشت گردی کے الزام کا کامیاب پراپوگینڈا ہو، کرکٹ کا میدان ہو، سرحدی تنازعات ہو یا سفارتی محاز ہو ہمیں ہر محاز پر زچ کیا ہے۔ اس بات سے بھی انکار کرنا مشکل ہو گا کہ کہ اگر ٹرمپ نے پاکستان سے موجودہ سرد تعلقات کی وجہ سے پاکستان کو ریاض کانفرنس میں خاطر میں نہیں لایا تو اس میں کچھ نہ کچھ حصہ بھارت کا بھی ضرور ہے جسکے پیچھے اسکا برسوں کا ریاض ہے۔
اس سارے منظر نامے میں آج کے بدلتے عالمی سیاسی حالات، ریاستوں کے اپنے مفادات پر مبنی نیۓ اتحاد، جنگی ڈاکٹرائنز، معیشت اور سفارتکاری کے پیش نظر ہمیں ایک برابری کی سطح کی دوراندیش انتہائی زیرک اور نظر ثانی شدہ خارجہ پالیسی کی سریع ضرورت ہے۔ ایک خود مختار اور باوقار ریاست کی کوشش کی ضرورت ہے جو ہمیں کرپٹ، ملی غیرت اور عزت نفس سے عاری مفاد پرست حکمرانی سے میسر نہیں آسکتی۔ جسکے لیے عوام کو عقل و شعور سے کام لیتے ہوئے اس قابض ملک دشمن حکمران ٹولے سے جان چھڑانی ہو گی۔ اور تعلیم یافتہ باکردار محب وطن اور دانشور طبقے کو اس سیاست اور طرز حکمرانی کی خلاف نہ صرف کھڑا ہونا ہو گا بلکہ اس کی جگہ بھی لینی ہو گی۔
ورنہ جو ہمارے لچھن ہیں اور جس روش پر ہم چل رہے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے ایک خدشہ ضرور محسوس ہوتا ہے ____!
اس وقت سے ڈریں کہ جب ہمارے اسی “ناقص ریاض “کی وجہ سے ہمارے ساتھ بیجنگ میں بھی ایسا ہی سلوک روا رکھا جائے جو ریاض میں رکھا گیا۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: