ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں؟ حبیبہ طلعت

0

کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ پاکستان میں سب سے معتبر ذریعہء خبر کیا ہے؟
این این آئی؟
جی نہیں
اے ایف پی ؟
بالکل نہیں؟
پھر کون کیا وہ ٹیکسی ڈرائیور؟

جی ہاں یہ ہے سب سے مصدقہ ذریعہء خبر کیونکہ بقول شخصے نچلے طبقے کے نمائندہ فرد کی طرف سے کی گئی بے سرو پا بات اس قابل ہوتی ہے کہ اسے ایک سنجیدہ پلیٹ فارم پر نمائش کے لئے رکھ دیا جاے۔بلکہ موصوف یہاں تک فرما گئے ہیں کہ ٹیکسی ڈرائیور بہت سے ” دانشوروں ” سے زیادہ تعلیم یافتہ بھی ہیں۔اب بتایئے کہ اس سے زیادہ بودی دلیل آپ نے آج تک کبھی سنی ہے کیا؟
یہ آپ کا قصور نہیں ہے۔۔۔ یہ انہی دائیں اور بائیں کیمپوں کے شکاری ہیں جو ہر اڑتی پڑتی بات کو لے کر دوڑ پڑتے ہیں۔۔قلم۔ اٹھایا۔۔۔۔ کچھ کا کچھ بنا ڈالا اور نہیں تو ہر دفعہ کا وہی آزمودہ نظریاتی تشخص کا مصالحہ چھڑکا اور فخریہ ویب کی زینت بنا دی جاتی ہے۔۔۔ جب کہ خبری ذرائع ہی کی بدولت ڈان نیوز لیکس کا بھونچال آیا تھا۔۔ مگر افسوس۔۔۔ اس بار تو جیسے حد ہی ہو گئی ہے۔۔ ایک طرف کمرشلائیز لبرل ادب تخیلق کیا جا رہا ہے جو نسوانی جنسی اعضا پر اپنے فیچرز کے عنوان مرتب کرکے داد و تحسین طلب کر رہا ہے اور دوسری طرف والنٹیراسلامی فرنچائز بنانےوالے ہیں جن کے لئے ان کے گھر کی خواتین کے سوا باقی ہر عورت فطری بدی کا مجسمہ ہے۔ بات اپنے اپنے نظریات کی اشاعت تک رہتی تو بہتر تھی لیکن “دانستہ غفلت” کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔ قانون کی کتاب میں درج شق کی بابت بحث نہیں ہو رہی تھی کہ منہ اٹھا کر جو مرضی کہہ دیا جائے بلکہ سماج میں جیتی جاگتی خواتین کی حرمت اور حقوق نسواں سے متعلق نکات تھے جن کو آپ نے محض ٹیکسی ڈرائیور یا کسی پیٹی بند اسلامی بھائی کی در فنطنی کی نذر کیا۔یاد رکھئے کہ حرمت کا قانون تمام افراد کے لئے بلا جنس وتفریق محترم مانا گیا ہے۔
ستم ظریفی ہے کہ آپ تو عنوان رکھیں کہ” گرلز ہاسٹل تحریر پر اعتراض کیوں؟”
اس پرکہنا بنتا ہے کہ بتاؤ تو ہم بتلائیں کیا؟ سوشل میڈیا پر جاری تمام ہی کفر و اسلام کی جنگیں ختم ہوجانی چاہیئں کہ کسی کوبھی کسی دوسرے پر اعتراض کی اجازت ہی نہیں۔۔۔
حیرت انگیز امر یہ ہے کہ محترم عامر ہاشم خاکوانی نے اس مضمون کی بابت کھلے الفاظ میں کہہ دیا کہ وہ قابل اشاعت نہ تھا اور ٹیم کو ہدایت جاری کرنے کا عندیہ بھی دے دیا لیکن نہ صرف وہ تحریر ھٹائی نہ گئی بلکہ اسی وقت ایک ویسی ہی تحریر پھر شائع کر دی گئی۔ شاید فیس سیونگ اسے ہی کہا جاتا ہے۔ اس جوازبلا جواز پریہی کہا جا سکتا ہے کہ عذر گناہ برتر از گناہ۔۔۔۔اگر اس رجحان کی حوصلہ شکنی نہ کی گیی تو یقینا اگلے مرحلے میں آپکے فورم سے ٹیکسی نیوز کی باقاعدہ اشاعت شروع ہو۔جائے گی۔
تمام افراد اور طبقات یکساں بنیادوں پر اظہار رائے اور اختلاف کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور ان حقوق کی ضمانت ملک کا آئین بھی دیتا ہے اور تقریبا تمام ہی عالمی ادارے بھی اس حق کو سماج کے لئے تسلیم کرتے ہیں لیکن یہ حقوق یک طرفہ نہیں ہیں کہ جو کچھ آپ کے ذہن میں آئے اسے بلا تکلف کہہ دیں، ایسا کرنے کے لئے ہاییڈ پارک ہے یا آپ کے قریبی دوست ہیں۔ اظہار رائے کی آزادی کے ساتھ ساتھ فرد پر کچھ فرائض بھی عائد ہوتے ہیںکہ اپنی بات سلیقے اور ڈھنگ سے کیجیے۔ سب سے بڑھ کر ہمارا اپنا آفاقی مذہب ہی ان حقوق کو کچھ حدود کا پابند بھی کرتا ہے۔
بات اسی قدرعرض کی گئی تھی کہ قلم کی حرمت کا پاس رکھتے ہوئے بے بنیاد قصے کہانیوں پر آپ مضمون خاص تراش لیں گے ایک موقر تعلیمی ادارے کے نظم و ضبط پر انگلی اٹھائیں گے۔ ہزاروں طالبات اور ان کے گھرانوں کی حمیت کو چیلنج کریں گےاور وہ بھی ایسے زریعہ خبر پر ؟ یہ ذمہ داری سب سے زیادہ آپ تمام پر ہی لاگو ہوتی تھی کیونکہ سورہء الحجرات میں ہم سے اور آپ سے فرمایا گیا ہے کہ،اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی” خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو۔ایسا نہ ہو کہ نادانی میں تم کسی قوم کو نقصان۔پہنچا دو “۔القرآن
کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر عجب طومار باندھا جا رہا ہے اور نشانہ پر ہے مشرق کی حیا دار معزز خواتین۔۔۔ ایک طبقہ محض زیب داستان کے لئے جنس زدہ کہانیاں گھڑ گھڑ کر چھاپ رہا ہے تودوسرا طبقہ اسی تلذز کے لئے ہوسٹل میں مقیم معزز طالبات کے بارے میں فسانے تراش رہا ہے۔۔۔۔ کبھی نازیبا رنگ آمیزی کر کے اسکول و کالج کی دیواروں پر ٹانگا جاتا ہے تو اسے لبرلز فخریہ آزادیء اظہار رائے کا لیبل لگا کر طول و عرض میں پھیلا دیتے ہیں۔۔۔۔ باقی جتنی کسر رہ جاتی ہے تو کمرشل اسلامی نمائندے جن کو حد سے زیادہ احتیاط لازم تھی وہ یہی نازیبا تصاویر نشان زدہ کر کے اپنی اپنی کتابی وال پر چھاپ دیتے ہیں۔۔۔۔ ایک طبقہ حیاکا جنازہ نکالتا ہے تو دوسرا تندہی سے جنازے پڑھانے اور نوحہ خوانی میں لگ جاتا ہے۔۔۔
کیا یہ طے ہے کہ اب سماج میں مہنگائی، روزگار، جہالت، پسماندگی، پانی کی کمیابی،بجٹ کے مرئی اور غیر مرئی محصولات، سرحدوں پر لاحق بیرونی خطرات پر مبنی حقیقی مسائل پر بات کرنے، شعور بیدار کرنے، تجاویز مرتب کرنے، اور حل کی کاوشوِں کے بجائے یہی دائیں بائیں کا ڈھول بجایا جاتا رہے گا۔۔۔۔ قوم کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیائی صارفین بھی ان لایعنی مباحث سے تنگ آچکے ہیں۔۔۔ کیونکہ سب سنجیدگی کے ساتھ اپنے حقیقی مسائل کا حل چاہتے ہیں۔۔ اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔ اپنے اور اپنے خاندانوں کے لئے بہتر ماحول کی ضمانت چاہتے ہیں جہاں ان کو شدت پسندی کے عفریت کا سامنا نہ کرنا پڑے یہ شدت پسندی کا رجحان آیا بھی انہی شدید مباحث اور ان میں کودنے والے قلمی مجاھدین کا ذریعے ہے۔ انہی شخصی اور گروہی تعصبات نے ہی تو اپنے مقابل تمام علم ونظریات، سوچ حتی کہ خیالات تک پر قدغن لگانا چاہی تھی اور اپنے اپنے گروہوں کے مجہول افکار کو یوں مستند ٹھہراتے رہے کہ قانون تو قانون مذہب بھی ایک جانب ششدر کھڑا دیکھتا رہ گیا کیونکہ یہ تعصبات ہی افراد کے یکساں حق اظہار و ابلاغ کو متاثر کرتے ہیں۔ عدم برداشت کا جھگڑا فہم اور ضبط کا بھی دشمن ہے۔۔رفتہ رفتہ عدم برداشت کا بڑھتا ہوا رجحان سماجی طبقات کو ایک دوسرے سے دور کر دیتا ہے۔ متنفر کر دیتا ہے۔۔یہی وجہ ہے کہ دائیں بائیں کی سیاست سے قوم کو بانٹا گیا ہے۔۔شدت پسندی سماجی گروہوں کے درمیان تفاعل اور اشتراک کے عمل کو بھی متاثر کرتی ہے۔۔۔ان کے لئے آگے کنواں پیچھے کھائی کے مصداق نجات کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا جاتا ہے۔ طعن و تشنیع اور تشدد تو کسی صورت روا نہیں رکھا کیا جانا چاہیئے۔
۔۔ہم کہ ٹھہرے شاعری کے عاشقوں میں سے۔۔سو چچا غالب کا یہ لازوال شعر پیش خدمت ہے
نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو غالب
ترے بے مہر کہنے سے تجھ پر مہرباں کیوں ہو

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: