دوسروں کی تحریریں جو مولانا ابوالکلام آزاد کے نام ہوئیں (حصہ 6)

0
  • 1
    Share

 کسی بھی معاشرے میں شخصیات کے مطالعے کیلیے انکا تجزیہ انسانی لیول پر کیا جانا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ انکی شخصیت پرستی کے بجاے انکے اعلی اوصاف حقیقی تناظر میں سامنے لاے جاسکیں۔ دانش کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت پر ایک جامع تحقیق و تنقید کا آغاز یہاں سے ہو رہا ہے۔ یہ اس سلسلے کا چھٹا مضمون ہے، ہر دو دن بعد ہم اس سلسلہ کی اگلی قسط شائع کرتے رہیں گے۔  زیر نظر مضمون شایع کرنے کا مقصد محض ایک علمی بحث کا آغاز ہے اور اگر کوئی صاحب اسکے جواب میں کچھ لکھنا چاہیں تو دانش کا پلیٹ فارم موجود ہے۔


مولانا ابوالکلام آزاد کی تحریریں: نقد ونظرکی کسوٹی پر 

دوسروں کی تحریریں جو مولانا ابوالکلام آزاد کے نام ہوئیں 

بیسویں صدی کے ابتدائی دہائیوں میں جاری ہونے والے جرائد و رسائل کے متعلق جاننے والوں کے علم میں ہے کہ اگر چہ عملہ ادارت میں کافی لوگ ہوتے تھے اور وہ اپنی تحریریں بھی لکھ کر چھپواتے تھے۔ مگر ہر مضمون کے ساتھ صاحبِ تحریر کا نام لکھا جانا ضروری نہ تھا۔ صرف ٹائٹل پر ایڈیٹر کا نام ہوتا تھا۔ ایسا کچھ بہت سے رسائل میں موجود ہے۔ مگر اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ تمام رسائل اسی طرح چھپتے تھے۔ کئی رسائل ایسے بھی تھے جن میں تحریر کے ساتھ مصنف کا نام بھی لکھا ہوتا تھا۔

ایسے رسائل جن میں مضامین کے ساتھ مصنف کا نام نہیں ہوتا تھا۔ ان رسائل کے مضامین جب بعد میں مرتب کیے جاتے تھے تو مرتبین کی طرف سے تمام مضامین ایڈیٹر کے نام لگا دیے جاتے تھے۔ ایسا ہی معاملہ مولانا آزاد کے سلسلے میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ خاص کر” الہلال ” پر صرف ایڈیٹر کے طور مولانا ابوالکلام آزاد کا نام چھپتا تھا اور مضامین کے ساتھ فرداً فرداًمصنف کا نام نہیں ہوتا تھا۔ حالانکہ بہت سے دوسرے لوگ مولانا کے ساتھ حلقہِؑ ادارت میں شامل تھے اور وہ رسالے کے لیے لکھتے بھی تھے۔ مگر بعد میں جب بعض مرتبین نے مضامین کے مجموعے چھاپے تو “الہلال” کے تمام مضامین مولانا آزاد کے نام کر دیے۔ ویسے یہ ذمہ داری تو خود مولانا آزاد کی بنتی تھی کہ وہ بتلاتے فلاں مضمون میرا ہے اور فلاں تحریر فلاں صاحب کی ہے۔ اس کے علاوہ مولانا کی تفسیر “ترجمان القرآن ” کا تو معاملہ ہی دوسرا ہے۔ اس کے بارے میں سید حسن مثنیٰ ندوی کی تحقیق جو انہوں نے اپنے رسالے’’مہرِنیمروز‘‘ میں کئی صفحوں میں پیش کی،  یہ ہے کہ یہ تفسیر دراصل علامہ رشید رضا مصری کی عربی تفسیر’’المنار‘‘ کا ترجمہ،  تلخیص،  چربہ اور سرقہ ہے۔

اس سلسلے میں سب سے پہلے سید سلیمان ندوی کے ایک خط کا حوالہ پیش کرنا مناسب ہے۔ یہ خط انہوں نے 28جون 1952ء (یعنی مولانا آزاد کی زندگی میں) شاہ فضل امام کے نام لکھا اور جو یکم ستمبر 1965ء کو’’ہماری زبان‘‘ میں شائع ہوا۔ سید صاحب لکھتے ہیں۔

’’”اس عہد کے نوجوانوں کو شاید یہ معلوم نہ ہو گا کہ ابو الکلام اور مولانا شبلی اور ان کے متعلقین کے درمیان محبت اور تعاون کے کیسے تعلقات تھے جو ہمیشہ قائم رہے۔ نواب صدر یار جنگ سے بھی موصوف کو جو تعلق اور شناسائی حاصل ہوئی وہ بھی اسی آستانہ کا فیض تھا۔ اب جو شخص اپنے طرزِ عمل سے اس سے اعراض برتتا ہے وہ حقیقت میں احسان فراموش ہے۔ زندوں کی مدح سے مُردوں کا مرثیہ زیادہ مشکل ہے کیونکہ مردہ سے کسی صلہ کی امید نہیں ہو سکتی۔

 ’’بہر حال مولانا ابو الکلام آزاد نے جب الہلال نکالا تو ایک ہی دو اشاعتوں کے بعد ان کو اپنے لیے مدد گار کی ضرورت پیش آٓئی۔ مولانا شبلی کو انہوں نے لکھا،  مولانا نے مجھ سے مشورہ کیا۔ میں نے ایک تازہ ندوی خواجہ عبد الحمید صاحب ندوی کا نام پیش کیا۔ جو انگریزی بھی جانتے تھے۔ چنانچہ وہ بھیجےگئے اور شروع سے آخر تک وہ’’الہلال‘‘ میں رہے۔ انگریزی و عربی تراجم سب ’’الہلال‘‘ میں انہیں کے قلم سے ہیں۔ خواجہ صاحب اب بھی موجود ہیں اور اب وہ ایم اے ہیں اور کانپور میں مشن کالج میں عربی و فارسی کے پروفیسر ہیں۔ وہ سب حقیقتِ حال سے واقف ہیں۔

’’”اس زمانے میں ’’الہلال‘‘ایک سیاسی بین الاسلامی تحریک سمجھی جاتی تھی۔ اور مجھے حضرت الاستادکی تربیت و محبت میں اس سے دلچسپی تھی۔ اس لیے مولانا ابوالکلام کے کہنے سے میں مولانا شبلی صاحب کے پاس سے مولانا ابوالکلام کے پاس ’’الہلال‘‘ چلا آیا۔ اس کا ذکر آپ کو مکاتیبِ شبلی میں ملے گا۔

’’”بہر حال چار پانچ ماہ ان کے ساتھ رہا،  میرے ہی ساتھ میرے دوست اور استاذ اور البیان اور وکیل کے سابق ایڈیٹر مولانا عبد اللہ عمادی بھی’’الہلال‘‘ میں آگئے۔ وہ بھی چند ماہ رہے۔ ہم لوگ کوشش کرتے تھے کہ تحریر میں ابو الکلام صاحب کے طرزِ تحریر کا اتباع کریں۔ اس لیے ’’الہلال‘‘میں جو کچھ لکھا جاتا تھا اس رنگ میں لکھا جاتا تھا۔ میرے اور عمادی صاحب کے چلے جانے کے بعد مولانا عبد السلام ندوی ’’الہلال‘‘ میں آگئے اور آخردم تک رہے۔

’’”اب ظاہر ہے کہ ہم لوگ جو وہاں شریکِ تحریر و ادارت تھے کچھ نہ کچھ ہر ہفتہ لکھا ہی کرتے تھے اور جو لکھا جاتا تھا وہ چھپتا بھی ہو گا۔ ورنہ بغیر کام لیے کون ہمیں تنخواہ دے سکتا تھا۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ ہماری تحریروں میں ایڈیٹر صاحب کچھ اضافہ اور کچھ کمی کرتے تھے۔ اور اس لیے ایسی تحریروں کو نہ ہم اپنی پوری کہہ سکتے ہیں اور نہ ایڈیٹر صاحب اپنی کہہ سکتے ہیں۔

’’”اس درمیان میں مسجد کانپور کے واقعہ کے زمانے میں ایڈیٹر صاحب کسی مصلحت سے مہینے دو مہینے کے لیے مسوری تشریف لے گئے۔ ان کی غیر حاضری میں میری اور عمادی صاحب کی تحریریں ان کے تصرف کے بغیر شائع ہوئیں۔ ان تحریروں میں” مشہدِ اکبر”،  “تذکارنزولِ قرآن”، ” قصص بنی اسرائیل” وغیرہ مضامین میرے ہیں۔ اب اس وقت نہ الہلال سامنے ہے اور نہ مجموعہ مضامین ابو الکلام۔ مگر جہاں تک یاد آتا ہے حریت کے سلسلے میں’’اسلام کے سیاسی نظام‘‘ کا مضمون میں نے لکھا تھا جو اس سے پہلے’’الندوہ‘‘ میں’’اسلام اور اشتراکیت‘‘ کے عنوان سے چھپ چکا تھا۔ اس کو دوبارہ الہلال کے رنگ میں لکھا۔ مولانا نے اس میں انقلابِ فرانس وغیرہ مسائل کا اضافہ فرمایا ہے۔

“اسی طرح دوسرا مضمون’’تاریخِ حبشہ کے گم شدہ اوراق’’میرا مضمون ہے جومقریزی کے رسالے کی تلخیص ہے۔ اس میں بھی مولانا نے کچھ تصرف کر کے شائع کیا۔ اس طرح’’ کشفِ ساق‘‘، ” اسوۂ نوحی اور اسوۂ ابراہیمی” وغیرہ مضامین عمادی صاحب کے ہیں۔ ’’العرب فی القرآن یا فی الاسلام‘‘ کا مضمون عبد السلام ندوی کا ہے۔ ’’انسانیت موت کے دروازے پر‘‘ غالباً عبد الرزاق صاحب ملیح آبادی کا مضمون ہے۔ مگر ناشرین نے ان سب کو ابو الکلام صاحب کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس میں ابو الکلام صاحب کا قصور خاموشی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ اپنی شہرت میں ہمارے قلم کے محتاج نہیں ہیں اور ہم لوگ بھی ان کے محتاج نہیں مگر یہ ایک واقعہ ہے۔ ‘‘
سید سلیمان ندوی صاحب نے خیالِ خاطرِاحباب سے کام لیا ہے ورنہ قصور یہی خاموشی ہی تو ہے۔ اور خاموشی نیم رضا مندی کہلاتی ہے۔ پھر ناشرین کا تو کوئی قصور نہ ہوا۔ تمام ذمہ داری مولانا آٓزاد ہی کی بنتی تھی کہ بات صاف کر دیتے مگر بات واضح کرنے کی بجائے وہ الجھانے اور مشکوک کرنے کے عادی تھی۔ جس کی مزید تفصیل درج ذیل واقعہ سے بھی ہو جاتی ہے۔

 مولانا حیدر زمان صدیقی صاحب کی کتاب’’اسلامی نظریۂ سیاست‘‘ مکتبہ دین و دانش بانکی پور پٹنہ سے1947ء میں شائع ہوئی۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے اس کا دیباچہ لکھا۔ دیباچہ کے حاشیہ پر ایک جگہ انہوں نے لکھا۔ “’’الہلال‘‘ میں چونکہ مضمون نگاروں کے نام نہیں لکھے جاتے تھے اس لیے’’الہلال‘‘ کے مضمونوں کے مجموعے شائع کرنے والوں نے بلا تحقیق ہر مضمون کو مولانا ابو الکلام آزاد صاحب کی طرف منسوب کر دیا حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے۔ ’’حریۃ فی الاسلام ‘‘تزکارِ نزولِ قرآن‘‘،  حبشہ کی تاریخ کا ایک ورق،  قصص بنی اسرائیل،  مشہد اکبر(اولیٰ)وغیرہ میرے مضامین ہیں۔ ‘‘

 اس حوالےسے دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب سہ روز مد ینہ بجنور کے ایڈیٹر نے مولانا آزاد سے ملاقات میں یہ معاملہ پوچھ ہی لیا۔ جس کا تذکرہ انہوں نے 17اگست 1951ء میں اپنے رسالے میں اس طرح کیا۔

’’”میں نے اس بات کا ذکر مولانا ابو الکلام آزاد سے کیا تو فرمایا …….ہاں!سید سلیمان ندوی صاحب نے میرے ساتھ اسسٹنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے چھ مہینے تک کام کیاہے۔ وہ ترجمے بھی کرتے تھے اور مضامین بھی لکھتے تھے،  خیر اگر وہ کسی مضمون کو اپنا بتاتے ہیں تو میری طرف سے آپ’’مدینہ‘‘میں اعلان کر دیجئے کہ وہ مضمون سید صاحب کا ہے۔ کچھ مضامین اگر میرے نام نہ ہوئے تو میرے بھائی! اس میں میرا کیا بگڑتا ہے؟ آخری جملہ کہہ کر مولانا آزاد نے اپنے مخصوص انداز میں جس کی گونج اظہارِ بے نیازی کے موقع پر سنائی دیتی ہے۔ ایک قہقہہ لگایا اور پھر سگریٹ کا کش لیا۔ “

 مولانا آزاد کا یہ جواب گول مول سا ہے۔ شانِ بے نیازی کا اظہار بھی اور ’’نفی و اثبات‘ کے دونوں رخوں کی جھلک بھی۔ حالانکہ یہ بات سگریٹ کے کش اور قہقہے میں اڑا دینے کی نہ تھی۔ واضح طور سے کہنا چاہیے تھا کہ یہ مضامین سید صاحب کے ہیں۔ پبلشروں نے غلطی سے میرے نام منسوب کیے۔ جبکہ انہوں نے صاف جواب نہیں دیا ۔ جبکہ دوسری طرف ایک اور معاملے میں انہوں نے دو ٹوک جواب دینا ضروری سمجھا تھا۔ 1955ء میں مولانا عبد المجید سالک کی کتاب ’’یارانِ کہن‘‘ شائع ہوئی جو مشاہیر کے خاکوں پر مشتمل تھی۔ اس میں مولانا ابوالکلام آزاد کے ذکر کے ضمن میں ایک جگہ انہوں نے لکھا۔

’’”بہرحال مولانا ابو الکلام آزاد مرزا صاحب (قادیانی)کے دعوائے مسیحتِ موعود سے تو کوئی سروکار نہ رکھتے تھے لیکن ان کی غیرتِ اسلامی اور حمیتِ دینی کے قدردان ضرور تھے۔ یہی وجہ ہے جن دنوں مولانا امر تسر کے اخبار’’وکیل‘‘ کی ادارت پر مامور تھے اور مرزا کا انتقال انہی دنوں ہوا تو مولانا نے مرزا کی خدماتِ اسلامی پر ایک شاندار شذرہ لکھا۔ ‘‘

یہ کتاب چونکہ شورش کاشمیری نے چھاپی تھی۔ اس لیے مولانا اآزاد کے پرائیویٹ سیکرٹری خان محمد اجمل خاں نے شورش کے نام مکتوب لکھا جس میں کہا۔

’’”عبد المجید سالک نے ایک کتاب’’یارانِ کہن‘‘لکھی ہے جس میں بعض باتیں بے بنیاد مولانا آٓزاد سے متعلق درج ہیں۔ ’’الوکیل ‘‘میں مرزا قادیانی کی وفات پر جو خاکہ اختتامیہ چھپا تھا وہ منشی عبد المجید کپور تھلوی کا لکھا ہوا تھا۔ مولانا کا اس اداریہ سے کوئی تعلق نہ تھا۔ ‘‘

یہاں معاملہ چونکہ بہت حساس تھا اس لیے دو ٹوک الفاظ میں بتادیا گیا کہ شذرہ مولانا کا نہیں مگر سید سلیمان ندوی کے سلسلے میں دو ٹوک جواب نہیں دیا گیا۔ اب اسے کیا کہیں۔ پھر یہ تو سید صاحب نے اظہار کردیا جبکہ کئی اور لوگ بھی معاون رہے تھے مولانا کے،  انہوں نے کبھی اظہار نہیں کیا یا ان کا اظہار سید صاحب کی طرح منظرِ عام پر نہیں آیا۔ معلوم نہیں ایسے کون کون سے مضامین ہیں جو دوسروں نے لکھے مگر وہ مضامین آج تک مولانا آزاد کے نام سے چھپ رہے ہیں۔

اب میں اپنے مضمون کے دوسرے حصے کی طرف آتا ہوں۔ جس میں میں نے بتلایا تھا کہ مولانا آزاد کی’’ترجمان القرآن‘‘ دراصل علامہ رشید رضا کی شیخ محمد عبدہ کے تفسیری لیکچروں پر مشتمل تفسیر ’’المنار‘‘ کا ترجمہ،  تلخیص اور سرقہ ہے۔ تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ 66- 1965میں کراچی سے ماہنامہ ’’مہرِ نیم روز‘‘ علی اکبر،  سید حسن مثنیٰ ندوی اور ابو الخیر کشفی کی مجلس ادارت میں شائع ہوتا رہا۔ اس میں ادبی سراغ رساں کا’’چہ دلاور است‘‘ کے نام سے سلسلہ مضامین چلتا رہا۔ جس میں مشرق و مغرب میں سرقہ اور سرقہ شدہ کتابوں پر تبصرے ہوتے تھے۔ ساتھ ہی اصل کتاب اور سرقہ شدہ کتاب کا عبارتوں کے موازنے کے ذریعے تجزیہ پیش کیا جاتا تھا۔ اسی سلسلہِ مضامین میں حسن مثنیٰ ندوی نے 50صفحات پر مشتمل تجزیہ لکھا جس میں ’’ترجمان القرآن‘‘اور ’’تفسیر المنار‘‘ کی عبارتوں کوآمنے سامنے رکھ کر ثابت کیا کہ مولانا آزاد کی کتاب’’تفسیر المنار‘‘ سے سرقہ شدہ ہے۔

انہوں نے لکھا۔ “مفتی محمد عبدہ نے سید رشید رضا کے اصرارپر تفسیری لیکچر کا سلسلہ 1897سے جامعہ ازہر میں شروع کیا تھا جو 1905ء تک جاری رہا۔ رشید رضا کے پاس سارا ذخیرہ جمع تھا اور شیخ کی زندگی ہی میں اپنے رسالے’’المنار‘‘ میں شائع کرتے رہے۔ مولانا آزاد کا اپنا بیان ہے وہ 14سال کی عمر سے المنار پڑھ رہے تھے۔ 1903میں مقدمہ تفسیر،  تفسیرپارہ عم اور تفسیر سورہ والعصر چھپ چکیں تھیں۔ مولانا آزاد نے 1930ء کو اپنی تفسیر مکمل کی اور اس کی پہلی جلد 1931ء میں شائع ہوئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مولانا کو’’تفسیر المنار‘‘ کے مباحث و نکات اپنی کتاب میں جا بجا بکھیرنے پڑے اور پھیلانے پڑے،  کہیں کم کرنا پڑا تو کہیں کچھ زیادہ کرنا پڑا۔ جو اوپر تھا اس کو نیچے لانا پڑا،  جو نیچے تھا اس کو اوپر لے جانا پڑا یا کسی اور مقام پر درج کرنا پڑا اور بہت سی عبارتیں بھی بدلنی پڑیں۔ ‘‘

 اور ہاں مولاناآزاد نے علامہ رشید رضا کے افکار و خیالات کو کس طرح گھول کے پیا ہوا تھا اس کا ایک حیرت انگیز واقعہ مولانا کے خلیفہ مجاز عبد الرزاق ملیح آبادی نے ’’ذکرِآزاد‘‘ میں یوں بیان کیاہے۔

’’‘‘1912ء میں ندوہ کا سالانہ اجلاس لکھنؤمیں تھا۔ علامہ رشید رضا یہاں آئے ہوئے تھے۔ ان کی عربی تقریر کے ترجمے کی ذمہ داری مولانا آٓزاد کے ذمہ تھی۔ جب علامہ رضا نے تقریر شروع کی تومولانا چند منٹ بعد غائب ہو گئے۔ تقریر تقریباً 2گھنٹے جاری رہی۔ علامہ شبلی اور منتظمین بد حواس تھے۔ تقریر ختم ہوئی تو مولانا آزاد سٹیج پر آگئے۔ پھر مولانا نے ترجمے کے طور پر تقریر کی جو اصل عربی سے سوا تھی۔ سب کو حیرت ہوئی۔ جب میں نے پوچھا بغیر سنے آپ نے ترجمہ کیسے کیا۔ تو فرمایا ابتدائیہ سن کر مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ کیا کہیں گے۔ ‘‘

 جب مولانا آزاد علامہ رشید رضا کی 2گھنٹے کی تقریر بغیر سنے ترجمہ کر سکتے ہیں تو پھر اسی طرح انہوں نے’’تفسیرالمنار‘‘ کو بھی بغیر پڑھے’’ترجمان القرآن‘‘ کی صورت میں ڈھال لیا ہو۔ اس میں حیرت نہیں ہونی چاہیئے۔ مولانا کی پیش گوئیوں کا پہلے ہی شہرہ ہے۔ اب یہ نئی بات بھی سامنے آئی کہ وہ کسی کے دماغ میں موجود خیالات کو بھی پڑھ کر بیان کر سکتے تھے۔

 بات مولانا آزاد کی تفسیر’’ترجمان القرآن‘‘ کی چلی ہے تویہاں مناسب ہے کہ اس تفسیر پر مولانا سید محمد یوسف بنوری کی تفصیلی تنقید کے چند اقتباس پیش کر دیے جائیں تا کہ پاک و ہند کے وہ لوگ جو مولانا آزاد کو’’امام الہند‘‘ منوانے پر تلے بیٹھے ہیں وہ انہیں بھی پیشِ نظر رکھیں۔ مولانا بنوری فرماتے ہیں۔

’’”ترجمان القرآن اردو زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ ہے جس پر ابو الکلام احمد دہلوی کے مختصر اورمبسوط فوائد تحریر ہیں۔ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب کے متعلق اور اس میں موجود مخالف سنت و اجماعِ امت مباحث سے متعلق کچھ وضاحت بیان کر دوں۔ موصوف ابو الکلام کے بعض مزلات وہفوات کی جانب محض رضائے خدا وندی کے حصول اور ہندی طلباء و علما ء اور عام عوام تک حق و درست اور واضح بات پہنچانے کے لیے اس سے قبل میں اپنے رسالہ’’فقتہ العنبر‘‘ میں بھی ارشارات تحریر کر چکا ہوں۔

’’”ابو الکلام آزاد دہلوی طبعی طو رپر ایک جذباتی شخص تھے جو ملکی و سیاسی معاملات کی خوب اطلاع رکھتے تھے۔ ساتھ ساتھ اردو تحریر و تقریر میں ملکہ رکھتے تھے۔ ان کی بیس سال قبل کی زندگی اب کی زندگی سے قوم کے لیے زیادہ نفع بخش اور فائدہ مند تھی۔ حصولِ وطن کے لیے جدوجہد کی بنا پر میرے دل میں بھی ان کی خاصی قدر و منزلت ہے۔ اس لیے کہ انہوں نے ہی ان تحریکات کے ابتدائی دور میں کمزور ہمت افراد کو حوصلہ اور ولولہ بخشا اور آزادی کی خاطر جدوجہد پر خوابیدہ عوام و خواص کو اپنے رسالے’’الہلال‘‘ اور’’البلاغ‘‘ کے اجراء سے خوابِ غفلت سے بیدار کیا۔ “

“ان تمام خصوصیات کے باوجود موصوف کی طبیعت میں اپنی آراء و افکار کے متعلق اعجابی کیفیت بہر حال پائی جاتی تھی جس کی بناپر وہ کئی علمائے حقہ بلکہ ان اکابر ملت پر جو ان کی آراء کی مخالفت کیا کرتے تھے خوب تنقید کرتے۔ اس وجہ سے آپ دیکھیں گے کہ ان میں کسی قدر اپنی خواہش آمیز افکار و نظریات پر گھمنڈ اور خودرائی کی کیفیت ہے بلکہ بعض مواقع میں آپ موصوف کو درست مسلک و مذہب اور ستھرے عقائد و علوم سے نکلتا ہوا محسوس کریں گے۔ “

” ابتدائی طور پر جہاں تک ہماری معلومات تھیں وہ صحیح العقیدہ شخص تھے۔ مختلف رسائل و اخبارات میں شائع شدہ مقالات و مضامین بھی ان کے صحیح العقیدہ ہونے کی ترجمانی کرتے ہیں۔ لیکن فروعی مسائل میں وہ کسی کے مقلد نہ تھے۔ لیکن اسی عدم تقلید پر بس نہیں بلکہ علمائے احناف خصوصاً امام الائمہ امام ابو حنیفہ پر بھی انہوں نے اپنی کتاب’’تذکرہ‘‘ میں خوب ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اکابر امت کے حق میں خوب بد تمیزی کی ہے اور اس بات کی سعی کی ہے کہ ہندوستان میں وہ ایسے امام بن جائیں جن کی امامت پر اتفاق ہواور مسلمانوں کے دین و دنیا کے امیر بن جائیں اور ان کے ’’امام الہند‘‘ہونے پر علماء کا اتفاق ہو جائے۔ لیکن ہندوستان میں تو بہت سے صحیح علم و دانش اور تقویٰ و دیانت کے حامل علمائے امت تھے اور جیسا کہ راقم نے عرض کیا کہ دینی معاملات میں گویا وہ بے مہر و بے لگام تھے جب کہ علم و عمل میں اکابر ہند سے کوسوں دور تھے۔

’’”چنانچہ علمائے دیوبند نے اس موقع پر بھی جرأ ت و استقلال کے ساتھ حق کو بے باکی سے بیان کیا اور اعلان کر دیا کہ موصوف اس امامت کے جس کے وہ دعویدار ہیں ہرگز حقدار نہیں ہیں۔ اس لیے کہ علمائے دیوبند نے اپنی فراستِ صحیحہ سے قبل از وقت ہی ان مفاسد کو پرکھ لیا تھا جو ان کی امامت کو تسلیم کر لینے میں آئندہ پیش آ سکتے تھے۔ جس کی بعد آزاں روک تھام نہایت مشکل تھی۔ چنانچہ ابو الکلام آزاد جو خواہش اور تمنا رکھتے تھے اس کے حصول میں کامیاب نہ ہو سکے۔ “‘‘

 

۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔

اس تحریر کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا تیسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا چوتھا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا پانچواں حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: