بلوچستان، موسم کی شدت اور پانی کا مسئلہ: ببرک کارمل

0

اقوام متحدہ کے قانون کے مطابق ہے کہ پچاس ڈگری سے زیادہ گرمی ہو تو وہاں انسانون کا جینا حرام ہو جاتا ہے اور ان علاقوں میں عام تعطیل کا اعلان کر دینا چاہیے، یاد رہے یہ درجہ حرارت انسانوں کے رہنے کے لئے بالکل مناسب نہیں ہے۔
دنیا میں بجٹ میں سب سے زیادہ پیسے انسانوں کے بچانے کےلئے رکھے جاتے ہیںجبکہ ہماری ترجیحات کچھ اور ہی منظر پیچ کرتی ہیں۔
رمضان کے بابرکت مہینے کے شروع ہوتے ہی روزہ داروں کے لیے اس پچاس ڈگری نے سخت مشکلات پیدا کردیں۔ حتی کہ بلوچستان کے ضلع جعفر آباد میں پارہ 53 ڈگری کو پہنچ گیا۔ آج تک دنیا میں سب سے ذیادہ 54 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ بلوچستان کےکئی علاقوں میں اس سال 54 ڈگری کا ریکارڈ عام ہو گیا ہے۔ اس صورت حال میں لوگ بوند بوند پانی کو بھی ترس رہے ہیں۔سبی ڈویژن میں لاکھوں لوگوں نے اپنے مال مویشیوں کو سندھ منتقل کر دیا جبکہ ہزاروں جانور گرمی کی شدت کو برداشت نہیں کر پا ئے اور موت کو گلے لگا لیا۔ جبکہ چرند پرند پہلے ہی گرمی کی وجہ سے مر گئے یا اس دیس کو چھوڑ کر ٹھنڈے ٹھنڈے دیس چلے گئے۔ مقامی پرندوں کی اکثریت پانی کی کمی اور گرمی کی بے انتہا شدت کی وجہ سے چند دنوں میں موت کے منہ میں چلی گئ۔

امیر بلوچستان کے غریب لوگوں کی حالت زار یہ ہے کہ عوام آج کے جدید دور میں بھی پانی کی بوند بوند کے لئے ترس رہے ہیں اور سی پیک کے علم بردار ترقی ترقی کرتے نہیں تھکتے یہ ہے اصل بلوچستان کی ترقی!!!
گذشتہ روز سبی جیکب آباد میں درجہ حرارت51ڈگری 54 ڈگری تک پہنچ گیا اور آج بھی اتنا ہی متوقع ہے دیگر کئی شہروں میں 50۔49۔48 اور 47 ڈگری رہنے کا اندازہ ہے۔
حکومت بلوچستان نے اربوں اور کھربوں روپے خرچ کیئے ہیں اور ٹھیکیداروں کی ملی بھگت سے لاکھوں روپے کمیشن ڈیزل اور پائپ لائنز کی مرمت کی مد میں ہڑپ کئے جا رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کرب وبلا کا یہ منظر دیکھ کر حکمرانوں کو سوچنا چاہیئے کہ کہ آخر یہاں بھی تو انسان رہتے ہیں آخر ان کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں۔ اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں جدید ٹیکنالوجی نے انسانوں کے لیے بہت سی آسانیاں پیدا کر دی ہیں وہاں پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم انسانوں کے دکھ کا مداوا بھی ہو سکتا ہے۔گوادر سے لیکر نصیر آباد تک بلوچستان کے اکثر علاقوں میں پانی کی کمی اس وقت سب سے زیادہ اہم مسئلہ ہے۔اس موسم کی شدت کی وجہ سے اکثر روزے دار لوگ بے ہوش بھی ہو جاتے ہیں۔ کسی کو بھی خدا کا خوف نہیں۔ لوگوں کے مطابق اس دورِ جدید سے تو انگریزوں کا نو آبادیاتی سسٹم ہی بہتر تھا اس میں عام لوگ بہت خوش حال تھے۔ مگر آج کل عام لوگ بہت بد حال ہے۔ آخر اس ملک کے باسیوں کا کیا ہوگا؟ کیا یہ حکمران ان گرمی کی شدت کو برداشت کرنے کے لیے کوئی طریقہ بنائیں گے یا لوگ یوں تپتی گرمی میں مرتے رہیں گے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: