رمضان، شیطان اور ہم (شوکت علی مظفر)

0

چاند دیکھنے کا ہم سب لوگوں کو دو مواقع پر ہی اشتیاق ہوتا ہے ، ایک ماہِ رمضان کے آغاز پر اور دوسرا اسی ماہِ مقدس کے اختتام پر۔ ایسے ایسے لوگ چاند دیکھنے میں مگن پائے جاتے ہیں جنہیں سامنے کھڑا ہوا بندہ بھی نظر نہیں آتا۔مَلک کا خیال ہے کہ ایسے ہی لوگوں کو رویت ہلال کمیٹی میں بھرتی کیا جاتا ہے۔ شاید مَلک ٹھیک ہی ہے کیونکہ چاند دکھانے اور دیکھنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جو چاند رویت ہلال والوں کو نظر آتا ہے وہ عام بندہ اگلے دو تین دن میں دیکھ پاتا ہے۔ پھر ایک خیال یہ بھی ہے کہ بزرگ لوگ تو قیاسات اور اشاروں سے بھی اندازہ کرلیتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی چاند چڑھنے لگا ہے۔ رمضان کا چاند نمودار ہوتے ہی شیطان روپوش ہوجاتا ہے جسے علماء اس کا قید ہونا بتاتے ہیں۔ شیطان قید ہو تو انسان آزاد ہوجاتا ہے۔ ویسے بھی شیطان نے جس انسان کے بارے میں ’’فساد فی الارض‘‘ کی پیش گوئی کی تھی ، عین ممکن ہے وہ پاکستانی انسانوں کے بارے میں تھی کیونکہ یہاں شیطان نہ بھی ہو تو کوئی شیطانی کام نہیں رکتا۔ آپ نوٹ فرما لیں، عام دنوں میںپھلوں اور دیگر اشیاء خورد ونوش کے ریٹ کچھ ہوں گے اور رمضان کی آمد کے ساتھ ہی کچھ ہوجاتے ہیں۔ سیاستدان جیل جائے تو اس کے سیاسی تجربے میں اضافہ سمجھا جاتا ہے، اسی حساب سے دیکھا جائے تو شیطان بھی سیاستدان ہی ہے کیونکہ ہماری جیلیں بھی جرائم کی نرسریاں ہیں جہاں سے چھوٹا موٹا ملزم مکمل تربیت کے ساتھ بڑا مجرم بن کر نکلتا ہے۔ مَلک کے بقول، جیل کا آئیڈیا ہم لوگوں نے شیطان کو قید کرنے کے حوالوں سے اخذ کیا ہے جبھی تو ہماری جیلیں بھی شیطانی جیلیں ہیں۔


افطار کے وقت جو سب سے زیادہ کھا رہا ہو، سمجھ لینا چاہئے کہ اس کا روزہ نہیں ہے۔


اس کا ہمیں علم نہیں کہ شیطان ماہِ رمضان میں قید ہوکر کن سرگرمیوں میں مبتلا رہتا ہے؟ لیکن یہ بات ہمیں ضرور معلوم ہے کہ اس کے بغیر بھی ہمارے ہاں کا عام بندہ بھی شیطان بن جاتا ہے۔ روزہ تزکیہ نفس کیلئے ہوتا ہے لیکن ہم اسے دوسرے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ روزے میں بندے کو کھانے پینے کے ساتھ ساتھ جھوٹ، دغابازی، مکاری، فریب کاری، غیبت اور دیگر چیزوں سے بھی پرہیز کرنا ہوتا ہے لیکن ہم سحری میں چھ پراٹھے، آدھا کلو دہی اور دیگر لوازمات سے پیٹ بھرنے کے بعد کھانا پینا بند کرکے سب کچھ کھول لیتے ہیں۔ کام پر جاتے ہی سب کام چور ہوجاتے ہیں۔ کوئی اونچی آواز میں بات کرلے تو ’’ہمارا روزہ ہے‘‘ کہہ کر اس کے گلے پڑ جاتے ہیں۔ایسی ہی حالت ہمارے مَلک صاحب کی بھی ہوتی ہے، جس دن روزہ رکھ لیں اس دن ہم سمجھ جاتے ہیں شہر بھر کی کم بختی آگئی ہے۔ پہلے بیگم سے لڑیں گے،گھر سے نکلتے ہی محلے دار سے لڑکر بتائیں گے کہ ان کا روزہ ہے، پھر کولیگ سے لڑیں گے، شام میں دکانداروں سے لڑیں گے اور افطاری سے دو منٹ پہلے مولوی صاحب کو برا بھلا کہیں گے کہ وہ جان بوجھ کر اذان نہیں دے رہا اور پہلے خود اچھی طرح کھا پی کر پھر لوگوں کیلئے اذان دے گا۔ گزشتہ رمضان میں مَلک صاحب نے مولوی صاحب کا فون نمبر بھی کسی طرح حاصل کرلیا تھا اور عصر کے بعد سے بار بار مسڈ کالز دے کر انہیں یاد کراتے رہے کہ مغرب کی اذان جلدی دے دیں۔ مولوی صاحب نے ان کی مسڈ کالز پر کان نہ دھرا تو انہوں نے تہیہ کرلیا کہ اگلے سال سے وہ خود اذان دیا کریں گے اور وہ بھی صرف مغرب کی۔ اس کی وجہ بھی یہ بنی کہ اتفاق سے سحری میں آنکھ نہ کھلی، صبح جب کچن میں گئے تو گھر والوں نے کھانے کے لیے کچھ نہ چھوڑا تھا اس لیے مجبوراً روزہ رکھ لیا۔ بس اسی وجہ سے کام پر نہیں گئے کہ سحری کے بغیر روزہ رکھا ہے ، ہلنے جلنے سے بھوک پیاس لگ جائے گی۔ فوراً ٹی وی کے آگے بیٹھ گئے اور دو فلمیں دیکھنے کے بعد بھی ٹائم نہ کٹا تو بار بار بچے کو بھیجتے دیکھو سورج ڈوبا یا نہیں، بچہ بھی آکر بتاتا’’ابھی تو نہیں ڈوبا۔‘‘ تیسری فلم کے ختم ہوتے ہی تنگ آکر پھر بچے کو بھیجا، وہی جواب ملتے ہی مَلک نے کہا’’لگتا ہے آج سورج مجھے لے کر ہی ڈوبے گا۔‘‘

کہتے ہیں اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہوتا ہے، مَلک نے نیت کرلی تھی اس لیے ایک مولوی صاحب کے پاس فراغت کے اوقات میں پہنچ گئے کہ مجھے مغرب کی اذان سکھا دیں۔ انہوں نے سکھانی شروع کی ، مہینے میں مَلک صاحب ایکسپرٹ ہوگئے۔ لیکن ایک دن ظہر کے وقت انہیں ٹی وی پر اذان سننے کا موقع ملا تو حرف بہ حرف وہی اذان تھی جو مولوی صاحب نے سکھائی تھی۔ اسی شام غصے سے پہنچ گئے مولوی صاحب کے پاس اور کہا ’’میں نے کہا تھا کہ مغرب کی اذان سکھانا، تم نے تو ظہر کی اذان سکھا دی ہے۔‘‘ مولوی صاحب نے فوراً سر پکڑ لیا اور ان کے شاگردوں نے مَلک صاحب کی ٹانگیں اور ہاتھ،پھر خوب ٹھوک بجا کر انہیں بتایا کہ صرف فجر کی اذان میں کچھ اضافی الفاظ ہوتے ہیں باقی سب ایک جیسی ہوتی ہیں۔ ملک صاحب کو آج بھی دو اذانیں بہت اچھی لگتی ہیں ایک فجر کی اور دوسری مغرب کی لیکن یہ بھی اس لیے کہ رمضان میں ایک سے پہلے کھانا کھایا جاتا ہے اور دوسری کے بعد ۔ نمازوں سے ان کا تعلق عید کی نماز تک محدود ہے لیکن یہ اکثر پریشان رہتے ہیں کہ عید کی نماز کی اذان کیوں نہیں ہوتی؟؟ہم نے بھی تپ کر کہا، جن نمازوں کی اذانیں ہوتی ہیں ان پر تو کبھی دھیان نہیں دیا۔
ماہِ رمضان بچوں کیلئے خوشی کا اور عورتوں کیلئے مشقت کا مہینہ ہے۔ عورتوں کے صبر کی داد دینی چاہئے کہ وہ روزہ رکھ کر بھی اتنی اچھی اچھی ڈشیں تیار کرلیتی ہیں۔ مَلک کہتا ہے، داد تو ان لوگوں کو دینی چاہئے جو افطار میں یہ ساری ڈشیں ہضم بھی کرلیتے ہیں۔ افطار کے وقت جو سب سے زیادہ کھا رہا ہو، سمجھ لینا چاہئے کہ اس کا روزہ نہیں ہے۔ غریب کو روزہ رکھنے میں کبھی مشکل پیش نہیں آئی، کیونکہ اسے عام دنوں میں کون سا پیٹ بھر کر ملتا ہے جو اسے مشکل پیش آئے گی۔ رمضان کا مہینہ تو سیاستدانوں کیلئے بھی کبھی مشکل کا باعث نہیں بنا، بنے گا بھی کیسے؟ انہوں نے کون سا روزہ رکھنے ہوتے ہیں۔ ویسے بھی بندہ یا تو سیاست کرسکتا ہے یا پھر اللہ کا قرب حاصل کرسکتا ہے۔ عشق مجازی اور عشق حقیقی میں فرق اتنا ہے کہ عشق مجازی میں عاشق، محبوب کو ’’زیر‘‘ دیکھنا چاہتا ہے جبکہ عشق حقیقی میں’’پیش‘‘ ہونا پڑتا ہے۔تراویح عشق حقیقی کی اعلیٰ مثال ہے ، لیکن ہمیں یہ مثال دوسروں کیلئے اچھی لگتی ہے۔ روزہ رکھ کر ہر انسان دوسروں سے نرمی اور اچھے اخلاق کی تمنا کرتا ہے لیکن دوسروں کیلئے یہی سوچا جائے تو پھر روزے کا حقیقی مقصد پورا ہوجائے۔ ویسے بھی ماہِ رمضان صرف سحری اور افطاری کا نام نہیں، رب کے قریب ہونے کا نام ہے۔ جب وِلن جیل میں ہو تو محبوب اور عاشق کے وصال میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی، یہی اللہ رب العزت بھی چاہتا ہے جبھی توشیطان کو قید کردیا جاتا ہے تو پھر کیا آپ تیارہیں؟ رب کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اس کی رحمتوں سے ہم آغوش ہونے کیلئے؟؟؟

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: