سلطان راہی اشتہاری ہو گیا ہے ۔ محمود فیاضؔ

0

ایک زمانہ تھا  پنجاب میں بننے والی ساری پنجابی فلموں کی ایک ہی کہانی ہوتی تھی ، اور ایک ہی ہیرو ہوتا تھا جس کا کردار سلطان راہی مرحوم کیا کرتے تھے- باقی کردار اور ہیروئن وغیرہ فلم بینوں کی ضرورت کے مطابق ادل بدل کر کے پیش کیے جاتے تھے- میں صرف وہ کہانی آپکی نظر سے گزارنا چاہتا ہوں۔

گاؤں کا چوہدری ظالم ہوتا ہے ، اسکے حکم کے بغیر گاؤں میں کوئی کام نہیں ہو سکتا- سب گاؤں والے چوہدری کی جائز ونا جائز باتوں کو مانتے ہیں- بلکہ چوہدری کی کسی بات کو غلط سمجھنے کی کسی کو نہ ہمت ہے نہ سمجھ- سب گاؤں والوں کے خیال میں چوہدری ازلوں سے انکی زمینوں ، جھونپڑی نما مکانوں، ڈھور ڈنگروں اور زندگیوں کا مالک ہے۔

انکی عزتوں کا مالک ہے (رکھوالا نہیں مالک)- اس لئے یہ بھی چوہدری کا حق ہے کہ وہ یا اسکے خاندان کا کوئی بھی مرد گاؤں کی کسی بھی بہو بیٹی پر ہاتھ ڈال سکتا ہے- گاؤں والے اسکو معمول کا کام سمجھتے اور اتنا ہی افسوس کرتے جتنا آسمانی بجلی کے گرنے سے مرنے والی بھینس کا۔

چوہدری ایک بڑی سی حویلی میں رہتا ہے جس میں گاؤں کا کوئی کمی کمین داخل نہیں ہو سکتا، سوائے خدمت گزار ی کرنے والوں کے، چوہدرانی کی مٹھی چپی کرنے والی دایوں کے، چوہدری کے گن گانے والے میراثیوں کے- ہر شام علاقے کا تھانے دار اور پٹواری چوہدری کی بیٹھک میں چائے پیتے ہیں اور جاتے جاتے چوہدری سے “اور کوئی خدمت ؟” پوچھ کر جاتے ہیں-
چوہدری کے اپنے ذاتی غنڈے ہوتے ہیں، جو چوہدری کی مرضی پر گاؤں والوں پر زندگی تنگ کرتے رہتے ہیں- کسی کا پانی بند کر دیا- کسی کی بھینس اٹھا لی- کسی غریب کی فصل معمول سے اچھی ہوئی تو اس پر ٹیکس دوگنا کر دیا- چوہدری اور اسکے غنڈوں کے اس راج کو پورا گاؤں زندگی کا حصہ سمجھ کر قبول کیے ہوتا ہے۔

سلطان راہی ، جو اس کہانی کا ہیرو ہوتا ہے وہ ہمیشہ کسی غریب کا ایسا بیٹا ہوتا ہے جو یہ سب جائز نہیں سمجھتا- اور اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا ہے- اسکی اکثر چوہدری کے غنڈوں سے لڑائی مار کٹائی ہوتی رہتی ہے- گاؤں کے لوگوں کی ہمدردی تو غریب سلطان راہی سے ہوتی ہے لیکن تھانیدار کے سامنے گواہی وہ ہمیشہ چوہدری کی غنڈوں کے حق میں دیتے ہیں- بلکہ کچھ گاؤں کے سیانے تو سلطان راہی کو اس خطرناک رستے سے بچانے کی کوشش بھی کرتے ہیں اور مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بھی ان گاؤں والوں کی طرح چوہدری کی حاکمیت کو خدا کی طرف سے سمجھ لے اور راضی برضا عافیت کی زندگی گزارے-گاؤں کا مولوی بھی سلطان راہی کی ان حرکتوں کے خلاف ہوتا ہے اور اکثر چوہدری کی نمک خواری کے حق ادا کرنے کے لئے گاؤں والوں پر ثابت کرتا رہتا ہے کہ چوہدری کا سایہ گاؤں والوں کے لئے کتنا با برکت ہے۔

گاؤں کی سب سے خوبصورت مٹیار سلطان راہی کے پیچھے پیچھے پھرتی ہے- وہ بھی چاہتی ہے کہ سلطان راہی اس سے شادی کر کے اپنا ایک چھوٹا سا گھر بسا لے- جہاں وہ سلطان راہی کے ساتھ سکھ شانتی کی زندگی گزارے – لیکن سلطان راہی کے دماغ میں غریب گاؤں والوں کا درد ہوتا ہے- وہ جب کسی مزارع کی بیٹی کی عزت چوہدری کی غنڈوں کے ہاتھوں برباد ہوتے دیکھتا ہے، یا کسی غریب کسان کی سال بھر کی فصل چوہدری کی حویلی جاتے دیکھتا ہے تو وہ غصے سے کھول اٹھتا ہے- اور چوہدری اور اسکے غنڈوں کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لیتا ہے۔

گاؤں کا چوہدری جب سلطان راہی کو اپنے راستے کا کانٹا بنتے دیکھتا ہے تو وہ اس سے نپٹنے کے لئے اپنے سارے غنڈے بھیجتا ہے- لیکن سلطان راہی ان غنڈوں کا بھرکس نکال دیتا ہے- پھر چوہدری سلطان راہی کو اپنی حویلی بلاتا ہے اور انتہائی چاپلوسی سے اسکو دولت کا لالچ دیتا ہے- سلطان راہی اس کو بھی نہیں مانتا اور چوہدری کو کہتا ہے کہ وہ غریبوں پر ظلم کرنے سے بعض آ جائے تو وہ اسکے راستے سے خود بخود ہٹ جائے گا ۔

اب چوہدری اپنی پوری طاقت اور وسائل سلطان راہی کو سبق سکھانے اور دوسروں کے لئے عبرت بنا دینے کے لئے استعمال کرنے لگتا ہے- پہلے مرحلے میں وہ سلطان راہی کے کردار پر گاؤں کے مولوی سے حملہ کرواتا ہے- اور گاؤں کے لوگوں میں اپنے پالے ہوئے گرگے چھوڑتا ہے جو لوگوں کو سلطان راہی کی خلاف بھڑکاتے ہیں- یہ لوگ گاؤں کے سیدھے لوگوں کو سمجھاتے ہیں کہ یہ سلطان راہی سارے فساد کی جڑ ہے ورنہ چوہدری تو ازل سے اس گاؤں کا مالک ہے- اب یہ چوہدری کو تنگ کرے گا تو جواب میں چوہدری پورے گاؤں پر ظلم کرے گا- اسکا مطلب یہ ہوا کہ یہ ظلم چوہدری نہیں یہ سلطان راہی کروا رہا ہے- چوہدری تو مجبور ہے اپنی حاکمیت کے لئے ظلم کرنا تو اسکا حق ہے۔

اسکے ساتھ ساتھ پٹواری چوہدری کی نمک حلالی کے لئے سلطان راہی کے خاندان سے اسکی ساری زمینیں ہتھیا لیتا ہے اور سلطان راہی کے خاندان کو دربدر کر دیتا ہے- سلطان راہی جب اس ظلم کے لئے تھانے دار کے پاس جاتا ہے تو تھانیدار اسکو چوہدری سے صلح کا مشورہ دیتا ہے اور بصورت دیگر خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیتا ہے۔

سلطان راہی جب یہ جان لیتا ہے کہ چوہدری ، پٹواری، تھانیدار اور مولوی سب کے سب اس پر اور گاؤں والوں پر ظلم کرنے کے لئے اکٹھے ہیں تو وہ سب گاؤں والوں کے سامنے چوہدری کا پول کھول دیتا ہے – اور چوہدری کے غنڈوں اور تھانیدار کے بندوں کا مقابلہ کرتے کرتے گاؤں والوں کی آنکھیں کھولنے کی کوشش کرتا ہے ۔

چوہدری کے پلان کے مطابق تھانیدار سلطان راہی کے وارنٹ نکال لیتا ہے اور اسے گرفتار کرنے کے لئے خود بھاری نفری کے ساتھ آ جا تا ہے- سلطان راہی کوئی راستہ نہ پا کر جنگل میں روپوش ہو جاتا ہے۔

اگلے روز گاؤں کا بوڑھا میراثی سب کو بتاتا ہے کہ شکر کرو چوہدری نے سارے گاؤں والوں کو بخش دیا ہے- بس صرف سلطان راہی کی خیر نہیں، یا تو وہ پولس مقابلے میں مارا جائے گا یا پھر اشتہاری قرار دے دیا جائے گا۔

آخر میں دیہاتی فلم بینوں کو خوش کرنے کے لئے ، سلطان راہی واپس آتا ہے اور سب کو قتل کر کے خود بھی مر جاتا ہے – کبھی کبھی نہیں بھی مرتا ، اور لمبی قید کاٹنے چلا جاتا ہے۔

دوستو ! اس کہانی کا کسی بھی طرح ہماری زندگیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے – یہ سب بس وقت ضائع کرنے کی باتیں ہوتی ہیں- براہ کرم آپ بھی اس میں یہ تلاش کرنے کی کوشش نہ کرتے پھریں ، کہ ہماری اصل زندگیوں میں چوہدری کا کردار کون کر رہا ہے ، کس کی زمین چھن رہی ہے ، یا کس کی عزت لٹ رہی ہے- کون پٹواری ہے اور کون اشتہاری ؟ تھانے دار کس کے ساتھ ہے اور مولوی کس کی نمک حلالی کر رہا ہے – میں نے کہا ناں ، یہ سب کہانیاں ہیں ۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: