دین فطرت یا مشکل سائنس: محمود فیاض

1

اسکول میں ایک سائنس لیب ہوا کرتی تھی۔ ہمیں کبھی کبھی اس میں پریکٹیکل کے لئے جانا ہوتا تھا۔ پریکٹیکل میں ہم سارے مرحلے ٹھیک ٹھاک کر لیتے تھے۔ بس ایک بات پر ہماری بڑی جان جاتی تھی۔ جب بھی کوئی ناپ تول درپیش ہوتا تو بڑی مشکل ہوتی۔ ورنئیر کیلیپر سے کسی گول چیز کا قطر یا کسی پائپ کا اندرونی پیمائش کیسے کرتے ہیں وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے میٹرک میں ایسی لیب میں ٹیچر کی ڈانٹ کھائی ہوئی ہے۔ کیسے ملی میٹر کے دسویں حصے کی غلطی سارے پریکٹیکل کا ستیاناس کر دیتی تھی۔ جو جواب مشرق کے آس پاس نکلنا چاہیے تھا وہ جنوب کے اردگرد نظر آتا تھا۔ خیر وقت کے ساتھ ہم سیکھ گئے کہ جب تک پورا پورا ناپ تول نہ ہو سکے نتیجہ ٹھیک نہیں نکل سکتا۔
آخر کیوں؟ ہم جو اپنے استادوں کے بہت منہ چڑھے ہوئے تھے، اکثر فضول سوالوں کو بھی سرعام پوچھ لیا کرتے تھے۔ آخر کیوں اتنی احتیاط کرنا پڑتی ہے؟ تب ہمارے کیمسٹری کے استاد صاحب نے بتایا کہ یہ سائنس ہے اس میں ہر چیز کا معین مقدار میں ہونا بہت ضروری ہے۔ حساب کی گنتی سے لیکر ستاروں اور کہکشاؤں تک ہر چیز کی پیمائش بہت احتیاط مانگتی ہے اور درستگی کا تقاضا کرتی ہے۔
ہم نے سائنس کا سبق پوری طرح رٹ لیا۔ بلکہ رفتہ رفتہ ہمیں لگنے لگا کہ سائینس تو بہت اچھی چیز ہے ہر چیز کی ایک مقدار، ایک عمل، بس اس کو یاد کر لو تو جواب حاضر۔ عمل پورا۔ ہم نے اسکو بہت پسند کرنا شروع کردیا۔ اچھا اسکول کے زکر میں جب میں ہم کا صیغہ استعمال کرتا ہوں تو اس میں مجھ سمیت شرارتی دوستوں کا ایک پورا ٹولہ شامل ہوتا ہے۔
ایک دن ہم اسکول کے گراؤنڈ میں فٹ بال کھیل رہے تھے۔ میں بار بار اپنے ساتھی کا پھینکا ہوا بال پکڑ نہیں پا رہا تھا۔ ہمارے اسپورٹس کوچ نے ڈانٹا تو میں نے برا سامنہ بنا کر انکو بتایا کہ آپ نے جس جگہ پر بال پکڑنے کا کہا تھا میں وہیں موجود ہوتا ہوں مگر بال پھینکنے والے کی ہٹ کمزور ہے بال وہاں تک نہیں آ پاتا۔ تو کوچ اور غصہ میں آگئے، کہ گدھے تم تھوڑا اور آگے آ جاؤ اگر تمہیں یہ بھی اندازہ ہو رہا ہے کہ تمہارا ساتھی کمزور ہٹ لگا رہا ہے تو تمہیں اسکی کمزوری کو کور کرنا چاہیے۔ میں نے کہا جب بات بیس گز پر بال پکڑنے کی ہوئی ہے تو میں اور پیچھے کیوں آؤں، یہ تو کھیل کے طے شدہ معیار کے خلاف ہے۔ کوچ نے میری اس بات کا بہت برا منایا اور اگلے کئی ہفتے تک میرا نام سائینسدان رکھ دیا گیا۔
اردو کے ہمارے استاد چشتی صاحب، اللہ بخشے بہت ہی خوبصورت شخصیت کے مالک تھے۔ ان سے شکایت کی تو ہنسے اور بولے سائنس کے سبق کو کھیل میں گھساؤ گے تو ایسا ہی ہوگا ناں۔ میں نے کہا مگر سر یہ تو غلط بات ہے۔ اگر سب لوگ سائنسی اصولوں کے حساب سے کھیلیں تو کھیل کتنا زبردست ہوجائے۔ وہ ہنسے اور میرا گال تھپتھپا کر بولے، تم نے ابھی زندگی میں بہت کچھ سیکھنا ہے۔ مگر میری ایک بات ابھی سے پلے باندھ لو۔ حساب کتاب اور ناپ تول ہمیشہ بے جان چیزوں کا ہوتا ہے۔ انسانوں اور جانداروں کے لیے بس اندازے ہی ہوتے ہیں۔ کبھی تھوڑا زیادہ کبھی تھوڑا کم۔
زندگی میں برسوں بعد جب سعودیہ میں میں اپنے دوستوں کے ساتھ پہلی بار عمرہ کرنے جا رہا تھا تو مجھے یہ دونوں سبق یاد آ رہے تھے۔ مجھے لگ رہا تھا کہ میں سائنس لیب میں ہوں اور میرے ساتھی جو پہلے عمرہ کر چکے ہیں میرے سائنس کے استاد۔ احرام کی چادروں کو کیسے اوڑھنا ہے، کتنا لٹکانا ہے، گھر سے نکلتے کونسی دعا، راستے میں کونسا ورد، میقات پر پہنچ کر کونسا کام پہلے اور کونسا بعد میں سر انجام دینا ہے، یہ سب مجھے ایک سائنس لگ رہا تھا۔ عمرے میں کعبہ کے گرد ہر چکر کی دعا میرے ہاتھ میں دیے گئے کتابچے میں درج تھی۔ زمزم پینے کے بعد کتنے اینگل تک کعبۃ اللہ کی کونسی دیوار کے سامنے کھڑے ہو کر نوافل ادا کرنے ہیں، سب کی تفصیل مجھے بتائی جا چکی تھی۔ میرے بار بار پوچھنے پر میرے دوستوں نے یہی بتایا کہ بھائی ایسے ہی کرنا ہے اس میں کمی بیشی سے عمرہ ادا نہیں ہوگا۔
عمرہ ادا کرکے بھی دل میں بے چینی رہی کہ پتہ نہیں سب ٹھیک سے ہوا کہ نہیں۔ فلاں رکن صحیح ہو گیا تھا یا کوئی کسر رہ گئی تھی۔ مگر یہاں مسئلہ یہ تھا کہ جس نے عمرہ قبول کرنا تھا وہ تو سامنے آ کر بتانے سے رہا کہ تمہارا جواب اتنے اعشاریہ یا اتنے ڈگری سے غلط ہو گیا ہے۔
سعودیہ میں ملازمت کے دوران میں نے محسوس کیا کہ مذہب تو مکمل سائنس ہے۔ رمضان آیا تو میرے اردگرد سائنسدانوں کا ہجوم تھا۔ روزہ کس کس بات سے ٹوٹتا ہے ایک مکمل سائنسی جدول میرے سامنے تھا۔ کتنی الٹی کی مقدار روزے کو مکروہ کرتی ہے اور کتنے پانی حلق کے پچھلے حصے سے کلی کے دوران لگنے سے روزہ مکروہ ہو جاتا ہے۔ سحر و افطار کے وقت کی تفصیلات، پھر طاق راتوں کے حساب کی بحثیں۔ رمضان میں کچھ دوست ہر ہفتے عمرہ کرنے جاتے تھے۔ اسکا ثواب زیادہ یا وہ دوسرے دوست جو پانچ قران پاک ختم کرنے کا تہیہ کیے ہوئے تھے۔ یہ سارا حساب کتاب میرے لیے کافی مشکل تھا۔ میرے زہن میں اکثر یہی سوال رہتا کہ اگر ان سب تفصیلات میں کوئی ایک بات بھی رہ گئی تو آپ کی ساری کوششوں کا حاصل صفر سے ضرب کھا جائے گا۔
زکواۃ کی بات چلی تو میں کئی ہفتے تک پریشان رہا۔ کس مال پر زکواۃ ہوتی ہے اور کس پر نہیں، اس کے لیے قوانین کی ایک لمبی فہرست میرے دوستوں نے مجھ تک پہنچا دی۔ کوئی ویب سائیٹ کا لنک مجھے بھیج رہا تھا تو کوئی کسی کتاب کا حوالہ دے رہا تھا۔ کس مہینے میں دینا ہے، سال اسلامی ہوگا یا شمسی اور دیگر ایسی کئی باتیں جن میں تفصیلات کا ایک جہان تھا۔
میرا یقین پختہ ہوتا جا رہا تھا کہ دین کا ہر مکمل عمل کرنا بہت مشکل کام ہے۔ دس میں سے آٹھ کام تو آپ کے الٹ ہونا ہی ہیں تو باقی دو سے آپ پل صراط کا کتنا فاصلہ طے کر پاؤ گے؟
تبھی ایک رات مجھے چشتیؔ صاحب کی بات یاد آئی۔ کہ سائنس تو بے جان چیزوں کے ناپ تول کا نام ہے۔ تب میں نے سوچا کہ مذہب تو زندہ انسانوں کے لیے ہوتا ہے تو یہ سائنسی اصولوں پر کیوں؟ اگلے روز میں حدیث کی کچھ کتابیں اٹھا لایا اور یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ مذہب میں ناپ تول کا کتنا عمل دخل ہے۔
میں نے ایک ہی دن میں بیسیوں حدیثیں پڑھ ڈالیں مگر مجھے کسی جگہ سائنس کی طرح متعین ناپ تول نظر نہ آیا۔ نہ ہی کوئی ایسی حدیث دکھائی دی جو یہ سمجھا رہی ہو کہ اگر اتنی اتنی مقدار میں یہ نہ کیا تو سارا عمل ہی بیکار ہے۔ ہر حدیث، ہر واقعہ، ہر حکم انسانی رویوں، کمزوریوں اور مجبوریوں کو مدنظر رکھ کر تجویز دے رہا تھا۔ مجھے لگا میرے اسپورٹس کوچ مجھے ڈانٹ رہے ہیں کہ اگر تمہارا ساتھی کمزور ہے تو اس کی کمزوری کو تم پورا کیوں نہیں کر دیتے؟
حدیث کی کتابیں پڑھتے مجھے رب کائنات کی بڑائی اور اسکے پیامبر کی وسعت نظر ہی نظر آئی۔ جہاں نبی ص کو انسانی کمزوری نظر آئی رعائت اور معافی کے اتنے دروازے کھول دیے کہ مایوسی کی کوئی گنجائش ہی نہ رہی۔
پھر ایک حدیث نے بات ختم کردی۔ پڑھتے پڑھتے میں ایک حدیث پر پہنچا جس کا لب لباب یہ تھا کہ ایک شخص سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا۔ مہینہ بھی رمضان کا تھا۔ وہ حضور پاک ص کے پاس حاضر ہوا اور اپنا گناہ بیان کیا تو آپ ص نے کہا کہ اس گناہ کا کفارہ ایک غلام آزاد کر کے دو۔ وہ بولا کہ اس کے پاس غلام نہیں ہے۔ پھر فرمایا گیا کہ اچھا دو ماہ کے روزے رکھو، گناہگار بولا کہ اسکی سکت نہیں ہے، فرمایا اچھا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو تو کفارہ ہو جائے گا۔ مسکین نے عرض گذاری کہ اتنا بھی نہیں ہے۔ خاموشی ہوئی اور تھوڑی دیر بعد اسی محفل میں کسی نے کھجوروں سے بھرا ایک پیالہ پیش کیا۔ تصویر رحمت ص نے اسی شخص کو بلایا اور کھجوریں دیکر کہا کہ جاؤ اور کسی غریب مسکین کو دیکر اپنا کفارہ ادا کردو۔ وہ بولا کہ خدا کی قسم مدینہ کے ان ریگستانوں میں میرے گھر سے زیادہ محتاج کوئی نہیں۔ نیلی وسعتوں والے آسمان نے حیرت سے دیکھا ہوگا جب اسکی بات پر دین فطرت کے پیامبر ص ایسے کھل کر ہنسے کہ راوی کو انکا ہنسنے کا انداز بھی ازبر ہو گیا۔ اور پھر رحمت العالمین ص نے فرمایا، کہ جاؤ پھر تم ہی سہی۔
حدیث ختم کر کے میں نے کتاب بند کردی۔ میرے سامنے سارے سائینسی حساب معدوم ہوگئے اور “عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے” والا ایک ہی پیمانہ رہ گیا۔ یہ بے جان چیزوں سے برتنے والی سائنس نہیں تھی، یہ سارے زمانوں میں رہنے والا زندہ مذہب تھا جو انسانوں کے معاملات سے متعلق تھا۔ جہاں ایک انسان اگر بیس گز تک نہیں پہنچ سکتا تو دوسرے کو بڑھ کر اسکی مدد کرنے کا حکم ہے۔
جائیے اور ساری دنیا کی کتابیں کھنگال لیجیے۔ اور کسی گنہگار کا گناہ معاف کرنے کے لیے کھجوروں کے تحفے کی “سزا” نکال لائیے۔ ایک ایسا گناہ جس کا پہلا کفارہ ایک غلام کو آزاد کرنا ہو، کسی انسان کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے رب کائنات اسکی سزا کم کرتے کرتے ایک پیالہ کھجور پر لے آئے۔ اور وہ بھی اسی کے گھر والوں کے لیے دے دیا جائے۔ تو سوچیے اگر نیت خالص ہو اور مقصود اسکی رضا ہو تو باقی سارے پیمانے کسقدر ہیچ ہو کر رہ جاتے ہیں۔
جو گناہ پر تعزیر کو مجبوری کے تحت کم کرتے کرتے تحفے میں بدل دے، وہ ہماری نیکی اور عبادت کی کوشش میں کسی انیس بیس کی خامی کو، کسی قدم کی کمی زیادتی کو، کسی لفظ کے حلق سے نکلنے نہ نکلنے کو، کسی کپڑے کی اونچ نیچ کو، یا کسی اور کوتاہی کو کیوں نہیں درگذر کرے گا؟
بگ بینگ کا خدا جو کئی کھرب سال میں اربوں کھربوں کہکشاؤں کو بنتے بکھرتے دیکھ رہا ہے اور ایسے کئی زمانوں کا مالک ہے جس میں سے ایک کے ہم باسی ہیں، ایسا خدا آپ کے حلق میں غلطی سے پلٹ جانے والی صدا پر غلط لفظ سن کر آپ کو سزا کیسے دے سکتا ہے؟
جو دلوں کے بھید اور نیتوں کے راز جانتا ہے، وہ اپنے خود کے بنائے ہوئے بندے کی جسمانی، نفسی اور انسانی کمزوریوں کو کیوں نہیں سمجھتا ہوگا؟ بے شک وہ قہار و جبار ہے مگر ان کے لیے جو جانتے بوجھتے اسکی خدائی کو للکارتے ہیں۔ مگر وہ جو اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوں، توبہ کرکے توبہ توڑ دیتے ہوں، پھر توبہ کرتے ہوں، وہ انکے لیے رحیم و کریم ہی ہے۔
تب مجھے اندازہ ہوا کہ دوسروں کی عینک سے مذہب کو سمجھنے کا مطلب سائنسی فارمولوں میں الجھنا ہے۔ رب کا پیغام سمجھنا چاہتے ہو تو خود اسکے پیغام کر پڑھو۔ اس پیغام کو پہنچانے والے کی احادیث پڑھو۔ اگر ریگستانوں میں رہنے والے اعرابیوں کے لیے (جنہوں نے اسلام کے پانچ احکام سنے اور ان پر عمل کیا اور جنت کی راہ پائی) اسلام مشکل نہیں تھا تو آج پورے قران اور احادیث کے آپ کے اسمارٹ فون میں ترجمے کے ساتھ ہونے کے بعد آپ کے لیے یہ مشکل کیوں؟
یاد رکھیے! اگر کوئی مذہب اتنا مشکل ہو کہ عام آدمی کو سمجھ نہ آ سکے تو وہ مذہب عام آدمی کے لیے ہے ہی نہیں۔ اور اگر کوئی آپ کو ایسا بتاتا ہے تو وہ اسلام کی بات نہیں کر رہا ہوگا۔ کسی مشکل سائنس کی بات کر رہا ہوگا، جس کا امتحان بحرحال آپ نے نہیں دینا۔
رب ذوالجلال سے دعا ہے کہ آپ کی تحقیق اپنی منزل کو پہنچے۔ آمین۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. انداز بیاں بھی خوب ہے اور بات بھی دل میں اترنے والی ہے. بہت خوب. جزاک اللہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: